21 April, 2026
اہم خبریں
  • اسلام آباد مذاکرات: سیزفائر کے سائے میں ایک غیر یقینی سفارت کاری
  • مشرقِ وسطیٰ میدانِ جنگ میں تبدیل: ایران امریکا کشیدگی عروج پر، مذاکرات کے امکانات معدوم
  • خاک سے ستاروں تک، ایک یتیم کے زخموں کی خون آلود داستان
  • لکی مروت: کالعدم تنظیم کے اہم کمانڈر کی گرفتاری، دورانِ تفتیش اہم انکشافات
  • وزیرستان کا بیٹا، علم کا ستارہ: احسان داوڑ
  • Home
  • اہم خبریں
  • پاکستان
    • دینی مسائل
    • اہم خبریں
    • مذہب
    • تصاویر اور مناظر
    • سیر و تفریح
    • دلچسپ و عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
    • صحت
  • افغانستان
  • علاقائی
  • کالمز
  • انٹرنیشنل
  • کاروبار
  • کھیل
  • شوبز
  • کاپی رائٹس
    • پرائیویسی پالیسی
    • قوائد و ضوابت
    • ہمارے بارے میں
  • Home
  • اہم خبریں
  • پاکستان
    • دینی مسائل
    • اہم خبریں
    • مذہب
    • تصاویر اور مناظر
    • سیر و تفریح
    • دلچسپ و عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
    • صحت
  • افغانستان
  • علاقائی
  • کالمز
  • انٹرنیشنل
  • کاروبار
  • کھیل
  • شوبز
  • کاپی رائٹس
    • پرائیویسی پالیسی
    • قوائد و ضوابت
    • ہمارے بارے میں

ہمارا یوٹیوب چینل

ہمارا فیس بک پیج

The Khyber Times

خصوصی فیچرز

پشتون تحفظ مؤومنٹ کے اہم رہنما شہاب خٹک کے بھائی ڈاکٹر نعیم الدین خٹک کو نامعلوم افراد نے پشاور کے بھرے بازار میں گولی مارکر شہید کردیا
شمالی وزیرستان کو کس کی نظر لگ گئی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ احسان داوڑ
کیا لڑانے والے کامیاب نہیں ہوئے ؟؟؟ خصوصی تحریر: رسول داوڑ
شمالی وزیرستان ،رمضان المبارک کا چاندنظرآگیا
بول کہ لب آزاد ہیں تیرے…. تحریر رفعت انجم

حیرت انگیز

اسلام آباد مذاکرات: سیزفائر کے سائے میں ایک غیر یقینی سفارت کاری اسلام اباد ( دی خیبر ٹائمز مانیٹرنگ ڈیسک) اپریل 2026 میں امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے جہاں سفارت کاری اور طاقت کے مظاہرے ساتھ ساتھ چل رہے ہیں۔ دو ہفتوں پر محیط سیزفائر اپنی مدت کے اختتام کے قریب ہے، مگر حالات بتاتے ہیں کہ یہ محض ایک عارضی وقفہ تھا، مستقل حل نہیں۔ بظاہر میدان جنگ خاموش ہے، لیکن پس پردہ سرگرمیاں تیز ہو چکی ہیں۔ خاص طور پر آبنائے ہرمز میں ایک ایرانی کارگو جہاز کی ضبطگی نے نہ صرف کشیدگی کو بڑھایا بلکہ اس نے سیزفائر کی روح کو بھی سوالیہ نشان بنا دیا ہے۔ امریکہ کی جانب سے ایرانی جہاز کو روک کر قبضے میں لینا ایک ایسا اقدام تھا جس نے حالات کو یکسر بدل دیا۔ امریکی حکام کا دعویٰ ہے کہ جہاز میں ایسا سامان موجود تھا جو بظاہر تجارتی تھا، مگر اسے عسکری مقاصد کیلئے بھی استعمال کیا جا سکتا تھا۔ ان میں دھاتیں، پائپ اور الیکٹرانک آلات شامل بتائے گئے ہیں۔ دوسری طرف ایران اس کارروائی کو کھلی جارحیت قرار دے رہا ہے۔ تہران کے نزدیک یہ نہ صرف سیزفائر کی خلاف ورزی ہے بلکہ بین الاقوامی قوانین کی بھی نفی ہے۔ یہی وہ نقطہ ہے جہاں سے دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کا فقدان مزید گہرا ہو گیا ہے۔ پاکستان کا دارالحکومت اسلام آباد اس وقت عالمی سفارت کاری کا مرکز بنا ہوا ہے۔ امریکہ کا وفد یہاں پہنچ چکا ہے اور اس نے مذاکرات کیلئے اپنی تیاری مکمل کر لی ہے۔ تاہم ایران کی غیر یقینی صورتحال نے اس پورے عمل کو غیر مستحکم بنا دیا ہے۔ ابتدائی طور پر ایران مذاکرات میں شرکت کیلئے آمادہ تھا، لیکن حالیہ پیش رفت کے بعد اس کا مؤقف سخت ہو گیا ہے۔ ایران کا کہنا ہے کہ جب تک اس پر دباؤ جاری رہے گا، بامعنی بات چیت ممکن نہیں۔ یہ صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ مذاکرات صرف مقام اور تیاری کا نام نہیں، بلکہ اس کیلئے سیاسی ارادہ اور اعتماد بھی ضروری ہوتا ہے، جو اس وقت واضح طور پر موجود نہیں۔ اگرچہ مذاکرات کے مقام کا باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا، لیکن اطلاعات یہی ہیں کہ شہر کے بڑے ہوٹلز کو اس مقصد کیلئے مخصوص کیا گیا ہے۔ ان ہوٹلز کو جزوی طور پر خالی کرایا گیا ہے تاکہ سیکیورٹی کو یقینی بنایا جا سکے۔ اسلام آباد میں سیکیورٹی کے انتظامات غیر معمولی ہیں۔ ریڈ زون کو مکمل طور پر سیل کر دیا گیا ہے، ہزاروں سیکیورٹی اہلکار تعینات ہیں، اور شہر کے اہم داخلی و خارجی راستوں پر سخت نگرانی کی جا رہی ہے۔ یہ انتظامات اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ پاکستان اس عمل کو انتہائی سنجیدگی سے لے رہا ہے اور کسی بھی ممکنہ خطرے سے نمٹنے کیلئے تیار ہے۔ امریکہ مذاکرات چاہتا ہے، مگر اپنی شرائط کے ساتھ۔ اس کا زور ایران کے میزائل پروگرام اور علاقائی سرگرمیوں پر پابندیوں پر ہے۔ دوسری جانب ایران کا مؤقف واضح ہے کہ دباؤ اور مذاکرات ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے۔ ایران اقتصادی پابندیوں کے خاتمے اور بحری ناکہ بندی کے خاتمے کو اولین شرط قرار دے رہا ہے۔ اس کے نزدیک حالیہ جہاز ضبطگی اس بات کا ثبوت ہے کہ امریکہ سنجیدہ سفارت کاری کے بجائے دباؤ کی پالیسی پر قائم ہے ، اور یہی اختلافات اس وقت مذاکرات کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔ سیزفائر اب ایک نازک مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ اگر ایران مذاکرات میں شامل ہو جاتا ہے تو اس میں توسیع ممکن ہے۔ لیکن اگر موجودہ تعطل برقرار رہا تو یہ عارضی امن کسی بھی وقت ختم ہو سکتا ہے۔ خطے کی صورتحال اس بات کی متقاضی ہے کہ دونوں فریق فوری طور پر کشیدگی کم کریں، کیونکہ کسی بھی قسم کی نئی جھڑپ نہ صرف اس سیزفائر کو ختم کر سکتی ہے بلکہ ایک وسیع تر تنازع کو بھی جنم دے سکتی ہے۔ اسلام آباد میں سب کچھ تیار ہے۔ سفارتی ماحول موجود ہے، سیکیورٹی کے انتظامات مکمل ہیں، اور عالمی نظریں اس شہر پر مرکوز ہیں۔ مگر اصل سوال اب بھی اپنی جگہ قائم ہے: کیا ایران مذاکرات کی میز پر آئے گا؟ یہ صرف دو ممالک کے درمیان تنازع نہیں، بلکہ ایک وسیع علاقائی توازن کا معاملہ ہے۔ اگر مذاکرات کامیاب ہوتے ہیں تو یہ ایک بڑی سفارتی کامیابی ہوگی، اور اگر ناکام رہے تو اس کے اثرات دور رس ہو سکتے ہیں۔ آنے والے دن اس بات کا فیصلہ کریں گے کہ اسلام آباد امن کی علامت بنتا ہے یا ایک ضائع شدہ موقع کی؟
اسلام آباد مذاکرات: سیزفائر کے سائے میں ایک غیر یقینی سفارت کاری
مشرقِ وسطیٰ میدانِ جنگ میں تبدیل: ایران امریکا کشیدگی عروج پر، مذاکرات کے امکانات معدوم اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے بادل گہرے ہوتے جا رہے ہیں۔ ایک طرف امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) نے ایرانی جہاز کو نشانہ بنانے کی ویڈیو جاری کر کے اشتعال میں اضافہ کر دیا ہے، تو دوسری طرف ایرانی میزائلوں نے تل ابیب میں تباہی مچا کر جنگ کا نقشہ بدل دیا ہے۔ اس سنگین صورتحال میں سفارتی کوششیں دم توڑتی نظر آ رہی ہیں۔ امریکی فوج کے شعبہ سینٹکام نے حالیہ کارروائی میں ایک ایرانی جہاز کو اپنی تحویل میں لینے اور اس پر حملے کی ویڈیو جاری کی ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سمندری حدود میں تصادم کا نیا محاذ کھل چکا ہے۔ دوسری جانب، ایران کے حالیہ میزائل حملوں نے اسرائیل کے دفاعی نظام کو بڑا دھچکا پہنچایا ہے۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق تل ابیب میں ایک ہزار سے زائد رہائشی مکانات مکمل طور پر تباہ یا ناقابلِ رہائش ہو چکے ہیں، جو کہ حالیہ دہائیوں میں اسرائیل کو پہنچنے والا سب سے بڑا شہری نقصان ہے۔ اسلام آباد میں تعینات ایرانی سفیر نے خطے کی صورتحال پر ردعمل دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ایران کسی بھی صورت عالمی دباؤ اور دھمکیوں میں نہیں آئے گا۔ انہوں نے کہا: ایران کو دھمکاکر غیرمنطقی مطالبات پورے کرنے پر مجبور نہیں کیا جاسکتا۔ ہم اپنی خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ ایران کی جانب سے موجودہ حالات میں مذاکرات کی کسی بھی پیشکش کو مسترد کرنے کے پیچھے چند اہم وجوہات ہیں: 1. اعتماد کا فقدان: ایران کا موقف ہے کہ جب تک امریکہ اور اس کے اتحادی جارحانہ اقدامات (جیسے جہازوں پر حملے) بند نہیں کرتے، بات چیت ممکن نہیں۔ 2. تہران کا الزام ہے کہ امریکہ مذاکرات کے نام پر ایسے مطالبات رکھتا ہے جو ایران کی دفاعی صلاحیت (میزائل پروگرام) کو ختم کرنے سے متعلق ہیں، جو کہ اسے منظور نہیں۔ 