پشاور (خصوصی رپورٹ دی خیبر ٹائمز نیوز ڈیسک) پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافے اور ظالمانہ لیوی ٹیکسز کے خلاف امیر جماعت اسلامی پاکستان انجینئر حافظ نعیم الرحمن کی کال پر گورنر ہاؤس پشاور کے سامنے جاری تاریخی احتجاجی دھرنا ساتویں روز بھی پوری قوت کے ساتھ برقرار رہا۔ دھرنے کے ساتویں روز صوبہ بھر سے جماعت اسلامی یوتھ کے ہزاروں کارکنان اور شہریوں نے شرکت کی اور حکومت کی عوام دشمن معاشی پالیسیوں کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔
دھرنے سے قبل میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جماعت اسلامی شمالی پختونخوا کے امیر اور سابق سینئر صوبائی وزیر عنایت اللہ خان نے کہا کہ ہمارا یہ احتجاج مطالبات کی منظوری تک ختم نہیں ہوگا۔ انہوں نے دھرنے کا ایک ہفتہ وار شیڈول جاری کرتے ہوئے اعلان کیا کہ 26 اگست کو دھرنا پنڈال میں 12 ربیع الاول کی مناسبت سے عظمتِ مصطفیٰ و سیرت النبی کانفرنس کا انعقاد کیا جائے گا، جس میں صوبہ بھر سے جید علماء کرام، مشائخ اور عوام کثیر تعداد میں شریک ہوں گے۔
عنایت اللہ خان نے حکومت کو سخت الفاظ میں خبردار کیا کہ یہ دھرنا عوام کو معاشی ریلیف کی فراہمی کیلئے دیا جا رہا ہے۔ اگر حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں فوری کمی نہ کی اور ظالمانہ لیوی ٹیکس کو مکمل طور پر ختم نہ کیا، تو جماعت اسلامی مرکزی قیادت کی ہدایت پر احتجاج کا رخ اسلام آباد کی طرف موڑ دے گی اور تمام بڑے شہروں کو احتجاجی پنڈال میں تبدیل کر دیا جائے گا۔
دھرنے کے مختلف نشستوں سے نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان ڈاکٹر اسامہ رضی، عبدالواسع، محمد حلیم باچا، مولانا اسد اللہ، وجیہ الدین، صدیق اللہ شاہین، مفتی مراد احمد، غلام رسول، شاہ زمان درانی، خان ولی آفریدی، عتیق الرحمن اور سابق ایم پی اے محمد علی سمیت دیگر رہنماؤں نے بھی خطاب کیا۔
مقررین نے کہا کہ جماعت اسلامی نے آئی پی پیز کے ظالمانہ اور مہنگے معاہدوں کے خلاف ملک گیر مہم چلا کر حکومت کو بے نقاب کیا، جس کے نتیجے میں آج خود حکومت کی ٹاسک فورس نے اعتراف کیا ہے کہ 6 آئی پی پیز کے معاہدے ختم ہونے سے قوم کو 43 کھرب روپے کی بچت ہوئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جس طرح آئی پی پیز کا ڈاکہ روکا گیا، اسی طرح اب حکومت کے لیوی ٹیکس کے نام پر قوم کو لوٹنے والے منصوبے کو بھی ناکام بنائیں گے اور عوامی جدوجہد کے ذریعے اس ظالمانہ ٹیکس سے نجات حاصل کریں گے۔




