18 May, 2026
اہم خبریں
  • قبائلی اضلاع کی خاموش چیخ
  • خیبرپختونخوا کابینہ میں توسیع، پی ٹی آئی کے اندر اختلافات کھل کر سامنے آگئے
  • صدر ٹرمپ کا دورہ چین اور عالمی جیو پولیٹکس پر اس کے اثرات
  • بنوں پولیس امن کمیٹی کا قیام، دہشتگردوں کے خلاف ’’آپریشن انتقامِ شہداء‘‘ شروع کرنے کا اعلان
  • میڈم پنکی، نام ہی کافی ہے: کوکین کوئین کا شاہانہ پروٹوکول اور اشرافیہ کے ’نشیلے‘ گٹھ جوڑ کا پردہ چاک
  • Home
  • اہم خبریں
  • پاکستان
    • دینی مسائل
    • اہم خبریں
    • مذہب
    • تصاویر اور مناظر
    • سیر و تفریح
    • دلچسپ و عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
    • صحت
  • افغانستان
  • علاقائی
  • کالمز
  • انٹرنیشنل
  • کاروبار
  • کھیل
  • شوبز
  • کاپی رائٹس
    • پرائیویسی پالیسی
    • قوائد و ضوابت
    • ہمارے بارے میں
  • Home
  • اہم خبریں
  • پاکستان
    • دینی مسائل
    • اہم خبریں
    • مذہب
    • تصاویر اور مناظر
    • سیر و تفریح
    • دلچسپ و عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
    • صحت
  • افغانستان
  • علاقائی
  • کالمز
  • انٹرنیشنل
  • کاروبار
  • کھیل
  • شوبز
  • کاپی رائٹس
    • پرائیویسی پالیسی
    • قوائد و ضوابت
    • ہمارے بارے میں

ہمارا یوٹیوب چینل

ہمارا فیس بک پیج

The Khyber Times

خصوصی فیچرز

پشتون تحفظ مؤومنٹ کے اہم رہنما شہاب خٹک کے بھائی ڈاکٹر نعیم الدین خٹک کو نامعلوم افراد نے پشاور کے بھرے بازار میں گولی مارکر شہید کردیا
شمالی وزیرستان کو کس کی نظر لگ گئی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ احسان داوڑ
کیا لڑانے والے کامیاب نہیں ہوئے ؟؟؟ خصوصی تحریر: رسول داوڑ
شمالی وزیرستان ،رمضان المبارک کا چاندنظرآگیا
بول کہ لب آزاد ہیں تیرے…. تحریر رفعت انجم

حیرت انگیز

قبائلی اضلاع کی خاموش چیخ تحریر:شھزادین جرنلسٹ خیبرپختونخوا کے قبائلی اضلاع، خصوصاً جنوبی وزیرستان، شمالی وزیرستان، کرم، باجوڑ اور خیبر وہ خطے ہیں جو دو دہائیوں سے دہشتگردی، فوجی آپریشنز، بارودی دھماکوں اور مسلسل خوف کے سائے میں زندہ ہیں۔ یہ وہ علاقے ہیں جہاں ہر صبح امن کی دعا سے شروع ہوتی ہے اور ہر رات کسی نئے سانحے کی خبر پر ختم ہوجاتی ہے۔ پاک افغان بارڈر سے متصل یہ خطہ کبھی اپنی ثقافت، مہمان نوازی، تجارت اور قدرتی حسن کی وجہ سے پہچانا جاتا تھا، مگر آج یہاں کے بازار سنسان، اسکول ملبے کا ڈھیر، ہسپتال ویران اور لوگ ذہنی اذیت کا شکار ہوچکے ہیں۔ اس جنگ نے سب سے زیادہ نقصان عام پشتون عوام کو پہنچایا، وہ عوام جو نہ کسی جنگ کا حصہ تھے اور نہ ہی کسی طاقت کے فیصلوں میں شریک، مگر قربانی ہمیشہ انہی کے حصے میں آئی۔ وانا، میرانشاہ، تیراہ، شوال اور دیگر علاقوں میں کئی خاندان ایسے ہیں جنہوں نے ایک ہی دہائی میں اپنے کئی پیارے کھودیئے۔ کسی کا بچہ بارودی سرنگ کا شکار ہوا، کسی کا والد اغوا ہوگیا، کسی کا گھر دھماکے میں تباہ ہوا اور کسی کی زندگی چیک پوسٹوں، ناکہ بندیوں اور خوف کے درمیان گزر گئی۔ عوام کے کاروبار تباہ ہوگئے، لوگ نقل مکانی پر مجبور ہوئے، نوجوان بیروزگاری اور مایوسی کا شکار ہوگئے۔ سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ یہاں کے لوگ دوہری اذیت جھیل رہے ہیں۔ ایک طرف مسلح گروہ عوام کو اپنے نظریات کے نام پر دھمکاتے ہیں، دوسری طرف ریاستی سختیاں عام شہری کی زندگی مزید مشکل بنادیتی ہیں۔ دہشتگردی کے خلاف آواز اٹھانا بھی خطرناک بن چکا ہے۔ احتجاج کرنے والے غدار کہلاتے ہیں، امن مانگنے والے مشکوک بن جاتے ہیں اور سچ بولنے والوں کو خاموش کرانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ قبائلی اضلاع میں کئی ایسے اسکول ہیں جو دھماکوں میں تباہ ہوئے، کئی مساجد نشانہ بنیں، کئی بازار بارود سے اڑا دیئے گئے۔ سوال یہ ہے کہ آخر اس جنگ کا انجام کیا ہے؟ اگر دہشتگردی کے خلاف جنگ لڑی جارہی ہے تو پھر ہر بار لاشیں عوام کی کیوں اٹھتی ہیں؟ اگر امن قائم ہوچکا ہے تو پھر خوف اب بھی لوگوں کی آنکھوں میں کیوں زندہ ہے؟ یہ خطہ صرف زمین کا ٹکڑا نہیں بلکہ لاکھوں انسانوں کی زندگیوں کا نام ہے۔ یہاں کے بچوں کو کتاب چاہئے، بارود نہیں۔ یہاں کے نوجوانوں کو روزگار چاہئے، بندوق نہیں۔ یہاں کے بزرگوں کو سکون چاہئے، خوف نہیں۔ قبائلی عوام اب صرف ایک سوال پوچھ رہے ہیں: آخر کب تک؟ کب تک پشتون علاقوں میں دھماکوں کی گونج سنائی دے گی؟ کب تک ماؤں کی گودیں اجڑتی رہیں گی؟ کب تک امن کا مطالبہ جرم سمجھا جائے گا؟ تاریخ گواہ ہے کہ جنگیں ہمیشہ طاقتور لوگ شروع کرتے ہیں مگر ان کا بوجھ ہمیشہ عام عوام اٹھاتے ہیں۔ وزیرستان اور قبائلی اضلاع کے لوگ اب صرف زندہ رہنے نہیں بلکہ عزت، امن اور بنیادی حقوق کے ساتھ جینے کا حق مانگ رہے ہیں۔
قبائلی اضلاع کی خاموش چیخ
خیبرپختونخوا کابینہ میں توسیع، پی ٹی آئی کے اندر اختلافات کھل کر سامنے آگئے
صدر ٹرمپ کا دورہ چین اور عالمی جیو پولیٹکس پر اس کے اثرات تحریر: ناصر داوڑ ریاستہائے متحدہ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا 13 سے 15 مئی 2026 تک ہونے والا تزویراتی دورہ چین عالمی سیاست کی تاریخ میں ایک اہم موڑ قرار دیا جا رہا ہے ۔ تقریباً نو سالوں کے طویل عرصے کے بعد کسی برسرِاقتدار امریکی صدر کا یہ پہلا دورہ چین تھا، اس سے قبل آخری بار خود صدر ٹرمپ نے ہی نومبر 2017 میں بیجنگ کا دورہ کیا تھا ۔ یہ دورہ ایک ایسے انتہائی حساس وقت پر وقوع پذیر ہوا جب مشرق وسطیٰ میں امریکہ-اسرائیل اور ایران کے مابین جنگ اور آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کے باعث عالمی جیو پولیٹکس اور معیشت شدید دباؤ کا شکار تھی ۔ تزویراتی تجزیہ کار اس دورے کو ایک پائیدار تزویراتی شراکت داری کے بجائے محض ایک عارضی بحرانی انتظام اور سفارتی جنگ بندی کے طور پر دیکھ رہے ہیں ۔ یہ دورہ اصل میں اپریل 2026 کے پہلے ہفتے کیلئے طے کیا گیا تھا، لیکن فروری میں ایران کے خلاف شروع ہونے والی جنگ اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی بحرانی صورتحال کے باعث اسے مئی تک ملتوی کر دیا گیا تھا ۔    بدھ، 13 مئی 2026 کی شام صدر ٹرمپ کا طیارہ بیجنگ کیپٹل انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر اترا جہاں چینی نائب صدر ہان ژینگ، امریکہ میں متعین چینی سفیر ژی فینگ، ایگزیکٹو نائب وزیر خارجہ ما ژاؤکسو، اور چین میں امریکی سفیر ڈیوڈ پرڈیو نے ان کا استقبال کیا ۔ صدر ٹرمپ کے اعزاز میں ایک شاندار عسکری آنر گارڈ اور فوجی بینڈ پیش کیا گیا جس کے بعد ان کا قافلہ سخت سیکیورٹی میں فور سیزنز بیجنگ ہوٹل منتقل ہوا، جبکہ امریکی وفد کے دیگر ارکان کو کیمپنسکی ہوٹل بیجنگ یانشا سینٹر میں ٹھہرایا گیا ۔ اگلے روز، یعنی جمعرات 14 مئی 2026 کی صبح، صدر ٹرمپ باقاعدہ دوطرفہ مذاکرات کیلئے عظیم عوامی ہال پہنچے جہاں چینی صدر شی جن پنگ نے ان کا والہانہ استقبال کیا ۔ مذاکرات کے بعد دونوں رہنماؤں نے بیجنگ کے تاریخی معبد ٹیمپل آف ہیون کا دورہ کیا، جس کے بعد وہ 1975 میں جیرالڈ فورڈ کے بعد اس معبد کا دورہ کرنے والے دوسرے برسرِاقتدار امریکی صدر بن گئے ۔ اسی روز شام کو صدر شی نے عظیم عوامی ہال کے سنہری کمرے میں صدر ٹرمپ کے اعزاز میں ایک پُرآسائش سرکاری ضیافت کا اہتمام کیا، جس میں بیجنگ روسٹ ڈک اور روایتی چینی پکوان پیش کئے گئے اور اسی دوران صدر ٹرمپ نے چینی صدر کو 24 ستمبر 2026 کو امریکہ کے جوابی سرکاری دورے کی باقاعدہ دعوت پیش کی ۔ دورے کے آخری روز، یعنی جمعہ 15 مئی 2026 کو، صدر شی نے صدر ٹرمپ کی میزبانی ژونگ نان ہائی کے باغیچے میں چائے کی دعوت پر کی ۔ یہ غیر معمولی دعوت نامہ دراصل 2017 میں مار-اے-لاگو میں چینی صدر کی میزبانی کے جواب میں تھا، جہاں دونوں رہنماؤں نے باغات کی سیر کی اور ایک تفصیلی ورکنگ لنچ کے بعد صدر ٹرمپ ائیر فورس ون کے ذریعے واپس روانہ ہو گئے ۔    اس تاریخی دورے کا ایک بڑا مرکز دونوں ممالک کے مابین تجارتی جنگ کو عارضی طور پر روکنا اور معاشی مفادات کو متوازن کرنا تھا، جس کیلئے فریقین نے کئی اہم شعبوں میں تجارتی معاہدوں کی تفصیلات کو زیر بحث لایا ۔ معاشی معاہدوں میں سب سے بڑی اور اہم پیش رفت ہوابازی کے شعبے میں امریکی کمپنی بوئنگ (Boeing) کیلئے دیکھی گئی، جہاں صدر ٹرمپ کے مطابق چین نے ابتدائی طور پر کم از کم 200 مسافر بردار طیاروں کی خریداری کا عزم ظاہر کیا ہے، جسے مستقبل میں مزید بڑھا کر 750 طیاروں تک لے جایا جا سکتا ہے ۔ اگرچہ اس آرڈر کے حتمی مینوفیکچرنگ اور فراہمی کی تاریخوں پر چینی انتظامیہ نے تاحال کوئی باضابطہ رسید یا تفصیلی دستاویز جاری نہیں کی، لیکن بوئنگ نے اس تزویراتی عزم کو چینی مارکیٹ کے دوبارہ کھلنے کے حوالے سے ایک بڑی کاروباری فتح قرار دیا ہے ۔ زراعت کے شعبے میں، امریکی تجارتی نمائندے جیمی سن گریر کے مطابق، چین نے آئندہ تین سالوں کیلئے سالانہ بنیادوں پر دہرے ہندسے (double-digit) یعنی دسیوں ارب ڈالر مالیت کے امریکی سویا بین اور دیگر زرعی مصنوعات خریدنے کی یقین دہانی کروائی ہے ۔ اس کے علاوہ معاشی سفارت کاری کے تحت چین نے امریکی گائے کے گوشت (beef) پر عائد دیرینہ درآمدی پابندی عارضی طور پر اٹھانے کا فیصلہ کیا، اگرچہ دورے کے اختتام پر چینی کسٹمز حکام نے تیکنیکی وجوہات کا حوالہ دیتے ہوئے اس درآمدی اجازت کے دائرہ کار کو دوبارہ محدود کر دیا ۔ معاشی مذاکرات میں امریکی خام تیل اور توانائی کے دیگر شعبوں سے درآمدات کی ممکنہ چینی خریداری پر بھی سنجیدہ بات چیت ہوئی ۔    ان تمام معاشی سرگرمیوں اور تجارتی بہاؤ کو مستقل بنیادوں پر منظم کرنے کیلئے دونوں ممالک نے دو اہم وفاقی ادارے قائم کرنے پر باقاعدہ اتفاق کیا، جنہیں بورڈ آف ٹریڈ (Board of Trade) اور بورڈ آف انویسٹمنٹ (Board of Investment) کا نام دیا گیا ہے ۔ ان میں سے بورڈ آف ٹریڈ کا بنیادی کام دونوں ممالک کے مابین غیر حساس اشیاء کی درآمد و برآمد پر یکطرفہ ٹیرف اور تجارتی مسائل کو براہ راست حکومتی سطح پر حل کرنا ہوگا، جبکہ بورڈ آف انویسٹمنٹ ایک مستقل سرکاری فورم کے طور پر دونوں معیشتوں کے مابین سرمایہ کاری کے مسائل اور مارکیٹ تک رسائی کی سہولیات کا جائزہ لے گا ۔ چینی وزیر خارجہ وانگ ای نے تصدیق کی کہ دونوں ممالک کی ورکنگ ٹیمیں ان دونوں بورڈز کی باقاعدہ ساخت اور دوطرفہ ٹیرف میں متوازن کٹوتی کے فریم ورک کے تحت باہمی تجارتی حجم کو بڑھانے کیلئے متعلقہ تفصیلات پر اب بھی مسلسل مذاکرات کر رہی ہیں ۔ دفاعی محاذ پر دونوں ممالک کے مابین کسی بڑے عسکری معاہدے پر دستخط نہیں ہوئے کیونکہ چین نے اپنے بڑھتے ہوئے جوہری ذخائر اور جدید ترین میزائل پروگرام کو کسی بھی قسم کے بین الاقوامی کنٹرول کے دائرے میں لانے یا اس پر بحث کرنے سے صاف انکار کر دیا ۔ تاہم، دونوں رہنماؤں نے مصنوعی ذہانت کے عسکری استعمال، بالخصوص جوہری ہتھیاروں کے فائرنگ کنٹرول سسٹمز کو مکمل طور پر خودکار بنانے سے روکنے پر اتفاق کیا، اور تزویراتی غلط فہمیوں سے بچنے کیلئے واشنگٹن اور بیجنگ کے مابین ایک مخصوص AI ہاٹ لائن قائم کرنے کی تجویز پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا ۔    ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ دورہ مشرق وسطیٰ کے ایک بڑے بحران کے سائے میں انجام پایا کیونکہ فروری 2026 کے آخر میں امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر مشترکہ فضائی حملوں کے بعد شروع ہونے والی جنگ نے عالمی معیشت اور توانائی کے راستوں کو ہلا کر رکھ دیا تھا ۔ اس ہولناک تنازعے کو روکنے کے لیے پاکستان نے انتہائی فعال اور جرات مندانہ سفارتی کردار ادا کیا اور 8 اپریل 2026 کو پاکستان کی ثالثی کے نتیجے میں دونوں فریقین ایک عارضی جنگ بندی پر متفق ہوئے تھے ۔ اسی سلسلے میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے 11 اور 12 اپریل کو اسلام آباد کا دورہ کیا تھا جہاں انہوں نے ایرانی سفارت کاروں کے ساتھ براہ راست غیر رسمی بات چیت کا آغاز کیا ۔ تاہم، یہ امن عمل انتہائی نازک موڑ پر تھا کیونکہ ایران نے امریکی مطالبات کو مسترد کرتے ہوئے امریکہ سے جنگی نقصانات کا معاوضہ اور آبنائے ہرمز پر اپنی غیر مشروط خودمختاری کا مطالبہ کیا تھا، جسے صدر ٹرمپ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر "مکمل طور پر ناقابلِ قبول" قرار دے کر مسترد کر دیا تھا ۔ چین کے لیے آبنائے ہرمز کا بحران معاشی بقا کا مسئلہ ہے کیونکہ چین اپنی ضرورت کا تقریباً 40 فیصد خام تیل اسی بحری راستے سے درآمد کرتا ہے، اس لیے بیجنگ مذاکرات کے دوران صدر ٹرمپ نے تہران پر چین کے گہرے اقتصادی اثر و رسوخ کو استعمال کرنے کی ضرورت پر زور دیا ۔ چین نے تہران کو پرامن حل کے لیے قائل کرنے پر آمادگی ظاہر کی لیکن اس کے بدلے میں واشنگٹن سے یہ ضمانت طلب کی کہ وہ چینی بینکوں اور مالیاتی اداروں پر عائد کی جانے والی ثانوی امریکی پابندیاں منجمد کر دے، جس کے باعث یہ سربراہی ملاقات عسکری کارروائیوں کو روکنے اور سفارتی راستے کھلے رکھنے کیلئے ایک اہم سدِ راہ ثابت ہوئی ۔    پاکستان اس جیو پولیٹیکل منظرنامے میں ایک اہم فریق کے طور پر ابھرا ہے، جہاں اس کی جغرافیائی حیثیت اور تزویراتی سفارت کاری نے اسے عالمی توجہ کا مرکز بنا دیا ہے ۔ سفارتی سطح پر پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار کسی امریکی صدر نے عوامی سطح پر پاکستان کی عسکری اور سیاسی قیادت کا اس حد تک اعتراف کیا ہے، جہاں چین سے واپسی پر ائیر فورس ون پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے واضح الفاظ میں کہا کہ امریکہ نے ایران کے ساتھ جنگ بندی بنیادی طور پر پاکستان کی درخواست اور اس پر ایک احسان کے طور پر قبول کی ہے ۔ صدر ٹرمپ نے پاکستان کے عسکری سربراہ فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیر اعظم شہباز شریف کی تعریف کرتے ہوئے انہیں "شاندار لوگ" قرار دیا، جس نے عالمی سطح پر پاکستان کے سفارتی قد کاٹھ میں بے پناہ اضافہ کیا ۔ مزید برآں، چین اور پاکستان نے 31 مارچ 2026 کو مشترکہ طور پر جو پانچ نکاتی امن اقدام پیش کیا تھا، اسے عالمی برادری اور بالخصوص گلوبل ساؤتھ کے ممالک کی طرف سے ایک معقول اور قابلِ عمل فریم ورک کے طور پر سراہا گیا ہے، جس نے پاکستان کو بیجنگ کے ایک تزویراتی شراکت دار کے طور پر مزید مستحکم کیا اور چین-پاکستان اقتصادی راہداری (CPEC) کے سیکیورٹی ماحول کو بہتر بنانے میں مدد دی ۔ دوسری جانب، پاکستان کیلئے سب بهت بڑا تزویراتی خطرہ اس کی غیر جانبداری پر اٹھنے والے سوالات ہیں، کیونکہ امریکی انٹیلی جنس اور سیٹلائٹ تصاویر کی بنیاد پر واشنگٹن میں یہ شکوک و شبہات پائے جاتے ہیں کہ بحران کے دوران کچھ ایرانی عسکری طیاروں نے پاکستانی فضائی اڈوں پر لاجسٹک پناہ لی تھی ۔ اگرچہ پاکستانی دفتر خارجہ نے ان الزامات کی سختی سے تردید کی ہے، لیکن امریکی انتظامیہ کے اندر یہ تاثر ابھرا ہے کہ پاکستان مشرق وسطیٰ کے بحران میں دوہرا کھیل کھیل رہا ہے ۔ امریکی سیکیورٹی حکام کا یہ بھی ماننا ہے کہ پاکستان ایرانی موقف کو واشنگٹن کے سامنے زیادہ مثبت بنا کر پیش کر رہا ہے جو زمینی حقیقت سے مطابقت نہیں رکھتا، چنانچہ اگر مستقبل میں ایران کے ساتھ مذاکرات دوبارہ ناکام ہوتے ہیں تو واشنگٹن کی جانب سے پاکستان پر دباؤ اور اقتصادی تعزیرات کا خطرہ بڑھ سکتا ہے ۔    