3. ایران کا کہنا ہے کہ ایک طرف مذاکرات کی بات کی جاتی ہے اور دوسری طرف اسرائیل کو کھلی چھوٹ دی گئی ہے، ایسے دوہرے معیار میں سفارت کاری بے معنی ہے۔ اگر ہم ماضی کے مذاکرات پر نظر ڈالیں تو ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کا سب سے بڑا موڑ 2015 کا جوہری معاہدہ (JCPOA) تھا۔ * اوبامہ کے دور میں طویل مذاکرات کے بعد ایران نے اپنے جوہری پروگرام کو محدود کرنے پر اتفاق کیا تھا، تاکہ معاشی پابندیاں ختم ہو سکیں۔ * 2018 میں اس وقت کے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یکطرفہ طور پر اس معاہدے سے علیحدگی اختیار کر لی اور ایران پر زیادہ سے زیادہ دباؤ کی مہم شروع کر دی۔ * موجودہ دور میں بھی ویانا میں کئی دور کے مذاکرات ہوئے تاکہ اس معاہدے کو بحال کیا جا سکے، لیکن فریقین کسی نتیجے پر نہ پہنچ سکے۔ ایران کا دعویٰ ہے کہ امریکہ ہر بار معاہدے کی شرائط سے پھر جاتا ہے، اس لئے اب مذاکرات وقت کا ضیاع ہیں۔ اسرائیل میں ہونے والی حالیہ تباہی کے بعد نیتن یاہو حکومت پر جوابی حملے کا شدید عوامی دباؤ ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر عالمی برادری نے فوری مداخلت نہ کی تو یہ جنگ محض دو ممالک تک محدود نہیں رہے گی بلکہ پورے خطے کے امن و معیشت کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی۔
مشرقِ وسطیٰ میدانِ جنگ میں تبدیل: ایران امریکا کشیدگی عروج پر، مذاکرات کے امکانات معدوم
خاک سے ستاروں تک، ایک یتیم کے زخموں کی خون آلود داستان تحریر: ناصر داوڑ یتیم کا پی ایچ ڈی: وزیرستان کی تعلیمی تاریکی سے روشنی کی فتح۔۔۔ اندھیروں کی سیاہ آغوش میں بھی کبھی ایسا چراغ جھلملاتا ہے جو زمانے کی آنکھیں کھول دیتا ہے۔ وزیرستان…
پہاڑوں کا، غیرت کا، لہو اور آنسوؤں کا وہ تلخ وطن…
وہ مقدس مٹی جس کا ہر ذرہ شہیدوں کا تازہ خون چلاتا ہے،
جس کا ہر پتھر صبر کی چھالوں سے بھرا امتحان ہے۔
یہ وہ خطہ ہے جہاں عوام تعلیمی پسماندگی کا شکار ہے، عام بچے سکول کی دہلیز تک نہ پہنچ پاتے،
عالم کی بلند تعلیم تو دور کی کوڑی۔۔۔ خاص طور پر یتیموں کے لئے ناممکن۔ مگر یہاں سب کچھ الٹا ہو گیا!
یہی طوفانوں زدہ مٹی ایسے سپوتوں کو پروان چڑھاتی ہے
جو موت کی زنجیریں توڑتے ہیں، قبرستانوں سے روشنی کا شعلہ چھین لیتے ہیں۔ ناصر اسد داوڑ…
صرف نام نہیں، ایک زندہ زخم ہے،
آنسوؤں سے آنسوؤں تک کا خون ٹپکتا سفر۔ "ایک بچہ… جس کا سایہ چھین لیا گیا"
ابھی اس کی معصوم آنکھیں دنیا کی رنگینی دیکھ رہی تھیں،
ابھی ہتھیلیوں میں باپ کی داڑھی کی گرمی محسوس ہو رہی تھی،
ابھی راتوں میں باپ کی لوری کی آواز گونج رہی تھی۔۔۔
کہ موت نے دروازہ توڑ دیا۔
اسد اللہ داوڑ کا جنازہ اٹھا،
ننھے ہاتھوں نے کفن چھوا،
دل نے پہلا زخم کھایا۔۔۔ ایسا گہرا کہ ہمیشہ خون بہتا رہا۔
راتوں کو چیخیں، دنوں کو خاموشی،
ماں کی گھٹنے توڑ آنکھیں، بھائیوں کی بھوک مٹانے کی جدوجہد۔۔ 
یتیمی کا پہلا طوفان، جو بچپن کو چیر پھاڑ گیا۔
وہ سایہ جو کبھی کھیلنے والا تھا، اب قبر کی سیاہی بن گیا۔ حاجی عبدالرحمان کا بڑا امتحان
اسد کے والد محترم حاجی عبدالرحمان کے لئے یہ لمحہ بڑا امتحان تھا۔ اکثر بچے باپ کے جنازے کو کندھا دیتے ہیں، مگر انہوں نے اپنے شیر جیسے جواں سالہ بیٹے اسد اللہ کے جنازے کو کندھا دیا۔ 
اس روز عبدالرحمان کی آنکھوں سے آنسو تو نہ دیکھے گئے، مگر دل سے خون ٹپکنے لگا۔ ایک طرف بیٹے کا جنازہ، دوسری جانب اسد کے بچھڑ جانے والے چار یتیم بچوں کو دیکھ کر ان کے پیروں سے زمین نکل گئی۔
مگر ان کے دیگر غیرت مند بیٹوں نے باپ کو سہارا دیا،، خاص طور پر احسان داوڑ نے، جو سب سے بڑا تھا۔ اس نے ذمہ داری کے احساس سے دلاسہ دیا اور کہا: "یتیموں کو ہم کبھی یتیم ہونے کا احساس نہیں ہونے دیں گے!"
پھر احسان نے ان کی پرورش کا بھاری بوجھ اٹھایا۔ "مگر یہ داستان یہاں ختم نہ ہوئی…"
کیونکہ تقدیر نے ابھی ایک باب کھلا۔۔۔
محبت کا، بھائی چارے کا، اور غیرت کا لہو بھرا باب۔ احسان داوڑ…
صرف نام نہیں، ایک نڈر پہاڑ ہے۔۔۔ 
جو گولیوں اور غربت کے سامنے سر نہیں جھکاتا۔
"وہ اور اس کے بھائی بھائی،،، باپ کی خالی جگہ کا لہو بن گئے"
احسان نے مرکزی ذمہ داری اٹھائی، یتیموں کو تنہا نہ چھوڑا،
تقدیر سے چیخا: "یہ میرے بچے ہیں، جب تک میرا لہو گرم ہے!" 
