22 April, 2026
اہم خبریں
  • چینی خاتون نے 60 ہزار سانپ پال کر سالانہ لاکھوں کمانے کا منفرد ریکارڈ قائم کر لیا
  • آبنائے ہرمز پر امریکا کا کنٹرول، ٹرمپ کا دعویٰ
  • اسلام آباد میں مذاکرات کے پیشِ نظر سیکیورٹی ہائی الرٹ، ریڈ زون سیل، ملک بھر میں سخت اقدامات نافذ
  • ایران بحران: اسلام آباد میں مذاکرات کی امید، فیصلہ کن لمحہ
  • مینگورہ شہر کے سیلاب زدہ محلے تاحال بنیادی سہولیات سے محروم
  • Home
  • اہم خبریں
  • پاکستان
    • دینی مسائل
    • اہم خبریں
    • مذہب
    • تصاویر اور مناظر
    • سیر و تفریح
    • دلچسپ و عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
    • صحت
  • افغانستان
  • علاقائی
  • کالمز
  • انٹرنیشنل
  • کاروبار
  • کھیل
  • شوبز
  • کاپی رائٹس
    • پرائیویسی پالیسی
    • قوائد و ضوابت
    • ہمارے بارے میں
  • Home
  • اہم خبریں
  • پاکستان
    • دینی مسائل
    • اہم خبریں
    • مذہب
    • تصاویر اور مناظر
    • سیر و تفریح
    • دلچسپ و عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
    • صحت
  • افغانستان
  • علاقائی
  • کالمز
  • انٹرنیشنل
  • کاروبار
  • کھیل
  • شوبز
  • کاپی رائٹس
    • پرائیویسی پالیسی
    • قوائد و ضوابت
    • ہمارے بارے میں

ہمارا یوٹیوب چینل

ہمارا فیس بک پیج

The Khyber Times

خصوصی فیچرز

پشتون تحفظ مؤومنٹ کے اہم رہنما شہاب خٹک کے بھائی ڈاکٹر نعیم الدین خٹک کو نامعلوم افراد نے پشاور کے بھرے بازار میں گولی مارکر شہید کردیا
شمالی وزیرستان کو کس کی نظر لگ گئی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ احسان داوڑ
کیا لڑانے والے کامیاب نہیں ہوئے ؟؟؟ خصوصی تحریر: رسول داوڑ
شمالی وزیرستان ،رمضان المبارک کا چاندنظرآگیا
بول کہ لب آزاد ہیں تیرے…. تحریر رفعت انجم

