21 April, 2026
اہم خبریں
  • مینگورہ شہر کے سیلاب زدہ محلے تاحال بنیادی سہولیات سے محروم
  • اسلام آباد مذاکرات: سیزفائر کے سائے میں ایک غیر یقینی سفارت کاری
  • مشرقِ وسطیٰ میدانِ جنگ میں تبدیل: ایران امریکا کشیدگی عروج پر، مذاکرات کے امکانات معدوم
  • خاک سے ستاروں تک، ایک یتیم کے زخموں کی خون آلود داستان
  • لکی مروت: کالعدم تنظیم کے اہم کمانڈر کی گرفتاری، دورانِ تفتیش اہم انکشافات
  • Home
  • اہم خبریں
  • پاکستان
    • دینی مسائل
    • اہم خبریں
    • مذہب
    • تصاویر اور مناظر
    • سیر و تفریح
    • دلچسپ و عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
    • صحت
  • افغانستان
  • علاقائی
  • کالمز
  • انٹرنیشنل
  • کاروبار
  • کھیل
  • شوبز
  • کاپی رائٹس
    • پرائیویسی پالیسی
    • قوائد و ضوابت
    • ہمارے بارے میں
  • Home
  • اہم خبریں
  • پاکستان
    • دینی مسائل
    • اہم خبریں
    • مذہب
    • تصاویر اور مناظر
    • سیر و تفریح
    • دلچسپ و عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
    • صحت
  • افغانستان
  • علاقائی
  • کالمز
  • انٹرنیشنل
  • کاروبار
  • کھیل
  • شوبز
  • کاپی رائٹس
    • پرائیویسی پالیسی
    • قوائد و ضوابت
    • ہمارے بارے میں

ہمارا یوٹیوب چینل

ہمارا فیس بک پیج

The Khyber Times

خصوصی فیچرز

پشتون تحفظ مؤومنٹ کے اہم رہنما شہاب خٹک کے بھائی ڈاکٹر نعیم الدین خٹک کو نامعلوم افراد نے پشاور کے بھرے بازار میں گولی مارکر شہید کردیا
شمالی وزیرستان کو کس کی نظر لگ گئی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ احسان داوڑ
کیا لڑانے والے کامیاب نہیں ہوئے ؟؟؟ خصوصی تحریر: رسول داوڑ
شمالی وزیرستان ،رمضان المبارک کا چاندنظرآگیا
بول کہ لب آزاد ہیں تیرے…. تحریر رفعت انجم

حیرت انگیز

مینگورہ شہر کے سیلاب زدہ محلے تاحال بنیادی سہولیات سے محروم مینگورہ ( عزیز خان ) ضلع سوات کا مرکزی شہر مینگورہ، جو کبھی اپنی گنجان آبادی اور معاشی سرگرمیوں کے باعث پہچانا جاتا تھا، آج بھی سیلاب کے اثرات سے پوری طرح باہر نہ نکل سکا۔ شہر کے متاثرہ علاقوں، خصوصاً محلہ لنڈیکس اور محلہ بنگلہ دیش میں آٹھ ماہ گزر جانے کے باوجود بجلی، گیس اور صاف پانی جیسی بنیادی سہولیات بحال نہ ہوسکیں، جس کے باعث مقامی آبادی شدید مشکلات کا شکار ہے۔ ان محلوں کے مکینوں کا کہنا ہے کہ سیلاب کے فوری بعد وقتی امدادی سرگرمیاں تو دیکھنے میں آئیں، مگر مستقل بحالی کا عمل سست روی کا شکار رہا۔ گلیاں اب بھی ٹوٹ پھوٹ کا منظر پیش کر رہی ہیں، جبکہ نکاس آب کا نظام مکمل طور پر تباہ ہوچکا ہے۔ جگہ جگہ پانی جمع رہتا ہے اور نالیاں ریت اور ملبے سے بھری پڑی ہیں، جس سے نہ صرف آمد و رفت متاثر ہوتی ہے بلکہ بیماریوں کے پھیلنے کا خدشہ بھی بڑھ گیا ہے۔ یونین کونسل کے سابق چیئرمین فضل ربی راجا کے مطابق، مقامی لوگوں نے بارہا اپنے منتخب نمائندوں کو مسائل سے آگاہ کیا، مگر عملی اقدامات دیکھنے میں نہیں آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ متعلقہ ایم پی ایز اور ایم این ایز نے وعدے تو کئے، لیکن متاثرہ علاقوں کا دورہ تک نہیں کیا۔ انہوں نے بتایا کہ صفائی ستھرائی اور عارضی بحالی کے کئی کام علاقے کے لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت انجام دئے، تاہم بڑے پیمانے پر درکار اقدامات کے لئے حکومتی وسائل ناگزیر ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ سیلابی ریلوں نے ندیوں پر قائم کئی چھوٹے بڑے پل بہا دئے، جس کے باعث روزمرہ زندگی شدید متاثر ہوئی ہے۔ بچے اسکول اور مدارس جانے سے محروم ہوچکے ہیں، جبکہ مریضوں کو ہسپتال پہنچانے کے لئے ندی میں اترنا پڑتا ہے۔ کاروباری افراد کو بھی روزانہ اسی مشکل صورتحال کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جس سے ان کی معاشی سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں۔ بزرگ افراد کے لئے ندی پار کرنا ایک خطرناک مرحلہ بن چکا ہے، اور اکثر حادثات کی اطلاعات بھی سامنے آتی رہتی ہیں۔ فضل ربی راجا کے مطابق، علاقے کے لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت کئی عارضی پل تعمیر کئے، لیکن پانی کے بہاؤ میں اضافے کے باعث یہ پل چند ہی دنوں میں بہہ جاتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام اپنی استطاعت سے بڑھ کر کام کرچکی ہے، مگر ایسے منصوبے جن کے لئے بھاری مشینری اور خطیر فنڈز درکار ہوں، وہ حکومت ہی انجام دے سکتی ہے۔ مقامی رہائشی محمد علی نے بتایا کہ گیس کی فراہمی مکمل طور پر متاثر ہے، اور کئی مقامات پر پائپ لائنیں سیلاب میں بہہ چکی ہیں۔ اسی طرح بجلی کا نظام بھی مکمل بحال نہیں ہو سکا، کیونکہ کئی کھمبے اور ٹرانسفارمر تباہ ہو چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بجلی کی غیر اعلانیہ بندش معمول بن چکی ہے، جبکہ نکاسی آب کا نظام ناکارہ ہونے کے باعث زندگی اجیرن ہوچکی ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر ان مسائل کے حل کے لئے عملی اقدامات کیے جائیں۔ یہ علاقے، جو سیلاب سے قبل مینگورہ کے اہم اور قیمتی رہائشی علاقوں میں شمار ہوتے تھے، اب کھنڈرات کا منظر پیش کر رہے ہیں۔ گلیوں اور سڑکوں کی خستہ حالی، ہر طرف پھیلی گندگی، کیچڑ اور ملبہ نہ صرف شہری زندگی کو متاثر کر رہا ہے بلکہ علاقے کی مجموعی خوبصورتی کو بھی گہنا چکا ہے۔ صفائی اور ترقیاتی کاموں کا فقدان واضح طور پر محسوس کیا جا سکتا ہے۔ دوسری جانب، مینگورہ کے سٹی میئر شاہد علی نے رابطہ کرنے پر بتایا کہ فنڈز کی کمی کے باعث بحالی کے کاموں میں تاخیر ہوئی ہے۔ ان کے مطابق جلد مرکزی پل کی تعمیر کا آغاز کیا جا رہا ہے، جبکہ دیگر منصوبوں پر بھی بتدریج کام جاری ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ بعض علاقوں میں تنگ گلیاں سرکاری مشینری کے استعمال میں رکاوٹ بن رہی ہیں، جس کی وجہ سے کام کی رفتار متاثر ہوئی ہے۔ تاہم انہوں نے یقین دلایا کہ دستیاب وسائل کے مطابق ہر ممکن اقدامات کئے جا رہے ہیں، اور اضافی فنڈز کے حصول کے لئے حکومت سے رابطے میں ہیں۔ مینگورہ کے ان گنجان آباد محلوں میں لاکھوں افراد مقیم ہیں، جن میں سے کئی خاندان سیلاب کے بعد عارضی طور پر نقل مکانی کر گئے تھے، تاہم بعد ازاں اپنے گھروں کو آباد کرنے کی غرض سے واپس آنا پڑا۔ اب سہولیات کی عدم دستیابی کے باعث یہ خاندان ایک بار پھر مشکلات کے گرداب میں پھنس چکے ہیں۔ مقامی افراد کا کہنا ہے کہ وہ روزانہ کی بنیاد پر اپنے مسائل کے حل کے لئے سیاسی نمائندوں سے رجوع کرتے ہیں، مگر شنوائی نہ ہونے کے برابر ہے۔ موجودہ صورتحال میں نہ تو وہ اپنے گھروں کو چھوڑ سکتے ہیں اور نہ ہی کہیں اور مستقل طور پر منتقل ہونے کی سکت رکھتے ہیں۔ متاثرین نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ہنگامی بنیادوں پر بنیادی سہولیات کی بحالی کو یقینی بنایا جائے، تاکہ وہ معمول کی زندگی کی طرف واپس لوٹ سکیں۔
مینگورہ شہر کے سیلاب زدہ محلے تاحال بنیادی سہولیات سے محروم
اسلام آباد مذاکرات: سیزفائر کے سائے میں ایک غیر یقینی سفارت کاری اسلام اباد ( دی خیبر ٹائمز مانیٹرنگ ڈیسک) اپریل 2026 میں امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے جہاں سفارت کاری اور طاقت کے مظاہرے ساتھ ساتھ چل رہے ہیں۔ دو ہفتوں پر محیط سیزفائر اپنی مدت کے اختتام کے قریب ہے، مگر حالات بتاتے ہیں کہ یہ محض ایک عارضی وقفہ تھا، مستقل حل نہیں۔ بظاہر میدان جنگ خاموش ہے، لیکن پس پردہ سرگرمیاں تیز ہو چکی ہیں۔ خاص طور پر آبنائے ہرمز میں ایک ایرانی کارگو جہاز کی ضبطگی نے نہ صرف کشیدگی کو بڑھایا بلکہ اس نے سیزفائر کی روح کو بھی سوالیہ نشان بنا دیا ہے۔ امریکہ کی جانب سے ایرانی جہاز کو روک کر قبضے میں لینا ایک ایسا اقدام تھا جس نے حالات کو یکسر بدل دیا۔ امریکی حکام کا دعویٰ ہے کہ جہاز میں ایسا سامان موجود تھا جو بظاہر تجارتی تھا، مگر اسے عسکری مقاصد کیلئے بھی استعمال کیا جا سکتا تھا۔ ان میں دھاتیں، پائپ اور الیکٹرانک آلات شامل بتائے گئے ہیں۔ دوسری طرف ایران اس کارروائی کو کھلی جارحیت قرار دے رہا ہے۔ تہران کے نزدیک یہ نہ صرف سیزفائر کی خلاف ورزی ہے بلکہ بین الاقوامی قوانین کی بھی نفی ہے۔ یہی وہ نقطہ ہے جہاں سے دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کا فقدان مزید گہرا ہو گیا ہے۔ پاکستان کا دارالحکومت اسلام آباد اس وقت عالمی سفارت کاری کا مرکز بنا ہوا ہے۔ امریکہ کا وفد یہاں پہنچ چکا ہے اور اس نے مذاکرات کیلئے اپنی تیاری مکمل کر لی ہے۔ تاہم ایران کی غیر یقینی صورتحال نے اس پورے عمل کو غیر مستحکم بنا دیا ہے۔ ابتدائی طور پر ایران مذاکرات میں شرکت کیلئے آمادہ تھا، لیکن حالیہ پیش رفت کے بعد اس کا مؤقف سخت ہو گیا ہے۔ ایران کا کہنا ہے کہ جب تک اس پر دباؤ جاری رہے گا، بامعنی بات چیت ممکن نہیں۔ یہ صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ مذاکرات صرف مقام اور تیاری کا نام نہیں، بلکہ اس کیلئے سیاسی ارادہ اور اعتماد بھی ضروری ہوتا ہے، جو اس وقت واضح طور پر موجود نہیں۔ اگرچہ مذاکرات کے مقام کا باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا، لیکن اطلاعات یہی ہیں کہ شہر کے بڑے ہوٹلز کو اس مقصد کیلئے مخصوص کیا گیا ہے۔ ان ہوٹلز کو جزوی طور پر خالی کرایا گیا ہے تاکہ سیکیورٹی کو یقینی بنایا جا سکے۔ اسلام آباد میں سیکیورٹی کے انتظامات غیر معمولی ہیں۔ ریڈ زون کو مکمل طور پر سیل کر دیا گیا ہے، ہزاروں سیکیورٹی اہلکار تعینات ہیں، اور شہر کے اہم داخلی و خارجی راستوں پر سخت نگرانی کی جا رہی ہے۔ یہ انتظامات اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ پاکستان اس عمل کو انتہائی سنجیدگی سے لے رہا ہے اور کسی بھی ممکنہ خطرے سے نمٹنے کیلئے تیار ہے۔ امریکہ مذاکرات چاہتا ہے، مگر اپنی شرائط کے ساتھ۔ اس کا زور ایران کے میزائل پروگرام اور علاقائی سرگرمیوں پر پابندیوں پر ہے۔ دوسری جانب ایران کا مؤقف واضح ہے کہ دباؤ اور مذاکرات ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے۔ ایران اقتصادی پابندیوں کے خاتمے اور بحری ناکہ بندی کے خاتمے کو اولین شرط قرار دے رہا ہے۔ اس کے نزدیک حالیہ جہاز ضبطگی اس بات کا ثبوت ہے کہ امریکہ سنجیدہ سفارت کاری کے بجائے دباؤ کی پالیسی پر قائم ہے ، اور یہی اختلافات اس وقت مذاکرات کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔ سیزفائر اب ایک نازک مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ اگر ایران مذاکرات میں شامل ہو جاتا ہے تو اس میں توسیع ممکن ہے۔ لیکن اگر موجودہ تعطل برقرار رہا تو یہ عارضی امن کسی بھی وقت ختم ہو سکتا ہے۔ خطے کی صورتحال اس بات کی متقاضی ہے کہ دونوں فریق فوری طور پر کشیدگی کم کریں، کیونکہ کسی بھی قسم کی نئی جھڑپ نہ صرف اس سیزفائر کو ختم کر سکتی ہے بلکہ ایک وسیع تر تنازع کو بھی جنم دے سکتی ہے۔ اسلام آباد میں سب کچھ تیار ہے۔ سفارتی ماحول موجود ہے، سیکیورٹی کے انتظامات مکمل ہیں، اور عالمی نظریں اس شہر پر مرکوز ہیں۔ مگر اصل سوال اب بھی اپنی جگہ قائم ہے: کیا ایران مذاکرات کی میز پر آئے گا؟ یہ صرف دو ممالک کے درمیان تنازع نہیں، بلکہ ایک وسیع علاقائی توازن کا معاملہ ہے۔ اگر مذاکرات کامیاب ہوتے ہیں تو یہ ایک بڑی سفارتی کامیابی ہوگی، اور اگر ناکام رہے تو اس کے اثرات دور رس ہو سکتے ہیں۔ آنے والے دن اس بات کا فیصلہ کریں گے کہ اسلام آباد امن کی علامت بنتا ہے یا ایک ضائع شدہ موقع کی؟
اسلام آباد مذاکرات: سیزفائر کے سائے میں ایک غیر یقینی سفارت کاری
مشرقِ وسطیٰ میدانِ جنگ میں تبدیل: ایران امریکا کشیدگی عروج پر، مذاکرات کے امکانات معدوم اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے بادل گہرے ہوتے جا رہے ہیں۔ ایک طرف امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) نے ایرانی جہاز کو نشانہ بنانے کی ویڈیو جاری کر کے اشتعال میں اضافہ کر دیا ہے، تو دوسری طرف ایرانی میزائلوں نے تل ابیب میں تباہی مچا کر جنگ کا نقشہ بدل دیا ہے۔ اس سنگین صورتحال میں سفارتی کوششیں دم توڑتی نظر آ رہی ہیں۔ امریکی فوج کے شعبہ سینٹکام نے حالیہ کارروائی میں ایک ایرانی جہاز کو اپنی تحویل میں لینے اور اس پر حملے کی ویڈیو جاری کی ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سمندری حدود میں تصادم کا نیا محاذ کھل چکا ہے۔ دوسری جانب، ایران کے حالیہ میزائل حملوں نے اسرائیل کے دفاعی نظام کو بڑا دھچکا پہنچایا ہے۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق تل ابیب میں ایک ہزار سے زائد رہائشی مکانات مکمل طور پر تباہ یا ناقابلِ رہائش ہو چکے ہیں، جو کہ حالیہ دہائیوں میں اسرائیل کو پہنچنے والا سب سے بڑا شہری نقصان ہے۔ اسلام آباد میں تعینات ایرانی سفیر نے خطے کی صورتحال پر ردعمل دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ایران کسی بھی صورت عالمی دباؤ اور دھمکیوں میں نہیں آئے گا۔ انہوں نے کہا: ایران کو دھمکاکر غیرمنطقی مطالبات پورے کرنے پر مجبور نہیں کیا جاسکتا۔ ہم اپنی خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ ایران کی جانب سے موجودہ حالات میں مذاکرات کی کسی بھی پیشکش کو مسترد کرنے کے پیچھے چند اہم وجوہات ہیں: 1. اعتماد کا فقدان: ایران کا موقف ہے کہ جب تک امریکہ اور اس کے اتحادی جارحانہ اقدامات (جیسے جہازوں پر حملے) بند نہیں کرتے، بات چیت ممکن نہیں۔ 2. تہران کا الزام ہے کہ امریکہ مذاکرات کے نام پر ایسے مطالبات رکھتا ہے جو ایران کی دفاعی صلاحیت (میزائل پروگرام) کو ختم کرنے سے متعلق ہیں، جو کہ اسے منظور نہیں۔ 3. ایران کا کہنا ہے کہ ایک طرف مذاکرات کی بات کی جاتی ہے اور دوسری طرف اسرائیل کو کھلی چھوٹ دی گئی ہے، ایسے دوہرے معیار میں سفارت کاری بے معنی ہے۔ اگر ہم ماضی کے مذاکرات پر نظر ڈالیں تو ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کا سب سے بڑا موڑ 2015 کا جوہری معاہدہ (JCPOA) تھا۔ * اوبامہ کے دور میں طویل مذاکرات کے بعد ایران نے اپنے جوہری پروگرام کو محدود کرنے پر اتفاق کیا تھا، تاکہ معاشی پابندیاں ختم ہو سکیں۔ * 2018 میں اس وقت کے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یکطرفہ طور پر اس معاہدے سے علیحدگی اختیار کر لی اور ایران پر زیادہ سے زیادہ دباؤ کی مہم شروع کر دی۔ * موجودہ دور میں بھی ویانا میں کئی دور کے مذاکرات ہوئے تاکہ اس معاہدے کو بحال کیا جا سکے، لیکن فریقین کسی نتیجے پر نہ پہنچ سکے۔ ایران کا دعویٰ ہے کہ امریکہ ہر بار معاہدے کی شرائط سے پھر جاتا ہے، اس لئے اب مذاکرات وقت کا ضیاع ہیں۔ اسرائیل میں ہونے والی حالیہ تباہی کے بعد نیتن یاہو حکومت پر جوابی حملے کا شدید عوامی دباؤ ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر عالمی برادری نے فوری مداخلت نہ کی تو یہ جنگ محض دو ممالک تک محدود نہیں رہے گی بلکہ پورے خطے کے امن و معیشت کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی۔
مشرقِ وسطیٰ میدانِ جنگ میں تبدیل: ایران امریکا کشیدگی عروج پر، مذاکرات کے امکانات معدوم
خاک سے ستاروں تک، ایک یتیم کے زخموں کی خون آلود داستان تحریر: ناصر داوڑ یتیم کا پی ایچ ڈی: وزیرستان کی تعلیمی تاریکی سے روشنی کی فتح۔۔۔ اندھیروں کی سیاہ آغوش میں بھی کبھی ایسا چراغ جھلملاتا ہے جو زمانے کی آنکھیں کھول دیتا ہے۔ وزیرستان…
پہاڑوں کا، غیرت کا، لہو اور آنسوؤں کا وہ تلخ وطن…
وہ مقدس مٹی جس کا ہر ذرہ شہیدوں کا تازہ خون چلاتا ہے،
جس کا ہر پتھر صبر کی چھالوں سے بھرا امتحان ہے۔
یہ وہ خطہ ہے جہاں عوام تعلیمی پسماندگی کا شکار ہے، عام بچے سکول کی دہلیز تک نہ پہنچ پاتے،
عالم کی بلند تعلیم تو دور کی کوڑی۔۔۔ خاص طور پر یتیموں کے لئے ناممکن۔ مگر یہاں سب کچھ الٹا ہو گیا!
یہی طوفانوں زدہ مٹی ایسے سپوتوں کو پروان چڑھاتی ہے
جو موت کی زنجیریں توڑتے ہیں، قبرستانوں سے روشنی کا شعلہ چھین لیتے ہیں۔ ناصر اسد داوڑ…
صرف نام نہیں، ایک زندہ زخم ہے،
آنسوؤں سے آنسوؤں تک کا خون ٹپکتا سفر۔ "ایک بچہ… جس کا سایہ چھین لیا گیا"
ابھی اس کی معصوم آنکھیں دنیا کی رنگینی دیکھ رہی تھیں،
ابھی ہتھیلیوں میں باپ کی داڑھی کی گرمی محسوس ہو رہی تھی،
ابھی راتوں میں باپ کی لوری کی آواز گونج رہی تھی۔۔۔
کہ موت نے دروازہ توڑ دیا۔
اسد اللہ داوڑ کا جنازہ اٹھا،
ننھے ہاتھوں نے کفن چھوا،
دل نے پہلا زخم کھایا۔۔۔ ایسا گہرا کہ ہمیشہ خون بہتا رہا۔
راتوں کو چیخیں، دنوں کو خاموشی،
ماں کی گھٹنے توڑ آنکھیں، بھائیوں کی بھوک مٹانے کی جدوجہد۔۔ 
یتیمی کا پہلا طوفان، جو بچپن کو چیر پھاڑ گیا۔
وہ سایہ جو کبھی کھیلنے والا تھا، اب قبر کی سیاہی بن گیا۔ حاجی عبدالرحمان کا بڑا امتحان
اسد کے والد محترم حاجی عبدالرحمان کے لئے یہ لمحہ بڑا امتحان تھا۔ اکثر بچے باپ کے جنازے کو کندھا دیتے ہیں، مگر انہوں نے اپنے شیر جیسے جواں سالہ بیٹے اسد اللہ کے جنازے کو کندھا دیا۔ 
اس روز عبدالرحمان کی آنکھوں سے آنسو تو نہ دیکھے گئے، مگر دل سے خون ٹپکنے لگا۔ ایک طرف بیٹے کا جنازہ، دوسری جانب اسد کے بچھڑ جانے والے چار یتیم بچوں کو دیکھ کر ان کے پیروں سے زمین نکل گئی۔
مگر ان کے دیگر غیرت مند بیٹوں نے باپ کو سہارا دیا،، خاص طور پر احسان داوڑ نے، جو سب سے بڑا تھا۔ اس نے ذمہ داری کے احساس سے دلاسہ دیا اور کہا: "یتیموں کو ہم کبھی یتیم ہونے کا احساس نہیں ہونے دیں گے!"