اس کے بھائیوں نے ساتھ دیا۔۔۔محنت کی، روٹی کا حصہ بانٹا،
تعلیم کے خوابوں کو زندہ رکھا، ناصر کی کتابیں سلائیں۔
مگر احسان کی پرورش مرکزی تھی،،، اپنی زندگی کا ہر رنگ قربان کر دیا،
تاکہ ان کے زخم رنگین خواب بن جائیں۔ 
احسان داوڑ نے اپنے ارمانوں کی گردن کاٹ دی،
تاکہ ان کے خواب اس کے خون کی پیاس بجھائیں۔ "یہ پرورش نہ تھی،،، یہ بھائی چارے کا لہو تھا، احسان کی قربانی تھی!" 
خاموش راتوں میں، جہاں بموں کی گونج گونجتی رہتی،
تنگ دستی کے ان حالات میں جہاں روٹی بھی خواب تھی،
اور تھکا دینے والے دکھوں میں جہاں موت ہی سکون لگتی،
احسان اور ان کے دیگر بھائیوں نے امید کی لاڈھی تھامے رکھی،،، خون آلود ہاتھوں سے۔ "اور پھر… ایک سحر کے بعد بادلوں کو چیرتی صبح آئی"
برسوں بیت گئے، مشکلیں ٹوٹ گئیں،
مگر ارادہ پہاڑ کی طرح کٹا نہ مارا۔
ناصر اسد داوڑ…
وہ تین سالہ یتیم، آج علم کے آسمان پر تاروں جیسا جھلملاتا ہے۔
سرگودھا یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری چھینی۔۔۔
نہ صرف اپنے لئے، بلکہ ایک قوم کی تاریخ کے لئے۔
"یہ سند نہیں، یہ ماں کے لہو کے آنسو ہیں،
احسان اور ان کے دیگر بھائیوں کی ہڈیوں کی قربانی ہے،
برسوں کی محنت کا خون ہے جو اب چمک رہا ہے۔" "وہاں، جہاں روحیں بھی رونے لگیں گی"
آج اسد اللہ داوڑ دوسری دنیا سے دیکھ رہے ہوں گے…
اور مسکرا کر کہیں گے: "میرا خون بچ گیا…" 
اور احسان داوڑ؟ 
خاموش فخر کی مسکراہٹ لئے کھڑا، پہاڑ کی طرح۔۔۔
بے آواز، مگر آسمان چھوتا ہوا۔ "مرد وہ نہیں جو خود اٹھے، مرد وہ جو دوسروں کا خون لے کر اٹھائے۔" "یہ کہانی نہیں، وزیرستان کا زخم ہے—
ہر اس نوجوان کی چیخ جو اندھیروں میں روشنی مانگتا ہے۔"
"اندھیرا کتنا ہی لمبا کیوں نہ ہو، سحر کا لہو ضرور بہے گا۔" ناصر اسد داوڑ… آج ایک مثال ہے۔
اور احسان داوڑ… ایک زندہ تاریخ ہے۔
بے شک…
یہ وزیرستان کا فخر ہے،
غیرت کا لہو بھرا ثبوت۔۔۔ 
بعض اوقات اللہ تعالیٰ ایک سایہ چھین لیتا ہے تو اس کے بدلے ایسے شجرِ سایہ دار عطا کر دیتا ہے جو اپنی تپش بھول کر اپنوں کو سکون دیتے ہیں۔
ناصر اسد داوڑ کی پی ایچ ڈ کی کامیابی محض ایک تعلیمی ڈگری نہیں، بلکہ احسان، قربانی اور بھائی چارے کا ثمر ہے جو چچا احسان داوڑ اور ان کے دیگر بھائیوں نے بیج کی صورت بویا تھا۔ شاید سگا باپ بھی اس محنت اور جانفشانی سے پرورش نہ کر پاتا۔ 
ناصر اسد کی آنکھوں میں اب صرف کامیابی کی چمک نہیں، بلکہ "قرضِ محبت" اتارنے کا عزم ہے۔ وہ جانتے ہیں: * احسان داوڑ نے ان کے لئے اپنی خوشیاں قربان کیں۔ * خاندان کے بڑوں نے یتیمی کا احساس تک نہ ہونے دیا۔ * یہ پی ایچ ڈی ان تمام ہاتھوں کی محنت ہے جنہوں نے اسے گرنے نہ دیا۔ 
اب ناصر اسد داوڑ توانا درخت بن چکے ہیں۔ ان کی نیت سے صاف ہے کہ: * وہ چچا اور بھائیوں کے احسانات کو سر کا تاج سمجھتے ہیں۔ * اگلا مقصد خاندان کی معاشی اور سماجی حالت مستحکم کرنا ہے۔ * وہ منتظر ہیں کہ عملی طور پر تھکن اتار سکیں۔ 
وزیرستان کی مٹی میں ایسے کردار کم ملتے ہیں جہاں یتیم بچہ اس مقام تک پہنچے اور محسنوں کے لئے دیدہ و دل فرشِ راہ کر دے۔ ناصر اسد کا جڑوں سے جڑا رہنا اور خاندان کا نام روشن کرنا انہیں سچا "داوڑ" اور "وزیرستانی" ثابت کرتا ہے۔
بے شک، جس کی نیت صاف ہو اور دل میں اپنوں کا درد، اللہ راستے ہموار کر دیتا ہے۔ ناصر اسد نہ صرف خاندان بلکہ پورے علاقے کا مان بڑھائیں گے۔
خاک سے ستاروں تک، ایک یتیم کے زخموں کی خون آلود داستان