حیرت انگیز

چینی خاتون نے 60 ہزار سانپ پال کر سالانہ لاکھوں کمانے کا منفرد ریکارڈ قائم کر لیا چین میں ایک نوجوان خاتون نے ایک نہایت غیر معمولی اور خطرناک پیشے کو اپنا کر انٹرنیٹ صارفین کو حیران کر دیا ہے۔ چینی صوبے گوانگشی کے علاقے گیولین سے تعلق رکھنے والی 1995 میں پیدا ہونے والی چن نامی خاتون ہزاروں سانپ پال کر سالانہ 10 لاکھ یوآن (تقریباً 4 کروڑ پاکستانی روپے سے زائد) آمدن حاصل کر رہی ہیں۔ رپورٹس کے مطابق، چن اس وقت اپنے خاندان کے سانپ فارم میں سرگرم کردار ادا کر رہی ہیں اور تقریباً 60 ہزار سے زائد سانپوں کی دیکھ بھال کی ذمہ داری سنبھالے ہوئے ہیں۔ ان میں سے 50 ہزار سے زائد انتہائی زہریلے سانپ جبکہ تقریباً 10 ہزار کوبرا سانپ شامل ہیں۔ چن نے بتایا کہ یونیورسٹی سے گریجویشن کے دو سال بعد وہ اپنے آبائی قصبے واپس آئیں تاکہ اپنے والد کے سانپ فارمنگ کے کاروبار میں مدد کر سکیں۔ ابتدا میں ان کے والد اس بات کے سخت مخالف تھے کہ ان کی بیٹی اس خطرناک کام کا حصہ بنے، لیکن وقت کے ساتھ ساتھ فارم کی وسعت اور کام کے بڑھتے ہوئے دباؤ کے باعث چن بھی اس پیشے کا باقاعدہ حصہ بن گئیں۔ چن کے مطابق سانپوں کے قریب جانا انتہائی خطرناک ہوتا ہے، تاہم وہ کہتی ہیں کہ انہیں خوف محسوس نہیں ہوتا کیونکہ وہ بچپن سے اپنے والد کے ساتھ اس ماحول میں پلی بڑھی ہیں۔ چین میں سانپوں کا استعمال مختلف مقاصد کے لئے کیا جاتا ہے، جن میں روایتی ادویات، طبی تحقیق اور خوراک شامل ہیں۔ سانپ کے زہر کی قیمت 40 سے 200 یوآن فی گرام تک ہوتی ہے، جبکہ سانپ کا گوشت 200 سے 300 یوآن فی کلو تک فروخت کیا جاتا ہے۔ تمام اخراجات نکالنے کے باوجود، چن کا یہ کاروبار انہیں سالانہ 10 لاکھ یوآن سے زائد منافع فراہم کرتا ہے۔ چن نہ صرف اس منفرد کاروبار کو چلا رہی ہیں بلکہ سوشل میڈیا پر بھی فعال ہیں، جہاں وہ اپنے سانپ فارم کے تجربات اور معلومات شیئر کرتی ہیں۔ ان کے مطابق سانپ کا ڈسنا شدید تکلیف دہ ہوتا ہے، لیکن یہ ان کے کام کا حصہ ہے اور وہ اس سے خوفزدہ نہیں ہوتیں۔ چن کی کہانی اس بات کی مثال ہے کہ غیر روایتی اور خطرناک شعبوں میں بھی کامیابی حاصل کی جا سکتی ہے، بشرطیکہ محنت، حوصلہ اور مستقل مزاجی ساتھ ہو۔ ان کا یہ منفرد پیشہ نہ صرف انہیں مالی خودمختاری دے رہا ہے بلکہ دنیا بھر میں لوگوں کی توجہ بھی حاصل کر رہا ہے۔
چینی خاتون نے 60 ہزار سانپ پال کر سالانہ لاکھوں کمانے کا منفرد ریکارڈ قائم کر لیا
آبنائے ہرمز پر امریکا کا کنٹرول، ٹرمپ کا دعویٰ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک سخت اور غیر معمولی بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز اب امریکا کے کنٹرول میں ہے اور کسی بھی جہاز کو ایرانی بندرگاہوں کی طرف جانے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس ناکہ بندی کے باعث ایران کو روزانہ تقریباً 500 ملین ڈالر کا معاشی نقصان ہو رہا ہے۔ ٹرمپ نے اپنے بیان میں ایران کی عسکری صلاحیتوں کے حوالے سے بھی بڑے دعوے کئے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کی بحریہ “سمندر کی تہہ میں جا چکی ہے”، فضائیہ “عملاً ختم ہو چکی ہے” جبکہ اینٹی ایئر کرافٹ سسٹمز اور ریڈار تنصیبات کو بھی تباہ کر دیا گیا ہے۔ ان کے مطابق، امریکی B-2 بمبار طیاروں نے ایران کی نیوکلیئر لیبارٹریز اور ذخیرہ گاہوں کو نشانہ بنایا، جبکہ ایرانی قیادت کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔ تاہم، ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی، اور نہ ہی ایران کی جانب سے فوری طور پر ان بیانات پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے آیا ہے۔ دفاعی ماہرین کے مطابق، آبنائے ہرمز جیسے اہم عالمی بحری راستے پر مکمل کنٹرول حاصل کرنا ایک پیچیدہ اور انتہائی حساس معاملہ ہے، جس کے عالمی تجارت پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین تیل بردار راستوں میں سے ایک ہے، جہاں سے عالمی تیل کی ترسیل کا بڑا حصہ گزرتا ہے۔ کسی بھی قسم کی ناکہ بندی یا کشیدگی نہ صرف خطے بلکہ عالمی معیشت کے لئے بھی سنگین نتائج کا باعث بن سکتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس قسم کے بیانات خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں اور عالمی برادری کو ایک نئی بحرانی صورتحال کی طرف دھکیل سکتے ہیں۔ دوسری جانب، عالمی مبصرین اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ ایسے دعوؤں کی تصدیق کے لئے قابل اعتماد اور غیر جانبدار ذرائع کا انتظار کیا جانا چاہئے۔
آبنائے ہرمز پر امریکا کا کنٹرول، ٹرمپ کا دعویٰ
اسلام آباد میں مذاکرات کے پیشِ نظر سیکیورٹی ہائی الرٹ، ریڈ زون سیل، ملک بھر میں سخت اقدامات نافذ
ایران بحران: اسلام آباد میں مذاکرات کی امید، فیصلہ کن لمحہ اسلام اباد ( دی خیبرٹائمز مانیٹرنگ ڈیسک ) حالیہ دنوں میں مشرقِ وسطیٰ اور اس سے جڑے خطوں میں پیدا ہونے والی کشیدگی نے عالمی توجہ ایک بار پھر اپنی جانب مبذول کر لی ہے۔ ایران کی جانب سے بعض اقدامات نے اُس سفارتی حصار کو کمزور کرنے کا خدشہ پیدا کر دیا ہے جو کئی ہفتوں کی مسلسل کوششوں کے نتیجے میں پاکستان، ترکی اور مصر کی قیادت میں قائم کیا گیا تھا۔ اس سفارتی مہم کا بنیادی مقصد خطے کو ایک ممکنہ تباہ کن جنگ سے بچانا اور فریقین کو مذاکرات کی میز تک لانا تھا۔ اسی تناظر میں پاکستان کے فیلڈ مارشل کا دورۂ ایران نہایت اہمیت کا حامل قرار دیا جا رہا ہے۔ اس دورے کا مقصد نہ صرف دوطرفہ تعلقات کو مستحکم کرنا تھا بلکہ ایران کو یہ پیغام دینا بھی تھا کہ خطے میں استحکام کے لئے سنجیدہ سفارتکاری ناگزیر ہے۔ پاکستان ہمیشہ سے خطے میں امن و استحکام کا داعی رہا ہے اور اس نے ہر ممکن کوشش کی ہے کہ تنازعات کو بات چیت کے ذریعے حل کیا جائے۔ دوسری جانب امریکہ کی جانب سے ایک جہاز کو حراست میں لینے کا اقدام کشیدگی میں مزید اضافے کا باعث بنا ہے۔ اس واقعے نے صورتحال کو مزید پیچیدہ کر دیا ہے اور ایران کے لیے سفارتی دباؤ میں اضافہ کیا ہے۔ ایسے اقدامات نہ صرف اعتماد کو ٹھیس پہنچاتے ہیں بلکہ مذاکراتی عمل کو بھی متاثر کرتے ہیں۔ ان تمام حالات کے باوجود ایک مثبت پہلو یہ ہے کہ اسلام آباد میں مذاکرات کی میز تیار ہے۔ پاکستان نے ایک بار پھر خود کو ایک ذمہ دار اور غیر جانبدار ثالث کے طور پر پیش کیا ہے، جہاں تمام فریقین کو برابری اور احترام کے ساتھ اپنے مؤقف پیش کرنے کا موقع دیا جا سکتا ہے۔ یہ موقع ایران کے لئے نہایت اہم ہے کہ وہ مضبوط پوزیشن کے ساتھ مذاکرات میں شریک ہو اور جنگ کے بجائے سفارتکاری کو ترجیح دے۔ یہ حقیقت بھی نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ جنگ صرف میدانِ جنگ میں نہیں جیتی جا سکتی۔ ایران کے تحفظات کسی حد تک جائز ہو سکتے ہیں اور اس کے عوام کی یکجہتی بھی قابلِ ذکر ہے، لیکن طویل المدتی استحکام کے لیے مذاکرات ہی واحد راستہ ہیں۔ جنگ نہ صرف انسانی جانوں کا ضیاع کرتی ہے بلکہ معاشی اور سیاسی عدم استحکام کو بھی جنم دیتی ہے۔ ایران کو اس نازک مرحلے پر ایک واضح فیصلہ کرنا ہوگا: آیا وہ مذاکرات کے راستے کو اپناتا ہے یا کشیدگی کو مزید بڑھنے دیتا ہے۔ دوست ممالک کی جانب سے کی جانے والی کوششوں کو نظر انداز کرنا دانشمندی نہیں ہوگی، خاص طور پر جب عالمی سطح پر اس کے حمایتی محدود ہیں۔ آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ موجودہ صورتحال ایک آزمائش ہے، نہ صرف ایران کے لئے بلکہ پورے خطے کے لئے۔ اگر سفارتکاری کو موقع دیا جائے تو امن ممکن ہے، ورنہ نتائج سب کے لئے نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں۔ اسلام آباد میں تیار مذاکراتی میز ایک امید کی کرن ہے، جس سے فائدہ اٹھانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
ایران بحران: اسلام آباد میں مذاکرات کی امید، فیصلہ کن لمحہ
مینگورہ شہر کے سیلاب زدہ محلے تاحال بنیادی سہولیات سے محروم مینگورہ ( عزیز خان ) ضلع سوات کا مرکزی شہر مینگورہ، جو کبھی اپنی گنجان آبادی اور معاشی سرگرمیوں کے باعث پہچانا جاتا تھا، آج بھی سیلاب کے اثرات سے پوری طرح باہر نہ نکل سکا۔ شہر کے متاثرہ علاقوں، خصوصاً محلہ لنڈیکس اور محلہ بنگلہ دیش میں آٹھ ماہ گزر جانے کے باوجود بجلی، گیس اور صاف پانی جیسی بنیادی سہولیات بحال نہ ہوسکیں، جس کے باعث مقامی آبادی شدید مشکلات کا شکار ہے۔ ان محلوں کے مکینوں کا کہنا ہے کہ سیلاب کے فوری بعد وقتی امدادی سرگرمیاں تو دیکھنے میں آئیں، مگر مستقل بحالی کا عمل سست روی کا شکار رہا۔ گلیاں اب بھی ٹوٹ پھوٹ کا منظر پیش کر رہی ہیں، جبکہ نکاس آب کا نظام مکمل طور پر تباہ ہوچکا ہے۔ جگہ جگہ پانی جمع رہتا ہے اور نالیاں ریت اور ملبے سے بھری پڑی ہیں، جس سے نہ صرف آمد و رفت متاثر ہوتی ہے بلکہ بیماریوں کے پھیلنے کا خدشہ بھی بڑھ گیا ہے۔ یونین کونسل کے سابق چیئرمین فضل ربی راجا کے مطابق، مقامی لوگوں نے بارہا اپنے منتخب نمائندوں کو مسائل سے آگاہ کیا، مگر عملی اقدامات دیکھنے میں نہیں آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ متعلقہ ایم پی ایز اور ایم این ایز نے وعدے تو کئے، لیکن متاثرہ علاقوں کا دورہ تک نہیں کیا۔ انہوں نے بتایا کہ صفائی ستھرائی اور عارضی بحالی کے کئی کام علاقے کے لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت انجام دئے، تاہم بڑے پیمانے پر درکار اقدامات کے لئے حکومتی وسائل ناگزیر ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ سیلابی ریلوں نے ندیوں پر قائم کئی چھوٹے بڑے پل بہا دئے، جس کے باعث روزمرہ زندگی شدید متاثر ہوئی ہے۔ بچے اسکول اور مدارس جانے سے محروم ہوچکے ہیں، جبکہ مریضوں کو ہسپتال پہنچانے کے لئے ندی میں اترنا پڑتا ہے۔ کاروباری افراد کو بھی روزانہ اسی مشکل صورتحال کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جس سے ان کی معاشی سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں۔ بزرگ افراد کے لئے ندی پار کرنا ایک خطرناک مرحلہ بن چکا ہے، اور اکثر حادثات کی اطلاعات بھی سامنے آتی رہتی ہیں۔ فضل ربی راجا کے مطابق، علاقے کے لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت کئی عارضی پل تعمیر کئے، لیکن پانی کے بہاؤ میں اضافے کے باعث یہ پل چند ہی دنوں میں بہہ جاتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام اپنی استطاعت سے بڑھ کر کام کرچکی ہے، مگر ایسے منصوبے جن کے لئے بھاری مشینری اور خطیر فنڈز درکار ہوں، وہ حکومت ہی انجام دے سکتی ہے۔ مقامی رہائشی محمد علی نے بتایا کہ گیس کی فراہمی مکمل طور پر متاثر ہے، اور کئی مقامات پر پائپ لائنیں سیلاب میں بہہ چکی ہیں۔ اسی طرح بجلی کا نظام بھی مکمل بحال نہیں ہو سکا، کیونکہ کئی کھمبے اور ٹرانسفارمر تباہ ہو چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بجلی کی غیر اعلانیہ بندش معمول بن چکی ہے، جبکہ نکاسی آب کا نظام ناکارہ ہونے کے باعث زندگی اجیرن ہوچکی ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر ان مسائل کے حل کے لئے عملی اقدامات کیے جائیں۔ یہ علاقے، جو سیلاب سے قبل مینگورہ کے اہم اور قیمتی رہائشی علاقوں میں شمار ہوتے تھے، اب کھنڈرات کا منظر پیش کر رہے ہیں۔ گلیوں اور سڑکوں کی خستہ حالی، ہر طرف پھیلی گندگی، کیچڑ اور ملبہ نہ صرف شہری زندگی کو متاثر کر رہا ہے بلکہ علاقے کی مجموعی خوبصورتی کو بھی گہنا چکا ہے۔ صفائی اور ترقیاتی کاموں کا فقدان واضح طور پر محسوس کیا جا سکتا ہے۔ دوسری جانب، مینگورہ کے سٹی میئر شاہد علی نے رابطہ کرنے پر بتایا کہ فنڈز کی کمی کے باعث بحالی کے کاموں میں تاخیر ہوئی ہے۔ ان کے مطابق جلد مرکزی پل کی تعمیر کا آغاز کیا جا رہا ہے، جبکہ دیگر منصوبوں پر بھی بتدریج کام جاری ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ بعض علاقوں میں تنگ گلیاں سرکاری مشینری کے استعمال میں رکاوٹ بن رہی ہیں، جس کی وجہ سے کام کی رفتار متاثر ہوئی ہے۔ تاہم انہوں نے یقین دلایا کہ دستیاب وسائل کے مطابق ہر ممکن اقدامات کئے جا رہے ہیں، اور اضافی فنڈز کے حصول کے لئے حکومت سے رابطے میں ہیں۔ مینگورہ کے ان گنجان آباد محلوں میں لاکھوں افراد مقیم ہیں، جن میں سے کئی خاندان سیلاب کے بعد عارضی طور پر نقل مکانی کر گئے تھے، تاہم بعد ازاں اپنے گھروں کو آباد کرنے کی غرض سے واپس آنا پڑا۔ اب سہولیات کی عدم دستیابی کے باعث یہ خاندان ایک بار پھر مشکلات کے گرداب میں پھنس چکے ہیں۔ مقامی افراد کا کہنا ہے کہ وہ روزانہ کی بنیاد پر اپنے مسائل کے حل کے لئے سیاسی نمائندوں سے رجوع کرتے ہیں، مگر شنوائی نہ ہونے کے برابر ہے۔ موجودہ صورتحال میں نہ تو وہ اپنے گھروں کو چھوڑ سکتے ہیں اور نہ ہی کہیں اور مستقل طور پر منتقل ہونے کی سکت رکھتے ہیں۔ متاثرین نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ہنگامی بنیادوں پر بنیادی سہولیات کی بحالی کو یقینی بنایا جائے، تاکہ وہ معمول کی زندگی کی طرف واپس لوٹ سکیں۔
مینگورہ شہر کے سیلاب زدہ محلے تاحال بنیادی سہولیات سے محروم
اسلام آباد مذاکرات: سیزفائر کے سائے میں ایک غیر یقینی سفارت کاری اسلام اباد ( دی خیبر ٹائمز مانیٹرنگ ڈیسک) اپریل 2026 میں امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے جہاں سفارت کاری اور طاقت کے مظاہرے ساتھ ساتھ چل رہے ہیں۔ دو ہفتوں پر محیط سیزفائر اپنی مدت کے اختتام کے قریب ہے، مگر حالات بتاتے ہیں کہ یہ محض ایک عارضی وقفہ تھا، مستقل حل نہیں۔ بظاہر میدان جنگ خاموش ہے، لیکن پس پردہ سرگرمیاں تیز ہو چکی ہیں۔ خاص طور پر آبنائے ہرمز میں ایک ایرانی کارگو جہاز کی ضبطگی نے نہ صرف کشیدگی کو بڑھایا بلکہ اس نے سیزفائر کی روح کو بھی سوالیہ نشان بنا دیا ہے۔ امریکہ کی جانب سے ایرانی جہاز کو روک کر قبضے میں لینا ایک ایسا اقدام تھا جس نے حالات کو یکسر بدل دیا۔ امریکی حکام کا دعویٰ ہے کہ جہاز میں ایسا سامان موجود تھا جو بظاہر تجارتی تھا، مگر اسے عسکری مقاصد کیلئے بھی استعمال کیا جا سکتا تھا۔ ان میں دھاتیں، پائپ اور الیکٹرانک آلات شامل بتائے گئے ہیں۔ دوسری طرف ایران اس کارروائی کو کھلی جارحیت قرار دے رہا ہے۔ تہران کے نزدیک یہ نہ صرف سیزفائر کی خلاف ورزی ہے بلکہ بین الاقوامی قوانین کی بھی نفی ہے۔ یہی وہ نقطہ ہے جہاں سے دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کا فقدان مزید گہرا ہو گیا ہے۔ پاکستان کا دارالحکومت اسلام آباد اس وقت عالمی سفارت کاری کا مرکز بنا ہوا ہے۔ امریکہ کا وفد یہاں پہنچ چکا ہے اور اس نے مذاکرات کیلئے اپنی تیاری مکمل کر لی ہے۔ تاہم ایران کی غیر یقینی صورتحال نے اس پورے عمل کو غیر مستحکم بنا دیا ہے۔ ابتدائی طور پر ایران مذاکرات میں شرکت کیلئے آمادہ تھا، لیکن حالیہ پیش رفت کے بعد اس کا مؤقف سخت ہو گیا ہے۔ ایران کا کہنا ہے کہ جب تک اس پر دباؤ جاری رہے گا، بامعنی بات چیت ممکن نہیں۔ یہ صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ مذاکرات صرف مقام اور تیاری کا نام نہیں، بلکہ اس کیلئے سیاسی ارادہ اور اعتماد بھی ضروری ہوتا ہے، جو اس وقت واضح طور پر موجود نہیں۔ اگرچہ مذاکرات کے مقام کا باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا، لیکن اطلاعات یہی ہیں کہ شہر کے بڑے ہوٹلز کو اس مقصد کیلئے مخصوص کیا گیا ہے۔ ان ہوٹلز کو جزوی طور پر خالی کرایا گیا ہے تاکہ سیکیورٹی کو یقینی بنایا جا سکے۔ اسلام آباد میں سیکیورٹی کے انتظامات غیر معمولی ہیں۔ ریڈ زون کو مکمل طور پر سیل کر دیا گیا ہے، ہزاروں سیکیورٹی اہلکار تعینات ہیں، اور شہر کے اہم داخلی و خارجی راستوں پر سخت نگرانی کی جا رہی ہے۔ یہ انتظامات اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ پاکستان اس عمل کو انتہائی سنجیدگی سے لے رہا ہے اور کسی بھی ممکنہ خطرے سے نمٹنے کیلئے تیار ہے۔ امریکہ مذاکرات چاہتا ہے، مگر اپنی شرائط کے ساتھ۔ اس کا زور ایران کے میزائل پروگرام اور علاقائی سرگرمیوں پر پابندیوں پر ہے۔ دوسری جانب ایران کا مؤقف واضح ہے کہ دباؤ اور مذاکرات ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے۔ ایران اقتصادی پابندیوں کے خاتمے اور بحری ناکہ بندی کے خاتمے کو اولین شرط قرار دے رہا ہے۔ اس کے نزدیک حالیہ جہاز ضبطگی اس بات کا ثبوت ہے کہ امریکہ سنجیدہ سفارت کاری کے بجائے دباؤ کی پالیسی پر قائم ہے ، اور یہی اختلافات اس وقت مذاکرات کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔ سیزفائر اب ایک نازک مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ اگر ایران مذاکرات میں شامل ہو جاتا ہے تو اس میں توسیع ممکن ہے۔ لیکن اگر موجودہ تعطل برقرار رہا تو یہ عارضی امن کسی بھی وقت ختم ہو سکتا ہے۔ خطے کی صورتحال اس بات کی متقاضی ہے کہ دونوں فریق فوری طور پر کشیدگی کم کریں، کیونکہ کسی بھی قسم کی نئی جھڑپ نہ صرف اس سیزفائر کو ختم کر سکتی ہے بلکہ ایک وسیع تر تنازع کو بھی جنم دے سکتی ہے۔ اسلام آباد میں سب کچھ تیار ہے۔ سفارتی ماحول موجود ہے، سیکیورٹی کے انتظامات مکمل ہیں، اور عالمی نظریں اس شہر پر مرکوز ہیں۔ مگر اصل سوال اب بھی اپنی جگہ قائم ہے: کیا ایران مذاکرات کی میز پر آئے گا؟ یہ صرف دو ممالک کے درمیان تنازع نہیں، بلکہ ایک وسیع علاقائی توازن کا معاملہ ہے۔ اگر مذاکرات کامیاب ہوتے ہیں تو یہ ایک بڑی سفارتی کامیابی ہوگی، اور اگر ناکام رہے تو اس کے اثرات دور رس ہو سکتے ہیں۔ آنے والے دن اس بات کا فیصلہ کریں گے کہ اسلام آباد امن کی علامت بنتا ہے یا ایک ضائع شدہ موقع کی؟
اسلام آباد مذاکرات: سیزفائر کے سائے میں ایک غیر یقینی سفارت کاری

