09 May, 2026
اہم خبریں
  • دہشت گردی کے خلاف عالمی گھیرا تنگ: آسٹریلیا نے بھی بی ایل اے اور اس کی قیادت پر کڑی پابندیاں عائد کر دیں
  • پشاور میں امریکی قونصل خانے کی بندش: ایک تاریخی و تزویراتی تجزیہ
  • یو اے ای سے مخصوص افراد کی بے دخلی کی خبریں من گھڑت ہیں، وفاقی وزارت داخلہ کی وضاحت
  • ایران کا تجارتی جہازوں پر ٹول ٹیکس کا مطالبہ: عالمی معیشت کے لئے نیا خطرہ
  • خیبر پختونخوا میں آٹے کا بحران: پنجاب سے سپلائی میں رکاوٹیں یا بین الصوبائی تنازع؟
  • Home
  • اہم خبریں
  • پاکستان
    • دینی مسائل
    • اہم خبریں
    • مذہب
    • تصاویر اور مناظر
    • سیر و تفریح
    • دلچسپ و عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
    • صحت
  • افغانستان
  • علاقائی
  • کالمز
  • انٹرنیشنل
  • کاروبار
  • کھیل
  • شوبز
  • کاپی رائٹس
    • پرائیویسی پالیسی
    • قوائد و ضوابت
    • ہمارے بارے میں
  • Home
  • اہم خبریں
  • پاکستان
    • دینی مسائل
    • اہم خبریں
    • مذہب
    • تصاویر اور مناظر
    • سیر و تفریح
    • دلچسپ و عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
    • صحت
  • افغانستان
  • علاقائی
  • کالمز
  • انٹرنیشنل
  • کاروبار
  • کھیل
  • شوبز
  • کاپی رائٹس
    • پرائیویسی پالیسی
    • قوائد و ضوابت
    • ہمارے بارے میں

ہمارا یوٹیوب چینل

ہمارا فیس بک پیج

The Khyber Times

خصوصی فیچرز

پشتون تحفظ مؤومنٹ کے اہم رہنما شہاب خٹک کے بھائی ڈاکٹر نعیم الدین خٹک کو نامعلوم افراد نے پشاور کے بھرے بازار میں گولی مارکر شہید کردیا
شمالی وزیرستان کو کس کی نظر لگ گئی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ احسان داوڑ
کیا لڑانے والے کامیاب نہیں ہوئے ؟؟؟ خصوصی تحریر: رسول داوڑ
شمالی وزیرستان ،رمضان المبارک کا چاندنظرآگیا
بول کہ لب آزاد ہیں تیرے…. تحریر رفعت انجم

حیرت انگیز

دہشت گردی کے خلاف عالمی گھیرا تنگ: آسٹریلیا نے بھی بی ایل اے اور اس کی قیادت پر کڑی پابندیاں عائد کر دیں پشاور ( دی خیبرٹائمز مانیٹرنگ ڈیسک ) پاکستان میں دہشت گردی اور علیحدگی پسندی کی کارروائیوں میں ملوث کالعدم تنظیم بلوچستان لبریشن آرمی (BLA) کے خلاف عالمی برادری کا گھیرا مزید تنگ ہوتا جا رہا ہے۔ ایک اہم تزویراتی پیش رفت میں آسٹریلوی حکومت نے بی ایل اے اور اس کے تین سینئر رہنماؤں کو باقاعدہ طور پر دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کرتے ہوئے ان پر کڑی پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ آسٹریلوی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے میں واضح کیا گیا ہے کہ یہ تنظیم پاکستان میں سویلین شہریوں، غیر ملکی باشندوں، اہم قومی تنصیبات اور ریاستی اداروں پر حملوں میں براہِ راست ملوث ہے، جس کے باعث عالمی امن کو خطرات لاحق ہیں۔ آسٹریلیا کا یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بین الاقوامی سطح پر انتہا پسند گروہوں کی مالی معاونت روکنے کے لیے کوششیں تیز کر دی گئی ہیں۔ کینبرا کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ آسٹریلیا کا دہشت گردی اور پرتشدد انتہا پسندی کے خلاف مقابلہ کرنے کا عزم غیر متزلزل ہے اور ان تازہ پابندیوں کا بنیادی مقصد دہشت گردوں کی مالی شہ رگ کاٹنا ہے۔ ان اقدامات کے ذریعے اب تنظیم کے لیے نئے کارندوں کی بھرتی، کارروائیوں کی منصوبہ بندی اور انتہا پسند نظریات کی تشہیر کو ناممکن بنایا جائے گا۔ آسٹریلوی حکومت نے اس بات پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے عالمی شراکت داروں کے ساتھ مل کر ایسے تمام نیٹ ورکس کے خلاف کارروائیاں جاری رکھے گی جو علاقائی سلامتی کے لیے خطرہ بنتے ہیں۔ قانونی نقطہ نظر سے یہ پابندیاں انتہائی سخت ہیں، جن کے تحت اب ان نامزد افراد اور تنظیم کے اثاثوں کا استعمال، کسی بھی قسم کا لین دین یا انہیں مالی وسائل فراہم کرنا آسٹریلوی قانون کے تحت سنگین جرم قرار دیا گیا ہے۔ ان قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے کسی بھی فرد یا ادارے کو 10 سال تک قید کی سزا اور بھاری جرمانے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ماہرین اس اقدام کو پاکستان کی اس سفارتی مہم کی کامیابی قرار دے رہے ہیں جس کے تحت بی ایل اے کو پہلے ہی امریکہ، برطانیہ اور یورپی یونین جیسے اہم عالمی کھلاڑی دہشت گرد قرار دے چکے ہیں۔ بی ایل اے کی حالیہ کارروائیوں، بالخصوص چینی قونصل خانے اور کراچی اسٹاک ایکسچینج پر حملوں نے عالمی برادری کو یہ باور کرایا ہے کہ یہ گروہ اب صرف ایک علاقائی مسئلہ نہیں رہا بلکہ بین الاقوامی مفادات کے لئے بھی خطرہ ہے۔ اس مضمون اس بات کی نشاندہی کرنے کی کوشش کیا ہے، کہ آسٹریلیا کا یہ فیصلہ محض ایک قانونی کارروائی نہیں بلکہ ایک واضح سفارتی پیغام ہے کہ علیحدگی پسندی کی آڑ میں تشدد کا راستہ اختیار کرنے والے گروہوں کے لئے اب دنیا میں کوئی جگہ باقی نہیں رہی۔ یہ دستاویز اس بات کی شاہد ہے کہ پاکستان کی جانب سے دہشت گردی کے خلاف اٹھائے گئے اقدامات کو اب عالمی سطح پر تسلیم کیا جا رہا ہے اور مالیاتی نیٹ ورکس کی بندش سے ان کالعدم تنظیموں کی آپریشنل صلاحیتوں کو شدید دھچکا لگے گا۔ کینبرا کا یہ سخت موقف اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش ہے کہ عالمی امن و سلامتی کا تحفظ ہر قیمت پر ممکن بنایا جا سکے۔
دہشت گردی کے خلاف عالمی گھیرا تنگ: آسٹریلیا نے بھی بی ایل اے اور اس کی قیادت پر کڑی پابندیاں عائد کر دیں