صدر ٹرمپ کے دورہ چین اور واشنگٹن-بیجنگ کے مابین پیدا ہونے والے عارضی تناؤ کے خاتمے سے جنوبی ایشیا کے تزویراتی توازن میں نمایاں تبدیلیاں متوقع ہیں، جس نے نئی دہلی کو شدید تشویش میں مبتلا کر دیا ہے ۔ بھارت کی جیو پولیٹیکل اہمیت اب تک اس مفروضے پر قائم تھی کہ امریکہ کو چین کا مقابلہ کرنے کیلئےبھارت کی اشد ضرورت ہے، لیکن اگر امریکہ اور چین کے مابین تعلقات بہتر ہوتے ہیں تو واشنگٹن کیلئے بھارت کو ایک مراعات یافتہ شراکت دار بنائے رکھنے کی اہمیت کم ہو جائے گی اور اس کا سفارتی اثر و رسوخ بھی متاثر ہو سکتا ہے ۔ اس کے علاوہ عالمی سپلائی چین کی منتقلی پر بھی گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، کیونکہ بھارتی معیشت نے حال ہی میں چین پر عائد امریکی ٹیرف سے بچنے کیلئے غیر ملکی سرمایہ کاری حاصل کی تھی، لیکن اگر ان نئے مذاکرات کے نتیجے میں چین پر ٹیرف نرم کر دئے جاتے ہیں، تو سرمایہ کاری دوبارہ چین کا رخ کر سکتی ہے، جو بھارتی مینوفیکچرنگ سیکٹر کیلئے ایک بڑا دھچکا ہو گا ۔ نئی دہلی کو یہ خدشہ بھی ستا رہا ہے کہ واشنگٹن اور بیجنگ کے مابین جیو پولیٹیکل افہام و تفہیم کے نتیجے میں امریکہ پاکستان کے عسکری اور جوہری پروگرام پر وہ سخت گیر دباؤ برقرار نہیں رکھے گا جس کی بھارت کو توقع تھی، خاص طور پر جب پاکستان مشرق وسطیٰ میں امریکی مفادات کے لیے ایک ناگزیر ثالث بن کر ابھرا ہے ۔    بین الاقوامی تعلقات کے ماہرین کا متفقہ فیصلہ ہے کہ اگرچہ اس دورے کی تصاویر اور مصافحے انتہائی مثبت دکھائی دیتے ہیں، لیکن دونوں عالمی طاقتوں کے مابین پائے جانے والے گہرے اسٹرکچرل اختلافات اور غلط فہمیوں کا مستقل ازالہ ممکن نہیں نظر آتا ۔ واشنگٹن کیلئے استحکام کا مطلب ایک ایسا تزویراتی ماحول ہے جہاں چین امریکی قیادت میں قائم عالمی نظام کو چیلنج نہ کرے، جبکہ چین کیلئے اس کا مطلب ایک کثیر الجہتی دنیا کا قیام ہے جہاں امریکی اثر و رسوخ رفتہ رفتہ کم ہو ۔ فروری 2026 میں امریکی سپریم کورٹ کی جانب سے صدر ٹرمپ کے یکطرفہ ٹیرف قوانین کو غیر آئینی قرار دینے کے فیصلے نے ٹرمپ کو اندرونی طور پر معاشی محاذ پر کمزور کر دیا تھا، جس کے باعث وہ بیجنگ سے کسی بھی قیمت پر ایک معاشی فتح حاصل کرنے کیلئے بے چین تھے ۔ چین نے ٹرمپ کی اس کمزوری اور ان کی کاروباری سوچ کو بھانپتے ہوئے انہیں چند چیدہ تجارتی مراعات پیش کر کے وقت حاصل کر لیا ہے، تاکہ وہ اپنی تکنیکی اور عسکری صلاحیتوں کو مزید مستحکم کر سکے ۔ تائیوان کی سلامتی اور امریکی ساختہ جدید سیمی کنڈکٹرز چپس پر برآمدی پابندیاں جیسے بنیادی تنازعات بدستور جوں کے توں موجود ہیں، جو کسی بھی وقت دوبارہ ایک نئی کشیدگی کو جنم دے سکتے ہیں ۔    اگر تاریخی تناظر میں دیکھا جائے تو امریکی صدور کے دورے ہمیشہ عالمی تزویراتی صف بندیوں کو تبدیل کرنے کا باعث بنے ہیں ۔ رچرڈ نکسن نے فروری 1972 میں پہلا تاریخی دورہ کیا جس نے سرد جنگ کا رخ موڑ دیا ۔ اس کے بعد جیرالڈ فورڈ نے 1975 میں معبدِ ٹیمپل آف ہیون کا دورہ کیا ۔ رونالڈ ریگن نے 1984 میں چین کے ساتھ سائنسی اور تجارتی تعاون کے معاہدے کئے ۔ جارج ایچ ڈبلیو بش نے 1989 میں قریبی ذاتی روابط کو فروغ دیا ۔ بل کلنٹن نے 1998 میں نو روزہ طویل ترین ریاستی دورہ کیا ۔ جارج ڈبلیو بش نے ریکارڈ چار مرتبہ دورہ کیا ۔ باراک اوباما نے تین بار دورہ کر کے موسمیاتی تبدیلی پر تاریخی پیرس معاہدے کیلئے مشترکہ عزم حاصل کیا ۔ صدر ٹرمپ نے خود اپنے پہلے دورے کے دوران نومبر 2017 میں بیجنگ کا دورہ کر کے تجارتی خسارے پر سخت بات چیت کی تھی ۔ ان کے بعد اب مئی 2026 کا یہ دورہ تقریباً نو سال کے وقفے کے بعد کسی امریکی صدر کا پہلا دورہ چین تھا، جس نے مشرق وسطیٰ کی جنگ، تجارتی ٹیرف کے عارضی تعطل، اور جیو پولیٹیکل استحکام کے حوالے سے ایک نیا باب کھولا ہے ۔   