لکی مروت: کالعدم تنظیم کے اہم کمانڈر کی گرفتاری، دورانِ تفتیش اہم انکشافات لکی مروت ( دی خیبرٹائمز ڈسٹرکٹ ڈیسک ) لکی مروت کے علاقے شہباز خیل سے تعلق رکھنے والے کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان کے ایک اہم کمانڈر عامر سہیل عرف مولوی حیدر کو سیکیورٹی فورسز نے گرفتار کر لیا ہے۔ ذرائع کے مطابق گرفتار ملزم نے دورانِ تفتیش متعدد اہم انکشافات کیے ہیں، جن سے خطے میں سرگرم دہشتگرد نیٹ ورکس کے حوالے سے نئی معلومات سامنے آئی ہیں۔ سیکیورٹی حکام کے مطابق عامر سہیل بنوں، لکی مروت اور میانوالی سمیت مختلف اضلاع میں تنظیمی سرگرمیوں کی کمانڈ، رابطہ کاری اور نیٹ ورک کو منظم کرنے میں مرکزی کردار ادا کرتا رہا ہے۔ تفتیش کے دوران ملزم نے اعتراف کیا کہ وہ پاکستان مخالف گمراہ کن پروپیگنڈے سے متاثر ہو کر اس تنظیم میں شامل ہوا۔ گرفتار کمانڈر نے انکشاف کیا کہ اس نے افغانستان کے صوبہ پکتیکا میں قائم ایک تربیتی مرکز میں دہشتگردی کی باقاعدہ تربیت حاصل کی۔ اس نے دعویٰ کیا کہ مذکورہ مراکز کو مبینہ طور پر طالبان کی سرپرستی حاصل ہے۔ مزید برآں اس نے اپنے روابط کالعدم تنظیم داعش اور القاعدہ جیسے گروہوں کے ساتھ ہونے کا بھی اعتراف کیا۔ ذرائع کے مطابق ملزم نے دورانِ تفتیش بتایا کہ اسے افغانستان سمیت دیگر مبینہ ذرائع سے مالی معاونت فراہم کی جاتی رہی، جن میں "را" سے منسوب عناصر بھی شامل ہیں۔ اس کے نیٹ ورک میں 20 سے زائد افراد شامل تھے، جن میں بعض افغان شہری بھی تھے۔ تحقیقات کے مطابق گرفتار دہشتگرد بنوں، لکی مروت اور میانوالی میں سیکیورٹی فورسز پر ہونے والے متعدد حملوں میں بھی ملوث رہا ہے۔ اس نے یہ بھی بتایا کہ اسے پشاور میں علاج کی غرض سے آنے کے دوران گرفتار کیا گیا۔ اپنے بیان میں ملزم نے کہا کہ فتنہ الخوارج کا اسلام یا جہاد سے کوئی تعلق نہیں بلکہ یہ گروہ محض مالی مفادات کے لیے سرگرم ہے اور پاکستان میں دہشتگردی میں ملوث ہے۔ سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ گرفتار کمانڈر کے انکشافات کی روشنی میں مزید تحقیقات جاری ہیں، جبکہ ماہرین کے مطابق ان بیانات سے سرحد پار روابط اور دہشتگرد نیٹ ورکس کے مختلف پہلوؤں پر مزید روشنی پڑنے کا امکان ہے۔ واضح رہے کہ حالیہ واقعات اور گرفتاریوں سے یہ تاثر مزید مضبوط ہو رہا ہے کہ خیبرپختونخوا میں ایک بار پھر شدت پسند تنظیمیں سرگرم ہو رہی ہیں، جو روزانہ کی بنیاد پر سیکیورٹی فورسز اور پولیس کو نشانہ بنا رہی ہیں۔ بالخصوص ڈیرہ اسماعیل خان، لکی مروت اور کرک ایسے اضلاع ہیں جہاں ٹی ٹی پی سمیت دیگر شدت پسند گروہ متحرک ہیں۔ ان علاقوں میں بڑھتی ہوئی شدت پسندی کا جغرافیائی پھیلاؤ جنوبی پنجاب کے ساتھ مل رہا ہے، جو سیکیورٹی کے لحاظ سے ایک اہم تشویش ہے۔ اگر بروقت اور مؤثر کارروائیاں نہ کی گئیں تو یہ صورتحال پنجاب تک عدم استحکام پھیلانے کا باعث بن سکتی ہے، جس کے لیے مربوط حکمت عملی اور سخت اقدامات ناگزیر ہیں۔
لکی مروت: کالعدم تنظیم کے اہم کمانڈر کی گرفتاری، دورانِ تفتیش اہم انکشافات
وزیرستان کا بیٹا، علم کا ستارہ الحمد اللہ ثم الحمد للہ تحریر: احسان داوڑ
تاریخ: 15 اپریل 2026 کبھی کبھی زندگی ایسے لمحے عطا کرتی ہے جو محض وقت کا حصہ نہیں ہوتے، بلکہ تاریخ کے اوراق پر نقش ہو جاتے ہیں۔ ایسا ہی ایک لمحہ آج سرگودھا یونیورسٹی کے ملٹی پرپز ہال میں رقم ہوا، ایک ایسا منظر جس میں فخر، خوشی، محنت اور دعا سب یکجا ہو گئے تھے۔ ہال طلبہ، پروفیسرز اور معزز مہمانوں سے بھرا ہوا تھا۔ اسٹیج پر ایک پُراعتماد نوجوان کھڑا تھا، شمالی وزیرستان کا بیٹا، ناصر اسد داوڑ۔۔۔ جو اپنے پی ایچ ڈی مقالے کا دفاع کر رہا تھا۔ سوال و جواب کا سلسلہ جاری تھا، اور فیصل آباد کے گورنمنٹ کالج و ایجوکیشن یونیورسٹی سے آئے ہوئے بیرونی ممتحن اپنے بھرپور علمی سوالات کے ساتھ اس نوجوان کی صلاحیتوں کو پرکھ رہے تھے۔ لیکن یہ کوئی عام نوجوان نہیں تھا۔ یہ وزیرستان کی مٹی سے اٹھنے والا وہ سپوت تھا جو چٹان کی مانند ڈٹا رہا۔ اس کے لہجے میں اعتماد، اس کی گفتگو میں علم، اور اس کے انداز میں ایک دہائی کی محنت جھلک رہی تھی۔ ہر سوال کا جواب گویا اس کے عزم کی گواہی دے رہا تھا۔ ہال میں وقفے وقفے سے گونجتی تالیاں صرف کامیابی کی آواز نہیں تھیں، بلکہ اس خطے کی امیدوں کی بازگشت تھیں۔ پہلی صف میں بیٹھا میں ایک چچا، ایک گواہ، ایک فخر سے لبریز انسان اپنے جذبات کو سمیٹنے میں ناکام تھا۔ سینہ فخر سے بھر رہا تھا، آنکھیں بار بار نم ہو رہی تھیں۔ یہ آنسو صرف خوشی کے نہ تھے، یہ شکر، محبت اور ایک طویل سفر کی تکمیل کے آنسو تھے۔ اور پھر وہ لمحہ آیا۔۔۔۔ جب اعلان ہوا کہ ناصر اسد داوڑ نے یہ سنگ میل عبور کر لیا ہے۔ شاید وہ شمالی وزیرستان کا کم عمر ترین پی ایچ ڈی ڈاکٹر بن چکا تھا۔ لیکن کہانی یہیں ختم نہیں ہوتی۔ اس کے اساتذہ نے ایک اور حیران کن حقیقت بیان کی:
