دہشت گردی نے وزیرستانی خواتین کا روایتی لباس “گھانڑ خت “بھی ہڑپ کرلیا.. تحریر: احسان داوڑ

دہشت گردی کے خلاف گذشتہ ایک دہائی سے زائد عرصے تک لڑی جانے والی جنگ میں وزیرستان کی صدیوں پُرانی ثقافت کو پہنچنے والے دیگر نقصانات کے علاوہ وزیرستانی خواتین میں مقبو ل ترین صدیوں سے رائج “گھانڑخت “یعنی بھاری قمیص بھی اپنی افادیت کھو بیٹھا اور بیشتر علاقوں میں گھانڑ خت کا رواج دم توڑ رہا ہے۔صدیوں سے وزیرستانی خواتین میں مقبول گھانڑ خت کے بارے میں کسی کو علم نہیں کہ یہ کب سے وزیرستانی خواتین میں رائج ہے تاہم ایک مقامی بزرگ کا کہنا ہے کہ صدیوں پہلے دلہن کا لباس تھا جو اپنے میکے سے اسی ہی لباس میں دلہن بن کر اتی تھیں تاہم چونکہ وزیرستان کی خواتین سوختنی لکڑیاں لانے کیلئے پہاڑوں پر جاتی تھیں اور کھیتوں میں کام کیا کرتی تھیں اس لئے برقع کی زخمت سے بچنے کیلئے یہی بھاری قمیص استعمال کیا جاتا تھا۔ شمالی وجنوبی وزیرستان کے پہاڑی علاقوں میں جہاں وزیر قبیلے کے لوگ اباد ہیں ابھی تک کچھ علاقوں میں گھانڑخت کا استعمال کیا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے :  ملک قادر خان شہید کی یادیں ۔۔ تحریر . احسان داوڑ

جنوبی وزیرستان کے سینئر صحافی ظفر خان وزیر کے مطابق پہاڑی علاقوں میں اب بھی سو میں سے بیس خواتین گھانڑخت کو استعمال میں لا رہی ہیں تاہم ہر گذرتے دن کے ساتھ اس کے باقاعدہ استعمال میں واضح کمی ارہی ہے۔ ظفر وزیر کے مطابق جو خاندان شہری علاقوں میں رہائش پذیر ہیں ان کی خواتین میں گھانڑ خت کے بارے میں معلومات صفر کے برابر ہیں اور اپنے اس صدیوں پُرانی روایت کو بندوبستی علاقوں میں رہائش پذیر خاندانوں کی خواتین بھُلا چکی ہیں۔ گھانڑ خت کے بارے میں بات کرتے ہوئے شمالی وزیرستان کے ایک پچاس سالہ مشر عبدالقدیم نے بتایا کہ اخری بار اس نے اپنی دادی کو یہ قمیص پہنے ہو ئے دیکھی تھی جس کے بعد ان کے گھر میں کسی نے اس کو زیب تن نہیں کیا۔ عبدالقدیم کے مطابق اس قمیص کے بنانے میں 18سے لیکر 24میٹر تک کپڑا استعمال ہو تا ہے اور یہ تیس سے لیکر چالیس سال تک زیر استعمال لایا جاتا ہے۔

ایک نظر یہاں بھی: کورونا وائرس سے ممتا بھی غیرمحفوظتحریر:ہارون رشید

اس میں کپڑے کے علاوہ خوبصورتی کیلئے کچھ اور بھی چیزیں استعمال کی جا تی ہیں جن کے مقامی نام گریوان بچکا ک، لستونڑی خولے، تاپیر، پیسے، چھولئی اور زیب و زینت کیلئے چاندی کی بنی ہو ئی اشیاء جیسے گل ماخئی، ماویئی اور گنگرو کا بھی استعمال کیا جاتا ہے جس سے اس کی موجودہ دور میں قیمت ایک لاکھ تک پہنچ جاتی ہیں۔ ظفر وزیر نے مزید اس بارے میں بتایا کہ گھانڑ خت بنانے کی ماہر خواتین ہیں جو ایک قمیص کو پندرہ دن سے لیکر تیس دن میں تیار کرتی ہیں تاہم وزیرستان میں اب وہ خواتین بھی ختم ہو چکی ہیں۔ عبدالقدیم نے البتہ بتایا کہ گھانڑخت افغانستان کے کچھ علاقوں میں اب بھی تیار کیا جاتا ہے اور اس کی موجودہ شکل اتنی دیدہ زیب ہے کہ اجکل قبائلی لڑکیاں خاص خاص مواقع پر یہی گھانڑخت فیشن کے طور پر استعمال کرتی ہیں جس سے اس کی اصلی ساخت اور شکل معدوم ہو چکی ہے۔




ادارے دی خیبرٹائمز کے نمائندے 24 گھنٹے آن لائن رہتے ہیں، کالم نگار کی رائے سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں 

2 تبصرے “دہشت گردی نے وزیرستانی خواتین کا روایتی لباس “گھانڑ خت “بھی ہڑپ کرلیا.. تحریر: احسان داوڑ

اپنا تبصرہ بھیجیں