خیبر پختونخوا میں ریستی رٹ کا چیلینج، عسکری نیٹ ورکس کی بحالی، انتقامی خلا اور مقامی ابادی پر اثرات کا تنقیدی مطالعہ خیبر پختونخوا میں امن و امان کی ابتر صورتحال محض ایک مقامی انتظامی تعطل نہیں ہے، بلکہ یہ ایک وسیع تر علاقائی تزویراتی بحران کا شاخسانہ ہے جس نے ریاست کی رٹ کو ہلا کر رکھ دیا ہے ۔ اگست 2021 میں افغانستان میں طالبان کی دوبارہ آمد کے بعد سے، کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان (TTP) اور دیگر عسکری دھڑوں کی کارروائیوں میں جو غیر معمولی تیزی آئی ہے، اس نے صوبے کے کونے کونے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے ۔ اعداد و شمار کے مطابق، عسکریت پسندوں کے حملوں کی تعداد جو 2021 میں محض 282 تھی، غیر معمولی رفتار سے بڑھتی ہوئی 2024 میں 1,758 سالانہ تک جا پہنچی ہے ۔ یہ خوفناک رجحان ظاہر کرتا ہے کہ عسکریت پسندوں نے نہ صرف جدید ترین امریکی ساختہ نائٹ ویژن اور تھرمل آلات تک رسائی حاصل کر لی ہے، بلکہ وہ سرحد پار محفوظ پناہ گاہوں کا بھرپور فائدہ اٹھا رہے ہیں ۔ اس عسکری پھیلاؤ کے نتیجے میں صوبے میں سیکیورٹی فورسز شدید دباؤ کا شکار ہیں، ریاستی عملداری بری طرح متاثر ہوئی ہے، اور شہری حقوق و عوامی جان و مال کا تحفظ ناممکن ہو کر رہ گیا ہے ۔    صوبائی سیکیورٹی کے اس مجموعی بگاڑ اور ریاستی عملداری کے زوال کا سب سے تشویشناک مظہر صوبے کے جنوبی اضلاع میں دیکھا جا سکتا ہے، جو کبھی عسکریت پسندی سے محفوظ تصور کئے جاتے تھے لیکن اب وہاں عسکریت پسندی کا نیا گڑھ قائم ہو چکا ہے جس نے پولیس کو پسپائی پر مجبور کر دیا ہے ۔ خاص طور پر ضلع کرک میں، جو کبھی پرامن سمجھا جاتا تھا، اب ایک اہم میدانِ جنگ میں تبدیل ہو چکا ہے ۔ پہلی بار شدت پسند تنظیموں نے اس ضلع تک براہِ راست رسائی حاصل کر کے سرکاری عملداری کو بری طرح متاثر کیا ہے اور صورتحال اس حد تک سنگین ہو چکی ہے کہ شام ہونے سے قبل ہی پولیس کو تھانوں اور قلعہ نما چوکیوں تک محدود کر دیا گیا ہے ۔ کرک میں حالیہ دنوں میں سیکیورٹی چیک پوسٹوں پر کواڈ کاپٹر ڈرونز کے ذریعے بمباری کی گئی، اور جب زخمی سیکیورٹی اہلکاروں کو منتقل کرنے کے لئے ایمبولینسیں روانہ ہوئیں تو عسکریت پسندوں نے گھات لگا کر ان پر حملہ کیا، لاشوں کو نذرِ آتش کیا اور گاڑیوں کو پھونک دیا ۔ اس منظم عسکری اجارہ داری نے پولیس فورس کی دن ڈھلنے کے بعد نقل و حرکت کو صفر کر دیا ہے اور مضافاتی و دیہی پٹی پر عسکریت پسندوں کی غیر اعلانیہ حکمرانی قائم ہو چکی ہے ۔    کرک کی اس ابتر صورتحال کے ساتھ ساتھ دیگر جنوبی اضلاع میں بھی قانون نافذ کرنے والے اداروں کی پسپائی اور عسکریت پسندوں کا گہرا نفوذ نمایاں ہے۔ ضلع لکی مروت میں عسکریت پسندوں نے پولیس کا وہ حشر نشر کر دیا ہے کہ اب قانون نافذ کرنے والے ادارے بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں ۔ لکی مروت میں پولیس اسٹیشنوں پر مسلسل ہونے والے راکٹ اور دستی بموں کے حملوں، اور سڑک کنارے نصب بارودی سرنگوں کے ذریعے پولیس افسران کی ہلاکتوں نے فورس کے حوصلے پست کر دئے ہیں ۔ ستمبر 2024 میں، عاجز آ کر لکی مروت کے پولیس اہلکاروں نے اپنی چوکیاں اور ڈیوٹیاں چھوڑیں اور تاجہ زئی کے مقام پر انڈس ہائی وے بلاک کر کے تاریخی دھرنا دیا ۔ ان مظاہرین کا کھلا مطالبہ تھا کہ اگر سیکیورٹی فورس کو جدید ہتھیار اور جنگی اختیارات دئے جائیں تو وہ عسکریت پسندی کا خاتمہ کر سکتے ہیں، لیکن ریاستی حکام انہیں بے یار و مددگار چھوڑ چکے ہیں ۔ اسی طرح ضلع بنوں، ٹانک اور ڈیرہ اسماعیل خان میں بھی عسکریت پسندوں نے نہ صرف سرکاری عملداری کو شدید متاثر کیا ہے، بلکہ یہاں کے عوام کا جینا بھی محال ہو گیا ہے ۔ ڈیرہ اسماعیل خان اور ٹانک میں روزانہ کی بنیاد پر بینک کی کیش گاڑیوں کی لوٹ مار، تاجروں کا اغوا برائے تاوان اور بنوں میں مئی 2026 میں ایک چیک پوسٹ پر گاڑی کے ذریعے کئے گئے خودکش دھماکے میں 15 پولیس اہلکاروں کی شہادت نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ پورا جنوبی ریجن عسکریت پسندوں کے چنگل میں آ چکا ہے ۔    جنوبی اضلاع کی اس سیکیورٹی دلدل کا موازنہ اگر قبائلی اضلاع کی موجودہ صورتحال سے کیا جائے تو یہ واضح ہوتا ہے کہ مئی 2018 میں وفاق کے زیرِ انتظام قبائلی علاقوں (FATA) کا خیبر پختونخوا کے ساتھ الحاق اس تزویراتی وعدے کے باوجود ناکام رہا کہ اس سے یہاں کی محرومیوں کا خاتمہ ہوگا، ترقیاتی خوشحالی آئے گی اور امن کا بول بالا ہوگا ۔ انضمام کے آٹھ سال بعد بھی ریاستی دعووں کی دھجیاں اڑائی گئی ہیں ۔ نہ تو ان قبائلی اضلاع کی تاریخی محرومیوں کا ازالہ کیا گیا، بلکہ اس کے برعکس یہ خطہ پہلے سے بھی کہیں زیادہ شدید بدامنی کا شکار ہو چکا ہے ۔ ریاستی ڈھانچے کی منتقلی اتنی ناقص اور عجلت پسندانہ تھی کہ نوآبادیاتی دور کے قانون (FCR) کے خاتمے کے بعد پیدا ہونے والے سیکیورٹی اور انتظامی خلا کو پورا نہیں کیا جا سکا ۔ اس سنگین سیکیورٹی بحران کا سب سے ہولناک سماجی اثر یہ نکلا ہے کہ کوئی بھی طاقت اور مالی حیثیت رکھنے والا قبائلی شخص عسکریت پسندوں کے ڈر اور معاشی زوال کی وجہ سے قبائلی اضلاع سے نکل کر پشاور ، اسلام آباد یا ملک کے دیگر شہروں میں منتقل ہونا چاہتا ہے ۔ اس کے برعکس، جس غریب شخص کے پاس ہجرت کرنے کی طاقت اور وسائل نہ ہوں، وہ ان جنگ زدہ اضلاع میں عملاً یرغمال بنے اپنے تلخ ترین دن گزارنے پر مجبور ہے ۔    قبائلی اضلاع کے اس سماجی و سیکیورٹی خلا کے معاشی اثرات پورے صوبے کی کاروباری برادری اور عام شہریوں پر بھی بھتہ خوری کی شکل میں مرتب ہو رہے ہیں۔ خیبر پختونخوا میں بدامنی کا سب سے سنگین مالی مظہر بھتہ خوری (Bhatta) کا وہ منظم جال ہے جس نے اب باقاعدہ ایک متوازی متحرک ٹیکسیشن کی شکل اختیار کر لی ہے اور عسکریت پسندوں کی بقا و فنانسنگ کا ایک بڑا حصہ اسی بھتے سے حاصل ہوتا ہے ۔ صوبے میں بھتہ خوری اس وقت اپنے عروج پر پہنچ چکی ہے جہاں عسکریت پسند گروہ اب نہ صرف بڑے سرمایہ داروں اور صنعت کاروں کو واٹس ایپ کالز اور ٹی ٹی پی کے لیٹر ہیڈز پر دھمکیاں دے کر لاکھوں ڈالر وصول کر رہے ہیں بلکہ انتہائی غریب طبقہ بھی اس عذاب سے محفوظ نہیں ہے ۔ حالت یہ ہے کہ سڑک کنارے ریڑھیاں لگانے والے غریب ریڑھی فروش بھی شدت پسند تنظیموں کو باقاعدہ بھتے کی وصولی کر کے ہی پیاز، آلو اور ٹماٹر بیچنے پر مجبور ہیں ۔ انکار کی صورت میں ان کی ریڑھیوں کو نذرِ آتش کر دیا جاتا ہے یا ان پر فائرنگ کی جاتی ہے ۔ صوبائی حکومت کی جانب سے احساس ریڑھی بان روزگار تحفظ بل 2025 کا مسودہ تیار کرنا اس معاشی المئے کا سب سے بڑا ثبوت ہے، جس کا بنیادی مقصد 140,000 سے زائد غریب دکانداروں کو اس منظم بھتہ خور مافیا کے چنگل سے بچانا ہے ۔    مذکورہ معاشی نچوڑ کی جڑیں عسکریت پسندی کی مالیاتی فنڈنگ کے منظم نیٹ ورکس سے جڑی ہوئی ہیں۔ عسکریت پسندوں کے ان فنڈنگ نیٹ ورکس کے بنیادی اہداف میں بڑے صنعت کار اور سرمایہ دار شامل ہیں جنہیں واٹس ایپ پیغامات، غیر ملکی نمبرز اور براہ راست اغوا برائے تاوان کے خطرات کا سامنا کرنا پڑتا ہے جس سے صنعتیں بند ہو رہی ہیں اور سرمایہ بیرون ملک منتقل ہو رہا ہے ۔ ان کی اس فنڈنگ کا ایک بڑا حصہ کابل، خوست اور لغمان میں بنے حوالہ اور ہنڈی کے نیٹ ورکس کے ذریعے منظم کیا جاتا ہے ۔ مزید برآں، عسکریت پسند سرکاری اور نجی ٹھیکیداروں سے ترقیاتی اور تعمیراتی منصوبوں پر 5% سے 15% تک جبری ٹیکسیشن کی شکل میں بھتہ لیتے ہیں، جس کی وجہ سے انفراسٹرکچر کے اہم منصوبے اور سی پیک فیز 2.0 کے کام معطل ہو رہے ہیں ۔ اس کام کو منظم کرنے میں شمالی و جنوبی وزیرستان کے عسکری کمانڈرز براہِ راست ملوث ہیں ۔ اس کے علاوہ، شدت پسندوں کو چرس اور افیون کی فصلوں پر 20% سے 30% تک کا براہ راست شیئر دے کر منشیات کے ڈیلرز اور اسمگلر بھی بھتہ دیتے ہیں، جس سے غیر قانونی معیشت کو فروغ ملتا ہے اور یہ کالا دھن عسکریت پسندی کی فنڈنگ کے کام آتا ہے ۔ اس غیر قانونی منشیات ٹیکسیشن کو تحریک طالبان پاکستان اور وادی تیراہ میں متحرک لشکرِ اسلام جیسی تنظیمیں باقاعدہ فنڈنگ کے ذریعے کے طور پر استعمال کرتی ہیں ۔ اس کے ساتھ ساتھ، انتہائی نچلے درجے پر غریب ریڑھی فروشوں اور دکانداروں سے ہفتہ وار یا ماہانہ بنیادوں پر مائیکرو بھتہ خوری کی جاتی ہے جہاں مقامی فعال عسکری سیل اور غنڈہ مافیا کا گٹھ جوڑ غریب خاندانوں کا معاشی استحصال کرتا ہے ۔    