پشاور میں 30 کروڑ کے ٹھیکے پر مبینہ بندر بانٹ، 31 ٹھیکیدار نظر انداز پشاور میں خیبرپختونخوا حکومت کے لوکل گورنمنٹ ڈیپارٹمنٹ میں ایک اور بڑے مالی اسکینڈل نے سر اٹھا لیا ہے جہاں 30 کروڑ روپے کے ترقیاتی ٹھیکے میں مبینہ طور پر میرٹ کی کھلم کھلا خلاف ورزی سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق ٹاؤن ون پشاور میں جاری ترقیاتی منصوبوں کیلئے مختص یہ خطیر رقم ایک ایسے ٹھیکیدار کے حوالے کر دی گئی جسے صوبائی وزیر کا منظورِ نظر قرار دیا جا رہا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ٹھیکے کی تقسیم کے دوران ایک بااثر اعلیٰ افسر نے دیگر ٹھیکہ داروں پر دباؤ ڈالا کہ وہ مخصوص ٹھیکیدار کے حق میں دستبردار ہو جائیں تاکہ تمام کام ایک ہی فرد کے سپرد کیا جا سکے۔ اس مبینہ دباؤ کے بعد ٹھیکیدار برادری میں شدید بے چینی پھیل گئی ہے اور معاملہ اب کھل کر تنازع کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ رپورٹس کے مطابق پشاور کے 31 مقامی ٹھیکیداروں کو مکمل طور پر نظر انداز کرتے ہوئے صرف ایک ٹھیکیدار کو نوازا جانا کئی سنجیدہ سوالات کو جنم دے رہا ہے۔ ناقدین اسے نہ صرف میرٹ کا قتل قرار دے رہے ہیں بلکہ اسے سرکاری خزانے کی منظم بندر بانٹ بھی کہا جا رہا ہے۔ ٹھیکیدار برادری کا مؤقف ہے کہ اگر مقابلے کا شفاف عمل اپنایا جاتا تو درجنوں مقامی کنٹریکٹرز کو بھی مساوی مواقع مل سکتے تھے، مگر یہاں تمام قواعد و ضوابط کو پس پشت ڈال دیا گیا۔ اس اسکینڈل کے منظر عام پر آنے کے بعد لوکل گورنمنٹ ڈیپارٹمنٹ میں کرپشن کے نئے دروازے کھلنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ حکومت کی جانب سے میرٹ، شفافیت اور احتساب کے بلند بانگ دعوے اس معاملے کے بعد سوالیہ نشان بن گئے ہیں۔ سیاسی و سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر 30 کروڑ روپے کے ٹھیکے میں اس نوعیت کی مداخلت ہو سکتی ہے تو پھر دیگر ترقیاتی منصوبوں کی شفافیت بھی مشکوک ہو جاتی ہے۔ دوسری جانب معاملہ صرف ٹھیکے کی تقسیم تک محدود نہیں رہا بلکہ پشاور میں ٹھیکہ داروں اور متعلقہ ایکسیئن کے درمیان تنازع بھی شدت اختیار کر گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق متاثرہ ٹھیکہ داروں نے مشترکہ مشاورت کے بعد پیر کے روز پشاور پریس کلب میں ایک اہم پریس کانفرنس کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس میں وہ مبینہ حکومتی دباؤ، دھمکیوں، اقربا پروری اور جاری مالی بے ضابطگیوں سے نہ صرف پردہ اٹھائیں گے، بلکہ اس بندر بانٹ میں تمام ان وزیروں مشیروں، سرکاری افسران اور ٹھیکیداروں کے نام بھی منظر عام پر لائینگے۔ میڈیا کے سامنے رکھ دینگے۔ ٹھیکہ دار برادری کا کہنا ہے کہ اگر ان کے تحفظات نہ سنے گئے تو وہ نہ صرف احتجاجی تحریک شروع کریں گے بلکہ متعلقہ محکمے کے خلاف قانونی کارروائی کا راستہ بھی اختیار کریں گے۔ یوں خیبرپختونخوا حکومت کیلئے ایک اور کرپشن اسکینڈل سیاسی دردِ سر بنتا جا رہا ہے۔

پشاور میں 30 کروڑ کے ٹھیکے پر مبینہ بندر بانٹ، 31 ٹھیکیدار نظر انداز

پشاور میں خیبرپختونخوا حکومت کے لوکل گورنمنٹ ڈیپارٹمنٹ میں ایک اور بڑے مالی اسکینڈل نے سر اٹھا لیا ہے جہاں 30 کروڑ روپے کے ترقیاتی ٹھیکے میں مبینہ طور پر میرٹ کی کھلم کھلا خلاف ورزی سامنے آئی ہے۔ ذرائع مزید پڑھیں