تحریر: ناصر داوڑ یہ 2005 کا ذکر ہے، جب افغانستان پر امریکی چڑھائی کے بعد وہاں تعمیرِ نو کے دعووں اور عام انتخابات کا غلغلہ تھا۔ میں اور میرے دوست، میرے بیورو چیف سید فخر کاکاخیل کابل میں موجود تھے۔ مزید پڑھیں
تحریر: ناصر داوڑ یہ 2005 کا ذکر ہے، جب افغانستان پر امریکی چڑھائی کے بعد وہاں تعمیرِ نو کے دعووں اور عام انتخابات کا غلغلہ تھا۔ میں اور میرے دوست، میرے بیورو چیف سید فخر کاکاخیل کابل میں موجود تھے۔ مزید پڑھیں