صدر ٹرمپ کا دورہ چین اور عالمی جیو پولیٹکس پر اس کے اثرات
بنوں پولیس امن کمیٹی کا قیام، دہشتگردوں کے خلاف ’’آپریشن انتقامِ شہداء‘‘ شروع کرنے کا اعلان بنوں (فرحت اللہ بابر) بنوں میں دہشتگردی کے خلاف ’’آپریشن انتقامِ شہداء‘‘ کے نام سے پولیس امن کمیٹی قائم کر دی گئی۔ اس سلسلے میں بنوں پولیس لائن میں پولیس امن کمیٹی کے اہلکاروں کا ایک گرینڈ اجلاس منعقد ہوا، جس میں بڑی تعداد میں پولیس اہلکاروں نے شرکت کی۔ اجلاس کے دوران مقررین نے دہشتگردی کے خاتمے اور علاقے میں امن کے قیام کیلئے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے امن کمیٹی کے صدر حضرت اللہ نے کہا کہ دہشتگردوں کے خلاف انتقامی کارروائیوں کا آغاز کر دیا گیا ہے اور پولیس کے تمام شہداء کے خون کا حساب لیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ عوام کے جان و مال کا تحفظ پولیس کی اولین ذمہ داری ہے اور پولیس ہر صورت شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنائے گی۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ امن کے قیام کیلئے پولیس کے ساتھ تعاون کریں، کیونکہ عوامی حمایت کے بغیر دہشتگردی کے خلاف جنگ میں کامیابی ممکن نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بنوں کو دوبارہ پرامن ضلع بنانے کیلئے تمام طبقات کو متحد ہونا ہوگا۔ حضرت اللہ نے کہا کہ آئندہ پولیس اہلکار سیکورٹی فورسز کے ساتھ کرفیو ڈیوٹی انجام نہیں دیں گے، اور اگر کسی اہلکار کو اس پر مجبور کیا گیا تو امن کمیٹی اس کا بھرپور جواب دے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ پولیس امن کمیٹی اپنے فیصلے خود کرے گی، تاہم ڈیوٹی میں کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی، جبکہ عوام کے ساتھ ظلم و زیادتی کی بھی اجازت نہیں ہوگی۔ شہری پولیس سے متعلق اپنی شکایات کمیٹی کے سامنے پیش کرسکیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پولیس امن کمیٹی مکمل طور پر غیر سیاسی ہوگی، تاہم بنوں کے مشران، اقوام اور عوام کو اس تحریک میں شامل کیا جائے گا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ جن افراد نے دہشتگردوں کو حجرے یا بیٹھکیں فراہم کر رکھی ہیں، وہ فوری طور پر یہ سہولت واپس لیں، بصورت دیگر انہیں سہولت کار تصور کرتے ہوئے کارروائی کی جائے گی۔ حضرت اللہ نے مزید کہا کہ جن افراد کے رشتہ دار دہشتگرد گروہوں کے ساتھ شامل ہیں، وہ اپنی پوزیشن واضح کریں اور انہیں اس سرگرمی سے باز رکھنے کی کوشش کریں، بصورت دیگر ان سے لاتعلقی اختیار کریں۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسی شخص کے دہشتگردوں سے تعلقات ثابت ہوئے تو اس کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پولیس دہشتگردی کے خلاف جنگ میں بھرپور انداز میں شریک ہوچکی ہے اور جلد علاقے سے دہشتگردوں کا مکمل خاتمہ کر دیا جائے گا۔
بنوں پولیس امن کمیٹی کا قیام، دہشتگردوں کے خلاف ’’آپریشن انتقامِ شہداء‘‘ شروع کرنے کا اعلان
میڈم پنکی، نام ہی کافی ہے: کوکین کوئین کا شاہانہ پروٹوکول اور اشرافیہ کے ’نشیلے‘ گٹھ جوڑ کا پردہ چاک تحریر: ناصر داوڑ پاکستان کے سماجی اور قانونی منظر نامے میں منشیات کی اسمگلنگ نے حالیہ برسوں میں ایک ایسی ہولناک شکل اختیار کر لی ہے جو روایتی جرائم کی حدود سے تجاوز کر کے قومی سلامتی کیلئے خطرہ بن چکی ہے۔ اس بحران کا ایک نمایاں اور خوفناک چہرہ انمول عرف پنکی ہے، جسے میڈیا اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے کوکین کوئین کے لقب سے پکارا ہے ۔ یہ کیس محض ایک مجرمہ کی گرفتاری کا قصہ نہیں ہے، بلکہ یہ پاکستان کے اس تاریک نظام کا عکس ہے جہاں مجرمانہ گروہ، طاقتور اشرافیہ، اور ریاستی اداروں کے بعض عناصر ایک دوسرے کے ساتھ اس طرح پیوست ہیں کہ انصاف کا تصور دھندلا کر رہ گیا ہے۔ انمول پنکی کی زندگی کی کہانی کسی جرم و سزا پر مبنی فلمی اسکرپٹ جیسی ہے، جو یہ واضح کرتی ہے کہ کس طرح سماجی خواہشات اور غلط صحبت انسان کو جرائم کی دنیا کے آخری سرے تک لے جا سکتی ہے۔ 1995 میں کراچی کے علاقے بلوچ پاڑہ میں ایک متوسط گھرانے میں پیدا ہونے والی انمول گلیمر اور فیشن کی دنیا میں نام کمانا چاہتی تھی ۔ چودہ سال کی چھوٹی عمر میں گھر چھوڑنے کے فیصلے نے اسے روایتی تحفظ سے دور کر کے جرائم کے ممکنہ خطرات کے سامنے لا کھڑا کیا۔ اس کی جرائم کی دنیا میں باقاعدہ شمولیت اتفاقیہ نہیں بلکہ انتہائی سٹریٹجک تعلقات کا نتیجہ تھی۔ اس نے پہلے ایک بین الاقوامی وکیل سے شادی کی جو مبینہ طور پر کوکین کی عالمی تجارت سے جڑا ہوا تھا، جہاں سے اس نے بین الاقوامی اسمگلنگ کے رموز سیکھے ۔ بعد ازاں، اس کی ایک سابق پولیس انسپیکٹر رانا اکرام سے وابستگی نے اسے وہ ادارہ جاتی تحفظ فراہم کیا جو کسی بھی منظم مجرمانہ نیٹ ورک کی بقا کے لیے ضروری ہوتا ہے ۔ ان بااثر شوہروں اور اپنے بھائیوں، ناصر اور شوکت کی مدد سے اس نے ایک ایسا نیٹ ورک بنایا جو پنجاب سے کراچی تک پھیلا ہوا تھا ۔ پنکی کا نیٹ ورک روایتی ڈیلرز سے بالکل مختلف تھا کیونکہ اس نے اس میں برانڈنگ اور کوالٹی کنٹرول کا تصور متعارف کرایا۔ وہ موبائل لیبارٹریز چلاتی تھی جہاں کوکین ہائیڈروکلورائڈ اور کیٹامائن جیسے مہلک کیمیکلز کی مدد سے منشیات تیار کی جاتی تھیں ۔ اس کے نیٹ ورک کی طرف سے تیار کردہ کوکین کے مختلف گریڈز مارکیٹ میں دستیاب تھے، جن میں اعلیٰ ترین گولڈن کیٹیگری 13,728 روپے فی گرام کے حساب سے فروخت ہوتی تھی ۔ اس کی مارکیٹنگ کا نعرہ تھا: ملکہ میڈم پنکی - نام ہی کافی ہے، انجوائے کریں ۔ اس کیس کا سب سے چونکا دینے والا پہلو انمول پنکی کی عدالت میں دیدہ دلیری اور اسے ملنے والا شاہانہ پروٹوکول ہے ۔ جب اسے عدالت میں پیش کیا گیا تو وہ بغیر ہتھکڑیوں کے، انتہائی پراعتماد انداز میں اور ایک وی آئی پی کی طرح داخل ہوئی، جس نے ریاستی رٹ کا مذاق اڑا کر رکھ دیا ۔ اس کی یہ بے خوفی ان خفیہ تعلقات کا نتیجہ تھی جو اس نے ڈانس پارٹیوں کے ذریعے بنائے تھے۔ کہا جاتا ہے کہ اس کے گاہکوں میں بڑے سیاستدان، بیوروکریٹس، ان کی بیویاں اور معاشرے کے دیگر انتہائی بااثر افراد اور ان کے بچے شامل تھے ۔ سب سے خوفناک انکشاف یہ ہے کہ وہ مبینہ طور پر اپنے ان بااثر گاہکوں کی منشیات استعمال کرنے کی ویڈیوز بنا کر رکھتی تھی تاکہ انہیں بلیک میل کر سکے، یہی وجہ تھی کہ پولیس اسے بارہ سال تک چھونے سے بھی کتراتی رہی ۔ پاکستان میں ایسے طاقتور لوگوں کی کہانیاں عام ہیں جو سیاستدانوں اور افسران کے ساتھ گہرے تعلقات کی وجہ سے سنگین جرائم کے باوجود آزاد گھوم رہے ہیں۔ انمول پنکی کے کیس کا جب ہم رانا ثناء اللہ جیسے ہائی پروفائل سیاسی مقدمات سے موازنہ کرتے ہیں تو نظام کے تضادات واضح ہو جاتے ہیں۔ رانا ثناء اللہ کو 15 کلو ہیروئن کے الزام میں گرفتار کیا گیا، لیکن 2022 میں وہ بری ہو گئے کیونکہ استغاثہ ٹھوس ثبوت فراہم کرنے میں ناکام رہا ۔ اسی طرح آصف علی زرداری کے خلاف 2018 کا "فیک اکاؤنٹس اسکینڈل" منی لانڈرنگ کے گھناؤنے جرائم کا ایک بڑا ثبوت سمجھا جاتا ہے، جہاں اربوں روپے کی غیر قانونی ترسیلات کیلئے درجنوں بے نامی اکاؤنٹس استعمال کئے گئے ۔ ایک طرف ٹھوس شواہد کے باوجود مجرموں کو عدالتوں میں پروٹوکول ملتا ہے اور دوسری طرف سیاسی اثر و رسوخ کی وجہ سے سنگین مقدمات منطقی انجام تک نہیں پہنچ پاتے۔ تحقیقات کے دوران انمول پنکی کے موبائل فون سے حاصل ہونے والا ڈیٹا اس نیٹ ورک کی وسعت کا منہ بولتا ثبوت ہے، جس میں 835 رابطہ نمبرز ملے ہیں اور ان میں سے 300 نمبرز اس کے ایکٹو کسٹمرز کے بتائے جاتے ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق، ان گاہکوں میں 30 کے قریب سیاستدانوں کے نام سامنے آئے ہیں جنہیں وہ براہِ راست منشیات فراہم کرتی تھی۔ انمول عرف پنکی نے اس دھندے میں ملوث اور گاہکوں میں صرف سیاست دان، بیوروکریٹس یا ان کی بیویاں ہی نہیں فلم انڈسٹری سے تعلق رکھنے والے بھی بڑے بڑے نام اگل دئے ہیں، جن میں معروف اداکار ساجد حسن کے بیٹے کی گرفتاری بھی اس سلسلے کی ایک کڑی قرار دی جا رہی ہے۔ پولیس حکام کا دعویٰ ہے کہ اس گروہ میں غیر ملکی، خاص طور پر افریقی باشندے بھی شامل ہیں جو لاہور میں بیٹھ کر اس نیٹ ورک کو چلا رہے تھے ۔ اگرچہ خوف کے بادلوں میں ابھی بہت سے نام منظر عام پر آنا مشکل ہیں، لیکن شاید وقت کے ساتھ ساتھ مزید حقائق سامنے آ جائیں گے، مگر بدقسمتی سے ہماری عدالتوں کے انتہائی کمزور استغاثے کی وجہ سے ان کی گرفتاری، انہیں منطقی انجام یا عبرت کا نشانہ نہیں بنایا جا سکتا۔
میڈم پنکی، نام ہی کافی ہے: کوکین کوئین کا شاہانہ پروٹوکول اور اشرافیہ کے ’نشیلے‘ گٹھ جوڑ کا پردہ چاک
جب تک میڈیا ورکرز کے جائز مطالبات تسلیم نہیں ہوتے جدوجہد جاری رہے گی، خیبر یونین آف جرنلسٹس پشاور (دی خیبرٹائمز رپورٹنگ ڈیسک) خیبر یونین آف جرنلسٹس نے صوبہ بھر کے تمام صحافیوں، ویڈیو جرنلسٹس، فوٹو جرنلسٹس، میڈیا ورکرز، پریس کلبز کے عہدیداروں اور تمام صحافتی تنظیموں کا بھرپور احتجاجی تحریک میں شرکت، خیبر یونین اف جرنلسٹ ایسوسی ایشن کے سیکرٹری جنرل ارشاد علی نے ایک بیان میں کہا ہے، کہ یکجہتی کے اظہار اور اس جدوجہد کو کامیاب بنانے میں کردار ادا کرنے پر تہہ دل سے شکریہ ادا کیا ہے۔ پشاور سمیت خیبر پختونخوا کے تمام اضلاع میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں میں جس طرح صحافی برادری نے متحد ہو کر شرکت کی، وہ قابلِ تحسین اور حوصلہ افزا ہے، یہ بات اس حقیقت کی غمازی کرتی ہے کہ میڈیا ورکرز اپنے حقوق، تنخواہوں کی بروقت ادائیگی، جبری برطرفیوں کے خاتمے اور معاشی استحصال کے خلاف ایک پلیٹ فارم پر متحد ہیں۔ خیبر یونین آف جرنلسٹس تمام شرکاء، عہدیداران اور صحافتی تنظیموں کی قربانیوں، محنت اور مسلسل جدوجہد کو سراہتی ہے، کیونکہ یہ اتحاد ہی ہماری اصل طاقت ہے، اور اسی اتحاد کی بدولت میڈیا ورکرز کے حقوق کی یہ تحریک مزید مضبوط اور مؤثر ہو رہی ہے۔ یونین نے اس امید کا اظہار کیا کہ صحافی برادری کا یہ اتحاد آئندہ بھی اسی طرح برقرار رہے گا اور جب تک میڈیا ورکرز کے تمام جائز مطالبات تسلیم نہیں کئے جاتے، یہ جدوجہد جاری رہے گی۔
جب تک میڈیا ورکرز کے جائز مطالبات تسلیم نہیں ہوتے جدوجہد جاری رہے گی، خیبر یونین آف جرنلسٹس

زیادہ پڑھی گئی

پشتون تحفظ مؤومنٹ کے اہم رہنما شہاب خٹک کے بھائی ڈاکٹر نعیم الدین خٹک کو نامعلوم افراد نے پشاور کے بھرے بازار میں گولی مارکر شہید کردیا
شمالی وزیرستان کو کس کی نظر لگ گئی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ احسان داوڑ
کیا لڑانے والے کامیاب نہیں ہوئے ؟؟؟ خصوصی تحریر: رسول داوڑ
شمالی وزیرستان ،رمضان المبارک کا چاندنظرآگیا
بول کہ لب آزاد ہیں تیرے…. تحریر رفعت انجم
پشاورکوروناکےنشانےپرکیوں؟؟؟ تحریر: فدا عدیل

کیا کووڈ-19 فائیو جی ٹیکنالوجی سے پھیلتا ہے؟

اپریل 8, 2020April 8, 2020

دنیا بھر میں کورونا وائرس کے حوالے سے سوشل میڈیا پر طرح طرح کی افواہوں کا بازار گرم ہے اور ایسے میں برطانیہ میں مبینہ طور پر موبائل فون کے ٹاورز کو اس لیے آگ لگا دی گئی کہ فائیو مزید پڑھیں

Copyright © 2019-2020, THE KHYBER TIMES All Rights Reserved | Powered by Kifayatullah MOMAND