03 May, 2026
اہم خبریں
  • کراچی: این ڈی ایم سندھ کی قیادت کی گرفتاری، محسن داوڑ کا شدید ردعمل اور فوری رہائی کا مطالبہ
  • ڈرون حملے بند نہ ہوئے تو اسلام آباد مارچ ہوگا، واپسی امن تک نہیں ہوگی: وزیر اعلیٰ کا دوٹوک اعلان
  • شمالی وزیرستان کا بدلتا منظرنامہ؛ تحریر: ناصر داوڑ
  • شمالی وزیرستان میں نامعلوم افراد کی فائرنگ، قبائلی رہنما ملک سیف اللہ خان داوڑ جاں بحق
  • پشاور میں 30 کروڑ کے ٹھیکے پر مبینہ بندر بانٹ، 31 ٹھیکیدار نظر انداز
  • Home
  • اہم خبریں
  • پاکستان
    • دینی مسائل
    • اہم خبریں
    • مذہب
    • تصاویر اور مناظر
    • سیر و تفریح
    • دلچسپ و عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
    • صحت
  • افغانستان
  • علاقائی
  • کالمز
  • انٹرنیشنل
  • کاروبار
  • کھیل
  • شوبز
  • کاپی رائٹس
    • پرائیویسی پالیسی
    • قوائد و ضوابت
    • ہمارے بارے میں
  • Home
  • اہم خبریں
  • پاکستان
    • دینی مسائل
    • اہم خبریں
    • مذہب
    • تصاویر اور مناظر
    • سیر و تفریح
    • دلچسپ و عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
    • صحت
  • افغانستان
  • علاقائی
  • کالمز
  • انٹرنیشنل
  • کاروبار
  • کھیل
  • شوبز
  • کاپی رائٹس
    • پرائیویسی پالیسی
    • قوائد و ضوابت
    • ہمارے بارے میں

ہمارا یوٹیوب چینل

ہمارا فیس بک پیج

The Khyber Times

خصوصی فیچرز

پشتون تحفظ مؤومنٹ کے اہم رہنما شہاب خٹک کے بھائی ڈاکٹر نعیم الدین خٹک کو نامعلوم افراد نے پشاور کے بھرے بازار میں گولی مارکر شہید کردیا
شمالی وزیرستان کو کس کی نظر لگ گئی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ احسان داوڑ
کیا لڑانے والے کامیاب نہیں ہوئے ؟؟؟ خصوصی تحریر: رسول داوڑ
شمالی وزیرستان ،رمضان المبارک کا چاندنظرآگیا
بول کہ لب آزاد ہیں تیرے…. تحریر رفعت انجم

حیرت انگیز

کراچی پولیس کی کارروائی: این ڈی ایم سندھ کے صدر اور جنرل سیکرٹری سمیت کئی رہنما زیرِ حراست کراچی: این ڈی ایم سندھ کی قیادت کی گرفتاری، محسن داوڑ کا شدید ردعمل اور فوری رہائی کا مطالبہ کراچی میں پولیس نے نیشنل ڈیموکریٹک موومنٹ (این ڈی ایم) سندھ کے صوبائی صدر محمد شیر، جنرل سیکرٹری غفور ایڈوکیٹ، سیکرٹری اطلاعات حمدان خان اور کلچرل سیکرٹری ابرار محسود کو گرفتار کر لیا ہے جس پر سیاسی حلقوں میں شدید غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے، اس حوالے سے این ڈی ایم کی مرکزی آرگنائزنگ کمیٹی کے چیئرمین محسن داوڑ نے اپنے ایک سخت بیان میں ان گرفتاریوں کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے انتہائی شرمناک اور غیر جمہوری اقدام قرار دیا ہے، محسن داوڑ کا کہنا ہے کہ این ڈی ایم سندھ کی قیادت شمالی وزیرستان کے علاقے درپہ خیل میں ملک سیف اللہ کے بہیمانہ قتل کے خلاف ایک پرامن احتجاج ریکارڈ کرانا چاہتی تھی لیکن انتظامیہ نے جمہوری حق تسلیم کرنے کے بجائے قیادت کو ہی سلاخوں کے پیچھے دھکیل دیا ہے جو کہ سراسر زیادتی