پھر احسان نے ان کی پرورش کا بھاری بوجھ اٹھایا۔ "مگر یہ داستان یہاں ختم نہ ہوئی…"
کیونکہ تقدیر نے ابھی ایک باب کھلا۔۔۔
محبت کا، بھائی چارے کا، اور غیرت کا لہو بھرا باب۔ احسان داوڑ…
صرف نام نہیں، ایک نڈر پہاڑ ہے۔۔۔ 
جو گولیوں اور غربت کے سامنے سر نہیں جھکاتا۔
"وہ اور اس کے بھائی بھائی،،، باپ کی خالی جگہ کا لہو بن گئے"
احسان نے مرکزی ذمہ داری اٹھائی، یتیموں کو تنہا نہ چھوڑا،
تقدیر سے چیخا: "یہ میرے بچے ہیں، جب تک میرا لہو گرم ہے!" 
اس کے بھائیوں نے ساتھ دیا۔۔۔محنت کی، روٹی کا حصہ بانٹا،
تعلیم کے خوابوں کو زندہ رکھا، ناصر کی کتابیں سلائیں۔
مگر احسان کی پرورش مرکزی تھی،،، اپنی زندگی کا ہر رنگ قربان کر دیا،
تاکہ ان کے زخم رنگین خواب بن جائیں۔ 
احسان داوڑ نے اپنے ارمانوں کی گردن کاٹ دی،
تاکہ ان کے خواب اس کے خون کی پیاس بجھائیں۔ "یہ پرورش نہ تھی،،، یہ بھائی چارے کا لہو تھا، احسان کی قربانی تھی!" 
خاموش راتوں میں، جہاں بموں کی گونج گونجتی رہتی،
تنگ دستی کے ان حالات میں جہاں روٹی بھی خواب تھی،
اور تھکا دینے والے دکھوں میں جہاں موت ہی سکون لگتی،
احسان اور ان کے دیگر بھائیوں نے امید کی لاڈھی تھامے رکھی،،، خون آلود ہاتھوں سے۔ "اور پھر… ایک سحر کے بعد بادلوں کو چیرتی صبح آئی"
برسوں بیت گئے، مشکلیں ٹوٹ گئیں،
مگر ارادہ پہاڑ کی طرح کٹا نہ مارا۔
ناصر اسد داوڑ…
وہ تین سالہ یتیم، آج علم کے آسمان پر تاروں جیسا جھلملاتا ہے۔
سرگودھا یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری چھینی۔۔۔
نہ صرف اپنے لئے، بلکہ ایک قوم کی تاریخ کے لئے۔
"یہ سند نہیں، یہ ماں کے لہو کے آنسو ہیں،
احسان اور ان کے دیگر بھائیوں کی ہڈیوں کی قربانی ہے،
برسوں کی محنت کا خون ہے جو اب چمک رہا ہے۔" "وہاں، جہاں روحیں بھی رونے لگیں گی"
آج اسد اللہ داوڑ دوسری دنیا سے دیکھ رہے ہوں گے…
اور مسکرا کر کہیں گے: "میرا خون بچ گیا…" 
اور احسان داوڑ؟ 
خاموش فخر کی مسکراہٹ لئے کھڑا، پہاڑ کی طرح۔۔۔
بے آواز، مگر آسمان چھوتا ہوا۔ "مرد وہ نہیں جو خود اٹھے، مرد وہ جو دوسروں کا خون لے کر اٹھائے۔" "یہ کہانی نہیں، وزیرستان کا زخم ہے—
ہر اس نوجوان کی چیخ جو اندھیروں میں روشنی مانگتا ہے۔"
"اندھیرا کتنا ہی لمبا کیوں نہ ہو، سحر کا لہو ضرور بہے گا۔" ناصر اسد داوڑ… آج ایک مثال ہے۔
اور احسان داوڑ… ایک زندہ تاریخ ہے۔
بے شک…
یہ وزیرستان کا فخر ہے،
غیرت کا لہو بھرا ثبوت۔۔۔ 
بعض اوقات اللہ تعالیٰ ایک سایہ چھین لیتا ہے تو اس کے بدلے ایسے شجرِ سایہ دار عطا کر دیتا ہے جو اپنی تپش بھول کر اپنوں کو سکون دیتے ہیں۔
ناصر اسد داوڑ کی پی ایچ ڈ کی کامیابی محض ایک تعلیمی ڈگری نہیں، بلکہ احسان، قربانی اور بھائی چارے کا ثمر ہے جو چچا احسان داوڑ اور ان کے دیگر بھائیوں نے بیج کی صورت بویا تھا۔ شاید سگا باپ بھی اس محنت اور جانفشانی سے پرورش نہ کر پاتا۔ 
ناصر اسد کی آنکھوں میں اب صرف کامیابی کی چمک نہیں، بلکہ "قرضِ محبت" اتارنے کا عزم ہے۔ وہ جانتے ہیں: * احسان داوڑ نے ان کے لئے اپنی خوشیاں قربان کیں۔ * خاندان کے بڑوں نے یتیمی کا احساس تک نہ ہونے دیا۔ * یہ پی ایچ ڈی ان تمام ہاتھوں کی محنت ہے جنہوں نے اسے گرنے نہ دیا۔ 
اب ناصر اسد داوڑ توانا درخت بن چکے ہیں۔ ان کی نیت سے صاف ہے کہ: * وہ چچا اور بھائیوں کے احسانات کو سر کا تاج سمجھتے ہیں۔ * اگلا مقصد خاندان کی معاشی اور سماجی حالت مستحکم کرنا ہے۔ * وہ منتظر ہیں کہ عملی طور پر تھکن اتار سکیں۔ 
وزیرستان کی مٹی میں ایسے کردار کم ملتے ہیں جہاں یتیم بچہ اس مقام تک پہنچے اور محسنوں کے لئے دیدہ و دل فرشِ راہ کر دے۔ ناصر اسد کا جڑوں سے جڑا رہنا اور خاندان کا نام روشن کرنا انہیں سچا "داوڑ" اور "وزیرستانی" ثابت کرتا ہے۔