ریاستی سطح پر ان معاشی اور مالی نیٹ ورکس کو توڑنے کے لیے دہائیوں پر محیط بدامنی کو ختم کرنے کے نام پر سیکیورٹی اداروں کی جانب سے اب تک متعدد عسکری آپریشنز (مثلاً سوات آپریشن، ضربِ عضب، رد الفساد اور حالیہ آپریشن عزم استحکام) کئے جا چکے ہیں، لیکن یہاں مستقل امن کا قیام ایک خواب بن کر رہ گیا ہے ۔ اس ناکامی کے برعکس، حکومت نے ڈیجیٹل میڈیا کے متعدد نیٹ ورکس بنا کر یہاں ترقی، بحالی اور خوشحالی کے ایسے قصیدے گھڑے ہیں جو تھکنے کا نام نہیں لیتے، جبکہ زمینی حقائق اس کے بالکل برعکس ہے ۔ قبائلی اور جنوبی اضلاع میں وہی پرانی محرومی، وہی خوفناک بدامنی، بلکہ اب تو یہ کہا جاتا ہے کہ عسکریت پسندی کی موجودہ لہر 2014 سے قبل کی بدامنی سے بھی زیادہ ہولناک اور سنگین شکل اختیار کر چکی ہے ۔ اس تضاد کو چھپانے کے لئے ریاستی سطح پر ایک غیر اعلانیہ سنسرشپ لاگو ہے، جس کی وجہ سے پاکستانی قومی میڈیا پر بھی خیبر پختونخوا کی اس ابتر بدامنی، روزانہ کی ہلاکتوں، اور قبائلی اضلاع کی گہری سیکیورٹی و سماجی محرومی کو بالکل رپورٹ نہیں کیا جا رہا، جس کے باعث یہاں کا عام شہری خود کو ملک سے کٹا ہوا محسوس کرتا ہے ۔    اس میڈیا بلیک آؤٹ کے پسِ پردہ عسکریت پسندوں کا تنظیمی ڈھانچہ جس تیزی سے مضبوط ہوا ہے، وہ ایک تزویراتی حقیقت ہے۔ مثال کے طور پر، سال 2014 میں شروع کئے گئے آپریشن ضربِ عضب کے دوران عسکریت پسندوں کا جو تنظیمی نیٹ ورک عارضی طور پر توڑ دیا گیا تھا، عسکری منصوبہ بندی میں تزویراتی خامیوں کے باعث وہ نیٹ ورک اب نہ صرف دوبارہ جوڑ دیا گیا ہے، بلکہ پہلے سے بھی زیادہ طاقتور اور فعال ہو کر سامنے آیا ہے ۔ اس نیٹ ورک کے جڑنے کی اصل وجہ یہ تھی کہ ضربِ عضب کے دوران عسکریت پسند بھاگ کر افغانستان چلے گئے تھے ۔ 2021 میں امریکی افواج کے انخلا اور افغان طالبان کی کابل آمد کے بعد، ان جنگجوؤں کو محفوظ پناہ گاہیں ملیں، جہاں سے انہوں نے سرحد پار نقل و حرکت تیز کی اور جدید امریکی ہتھیاروں کی اسمگلنگ کے ذریعے پاکستان کے سرحدی اور جنوبی اضلاع میں اپنے نیٹ ورکس کو دوبارہ سے بحال اور فعال کر دیا ۔    عسکریت پسندوں کی اس دوبارہ تنظیمِ نو میں ان کی تنظیمی مضبوطی اور نت نئے تزویراتی اتحادوں کا کلیدی کردار ہے ۔ گزشتہ چند سالوں میں عسکریت پسندوں کے کئی منتشر اور الگ ہو جانے والے دھڑوں کو دوبارہ تحریکِ طالبان پاکستان (TTP) کے مرکزی ڈھانچے میں جوڑ دیا گیا ہے ۔ عسکری امور کے ماہرین کے مطابق، ٹی ٹی پی کا موجودہ امیر مفتی نور ولی محسود بکھری ہوئی شدت پسند تنظیموں اور دھڑوں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کرنے کا غیر معمولی ماہر مانا جاتا ہے، جس نے سخت نظم و ضبط قائم کر کے عسکریت پسندوں کی فیلڈ آپریشنل صلاحیت کو مضبوط کیا ہے ۔ اس عسکری ارتقاء کا سب سے خطرناک پہلو شمالی وزیرستان کے روایتی حافظ گل بہادر گروپ (HGBG) کا دن بہ دن مضبوط ہونا ہے، جو حکومتِ پاکستان کے لئے ایک بڑا دردِ سر بنتا جا رہا ہے ۔ اب اس گروپ نے اپنا باقاعدہ تنظیمی نام بدل کر اتحاد المجاہدین پاکستان (IMP) رکھ لیا ہے اور اس مہلک عسکری اتحاد میں ٹی ٹی پی حکیم اللہ محسود گروپ، لشکرِ اسلام گروپ اور حرکت الانقلابِ اسلامی پاکستان جیسے دھڑے شامل ہو چکے ہیں ۔    شدت پسندوں کے ان نیٹ ورکس کی تفصیلی اندرونی دھڑے بندیوں کا جائزہ لیا جائے تو ان کے عزائم اور اثرات واضح ہوتے ہیں۔ کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان (TTP) مفتی نور ولی محسود کی کلیدی قیادت میں تقریباً 80 سے زائد چھوٹے مقامی عسکری سیلز (ڈالگئی) کے اتحاد کی شکل میں متحرک ہے ۔ یہ تنظیم بنیادی طور پر جنوبی و مغربی اضلاع، سوات اور وزیرستان کے علاقوں میں سرگرم ہے اور منظم گوریلا حملوں، سیکیورٹی فورسز کی ٹارگٹ کلنگ اور بھتہ خوری کے ذریعے اثر و رسوخ بڑھاتی ہے ۔ دوسری جانب، اتحاد المجاہدین پاکستان (IMP) کا نیا اتحاد حافظ گل بہادر، لشکرِ اسلام اور حرکت الانقلابِ اسلامی کی شراکت داری سے شمالی وزیرستان، بنوں، خیبر اور وادی تیراہ میں فعال ہے ۔ یہ گروہ فوجی چھاؤنیوں پر بارود سے بھری گاڑیوں کے خودکش حملوں اور نائٹ ویژن اسنائپنگ میں مہارت رکھتا ہے ۔ ان کے ساتھ ساتھ، ٹی ٹی پی سے منحرف ہونے والا متشدد گروپ ٹی ٹی پی جماعت الاحرار (JuA) پشاور، مہمند، باجوڑ اور نوشہرہ پٹی پر سرگرم ہے، جو اگرچہ ٹی ٹی پی کے ساتھ نظریاتی الحاق رکھتا ہے مگر آزاد فیلڈ آپریشنز کے تحت شہری علاقوں میں دستی بموں کے حملے اور ٹارگٹ کلنگز کرتا ہے، جس کے باعث عام شہری روز بہ روز شدید غیر یقینی اور خوف و ہراس کی صورتحال سے دوچار ہیں ۔    اس مسلسل اور منظم بدامنی کے براہِ راست اور مہلک معاشی اثرات صوبے کے غریب عوام اور کاروباری طبقے پر مرتب ہو رہے ہیں، جس کی وجہ سے غربت اور بے روزگاری میں ہوشربا اضافہ ہوتا جا رہا ہے ۔ صوبائی دارالحکومت پشاور میں واقع حیات آباد انڈسٹریل اسٹیٹ (HIE)، جو کبھی صوبے کی معاشی ریڑھ کی ہڈی تصور کی جاتی تھی، اب عملاً کھنڈر بننے جا رہی ہے کیونکہ وہاں درجنوں صنعتیں اور فیکٹریاں تیزی سے بند ہو رہی ہیں ۔ فیکٹری مالکان اور چیمبر آف کامرس کے نمائندے اس صنعتی بندش کی دو بڑی اور بنیادی وجوہات بیان کر رہے ہیں۔ پہلی وجہ بدامنی اور بھتہ خوری ہے جس کے تحت حیات آباد کے فیکٹری مالکان کو عسکریت پسندوں کی جانب سے واٹس ایپ پر کروڑوں روپے کے بھتے کے پیغامات مل رہے ہیں اور انکار کرنے والوں کے گھروں اور فیکٹریوں کو دستی بموں سے اڑا دیا جاتا ہے ۔ اس خوف کی وجہ سے سینکڑوں مینوفیکچررز اپنا تمام سرمایہ لے کر بیرونِ ملک یا پنجاب منتقل ہو چکے ہیں ۔ دوسری بڑی وجہ بجلی کے ناقابلِ برداشت بلز اور گیس کنکشنز پر پابندی ہے، جس کی وجہ سے اب کارخانہ دار فیکٹریاں چلانے کی مالی سکت ہی نہیں رکھتے، جس کی وجہ سے روزانہ کارخانے بند ہو رہے ہیں اور مزدور بیروزگار ہو رہے ہیں ۔ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ سمال انڈسٹریز ڈویلپمنٹ بورڈ (SIDB) کے تحت 55 فیصد اور سرحد ڈویلپمنٹ اتھارٹی (SDA) کے زیرِ انتظام 64 فیصد کارخانے اب مکمل طور پر بند ہو چکے ہیں ۔    خیبر پختونخوا کے بگڑتے ہوئے سلامتی کے حالات کا براہِ راست تعلق پاکستان اور افغان امارتِ اسلامی کے مابین بڑھتے ہوئے تزویراتی اور سرحدی تنازعات سے ہے ۔ فروری 2026 میں دونوں ممالک کے درمیان بھڑک اٹھنے والی باقاعدہ سرحدی جنگ، جس میں فضائی حملے اور ڈرون حملے شامل تھے، نے دونوں پڑوسیوں کے تعلقات کو بدترین نہج پر پہنچا دیا ہے ۔ چین، جس نے پاکستان میں سی پیک منصوبوں پر 65 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کر رکھی ہے، ان حملوں اور سیکیورٹی بحران سے شدید تشویش کا شکار ہے ۔ اس جیو پولیٹیکل تعطل میں سب سے تشویشناک تزویراتی موڑ اس وقت آیا جب امارتِ اسلامی افغانستان نے چین کو ایک اہم اجلاس میں مطلع کیا کہ کابل کی یہ کوشش ہے کہ وہ پاکستانی طالبان کی مرکزی قیادت اور ان کے تمام عسکری دھڑوں کو زبردستی افغان سرزمین سے نکال کر واپس پاکستان کی سرحد کے اندر دھکیل دے رہے ہیں ۔ افغان طالبان یہ اقدام اس لئے کر رہے ہیں تاکہ ان پر دہشت گردوں کی پشت پناہی کے لگنے والے عالمی الزامات اور سفارتی بلیک میلنگ کا راستہ مکمل طور پر روکا جا سکے ۔ اس تزویراتی فیصلے کے تحت، سنکیانگ کے ایغور علیحدگی پسندوں کا مہلک گروہ ای ٹی آئی ایم یا رکستان اسلامک پارٹی (ETIM/TIP) بھی مجبوراً افغانستان سے نکل کر پاکستان کے قبائلی اضلاع کا رخ کرے گا ۔ سینکڑوں اور ہزاروں کی تعداد میں انتہائی تربیت یافتہ جنگجوؤں کی قبائلی اضلاع کی طرف یہ زبردستی منتقلی خیبر پختونخوا میں سیکیورٹی کی صورتحال کو ایک ایسی دلدل میں دھکیلنے والی ہے جہاں سے نکلنا شاید ریاست کے بس میں نہ رہے، اور یہ خدشہ روز بہ روز حقیقت بنتا جا رہا ہے کہ امن و امان کی یہ بدترین صورتحال ناقابلِ تلافی حد تک مزید خراب ہو جائے گی ۔

خیبر پختونخوا میں ریستی رٹ کا چیلینج، عسکری نیٹ ورکس کی بحالی، انتقامی خلا اور مقامی ابادی پر اثرات کا تنقیدی مطالعہ

خصوصی رپورٹ : ناصر داوڑ خیبر پختونخوا میں امن و امان کی ابتر صورتحال محض ایک مقامی انتظامی تعطل نہیں ہے، بلکہ یہ ایک وسیع تر علاقائی تزویراتی بحران کا شاخسانہ ہے جس نے ریاست کی رٹ کو ہلا کر مزید پڑھیں