ہے، انہوں نے واضح کیا کہ پرامن احتجاج کرنا ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس طرح کے جبر سے عوامی آواز کو دبایا نہیں جا سکتا، محسن داوڑ نے مطالبہ کیا کہ گرفتار کیے گئے تمام صوبائی عہدیداروں کو فوری اور غیر مشروط طور پر رہا کیا جائے کیونکہ وہ صرف اپنے علاقے میں ہونے والی ناانصافیوں اور ٹارگٹ کلنگ کے خلاف آواز اٹھا رہے تھے، پارٹی ذرائع کے مطابق ان گرفتاریوں کے باوجود امن اور انصاف کے لیے ان کی جدوجہد جاری رہے گی اور وہ اس واقعے کے خلاف قانونی اور سیاسی راستہ اختیار کرنے کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔
کراچی: این ڈی ایم سندھ کی قیادت کی گرفتاری، محسن داوڑ کا شدید ردعمل اور فوری رہائی کا مطالبہ
ڈرون حملے بند نہ ہوئے تو اسلام آباد مارچ ہوگا، واپسی امن تک نہیں ہوگی: وزیر اعلیٰ کا دوٹوک اعلان پشاور( دی خیبنرٹائمز مانیٹرنگ ڈیسک ) وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی کی سربراہی میں وزیر اعلیٰ ہاؤس میں لویہ جرگہ منعقد ہوا، جس میں مسلسل ڈرون حملوں اور بدامنی کے خاتمے کے لئے مشترکہ لائحہ عمل کی تشکیل پر تفصیلی غور اور مشاورت کی گئی۔ جرگے میں قبائلی اضلاع اور صوبے کے حقوق پر بھی تفصیلی مشاورت کی گئی اور ان کے حصول کے لئے ایک مشترکہ لائحہ عمل ترتیب دینے پر اتفاق کیا گیا۔ جرگہ میں قبائلی اضلاع کے منتخب نمائندے اور مشران، سینیٹرز، اپوزیشن اراکین اسمبلی، علمائے کرام اور عمائدین نے شرکت کی۔ لویہ جرگہ میں ڈرون حملوں میں خواتین بچوں اور بزرگوں کی شہادت کے واقعات کی شدید مذمت کی گئی۔ جرگہ کے تمام شرکاءنے اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مذاکرات کا مطالبہ کیا جس پر جرگہ سفارشات کی روشنی میں وزیر اعلٰی نے مذاکرات کو ایک اور موقع دینے کا اعلان کیا۔ وزیر اعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے لویہ جرگہ میں شرکت کے لئے آنے والے اراکین کے ساتھ چیک پوسٹوں پر روا رکھے گئے ناروا سلوک پر شدید افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ چیک پوسٹس پر یہی رویہ عوام میں بے چینی اور نفرت کو جنم دے رہا ہے۔ وزیر اعلیٰ نے جرگے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ لویہ جرگہ اراکین نے فیصلہ کیا ہے کہ ایک مختصر جرگہ تشکیل دیا جائے گا جو وفاقی حکومت و دیگر اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ بات چیت کرے گا۔ مذاکرات ناکام ہونے کی صورت میں اسلام آباد کی جانب مارچ کیا جائیگا اور امن تک واپسی نہیں ہوگی۔ انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ آج سے ڈرون اٹیکس کی روک تھام کے لئے عملی اقدامات کئے جائیں گے۔ شرپسند عناصر نے ملاکنڈ میں دوبارہ داخل ہونے کی کوشش کی مگر عوام نے انہیں مسترد کر دیاہے۔ وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ قبائلی اضلاع میں اگر آج عوام نہ اٹھے تو امن کا خواب پورا نہیں ہوگا۔ وزیر اعلی نے واضح کیا کہ صوبائی کابینہ کے پہلے اجلاس میں ایکشن ان ایڈ آف سول پاور جیسے کالے قانون کو واپس لینے کا فیصلہ کیا مگر 970 افراد جن کو یہ کہتے ہیں کہ دہشتگرد ہیں ، انہیں مختلف ڈیٹینشن سنٹرز میں رکھا ہوا جس کا کسی کو کوئی علم نہیں ہے۔ صوبائی حکومت نے ان 970 افراد کی لسٹ مانگی، خطوط لکھے مگر کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔ زیر حراست افراد کی فہرست موجود ہو تو ہر شخص کا مکمل حساب رکھا جا سکتا ہے۔ وزیر اعلی نے واضح کیا کہ زیر حراست افراد کی فہرست موجود نہ ہونے کی صورت میں بیانیہ تشکیل دیا جائے گا کہ صوبائی حکومت دہشتگردوں کی معاونت کر رہی ہے اور اس بیانیہ میں ہم کبھی انہیں کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔ محمد سہیل آفریدی نے مزید کہا کہ 22 بڑے فوجی آپریشنز اور 14 ہزار سے زائد انٹیلی جنس بنیادوں پر کارروائیاں امن کے قیام میں ناکام ہو چکی ہیں۔ تمام وسائل کے باوجود امن قائم کرنے میں ناکامی تشویشناک ہے، امن کے قیام میں سنجیدہ دکھائی نہیں دیتے۔ وزیر اعلیٰ نے واضح کیا کہ یہی وسائل اُن کے حوالے کئے جائیں تو وہ سو دن کے اندر صوبے میں امن کے قیام کی ضمانت دیتے ہیں۔ وزیر اعلی نے کہا کہ قبائلی نوجوانوں کو اشتعال کی طرف دھکیلا جا رہا ہے تاکہ انہیں نشانہ بنایا جا سکے، تاہم ہم ہر حال میں اپنی جدوجہد پرامن رکھیں گے۔ ہم پرامن لوگ ہیں اور ظلم کے خلاف اپنی جدوجہد پرامن طریقے سے جاری رکھیں گے۔ سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ جو قانون اور آئین کی پاسداری نہیں کرتے تو ہمیں اپنے دفاع کا حق حاصل ہے۔ مالی ناانصافیوں کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ جب فاٹا انضمام ہوا تو ہمارے ساتھ 100 ارب روپے سالانہ دینے کا وعدہ کیا گیا تھا مگر اس مد میں ضم اضلاع کے ابتک 800 ارب روپے بنتے ہیں جن میں سے صرف 168 ارب روپے دیئے گئے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر ضم اضلاع کی آبادی کا حصہ شامل کیا جائے تو این ایف سی میں خیبرپختونخوا کا حصہ 14.6 سے بڑھ کر 19 فیصد ہو جائے گا۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ لویہ جرگہ کی سفارشات کی روشنی میں تشکیل دیا جانے والا مختصر جرگہ ان مالی اور آئینی حقوق کے لئے بھی جدوجہد کرے گا۔
ڈرون حملے بند نہ ہوئے تو اسلام آباد مارچ ہوگا، واپسی امن تک نہیں ہوگی: وزیر اعلیٰ کا دوٹوک اعلان
شمالی وزیرستان کا بدلتا منظرنامہ؛ تحریر: ناصر داوڑ ملک سیف اللہ خان کے قتل نے کیا شدت پسندوں اور قبائل کے درمیان ایک نئے تصادم کی بنیاد رکھ دی ہے؟ تحریر: ناصر داوڑ شمالی وزیرستان کی فضا ایک بار پھر بارود کی بو سے بھری ہوئی ہے، مگر اس بار اس دھوئیں میں صرف ایک قتل کی تلخی نہیں، بلکہ ایک ممکنہ بڑی تبدیلی کے آثار بھی چھپے ہوئے ہیں۔ درپہ خیل سے تعلق رکھنے والے معروف قبائلی رہنما ملک سیف اللہ خان داوڑ کے قتل نے بظاہر ایک اور خونچکاں واقعے کی صورت اختیار کی، لیکن اس کے فوراً بعد سامنے آنے والا قبائلی ردعمل اس بات کا اشارہ دے رہا ہے کہ وزیرستان میں طاقت کا وہ غیر مرئی توازن، جو برسوں سے بندوق بردار گروہوں کے حق میں جھکا ہوا تھا، اب شاید پہلی بار اندر سے ہلنا شروع ہو گیا ہے۔ گزشتہ دو دہائیوں کے دوران شمالی وزیرستان مسلسل ایسی قوتوں کے درمیان پھنسا رہا ہے جن میں ایک طرف ریاستی ادارے تھے اور دوسری طرف مختلف ناموں، دھڑوں اور بیانیوں کے ساتھ موجود شدت پسند تنظیمیں۔ اس طویل کشمکش میں سب سے زیادہ قیمت مقامی آبادی نے ادا کی۔ ان کے گھر اجڑے، بازار سنسان ہوئے، کاروبار تباہ ہوئے، خاندان بے گھر ہوئے اور سینکڑوں نہیں ہزاروں لوگ خاموش قبروں میں اتر گئے۔ لیکن اس سارے عرصے میں ایک بات نمایاں رہی: عام قبائل خوف، مجبوری، مصلحت یا کسی حد تک سماجی پیچیدگیوں کے باعث براہِ راست اس جنگ کا منظم فریق نہ بن سکے۔ یوں شمالی وزیرستان میں ایک غیر اعلانیہ سماجی معاہدہ وجود میں آ گیا تھا، ریاست کی موجودگی محدود، شدت پسندوں کی نقل و حرکت آزاد، اور عوام کی خاموشی کو بقا کی قیمت کے طور پر قبول کر لیا گیا۔ ملک سیف اللہ خان کا قتل اسی معاہدے پر پہلی کھلی ضرب محسوس ہوتا ہے۔ وزیرستان میں کسی شخصیت کا قتل نئی خبر نہیں۔ یہاں خون کی سرخیاں اکثر اگلے دن کسی نئے سانحے کے نیچے دب جاتی ہیں۔ مگر بعض اموات محض عدد نہیں ہوتیں، وہ پورے معاشرے کے اعصاب کو چھو لیتی ہیں۔ ملک سیف اللہ خان انہی شخصیات میں شمار ہوتے تھے جن کی حیثیت صرف ایک فرد یا خاندان کے سربراہ کی نہیں بلکہ مقامی سماجی تانے بانے میں ایک بااثر قبائلی ستون کی تھی۔ جب انہیں مقامی و افغانی شدت پسندوں نے نشانہ بنایا تو ابتدائی طور پر یہ بھی ایک اور ٹارگٹ کلنگ محسوس ہوئی۔ مگر چند گھنٹوں کے اندر درپہ خیل قبیلے کی جانب سے روایتی چیغہ، مساجد سے اعلانات، گھروں سے اسلحہ اٹھا کر نکلتے نوجوان، اور قاتلوں کے تعاقب میں قبائلی پیش قدمی نے واضح کر دیا کہ یہ معاملہ صرف جنازے تک محدود نہیں رہے گا۔ وزیرستان کے قبائلی معاشرے میں ایسے مواقع صرف غم پیدا نہیں کرتے، بلکہ اجتماعی وقار کے دفاع کا سوال بن جاتے ہیں۔ جب ایک قبیلہ یہ محسوس کرے کہ اس کے بااثر فرد کو بے خوفی سے قتل کیا گیا ہے اور قاتل بدستور محفوظ ہیں، تو یہ احساس صرف دکھ نہیں بلکہ کمزوری کے تاثر کو بھی جنم دیتا ہے۔ قبائلی سماج میں کمزور دکھائی دینا کبھی محض نفسیاتی مسئلہ نہیں ہوتا، یہ مستقبل کی مزید یلغاروں کی دعوت بن جاتا ہے۔ اسی لئے درپہ خیل نے ردعمل دیا، اور غیر معمولی شدت کے ساتھ دیا۔ یہ ردعمل اس لحاظ سے اہم ہے کہ شمالی وزیرستان میں برسوں سے مسلح تنظیموں کی کارروائیوں کے بعد مقامی آبادی عمومی طور پر خوفزدہ خاموشی اختیار کرتی رہی ہے۔ جنازے اٹھتے تھے، تعزیتیں ہوتیں، چند روز بعد زندگی پھر اسی بے یقینی میں داخل ہو جاتی تھی۔ اس بار مگر جنازے کے ساتھ بندوق بھی اٹھی، اور سوگ کے ساتھ تعاقب بھی۔ یہ تبدیلی محض جذباتی نہیں؛ اس کے پیچھے ایک طویل اجتماعی تھکن کارفرما دکھائی دیتی ہے۔ جب کسی معاشرے کو مسلسل غیر محفوظ رکھا جائے، جب ریاست تحفظ نہ دے سکے، جب مقامی ثالثی قاتلوں کو بچا لینے کی روایت بن جائے، اور جب ہر نیا قتل پچھلے زخموں کو تازہ کرے، تو پھر ایک وقت ایسا آتا ہے جب خاموشی اپنی افادیت کھو دیتی ہے۔ شمالی وزیرستان شاید اسی نفسیاتی موڑ پر پہنچتا دکھائی دے رہا ہے۔ یہ سمجھنا ضروری ہے کہ کسی بھی مسلح تنظیم کی طاقت صرف بندوق میں نہیں ہوتی۔ اس کی اصل طاقت اس مقامی ماحول میں پوشیدہ ہوتی ہے جو اسے یا تو برداشت کرتا ہے، یا خوف سے خاموش رہتا ہے، یا کم از کم اس کے خلاف متحد نہیں ہوتا۔ غیر ریاستی قوتیں اسی سماجی خلاء میں سانس لیتی ہیں۔ لیکن جب مقامی سماج خود کو براہِ راست خطرے میں محسوس کرنے لگے تو یہی خاموش ماحول مزاحم فضا میں تبدیل ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ درپہ خیل قبیلہ محض ایک آبادی نہیں بلکہ شمالی وزیرستان کے اہم جغرافیائی راستوں میں واقع ایک بااثر قبائلی اکائی ہے۔ میرانشاہ سے دتہ خیل اور میرعلی کی جانب جانے والی آمد و رفت، مقامی رسائی، زمینی روابط اور غیر رسمی نقل و حرکت میں اس علاقے کی اہمیت غیر معمولی ہے۔ اگر ایسے علاقے کے لوگ مستقل دشمنی کے احساس میں داخل ہو جائیں تو مسلح گروہوں کیلئے محفوظ گزرگاہیں رفتہ رفتہ غیر محفوظ ہو جاتی ہیں۔ یہی وہ نکتہ ہے جہاں ایک انفرادی قتل، اسٹریٹیجک بحران میں بدل سکتا ہے۔ اس تمام ہنگامے کے دوران سب سے نمایاں چیز ریاست کی خاموشی رہی۔ جب ایک طرف مسلح شدت پسند سڑکوں پر ناکہ بندیاں قائم کر رہے تھے، درپہ خیل سے تعلق رکھنے والے افراد کو یرغمال بنا رہے تھے، اور دوسری طرف قبائلی تعاقب جاری تھا، سرکاری مشینری کی عدم فعالیت نے یہ سوال مزید گہرا کر دیا کہ آیا شمالی وزیرستان میں ریاست واقعی واحد مقتدر قوت ہے بھی یا نہیں؟ ریاست کا خلا ہمیشہ صرف انتظامی کمزوری نہیں ہوتا، یہ طاقت کے متبادل مراکز کو جواز دیتا ہے۔ جب عوام دیکھتے ہیں کہ ان کی جان و مال کے تحفظ کا کوئی مؤثر ادارہ موجود نہیں، تو وہ انصاف اور دفاع دونوں کیلئے اپنی روایتی بندوق کی طرف لوٹتے ہیں۔ یہی صورتحال کسی خطے کو منظم قانون سے نکال کر غیر منظم طاقت کے دائرے میں دھکیل دیتی ہے۔ ذرائع کے مطابق جب درپہ خیل قبائل نے شدت پسند عناصر کو محاصرے میں لے لیا تھا اور تصادم فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو رہا تھا، اسی دوران بعض مقامی مشران اور مذہبی شخصیات نے مداخلت کر کے سیز فائر کرایا اور محصور افراد کو نکلنے کا راستہ ملا، یا دیا گیا۔ بظاہر یہ اقدام مزید خونریزی روکنے کیلئے تھا، مگر ایسے ہر سیز فائر کے ساتھ ایک خطرہ جڑا ہوتا ہے، مسئلہ ختم نہیں ہوتا، صرف مؤخر ہوتا ہے۔ قاتل بچ جائیں تو مقتول کے ورثا کے دل میں انصاف نہیں بلکہ ادھورا حساب باقی رہتا ہے۔ یہی ادھورا حساب بعد میں زیادہ تلخ دشمنی بن کر ابھرتا ہے۔ شمالی وزیرستان کی موجودہ صورتحال کو محض ایک مقامی جھڑپ سمجھ لینا شاید حقیقت سے آنکھیں چرانے کے مترادف ہوگا۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا شدت پسند تنظیموں کی بندوق کا رخ اب ریاست سے زیادہ مقامی سماج کی طرف مڑ رہا ہے؟ اور اگر ہاں، تو کیا مقامی سماج اس کے جواب میں منظم مزاحمت کی طرف بڑھے گا؟ تاریخ بتاتی ہے کہ وزیرستان میں بیرونی قوتوں، ریاستی لشکروں اور مسلح تحریکوں نے ہمیشہ اس وقت مشکلات کا سامنا کیا جب مقامی قبائل نے اجتماعی طور پر اپنے مفاد اور بقا کے سوال پر صف بندی کی۔ ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ درپہ خیل کا ردعمل ایک ہمہ گیر قبائلی بیداری کا نقطۂ آغاز ہے، مگر یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ یہ واقعہ اس خاموش لاوے کی پہلی دراڑ ہے جو برسوں سے وزیرستان کے نیچے پک رہا تھا۔ کل تک یہی زمین شدت پسندوں کیلئے محفوظ پناہ گاہ، خاموش راہداری اور نفسیاتی برتری کی علامت تھی۔ اگر مقامی قبائل کے صبر کا بند اسی طرح ٹوٹنا شروع ہو گیا تو یہی زمین ان کیلئے سب سے دشوار میدان بھی بن سکتی ہے۔ اور شاید شمالی وزیرستان اب اسی امتحان کے دہانے پر کھڑا ہے۔
شمالی وزیرستان کا بدلتا منظرنامہ؛ تحریر: ناصر داوڑ
شمالی وزیرستان میں نامعلوم افراد کی فائرنگ، قبائلی رہنما ملک سیف اللہ خان داوڑ جاں بحق درپہ خیل میں ٹارگٹڈ حملہ، علاقے میں خوف و کشیدگی، ملزمان کی تلاش کیلئے سرچ آپریشن شروع میرانشاہ ( دی خیبر ٹائمز نیوز ڈیسک) شمالی وزیرستان میں امن و امان کی صورتحال ایک بار پھر سوالیہ نشان بن گئی ہے جہاں نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے معروف قبائلی رہنما ملک سیف اللہ خان داوڑ جاں بحق ہوگئے۔ مقامی ذرائع کے مطابق افسوسناک واقعہ میرانشاہ کے علاقے درپہ خیل میں پیش آیا جہاں مسلح افراد نے ملک سیف اللہ خان داوڑ کو نشانہ بنایا۔ فائرنگ کے نتیجے میں وہ شدید زخمی ہوگئے جنہیں فوری طور پر قریبی طبی مرکز منتقل کیا گیا تاہم وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ جاں بحق قبائلی رہنما کی لاش بعد ازاں ڈی ایچ کیو ہسپتال میرانشاہ منتقل کر دی گئی جہاں ضروری قانونی کارروائی مکمل کی جا رہی ہے۔ واقعے کے فوراً بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا جبکہ مقامی لوگوں میں شدید تشویش دیکھی جا رہی ہے۔ عینی شاہدین کے مطابق حملہ آور واردات کے بعد فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔ پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کرنا شروع کر دئے ہیں، جبکہ واقعے کی مختلف پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں۔ پولیس ذرائع کے مطابق ابتدائی طور پر حملے کو ٹارگٹ کلنگ قرار دے کر اس کے محرکات جاننے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ملزمان کی گرفتاری کے لئے درپہ خیل اور گردونواح کے علاقوں میں سرچ آپریشن بھی شروع کر دیا گیا ہے جبکہ داخلی و خارجی راستوں پر ناکہ بندیاں سخت کر دی گئی ہیں۔ قبائلی عمائدین اور مقامی شہریوں نے قبائلی رہنما کے قتل پر گہرے دکھ اور غصے کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے فوری انصاف اور قاتلوں کی گرفتاری کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ شمالی وزیرستان میں ایک بار پھر ٹارگٹ کلنگ کے واقعات نے عوام میں عدم تحفظ کی لہر دوڑا دی ہے۔ ملک سیف اللہ خان داوڑ کو علاقے میں ایک بااثر قبائلی شخصیت کے طور پر جانا جاتا تھا اور ان کی اچانک موت کی خبر کے بعد مختلف حلقوں میں سوگ کی فضا قائم ہے۔