زیادہ پڑھی گئی

پشتون تحفظ مؤومنٹ کے اہم رہنما شہاب خٹک کے بھائی ڈاکٹر نعیم الدین خٹک کو نامعلوم افراد نے پشاور کے بھرے بازار میں گولی مارکر شہید کردیا
شمالی وزیرستان کو کس کی نظر لگ گئی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ احسان داوڑ
کیا لڑانے والے کامیاب نہیں ہوئے ؟؟؟ خصوصی تحریر: رسول داوڑ
شمالی وزیرستان ،رمضان المبارک کا چاندنظرآگیا
بول کہ لب آزاد ہیں تیرے…. تحریر رفعت انجم
پشاورکوروناکےنشانےپرکیوں؟؟؟ تحریر: فدا عدیل
آبنائے ہرمز پر امریکا کا کنٹرول، ٹرمپ کا دعویٰ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک سخت اور غیر معمولی بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز اب امریکا کے کنٹرول میں ہے اور کسی بھی جہاز کو ایرانی بندرگاہوں کی طرف جانے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس ناکہ بندی کے باعث ایران کو روزانہ تقریباً 500 ملین ڈالر کا معاشی نقصان ہو رہا ہے۔ ٹرمپ نے اپنے بیان میں ایران کی عسکری صلاحیتوں کے حوالے سے بھی بڑے دعوے کئے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کی بحریہ “سمندر کی تہہ میں جا چکی ہے”، فضائیہ “عملاً ختم ہو چکی ہے” جبکہ اینٹی ایئر کرافٹ سسٹمز اور ریڈار تنصیبات کو بھی تباہ کر دیا گیا ہے۔ ان کے مطابق، امریکی B-2 بمبار طیاروں نے ایران کی نیوکلیئر لیبارٹریز اور ذخیرہ گاہوں کو نشانہ بنایا، جبکہ ایرانی قیادت کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔ تاہم، ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی، اور نہ ہی ایران کی جانب سے فوری طور پر ان بیانات پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے آیا ہے۔ دفاعی ماہرین کے مطابق، آبنائے ہرمز جیسے اہم عالمی بحری راستے پر مکمل کنٹرول حاصل کرنا ایک پیچیدہ اور انتہائی حساس معاملہ ہے، جس کے عالمی تجارت پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین تیل بردار راستوں میں سے ایک ہے، جہاں سے عالمی تیل کی ترسیل کا بڑا حصہ گزرتا ہے۔ کسی بھی قسم کی ناکہ بندی یا کشیدگی نہ صرف خطے بلکہ عالمی معیشت کے لئے بھی سنگین نتائج کا باعث بن سکتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس قسم کے بیانات خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں اور عالمی برادری کو ایک نئی بحرانی صورتحال کی طرف دھکیل سکتے ہیں۔ دوسری جانب، عالمی مبصرین اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ ایسے دعوؤں کی تصدیق کے لئے قابل اعتماد اور غیر جانبدار ذرائع کا انتظار کیا جانا چاہئے۔

آبنائے ہرمز پر امریکا کا کنٹرول، ٹرمپ کا دعویٰ

اپریل 22, 2026April 22, 2026

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک سخت اور غیر معمولی بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز اب امریکا کے کنٹرول میں ہے اور کسی بھی جہاز کو ایرانی بندرگاہوں کی طرف جانے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔ مزید پڑھیں

Copyright © 2019-2020, THE KHYBER TIMES All Rights Reserved | Powered by Kifayatullah MOMAND