پشاور میں امریکی قونصل خانے کی بندش: ایک تاریخی و تزویراتی تجزیہ دی خیبرٹائمز خصوصی رپورٹ مئی 2026 کی ایک خاموش صبح پشاور میں امریکی پرچم کا باقاعدہ طور پر اتارا جانا محض ایک دفتری منتقلی نہیں ہے، بلکہ یہ پاکستان اور افغانستان کے سرحدی خطے میں امریکی اثر و رسوخ کے ایک ایسے طویل اور ہنگامہ خیز باب کا خاتمہ ہے جو سات دہائیوں پر محیط تھا۔ امریکی محکمہ خارجہ کا یہ فیصلہ کہ پشاور سے تمام سفارتی امور اسلام آباد منتقل کر دئے جائیں، ڈونلڈ ٹرمپ کے دوسرے صدارتی دور میں کسی بھی بیرونِ ملک امریکی مشن کی پہلی مستقل بندش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ اگرچہ واشنگٹن کی جانب سے اس فیصلے کا بظاہر سبب بجٹ میں کٹوتی اور سیکیورٹی خدشات بتائے گئے ہیں، لیکن اس کے پیچھے چھپی تزویراتی وجوہات اس ڈھانچے کی مکمل تحلیل کی طرف اشارہ کرتی ہیں جس نے سرد جنگ سے لے کر دہشت گردی کے خلاف جنگ تک واشنگٹن کے لئے ہراول دستے کا کام کیا تھا۔ اب نئی ٹیکنالوجی اور بدلی ہوئی عالمی ترجیحات نے پشاور میں فزیکل موجودگی کی ضرورت کو پسِ پشت ڈال دیا ہے۔ اس کہانی کی جڑیں 1952 میں پیوست ہیں جب پشاور میں پہلی بار امریکی قونصل خانے کی بنیاد رکھی گئی۔ وہ دور سرد جنگ کا تھا اور پشاور کی جغرافیائی حیثیت اسے کمیونزم کے خلاف ایک بہترین واچ ٹاور بناتی تھی۔ پشاور محض ایک سفارتی دفتر نہیں تھا بلکہ واشنگٹن کی خارجہ پالیسی کا وہ حساس مہرہ تھا جہاں سے سوویت یونین اور وسطی ایشیا کی فوجی نقل و حرکت پر نظر رکھی جا سکتی تھی۔ اسی مقصد کے لئے پشاور ایئر اسٹیشن یا (بڈھ بیر اڈہ) قائم کیا گیا، جسے امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کا ایک انتہائی حساس مانیٹرنگ مرکز مانا جاتا تھا۔ اس دور میں اسے لٹل یو ایس اے کہا جاتا تھا، جہاں سینکڑوں امریکی اہلکار ایک خود کفیل بستی کی طرح رہتے تھے۔ یہ وہی مقام تھا جہاں سے اڑنے والے امریکی یو ٹو (U-2) جاسوس طیارے کو سوویت یونین نے مار گرایا، جس کے بعد دنیا نے وہ منظر بھی دیکھا جب سوویت رہنما نکیتا خروشیف نے پشاور کے گرد نقشے پر سرخ لکیر کھینچ کر اسے تباہ کرنے کی دھمکی دی تھی۔ پشاور قونصل خانے کی تاریخ کا سب سے متحرک اور ہنگامہ خیز دور افغان جنگوں کے دوران سامنے آیا۔ اسی قونصل خانے نے 1979 سے 1989 کے دوران افغان مزاحمت کے اعصابی مرکز کے طور پر کام کیا۔ سی آئی اے اور امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے اہلکار اسی عمارت سے افغان مجاہدین اور پاکستانی حکام کے ساتھ رابطے میں رہتے تھے۔ اسی دور میں بڈھ بیر کے مقام پر وہ خونی معرکہ بھی پیش آیا جس میں قید سوویت اور افغان فوجیوں نے مسلح بغاوت کی اور پورا اسلحہ خانہ دھماکے سے اڑ گیا۔ نائن الیون کے بعد جب امریکہ ایک بار پھر اس خطے میں جنگ کے لیے اترا تو پشاور قونصل خانہ ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بن گیا۔ یہ تورخم بارڈر کے راستے نیٹو سپلائی لائنز کو محفوظ بنانے اور قبائلی علاقوں میں جاری عسکری کارروائیوں کی نگرانی کا سب سے بڑا لاجسٹک اور انٹیلی جنس مرکز بن کر ابھرا۔ لیکن اس تزویراتی اہمیت کی ایک بھاری قیمت سیکیورٹی کی صورت میں چکانی پڑی۔ پشاور میں امریکی سفارت کاروں پر ہونے والے حملے محض اتفاق نہیں تھے بلکہ ایک منظم مہم کا حصہ تھے۔ اگست 2008 میں جب مسلح افراد نے یونیورسٹی ٹاؤن میں قونصل جنرل لِن ٹریسی کی گاڑی کو گھیر کر اندھا دھند فائرنگ کی، تو یہ اس بات کا اشارہ تھا کہ اب شہر کے گنجان علاقوں میں امریکی اہلکار محفوظ نہیں رہے۔ اسی سال نومبر میں یو ایس ایڈ کے ڈائریکٹر اسٹیفن وینس کو ان کے ڈرائیور سمیت قتل کر دیا گیا۔ اپریل 2010 میں پشاور نے وہ ہولناک دن دیکھا جب پانچ خودکش حملہ آوروں نے بارود سے بھری گاڑی اور راکٹوں کے ساتھ قونصل خانے کی عمارت پر دھاوا بول دیا۔ اس حملے میں 50 سے زائد افراد جاں بحق ہوئے اور قونصل خانے کا دفاعی ڈھانچہ بری طرح لرز گیا۔ اس کے بعد بھی 2011 اور 2012 میں موٹر سائیکل بموں اور مارٹر شیلز کے ذریعے مسلسل حملے جاری رہے، جس نے واشنگٹن کو یہ باور کرا دیا کہ پشاور کے شہری علاقے میں سفارتی عملے کی موجودگی اب ایک ناقابلِ برداشت رسک ہے۔ یونیورسٹی ٹاؤن کا علاقہ برسوں تک ان خفیہ سرگرمیوں کا اصل گڑھ بنا رہا۔ چونکہ قونصل خانے کی مرکزی عمارت چھوٹی تھی، اس لئے امریکی عملے کی رہائش اور ترقیاتی سرگرمیوں کو یونیورسٹی ٹاؤن کے وسیع مکانات اور ولاز میں منتقل کر دیا گیا تھا۔ یہ ولاز بظاہر عام رہائشی مکانات لگتے تھے لیکن ان کے اندر کا نظام انتہائی پیچیدہ اور دنیا کی نظروں سے اوجھل تھا۔ یہاں سی آئی اے کے اہلکار اور نجی سیکیورٹی فرمز کے کارندے مشکوک افراد کی نگرانی اور معلومات کا تبادلہ کرتے تھے۔ اسی نیٹ ورک کا ایک حصہ ریمنڈ ڈیوس جیسے متنازع کرداروں سے بھی جڑا تھا جن کے ان خفیہ کمپاؤنڈز سے روابط اکثر مقامی مقتدر حلقوں کے لئے شک کا باعث بنتے رہے۔ یو ایس ایڈ اور مختلف این جی اوز کی آڑ میں ہونے والے انٹیلی جنس روابط نے پشاور کے سماجی ڈھانچے پر بھی گہرے اثرات مرتب کئے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مئی 2026 میں اس مشن کو بند کرنے کا حتمی فیصلہ کیوں کیا گیا؟ اس کی بڑی وجہ بدلتی ہوئی امریکی ترجیحات ہیں۔ افغانستان سے انخلا کے بعد اب واشنگٹن کو پشاور میں اس قدر بڑے اور مہنگے مشن کی ضرورت نہیں رہی۔ مزید برآں، ٹرمپ انتظامیہ نے امریکی وفاقی اداروں میں بڑے پیمانے پر کٹوتیوں کا جو پروگرام شروع کیا ہے، اس کے تحت پشاور جیسے ریموٹ مشنز کا جواز ختم ہو گیا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، اس بندش سے امریکی خزانے کو سالانہ تقریباً 7.5 ملین ڈالر کی بچت ہوگی۔ اس کے علاوہ، حالیہ مہینوں میں ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی علاقائی کشیدگی اور کراچی میں امریکی مشن پر ہونے والے حملوں نے سیکیورٹی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے، جس نے پشاور قونصل خانے کو بند کرنے کے عمل میں تیزی پیدا کر دی ہے۔ پشاور میں فزیکل موجودگی کے خاتمے کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ امریکہ اس خطے سے مکمل طور پر لاتعلق ہو رہا ہے۔ اب امریکہ کی دلچسپی کا محور بوٹس آن گراؤنڈ کے بجائے ڈیجیٹل اور سیٹلائٹ مانیٹرنگ پر منتقل ہو چکا ہے۔ واشنگٹن اب جدید ترین فضائی نگرانی اور سیٹلائٹ ٹیکنالوجی کے ذریعے وہی مقاصد حاصل کر رہا ہے جو پہلے پشاور میں بیٹھ کر حاصل کئے جاتے تھے۔ اس فیصلے کا ایک فائدہ یہ بھی ہوگا کہ عسکریت پسندوں کے لئے اب کوئی آسان اور فزیکل امریکی ہدف باقی نہیں رہے گا، جس سے پاکستان کے سیکیورٹی اداروں پر دباؤ میں کمی آئے گی۔ خلاصہ کلام یہ ہے کہ پشاور میں امریکی قونصل خانے کی یہ تاریخی بندش پاکستان اور افغانستان کے خطے میں امریکہ کے اس روایتی فرنٹ لائن اسٹیٹ والے کردار کے باقاعدہ خاتمے کا اعلان ہے۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ امریکہ اب اس خطے کو ماضی کی طرح جنگی مہم جوئی کے بجائے ایک انتہائی محدود اور دور رس سفارتی نظر سے دیکھنا چاہتا ہے۔پاکستان اور بالخصوص پشاور کے لئے یہ ایک بڑی نفسیاتی اور سیاسی تبدیلی ہے۔ وار آن ٹیرر اور افغان جہاد کے دوران پشاور جو عالمی سرگرمیوں کا مرکز بنا ہوا تھا، اب اس فزیکل موجودگی کے ختم ہونے سے اس خطے کی وہ حیثیت بدل رہی ہے جسے بین الاقوامی میڈیا میں خطرناک ترین سرحد کہا جاتا تھا۔ یہ اس بات کی دستاویز ہے کہ اب امریکہ اس خطے کو براہِ راست مداخلت کے بجائے دور سے مانیٹر کرنا چاہتا ہے۔
پشاور میں امریکی قونصل خانے کی بندش: ایک تاریخی و تزویراتی تجزیہ
یو اے ای سے مخصوص افراد کی بے دخلی کی خبریں من گھڑت ہیں، وفاقی وزارت داخلہ کی وضاحت پشاور( دی خیبرٹائمز مانیٹرنگ ڈیسک) وفاقی وزارت داخلہ نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ان خبروں کو مکمل طور پر مسترد اور جعلی قرار دے دیا ہے جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ متحدہ عرب امارات (یو اے ای) سے کسی خاص ملک یا فرقے سے تعلق رکھنے والے افراد کو بے دخل کیا جا رہا ہے۔ وزارت داخلہ کی جانب سے جاری کردہ ایک باضابطہ اعلامئے میں دوٹوک الفاظ میں واضح کیا گیا ہے کہ یو اے ای میں کسی بھی ملک یا فرقے کے خلاف ایسی کوئی مخصوص ڈی پورٹیشن مہم نہیں چل رہی اور نہ ہی کسی خاص طبقے کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ اعلامئے کے مطابق یو اے ای سے کسی بھی فرد کی بے دخلی کا عمل صرف اور صرف میزبان ملک کے قوانین کی خلاف ورزی، ویزا شرائط کی عدم پاسداری یا غیر قانونی دستاویزات رکھنے کی بنیاد پر کیا جاتا ہے، جس کا کسی سیاسی یا مذہبی وابستگی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ وزارت داخلہ نے مزید واضح کیا کہ پاکستانی شہری بدستور متحدہ عرب امارات اور دیگر دوست ممالک میں ورک ویزے حاصل کر رہے ہیں اور روزگار کے سلسلے میں ان کی آمد و رفت کا سلسلہ معمول کے مطابق جاری ہے۔ حکومت پاکستان بیرون ملک مقیم اپنے شہریوں کے مسائل سے پوری طرح آگاہ ہے اور کسی بھی مشکل صورتحال میں متعلقہ ممالک کے ساتھ سفارتی ذرائع سے رابطہ کیا جاتا ہے، جبکہ پاکستانیوں سے متعلق ہر معاملے کو کیس ٹو کیس بنیاد پر میرٹ پر دیکھا جاتا ہے۔ وزارت داخلہ نے عوام اور میڈیا کو غیر مصدقہ اطلاعات پھیلانے سے گریز کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسی جعلی خبریں محض بدنیتی اور مذموم مقاصد کے تحت پھیلائی جا رہی ہیں تاکہ دوست ممالک کے ساتھ تعلقات اور تارکین وطن کے اعتماد کو ٹھیس پہنچائی جا سکے، لہٰذا صرف سرکاری ذرائع سے تصدیق شدہ خبروں پر ہی یقین کیا جائے۔
یو اے ای سے مخصوص افراد کی بے دخلی کی خبریں من گھڑت ہیں، وفاقی وزارت داخلہ کی وضاحت
ایران کا تجارتی جہازوں پر ٹول ٹیکس کا مطالبہ: عالمی معیشت کے لئے نیا خطرہ پشاور( دی خیبرٹائمز مانیٹرنگ ڈیسک ) عالمی سیاست کے اہم ترین مرکز، اقوامِ متحدہ میں اس وقت شدید سفارتی جنگ چھڑ گئی ہے جب امریکی سفیر مائیک والٹز نے ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز میں سویلین جہازوں پر ٹول ٹیکس نافذ کرنے کے نئے نظام کو پوری دنیا کے لئے ایک سنگین چیلنج قرار دے دیا۔ سلامتی کونسل میں ایک اہم قرارداد کے حوالے سے پریس کانفرنس کرتے ہوئے امریکی سفیر نے انکشاف کیا کہ ایران اب آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تمام سویلین تجارتی جہازوں سے یہ مطالبہ کر رہا ہے کہ وہ اس گزرگاہ کو استعمال کرنے کے عوض ٹول ادا کریں۔ مائیک والٹز نے واضح کیا کہ یہ صرف ایک علاقائی مسئلہ نہیں ہے بلکہ ایران کا یہ نیا انتظامی ڈھانچہ عالمی تجارتی نظام کو متاثر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس قرارداد کو سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین، کویت اور قطر جیسے اہم علاقائی ممالک کی بھرپور حمایت حاصل ہے، جو ایران سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ تجارتی جہازوں پر حملے بند کرے اور اس نئے نظام کو فوری طور پر ختم کرے۔ دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ان الزامات اور قرارداد کو یکسر مسترد کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس اور سلامتی کونسل کے رکن ممالک کو ایک احتجاجی خط لکھا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ کا موقف ہے کہ سلامتی کونسل میں پیش کیا گیا قرارداد کا مسودہ ناقص، یک طرفہ اور حقائق کے منافی ہے۔ انہوں نے اپنے خط میں واضح کیا کہ آبنائے ہرمز میں پیدا ہونے والی حالیہ کشیدگی کی اصل وجہ وہ نظام نہیں جسے امریکہ نشانہ بنا رہا ہے، بلکہ اس کی اصل جڑیں خطے میں ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی مسلسل فوجی جارحیت اور طاقت کا غیر قانونی استعمال ہے۔ انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ قرارداد کے مسودے میں ان اہم عوامل کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا جو خطے کی سلامتی کو داؤ پر لگا رہے ہیں۔ اس سفارتی تنازع کا پس منظر انتہائی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ آبنائے ہرمز کو دنیا کی تیل کی شہ رگ تصور کیا جاتا ہے۔ خلیج فارس اور خلیج عمان کے درمیان واقع یہ تنگ سمندری راستہ دنیا کی کل پیٹرولیم تجارت کے تقریباً ایک تہائی حصے کی گزرگاہ ہے۔ بین الاقوامی قوانین کے تحت تجارتی جہازوں کو ایسی بین الاقوامی گزرگاہوں سے بلا روک ٹوک گزرنے کا حق حاصل ہے، اور اس پر کسی بھی قسم کا ٹیکس یا کنٹرول عالمی تجارتی قوانین کی خلاف ورزی سمجھا جاتا ہے۔ اگر یہ کشیدگی مزید بڑھتی ہے اور ایران اس گزرگاہ پر اپنا کنٹرول سخت کرتا ہے، تو اس کے براہِ راست اثرات عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں پر پڑیں گے، جس سے پوری دنیا میں مہنگائی کا ایک نیا طوفان آ سکتا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، سلامتی کونسل میں اس معاملے پر بحث آنے والے دنوں میں امریکہ اور ایران کے تعلقات میں مزید تلخی پیدا کر سکتی ہے جس کے اثرات پورے مشرقِ وسطیٰ پر مرتب ہوں گے۔
ایران کا تجارتی جہازوں پر ٹول ٹیکس کا مطالبہ: عالمی معیشت کے لئے نیا خطرہ
خیبر پختونخوا میں آٹے کا بحران: پنجاب سے سپلائی میں رکاوٹیں یا بین الصوبائی تنازع؟
خیبر پختونخوا میں آٹے کا بحران: پنجاب سے سپلائی میں رکاوٹیں یا بین الصوبائی تنازع؟
پاک افغان سرحد پر بڑی پیش رفت: باجوڑ اور کنڑ کے قبائلی عمائدین کے درمیان تاریخی امن معاہدہ طے پشاور (دی خیبرٹائمز مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان اور افغانستان کے سرحدی علاقے میں کشیدگی کے خاتمے اور دیرپا امن کے قیام کیلئے ایک بڑی کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ ضلع باجوڑ اور افغانستان کے صوبہ کنڑ کے قبائلی عمائدین نے ایک تاریخی گرینڈ جرگے میں مکمل جنگ بندی اور مستقبل میں پائیدار تعاون کا اعلان کر دیا ہے۔ یہ اہم بیٹھک سرحدی مقام نوا پاس پر منعقد ہوئی، جو تاریخی اور تجارتی لحاظ سے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ اس جرگے میں دونوں اطراف کے تقریباً 30 بااثر قبائلی عمائدین نے شرکت کی اور باقاعدہ طور پر امن معاہدے کی دستاویز پر دستخط کئے۔ پاکستانی وفد کی قیادت باجوڑ سے تعلق رکھنے والے حاجی لالی شاہ (صدر باجوڑ چیمبر آف کامرس) نے کی، جبکہ افغان وفد کی سربراہی صوبہ کنڑ کے حاجی ظاہر گل نے کی۔ اس جرگے کو مہمند اور دیگر قریبی سرحدی علاقوں کے قبائل کی بھی بھرپور حمایت حاصل تھی، جو طویل عرصے سے سرحد پر ہونے والی کشیدگی اور فائرنگ کے واقعات سے براہِ راست متاثر ہو رہے تھے۔ تقریباً دو گھنٹے تک جاری رہنے والے اس دوستانہ جرگے میں ایک جامع امن فارمولے پر اتفاق کیا گیا، جس کے تحت سرحد کے دونوں جانب سے ہر قسم کی فائرنگ، گولہ باری اور دشمنی پر مبنی سرگرمیوں کو فوری طور پر بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ معاہدے کے مطابق، مستقبل میں کسی بھی ہنگامی صورتحال یا غلط فہمی کو دور کرنے کیلئے ایک مشترکہ رابطہ کمیٹی بھی تشکیل دی گئی ہے جو دونوں اطراف کے درمیان پل کا کردار ادا کرے گی۔ جرگے نے متفقہ طور پر اس بات پر زور دیا کہ امن کی بدولت نوا پاس اور دیگر روایتی تجارتی راستوں کو کھولا جانا چاہئے تاکہ مقامی معیشت کو سہارا مل سکے۔ دونوں اطراف کے عمائدین نے عزم کیا کہ وہ اپنی اپنی حدود میں امن کو نقصان پہنچانے والے عناصر کی حوصلہ شکنی کریں گے اور سرحدی پٹی پر آباد شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے گا۔ تجزیہ کار اس معاہدے کو اس لئے بھی انتہائی اہمیت کا حامل قرار دے رہے ہیں کیونکہ یہ کسی حکومتی سطح کے بجائے خالصتاً قبائلی روایات اور پختونولی کے تحت عوامی سطح پر کیا گیا ہے۔ 2007 سے سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر بند نوا پاس کے راستے کے حوالے سے یہ جرگہ ایک بڑا بریک تھرو ثابت ہو سکتا ہے۔ قبائلی عمائدین کا کہنا ہے کہ سرحد کے دونوں پار بسنے والے قبائل ایک ہی سماج کا حصہ ہیں اور وہ مزید خونریزی یا معاشی بدحالی کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ اس فیصلے سے نہ صرف باجوڑ اور کنڑ بلکہ پورے سرحدی بیلٹ میں امن کی نئی امید پیدا ہوئی ہے
پاک افغان سرحد پر بڑی پیش رفت: باجوڑ اور کنڑ کے قبائلی عمائدین کے درمیان تاریخی امن معاہدہ طے

زیادہ پڑھی گئی

پشتون تحفظ مؤومنٹ کے اہم رہنما شہاب خٹک کے بھائی ڈاکٹر نعیم الدین خٹک کو نامعلوم افراد نے پشاور کے بھرے بازار میں گولی مارکر شہید کردیا
شمالی وزیرستان کو کس کی نظر لگ گئی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ احسان داوڑ
کیا لڑانے والے کامیاب نہیں ہوئے ؟؟؟ خصوصی تحریر: رسول داوڑ
شمالی وزیرستان ،رمضان المبارک کا چاندنظرآگیا
بول کہ لب آزاد ہیں تیرے…. تحریر رفعت انجم
پشاورکوروناکےنشانےپرکیوں؟؟؟ تحریر: فدا عدیل

میاں افتخارحسین کےفیس بک پیجزہیک ہوئے5روز گزرنےکےباوجودبھی بحال نہ کرسکے، زاہد خان ترجمان عوامی نیشنل پارٹی

اپریل 16, 2020April 16, 2020

پشاور ( دی خیبر ٹائمز پولیٹیکل ڈیسک ) ترجمان عوامی نیشنل پارٹی زاہد خان نے کہا ہے، کہ عوامی نیشنل پارٹی کے سیکرٹری جنرل میاں افتخار حسین اور انکے شہید بیٹے سے منصوب راشد فاونڈیشن کے فیس بک پیچ ہیک مزید پڑھیں

Copyright © 2019-2020, THE KHYBER TIMES All Rights Reserved | Powered by Kifayatullah MOMAND