شمالی وزیرستان میں نامعلوم افراد کی فائرنگ، قبائلی رہنما ملک سیف اللہ خان داوڑ جاں بحق
پشاور میں 30 کروڑ کے ٹھیکے پر مبینہ بندر بانٹ، 31 ٹھیکیدار نظر انداز پشاور میں خیبرپختونخوا حکومت کے لوکل گورنمنٹ ڈیپارٹمنٹ میں ایک اور بڑے مالی اسکینڈل نے سر اٹھا لیا ہے جہاں 30 کروڑ روپے کے ترقیاتی ٹھیکے میں مبینہ طور پر میرٹ کی کھلم کھلا خلاف ورزی سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق ٹاؤن ون پشاور میں جاری ترقیاتی منصوبوں کیلئے مختص یہ خطیر رقم ایک ایسے ٹھیکیدار کے حوالے کر دی گئی جسے صوبائی وزیر کا منظورِ نظر قرار دیا جا رہا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ٹھیکے کی تقسیم کے دوران ایک بااثر اعلیٰ افسر نے دیگر ٹھیکہ داروں پر دباؤ ڈالا کہ وہ مخصوص ٹھیکیدار کے حق میں دستبردار ہو جائیں تاکہ تمام کام ایک ہی فرد کے سپرد کیا جا سکے۔ اس مبینہ دباؤ کے بعد ٹھیکیدار برادری میں شدید بے چینی پھیل گئی ہے اور معاملہ اب کھل کر تنازع کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ رپورٹس کے مطابق پشاور کے 31 مقامی ٹھیکیداروں کو مکمل طور پر نظر انداز کرتے ہوئے صرف ایک ٹھیکیدار کو نوازا جانا کئی سنجیدہ سوالات کو جنم دے رہا ہے۔ ناقدین اسے نہ صرف میرٹ کا قتل قرار دے رہے ہیں بلکہ اسے سرکاری خزانے کی منظم بندر بانٹ بھی کہا جا رہا ہے۔ ٹھیکیدار برادری کا مؤقف ہے کہ اگر مقابلے کا شفاف عمل اپنایا جاتا تو درجنوں مقامی کنٹریکٹرز کو بھی مساوی مواقع مل سکتے تھے، مگر یہاں تمام قواعد و ضوابط کو پس پشت ڈال دیا گیا۔ اس اسکینڈل کے منظر عام پر آنے کے بعد لوکل گورنمنٹ ڈیپارٹمنٹ میں کرپشن کے نئے دروازے کھلنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ حکومت کی جانب سے میرٹ، شفافیت اور احتساب کے بلند بانگ دعوے اس معاملے کے بعد سوالیہ نشان بن گئے ہیں۔ سیاسی و سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر 30 کروڑ روپے کے ٹھیکے میں اس نوعیت کی مداخلت ہو سکتی ہے تو پھر دیگر ترقیاتی منصوبوں کی شفافیت بھی مشکوک ہو جاتی ہے۔ دوسری جانب معاملہ صرف ٹھیکے کی تقسیم تک محدود نہیں رہا بلکہ پشاور میں ٹھیکہ داروں اور متعلقہ ایکسیئن کے درمیان تنازع بھی شدت اختیار کر گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق متاثرہ ٹھیکہ داروں نے مشترکہ مشاورت کے بعد پیر کے روز پشاور پریس کلب میں ایک اہم پریس کانفرنس کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس میں وہ مبینہ حکومتی دباؤ، دھمکیوں، اقربا پروری اور جاری مالی بے ضابطگیوں سے نہ صرف پردہ اٹھائیں گے، بلکہ اس بندر بانٹ میں تمام ان وزیروں مشیروں، سرکاری افسران اور ٹھیکیداروں کے نام بھی منظر عام پر لائینگے۔ میڈیا کے سامنے رکھ دینگے۔ ٹھیکہ دار برادری کا کہنا ہے کہ اگر ان کے تحفظات نہ سنے گئے تو وہ نہ صرف احتجاجی تحریک شروع کریں گے بلکہ متعلقہ محکمے کے خلاف قانونی کارروائی کا راستہ بھی اختیار کریں گے۔ یوں خیبرپختونخوا حکومت کیلئے ایک اور کرپشن اسکینڈل سیاسی دردِ سر بنتا جا رہا ہے۔