بے شک، جس کی نیت صاف ہو اور دل میں اپنوں کا درد، اللہ راستے ہموار کر دیتا ہے۔ ناصر اسد نہ صرف خاندان بلکہ پورے علاقے کا مان بڑھائیں گے۔
خاک سے ستاروں تک، ایک یتیم کے زخموں کی خون آلود داستان
لکی مروت: کالعدم تنظیم کے اہم کمانڈر کی گرفتاری، دورانِ تفتیش اہم انکشافات لکی مروت ( دی خیبرٹائمز ڈسٹرکٹ ڈیسک ) لکی مروت کے علاقے شہباز خیل سے تعلق رکھنے والے کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان کے ایک اہم کمانڈر عامر سہیل عرف مولوی حیدر کو سیکیورٹی فورسز نے گرفتار کر لیا ہے۔ ذرائع کے مطابق گرفتار ملزم نے دورانِ تفتیش متعدد اہم انکشافات کیے ہیں، جن سے خطے میں سرگرم دہشتگرد نیٹ ورکس کے حوالے سے نئی معلومات سامنے آئی ہیں۔ سیکیورٹی حکام کے مطابق عامر سہیل بنوں، لکی مروت اور میانوالی سمیت مختلف اضلاع میں تنظیمی سرگرمیوں کی کمانڈ، رابطہ کاری اور نیٹ ورک کو منظم کرنے میں مرکزی کردار ادا کرتا رہا ہے۔ تفتیش کے دوران ملزم نے اعتراف کیا کہ وہ پاکستان مخالف گمراہ کن پروپیگنڈے سے متاثر ہو کر اس تنظیم میں شامل ہوا۔ گرفتار کمانڈر نے انکشاف کیا کہ اس نے افغانستان کے صوبہ پکتیکا میں قائم ایک تربیتی مرکز میں دہشتگردی کی باقاعدہ تربیت حاصل کی۔ اس نے دعویٰ کیا کہ مذکورہ مراکز کو مبینہ طور پر طالبان کی سرپرستی حاصل ہے۔ مزید برآں اس نے اپنے روابط کالعدم تنظیم داعش اور القاعدہ جیسے گروہوں کے ساتھ ہونے کا بھی اعتراف کیا۔ ذرائع کے مطابق ملزم نے دورانِ تفتیش بتایا کہ اسے افغانستان سمیت دیگر مبینہ ذرائع سے مالی معاونت فراہم کی جاتی رہی، جن میں "را" سے منسوب عناصر بھی شامل ہیں۔ اس کے نیٹ ورک میں 20 سے زائد افراد شامل تھے، جن میں بعض افغان شہری بھی تھے۔ تحقیقات کے مطابق گرفتار دہشتگرد بنوں، لکی مروت اور میانوالی میں سیکیورٹی فورسز پر ہونے والے متعدد حملوں میں بھی ملوث رہا ہے۔ اس نے یہ بھی بتایا کہ اسے پشاور میں علاج کی غرض سے آنے کے دوران گرفتار کیا گیا۔ اپنے بیان میں ملزم نے کہا کہ فتنہ الخوارج کا اسلام یا جہاد سے کوئی تعلق نہیں بلکہ یہ گروہ محض مالی مفادات کے لیے سرگرم ہے اور پاکستان میں دہشتگردی میں ملوث ہے۔ سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ گرفتار کمانڈر کے انکشافات کی روشنی میں مزید تحقیقات جاری ہیں، جبکہ ماہرین کے مطابق ان بیانات سے سرحد پار روابط اور دہشتگرد نیٹ ورکس کے مختلف پہلوؤں پر مزید روشنی پڑنے کا امکان ہے۔ واضح رہے کہ حالیہ واقعات اور گرفتاریوں سے یہ تاثر مزید مضبوط ہو رہا ہے کہ خیبرپختونخوا میں ایک بار پھر شدت پسند تنظیمیں سرگرم ہو رہی ہیں، جو روزانہ کی بنیاد پر سیکیورٹی فورسز اور پولیس کو نشانہ بنا رہی ہیں۔ بالخصوص ڈیرہ اسماعیل خان، لکی مروت اور کرک ایسے اضلاع ہیں جہاں ٹی ٹی پی سمیت دیگر شدت پسند گروہ متحرک ہیں۔ ان علاقوں میں بڑھتی ہوئی شدت پسندی کا جغرافیائی پھیلاؤ جنوبی پنجاب کے ساتھ مل رہا ہے، جو سیکیورٹی کے لحاظ سے ایک اہم تشویش ہے۔ اگر بروقت اور مؤثر کارروائیاں نہ کی گئیں تو یہ صورتحال پنجاب تک عدم استحکام پھیلانے کا باعث بن سکتی ہے، جس کے لیے مربوط حکمت عملی اور سخت اقدامات ناگزیر ہیں۔
لکی مروت: کالعدم تنظیم کے اہم کمانڈر کی گرفتاری، دورانِ تفتیش اہم انکشافات
وزیرستان کا بیٹا، علم کا ستارہ الحمد اللہ ثم الحمد للہ تحریر: احسان داوڑ