پشاور میں 30 کروڑ کے ٹھیکے پر مبینہ بندر بانٹ، 31 ٹھیکیدار نظر انداز
وانا سکیورٹی بحران: کمزور پولیس اور دہشت گردی کی نئی لہر جنوبی وزیرستان( دی خیبرٹائمز ڈسٹرکٹ ڈیسک) ضلع لوئر جنوبی وزیرستان کا ہیڈ کوارٹر وانا اس وقت ایک ایسے سنگین سکیورٹی بحران کی زد میں ہے جہاں ریاست کی دفاعی لکیر یعنی پولیس فورس خود اندرونی خلفشار اور وسائل کی کمی کا شکار ہو چکی ہے۔ ایک طرف دہشت گردی کی نئی لہر نے سر اٹھایا ہے تو دوسری طرف انکشاف ہوا ہے کہ منظور شدہ سینکڑوں آسامیوں کے برعکس میدانِ عمل میں صرف 200 کے قریب اہلکار ڈیوٹی سرانجام دے رہے ہیں، جس نے پورے علاقے کو ایک غیر یقینی صورتحال میں دھکیل دیا ہے۔ اس بحران کی جڑیں صرف دہشت گردی تک محدود نہیں بلکہ محکمے کے اندر پھیلی مبینہ بدعنوانی اور اہلکاروں کے معاشی استحصال میں پیوست ہیں، پولیس ذرائع کے مطابق پولیس اہلکاروں کی تنخواہوں سے ماہانہ 15 سے 25 ہزار روپے تک کی کٹوتی کی جا رہی ہے، جبکہ اہم چیک پوسٹوں پر تعیناتی کے لئے بھی رشوت طلب کی جاتی ہے۔ نوبت یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ گزشتہ تین سالوں سے جوانوں کو سرکاری وردی، بوٹ اور ضروری حفاظتی سامان تک فراہم نہیں کیا گیا، جس کے باعث اہلکار شدید مایوسی کا شکار ہو کر یا تو ڈیوٹی سے بددل ہو چکے ہیں یا پھر نجی مزدوری کرنے پر مجبور ہیں۔ سیاسی و قبائلی رہنماؤں نے اس صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے عوام کو دہشتگردوں کے رحم و کرم پر چھوڑنے کے مترادف قرار دیا ہے۔ اگر حکومت نے فوری طور پر ان کالی بھیڑوں کا محاسبہ نہ کیا جو فورس کو کمزور کر رہی ہیں، اور اہلکاروں کو بنیادی سہولیات فراہم نہ کیں، تو وانا میں امن و امان کا خواب ادھورا رہ جائے گا اور عوام کا ریاست پر اعتماد مزید متزلزل ہو جائے گا۔
وانا سکیورٹی بحران: کمزور پولیس اور دہشت گردی کی نئی لہر

زیادہ پڑھی گئی

پشتون تحفظ مؤومنٹ کے اہم رہنما شہاب خٹک کے بھائی ڈاکٹر نعیم الدین خٹک کو نامعلوم افراد نے پشاور کے بھرے بازار میں گولی مارکر شہید کردیا
شمالی وزیرستان کو کس کی نظر لگ گئی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ احسان داوڑ
کیا لڑانے والے کامیاب نہیں ہوئے ؟؟؟ خصوصی تحریر: رسول داوڑ
شمالی وزیرستان ،رمضان المبارک کا چاندنظرآگیا
بول کہ لب آزاد ہیں تیرے…. تحریر رفعت انجم
پشاورکوروناکےنشانےپرکیوں؟؟؟ تحریر: فدا عدیل

قبائلی ضلع کرم میں مزید 2 افراد کروناکے شکار،

اپریل 21, 2020April 21, 2020

پاڑاچنار( دی خیبر ٹائمز ڈسٹرک ڈیسک ) ضلع کرم میں مزید دو افراد کرونا وائرس سے جاں بحق ہوگئےہیں، کرم میں کرونا سے جاں بحق افراد کی تعداد تین ہوگئے ہیں، ڈپٹی کمشنر ضلع کرم شاہ فہد نے بتایاہے۔ کہ مزید پڑھیں

Copyright © 2019-2020, THE KHYBER TIMES All Rights Reserved | Powered by Kifayatullah MOMAND