تاریخ: 15 اپریل 2026 کبھی کبھی زندگی ایسے لمحے عطا کرتی ہے جو محض وقت کا حصہ نہیں ہوتے، بلکہ تاریخ کے اوراق پر نقش ہو جاتے ہیں۔ ایسا ہی ایک لمحہ آج سرگودھا یونیورسٹی کے ملٹی پرپز ہال میں رقم ہوا، ایک ایسا منظر جس میں فخر، خوشی، محنت اور دعا سب یکجا ہو گئے تھے۔ ہال طلبہ، پروفیسرز اور معزز مہمانوں سے بھرا ہوا تھا۔ اسٹیج پر ایک پُراعتماد نوجوان کھڑا تھا، شمالی وزیرستان کا بیٹا، ناصر اسد داوڑ۔۔۔ جو اپنے پی ایچ ڈی مقالے کا دفاع کر رہا تھا۔ سوال و جواب کا سلسلہ جاری تھا، اور فیصل آباد کے گورنمنٹ کالج و ایجوکیشن یونیورسٹی سے آئے ہوئے بیرونی ممتحن اپنے بھرپور علمی سوالات کے ساتھ اس نوجوان کی صلاحیتوں کو پرکھ رہے تھے۔ لیکن یہ کوئی عام نوجوان نہیں تھا۔ یہ وزیرستان کی مٹی سے اٹھنے والا وہ سپوت تھا جو چٹان کی مانند ڈٹا رہا۔ اس کے لہجے میں اعتماد، اس کی گفتگو میں علم، اور اس کے انداز میں ایک دہائی کی محنت جھلک رہی تھی۔ ہر سوال کا جواب گویا اس کے عزم کی گواہی دے رہا تھا۔ ہال میں وقفے وقفے سے گونجتی تالیاں صرف کامیابی کی آواز نہیں تھیں، بلکہ اس خطے کی امیدوں کی بازگشت تھیں۔ پہلی صف میں بیٹھا میں ایک چچا، ایک گواہ، ایک فخر سے لبریز انسان اپنے جذبات کو سمیٹنے میں ناکام تھا۔ سینہ فخر سے بھر رہا تھا، آنکھیں بار بار نم ہو رہی تھیں۔ یہ آنسو صرف خوشی کے نہ تھے، یہ شکر، محبت اور ایک طویل سفر کی تکمیل کے آنسو تھے۔ اور پھر وہ لمحہ آیا۔۔۔۔ جب اعلان ہوا کہ ناصر اسد داوڑ نے یہ سنگ میل عبور کر لیا ہے۔ شاید وہ شمالی وزیرستان کا کم عمر ترین پی ایچ ڈی ڈاکٹر بن چکا تھا۔ لیکن کہانی یہیں ختم نہیں ہوتی۔ اس کے اساتذہ نے ایک اور حیران کن حقیقت بیان کی:
سرگودھا یونیورسٹی کی تاریخ میں پہلی بار کسی پی ایچ ڈی اسکالر نے اپنے مقالے کے دفاع سے پہلے تقریباً 60 تحقیقی مقالے شائع کئے، جن کے 750 سے زائد سائیٹیشنز، 12 ایچ انڈکس اور 14 آئی-10 انڈکس ہیں۔
یہ صرف ایک کامیابی نہیں، ایک ریکارڈ ہے،،، ایک مثال ہے۔۔۔ ایک اعلان ہے کہ اگر ارادہ مضبوط ہو تو جغرافیہ رکاوٹ نہیں بنتا۔ ہال تالیوں سے گونج اٹھا۔ مبارکبادوں کا سلسلہ جاری تھا۔
اور میں۔۔۔ میں بس اپنے رب کا شکر ادا کر رہا تھا: یا اللہ! تیرا لاکھ لاکھ شکر، یہ سب تیری ہی عطا ہے۔ میرے پیارے بیٹے، ڈاکٹر ناصر اسد داوڑ تم نے صرف ایک ڈگری حاصل نہیں کی، تم نے تاریخ رقم کی ہے۔ تم نے ثابت کر دیا کہ مشکلات، محرومیاں اور رکاوٹیں اُس وقت بے معنی ہو جاتی ہیں جب انسان کے اندر یقین، محنت اور استقامت زندہ ہو۔ یہ کامیابی صرف ایک فرد کی نہیں، یہ وزیرستان کے ہر اُس نوجوان کی امید ہے جو حالات سے لڑ رہا ہے۔ یہ پیغام ہے کہ: تعلیم کا دامن کبھی نہ چھوڑو، کیونکہ یہی وہ روشنی ہے جو اندھیروں کو شکست دیتی ہے۔ آج ناصر کی کامیابی ہمیں یہ یقین دلاتی ہے کہ ہمارے علاقے کے نوجوان بھی دنیا کے کسی بھی میدان میں اپنی جگہ بنا سکتے ہیں، اگر انہیں موقع، حوصلہ اور سمت مل جائے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب پر اپنا کرم فرمائے،
ہماری نوجوان نسل کو علم، شعور اور کامیابی کے راستے پر گامزن رکھے۔ آمین ثم امین۔
وزیرستان کا بیٹا، علم کا ستارہ: احسان داوڑ

زیادہ پڑھی گئی

پشتون تحفظ مؤومنٹ کے اہم رہنما شہاب خٹک کے بھائی ڈاکٹر نعیم الدین خٹک کو نامعلوم افراد نے پشاور کے بھرے بازار میں گولی مارکر شہید کردیا
شمالی وزیرستان کو کس کی نظر لگ گئی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ احسان داوڑ
کیا لڑانے والے کامیاب نہیں ہوئے ؟؟؟ خصوصی تحریر: رسول داوڑ
شمالی وزیرستان ،رمضان المبارک کا چاندنظرآگیا
بول کہ لب آزاد ہیں تیرے…. تحریر رفعت انجم
پشاورکوروناکےنشانےپرکیوں؟؟؟ تحریر: فدا عدیل
وزیرستان کا بیٹا، علم کا ستارہ الحمد اللہ ثم الحمد للہ تحریر: احسان داوڑ
تاریخ: 15 اپریل 2026 کبھی کبھی زندگی ایسے لمحے عطا کرتی ہے جو محض وقت کا حصہ نہیں ہوتے، بلکہ تاریخ کے اوراق پر نقش ہو جاتے ہیں۔ ایسا ہی ایک لمحہ آج سرگودھا یونیورسٹی کے ملٹی پرپز ہال میں رقم ہوا، ایک ایسا منظر جس میں فخر، خوشی، محنت اور دعا سب یکجا ہو گئے تھے۔ ہال طلبہ، پروفیسرز اور معزز مہمانوں سے بھرا ہوا تھا۔ اسٹیج پر ایک پُراعتماد نوجوان کھڑا تھا، شمالی وزیرستان کا بیٹا، ناصر اسد داوڑ۔۔۔ جو اپنے پی ایچ ڈی مقالے کا دفاع کر رہا تھا۔ سوال و جواب کا سلسلہ جاری تھا، اور فیصل آباد کے گورنمنٹ کالج و ایجوکیشن یونیورسٹی سے آئے ہوئے بیرونی ممتحن اپنے بھرپور علمی سوالات کے ساتھ اس نوجوان کی صلاحیتوں کو پرکھ رہے تھے۔ لیکن یہ کوئی عام نوجوان نہیں تھا۔ یہ وزیرستان کی مٹی سے اٹھنے والا وہ سپوت تھا جو چٹان کی مانند ڈٹا رہا۔ اس کے لہجے میں اعتماد، اس کی گفتگو میں علم، اور اس کے انداز میں ایک دہائی کی محنت جھلک رہی تھی۔ ہر سوال کا جواب گویا اس کے عزم کی گواہی دے رہا تھا۔ ہال میں وقفے وقفے سے گونجتی تالیاں صرف کامیابی کی آواز نہیں تھیں، بلکہ اس خطے کی امیدوں کی بازگشت تھیں۔ پہلی صف میں بیٹھا میں ایک چچا، ایک گواہ، ایک فخر سے لبریز انسان اپنے جذبات کو سمیٹنے میں ناکام تھا۔ سینہ فخر سے بھر رہا تھا، آنکھیں بار بار نم ہو رہی تھیں۔ یہ آنسو صرف خوشی کے نہ تھے، یہ شکر، محبت اور ایک طویل سفر کی تکمیل کے آنسو تھے۔ اور پھر وہ لمحہ آیا۔۔۔۔ جب اعلان ہوا کہ ناصر اسد داوڑ نے یہ سنگ میل عبور کر لیا ہے۔ شاید وہ شمالی وزیرستان کا کم عمر ترین پی ایچ ڈی ڈاکٹر بن چکا تھا۔ لیکن کہانی یہیں ختم نہیں ہوتی۔ اس کے اساتذہ نے ایک اور حیران کن حقیقت بیان کی:
سرگودھا یونیورسٹی کی تاریخ میں پہلی بار کسی پی ایچ ڈی اسکالر نے اپنے مقالے کے دفاع سے پہلے تقریباً 60 تحقیقی مقالے شائع کئے، جن کے 750 سے زائد سائیٹیشنز، 12 ایچ انڈکس اور 14 آئی-10 انڈکس ہیں۔
یہ صرف ایک کامیابی نہیں، ایک ریکارڈ ہے،،، ایک مثال ہے۔۔۔ ایک اعلان ہے کہ اگر ارادہ مضبوط ہو تو جغرافیہ رکاوٹ نہیں بنتا۔ ہال تالیوں سے گونج اٹھا۔ مبارکبادوں کا سلسلہ جاری تھا۔
اور میں۔۔۔ میں بس اپنے رب کا شکر ادا کر رہا تھا: یا اللہ! تیرا لاکھ لاکھ شکر، یہ سب تیری ہی عطا ہے۔ میرے پیارے بیٹے، ڈاکٹر ناصر اسد داوڑ تم نے صرف ایک ڈگری حاصل نہیں کی، تم نے تاریخ رقم کی ہے۔ تم نے ثابت کر دیا کہ مشکلات، محرومیاں اور رکاوٹیں اُس وقت بے معنی ہو جاتی ہیں جب انسان کے اندر یقین، محنت اور استقامت زندہ ہو۔ یہ کامیابی صرف ایک فرد کی نہیں، یہ وزیرستان کے ہر اُس نوجوان کی امید ہے جو حالات سے لڑ رہا ہے۔ یہ پیغام ہے کہ: تعلیم کا دامن کبھی نہ چھوڑو، کیونکہ یہی وہ روشنی ہے جو اندھیروں کو شکست دیتی ہے۔ آج ناصر کی کامیابی ہمیں یہ یقین دلاتی ہے کہ ہمارے علاقے کے نوجوان بھی دنیا کے کسی بھی میدان میں اپنی جگہ بنا سکتے ہیں، اگر انہیں موقع، حوصلہ اور سمت مل جائے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب پر اپنا کرم فرمائے،
ہماری نوجوان نسل کو علم، شعور اور کامیابی کے راستے پر گامزن رکھے۔ آمین ثم امین۔

وزیرستان کا بیٹا، علم کا ستارہ: احسان داوڑ

اپریل 15, 2026April 15, 2026

الحمد اللہ ثم الحمد للہ تحریر: احسان داوڑ
تاریخ: 15 اپریل 2026 کبھی کبھی زندگی ایسے لمحے عطا کرتی ہے جو محض وقت کا حصہ نہیں ہوتے، بلکہ تاریخ کے اوراق پر نقش ہو جاتے ہیں۔ ایسا ہی ایک لمحہ آج مزید پڑھیں

Copyright © 2019-2020, THE KHYBER TIMES All Rights Reserved | Powered by Kifayatullah MOMAND