سرگودھا یونیورسٹی کی تاریخ میں پہلی بار کسی پی ایچ ڈی اسکالر نے اپنے مقالے کے دفاع سے پہلے تقریباً 60 تحقیقی مقالے شائع کئے، جن کے 750 سے زائد سائیٹیشنز، 12 ایچ انڈکس اور 14 آئی-10 انڈکس ہیں۔
یہ صرف ایک کامیابی نہیں، ایک ریکارڈ ہے،،، ایک مثال ہے۔۔۔ ایک اعلان ہے کہ اگر ارادہ مضبوط ہو تو جغرافیہ رکاوٹ نہیں بنتا۔ ہال تالیوں سے گونج اٹھا۔ مبارکبادوں کا سلسلہ جاری تھا۔
اور میں۔۔۔ میں بس اپنے رب کا شکر ادا کر رہا تھا: یا اللہ! تیرا لاکھ لاکھ شکر، یہ سب تیری ہی عطا ہے۔ میرے پیارے بیٹے، ڈاکٹر ناصر اسد داوڑ تم نے صرف ایک ڈگری حاصل نہیں کی، تم نے تاریخ رقم کی ہے۔ تم نے ثابت کر دیا کہ مشکلات، محرومیاں اور رکاوٹیں اُس وقت بے معنی ہو جاتی ہیں جب انسان کے اندر یقین، محنت اور استقامت زندہ ہو۔ یہ کامیابی صرف ایک فرد کی نہیں، یہ وزیرستان کے ہر اُس نوجوان کی امید ہے جو حالات سے لڑ رہا ہے۔ یہ پیغام ہے کہ: تعلیم کا دامن کبھی نہ چھوڑو، کیونکہ یہی وہ روشنی ہے جو اندھیروں کو شکست دیتی ہے۔ آج ناصر کی کامیابی ہمیں یہ یقین دلاتی ہے کہ ہمارے علاقے کے نوجوان بھی دنیا کے کسی بھی میدان میں اپنی جگہ بنا سکتے ہیں، اگر انہیں موقع، حوصلہ اور سمت مل جائے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب پر اپنا کرم فرمائے،
ہماری نوجوان نسل کو علم، شعور اور کامیابی کے راستے پر گامزن رکھے۔ آمین ثم امین۔
وزیرستان کا بیٹا، علم کا ستارہ: احسان داوڑ
پاک افغان تعلقات کا بحران: تاریخی تناظر، عسکری تصادم، اور سفارتی تعطل کا جامع تجزیہ پاکستان اور افغانستان کے مابین تعلقات کی تاریخ پیچیدہ تزویراتی مفادات، نسلی و لسانی ہم آہنگی اور دائمی عدم اعتماد کا ایک ایسا مجموعہ ہے جو حالیہ برسوں میں ایک سنگین عسکری اور سفارتی بحران کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ یہ رپورٹ ان تعلقات میں آنے والی حالیہ خرابی، اس کے تاریخی اسباب، شدت پسند گروہوں کے کردار، سفارتی مذاکرات کی ناکامیوں اور مستقبل کے ممکنہ منظر نامے کا ایک ماہرانہ اور مفصل جائزہ پیش کرتی ہے۔ پاکستان اور افغانستان کے تعلقات میں تناؤ کوئی نیا واقعہ نہیں ہے، بلکہ اس کی جڑیں 1947 میں پاکستان کی آزادی کے وقت سے جڑی ہوئی ہیں۔ افغانستان وہ واحد ملک تھا جس نے اقوام متحدہ میں پاکستان کی شمولیت کے خلاف ووٹ دیا تھا ۔ اس مخالفت کی بنیاد ڈیورنڈ لائن کا تنازع تھا، جسے افغانستان نے ایک بین الاقوامی سرحد کے طور پر تسلیم کرنے سے ہمیشہ انکار کیا ہے۔ افغان قیادت کا موقف رہا ہے کہ 1893 میں برطانوی ہند اور افغان امیر کے درمیان کھینچی گئی یہ لکیر محض ایک عارضی انتظامی تقسیم تھی جس نے پشتون قوم کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا ۔    آزادی کے فوراً بعد افغانستان نے پاکستان کے اندر پشتونستان کی تحریک کی حمایت کی، جس کا مقصد پاکستان کے شمال مغربی سرحدی علاقوں کو الگ کر کے ایک آزاد ریاست قائم کرنا یا انہیں افغانستان میں شامل کرنا تھا ۔ اس نظریاتی اور علاقائی تنازع نے دونوں ممالک کے درمیان ابتدائی دہائیوں میں ہی عدم اعتماد کی دیوار کھڑی کر دی، جو 1961 اور 1963 کے درمیان سفارتی تعلقات کی مکمل منقطع ہونے پر منتج ہوئی ۔    تعلقات میں خرابی کے دوسرے بڑے مرحلے کا آغاز 1979 میں افغانستان پر سوویت یونین کے حملے سے ہوا۔ اگرچہ پاکستان نے افغان مجاہدین کی بھرپور حمایت کی اور لاکھوں مہاجرین کو پناہ دی، لیکن اس جنگ نے پاکستان کے اندر کلاشنکوف کلچر، منشیات اور شدت پسندی کے ایسے بیج بوئے جنہوں نے بعد ازاں خود پاکستان کی سلامتی کو خطرے میں ڈال دیا ۔ نائن الیون کے بعد جب پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ میں امریکہ کا ساتھ دیا، تو طالبان اور پاکستان کے تعلقات میں ایک نیا موڑ آیا۔ پاکستان پر الزام لگایا گیا کہ وہ ایک طرف افغان طالبان کو پناہ دے رہا ہے اور دوسری طرف ان کے خلاف جنگ میں اتحادی بھی ہے، جس سے ڈبل گیم کا تاثر ابھرا اور دونوں ممالک کے درمیان سرد جنگ کی کیفیت پیدا ہو گئی ۔    دورانیہ تعلقات کی نوعیت اہم تنازع / محرک 1947–1960 شدید تناؤ ڈیورنڈ لائن اور پشتونستان تحریک 1961–1963 سفارتی بائیکاٹ سرحدی جھڑپیں اور قونصل خانوں پر حملے 1979–1989 تزویراتی تعاون سوویت یونین کے خلاف جہاد اور مہاجرین کی آمد 1996–2001 قریبی تعلقات طالبان کی پہلی حکومت کو تسلیم کرنا 2021 تا حال تزویراتی دشمنی ٹی ٹی پی کی محفوظ پناہ گاہیں اور سرحد پر باقاعدہ جنگ    طالبان اور پاکستان: تزویراتی گہرائی سے تزویراتی بوجھ تک یہ سوال کہ کیا یہ طالبان پہلے پاکستان کے تھے؟ تزویراتی حلقوں میں ایک اہم بحث کا موضوع رہا ہے۔ تاریخی طور پر، پاکستان نے 1990 کی دہائی میں طالبان کی تحریک کو افغانستان میں استحکام لانے اور ایک ایسی حکومت کے قیام کے لئے سپورٹ کیا جو پاکستان کے مفادات کی نگران ہو اور بھارت کے اثر و رسوخ کو روک سکے ۔ پاکستان ان چند ممالک میں شامل تھا جنہوں نے 1996 سے 2001 تک طالبان کی پہلی حکومت کو باقاعدہ تسلیم کیا ۔    تاہم، 2021 میں کابل پر طالبان کے دوبارہ قبضے کے بعد یہ تزویراتی حساب کتاب مکمل طور پر تبدیل ہو چکا ہے۔ اگرچہ اس وقت کے پاکستانی وزیر اعظم عمران خان نے طالبان کی واپسی کو "غلامی کی زنجیریں توڑنے" سے تعبیر کیا تھا، لیکن جلد ہی یہ واضح ہو گیا کہ افغان طالبان اب اسلام آباد کے زیر اثر رہنے کے بجائے ایک آزاد قوت کے طور پر ابھرے ہیں ۔ سب سے بڑا بحران "تحریک طالبان پاکستان" (ٹی ٹی پی) کے معاملے پر پیدا ہوا۔ پاکستان کا موقف ہے کہ افغان طالبان اور ٹی ٹی پی ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں؛ ان کے درمیان نظریاتی، قبائلی اور تنظیمی روابط اتنے مضبوط ہیں کہ افغان طالبان انہیں چھوڑنے کے لئے تیار نہیں ہیں ۔    پاکستان کی نظر میں، افغان طالبان نے ٹی ٹی پی کو اپنی سرزمین پر محفوظ پناہ گاہیں فراہم کر کے پاکستان کے ساتھ بے وفائی کی ہے ۔ تزویراتی گہرائی کا جو تصور پاکستان نے برسوں سے پال رکھا تھا، وہ اب ایک تزویراتی بوجھ بن چکا ہے کیونکہ افغانستان سے ہونے والے حملوں میں پاکستانی سکیورٹی فورسز اور شہریوں کا جانی نقصان مسلسل بڑھ رہا ہے ۔    عسکری تصادم اور فضائی کارروائیوں کے اہداف پاکستان اور افغانستان کے مابین کشیدگی نے اس وقت خطرناک رخ اختیار کر لیا جب پاکستان نے اپنی سرزمین پر ہونے والے دہشت گرد حملوں کے جواب میں افغانستان کے اندر براہ راست فضائی کارروائیاں شروع کیں۔ یہ عسکری مداخلت اس بات کا واضح اعلان تھی کہ پاکستان اب صبر کی پالیسی ترک کر چکا ہے ۔    مارچ 2024 اور دسمبر 2024 کی فضائی کارروائیاں 18 مارچ 2024 کو پاکستان نے افغانستان کے سرحدی علاقوں خوست اور پکتیکا میں فضائی حملے کئے ۔ ان کارروائیوں کا مقصد حافظ گل بہادر گروپ کے کمانڈروں اور ٹی ٹی پی کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانا تھا، جو شمالی وزیرستان میں ہونے والے ایک بڑے خودکش حملے میں ملوث تھے ۔ دسمبر 2024 میں پاکستان نے ایک بار پھر پکتیکا کے ضلع برمل میں کارروائی کی، جہاں پاکستان کے مطابق ٹی ٹی پی کے تربیتی مراکز اور اہم کمانڈروں کو ہلاک کیا گیا ۔    پاکستان کی فضائی کارروائیوں میں ٹی ٹی پی کی اعلیٰ قیادت کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔ اکتوبر 2025 میں پاکستان نے کابل میں ایک ڈرامائی فضائی حملہ کیا جس کا بنیادی ہدف ٹی ٹی پی کا امیر نور ولی محسود تھا ۔ اگرچہ وہ اس حملے میں بچ نکلنے میں کامیاب رہا، لیکن کابل جیسے شہر کے اندر اس نوعیت کی کارروائی نے افغان طالبان کو شدید دفاعی پوزیشن پر لا کھڑا کیا ۔    استاد قریشی: اکتوبر 2024 میں ایک سینیئر ٹی ٹی پی لیڈر استاد قریشی کو بھی ایک کارروائی میں ہلاک کیا گیا ۔    امید کیمپ (Omid Camp) پر حملہ: 16 مارچ 2026 کو کابل کے مضافات میں واقع ایک تنصیب کو نشانہ بنایا گیا ۔ طالبان نے دعویٰ کیا کہ یہ منشیات کے عادی افراد کی بحالی کا مرکز تھا جہاں 400 سے زائد افراد ہلاک ہوئے، جبکہ پاکستان کا موقف تھا کہ یہ نیٹو کا سابقہ اڈہ تھا جسے ٹی ٹی پی دہشت گردی کی منصوبہ بندی کے لیے استعمال کر رہی تھی ۔    پاکستان نے ان گروہوں کو فتنہ الخوارج کا نام دیا ہے اور میڈیا کو پابند کیا ہے کہ وہ انہیں اسی نام سے پکاریں، تاکہ ان کے مذہبی لبادے کو بے نقاب کیا جا سکے ۔    سفارتی مذاکرات کا سفر: دوحہ سے ارومچی تک پاکستان اور افغانستان کے درمیان بڑھتے ہوئے عسکری تصادم کو روکنے کے لئے بین الاقوامی سطح پر متعدد سفارتی کوششیں کی گئیں۔ ان مذاکرات میں قطر، ترکی، سعودی عرب اور چین نے کلیدی کردار ادا کیا، لیکن ہر بار کسی نہ کسی تعطل کی وجہ سے دیرپا امن قائم نہ ہو سکا۔ دوحہ اور استنبول مذاکرات (اکتوبر-نومبر 2025) مذاکرات کے اس سلسلے کا آغاز قطر کی ثالثی میں دوحہ میں ہوا، جہاں 18 سے 19 اکتوبر 2025 کو دونوں ممالک کے درمیان ایک عارضی جنگ بندی پر اتفاق کیا گیا ۔ اس کے بعد مذاکرات کا مرکز ترکی کا شہر استنبول بن گیا۔ استنبول میں مذاکرات کے تین دور ہوئے:    پہلا دور: 25 سے 30 اکتوبر 2025 تک جاری رہا، جس میں ترکی اور قطر کے وزرائے خارجہ نے ثالثی کی ۔    تیسرا دور: 6 سے 7 نومبر 2025 کو ہوا ۔    شرکاء: افغان وفد کی قیادت نائب وزیر داخلہ رحمت اللہ نجیب کر رہے تھے، جبکہ پاکستان کی جانب سے دفتر خارجہ اور سکیورٹی اداروں کے اعلیٰ حکام شامل تھے ۔    پاکستان نے مطالبہ کیا کہ طالبان کے سپریم لیڈر ہبت اللہ اخوندزادہ ایک باقاعدہ فتویٰ جاری کریں جس میں پاکستان کے خلاف جنگ کو غیر اسلامی قرار دیا جائے ۔ افغان وفد نے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ فتویٰ جاری کرنا دارالافتاء کا کام ہے اور وہ کسی بیرونی دباؤ پر ایسا نہیں کریں گے ۔ اس کے علاوہ پاکستان نے دہشت گردوں کی حوالگی کا مطالبہ کیا جسے افغان حکومت نے عدم کنٹرول کا عذر پیش کر کے مسترد کر دیا ۔    ریاض کانفرنس (دسمبر 2025) دسمبر 2025 کے پہلے ہفتے میں سعودی عرب نے ریاض میں مذاکرات کی میزبانی کی ۔ یہاں بھی فریقین نے جنگ بندی کی توسیع پر تو اتفاق کیا، لیکن ٹی ٹی پی کی پناہ گاہوں کے خاتمے کے لئے کوئی تحریری ضمانت نہ مل سکی ۔ پاکستان نے واضح کیا کہ محض خالی وعدوں سے کام نہیں چلے گا، بلکہ زمین پر ٹھوس کارروائی کی ضرورت ہے ۔    اپریل 2026 کو سب سے اہم مذاکرات چین کے شہر ارومچی (Urumqi)، سنکیانگ میں ہوئے ۔ یہ مذاکرات یکم اپریل سے 7 اپریل 2026 تک جاری رہے ۔    پاکستان اور افغانستان کے دفاعی، خارجہ اور سکیورٹی اداروں کے اعلیٰ سطح کے وفود نے شرکت کی ۔ چین کی جانب سے خصوصی ایلچی اور سفارت کاروں نے ثالثی کے فرائض انجام دئے۔    اگرچہ چین نے اسے ایک تعمیری عمل قرار دیا اور فریقین نے کشیدگی نہ بڑھانے پر اتفاق کیا، لیکن بنیادی ڈیڈ لاک برقرار ہے ۔ پاکستان قابل تصدیق کارروائی کا مطالبہ کر رہا ہے، جبکہ کابل کا اصرار ہے کہ ٹی ٹی پی پاکستان کا داخلی مسئلہ ہے اور اسے افغان سرزمین سے جوڑنا غلط ہے ۔    شہر / مقام تاریخ ثالثی بنیادی نتیجہ / تعطل کی وجہ دوحہ 18–19 اکتوبر 2025 قطر، ترکی عارضی جنگ بندی کا معاہدہ استنبول 25 اکتوبر – 7 نومبر 2025 ترکی، قطر فتویٰ کے مطالبے پر تعطل ریاض 4–6 دسمبر 2025 سعودی عرب جنگ بندی کی تجدید، تحریری ضمانت کا فقدان ارومچی 1–7 اپریل 2026 چین کشیدگی کم کرنے پر اتفاق، بنیادی مطالبات پر ڈیڈ لاک    پاک افغان تعلقات میں خرابی کا سب سے براہ راست اثر سرحد پر ہونے والی تجارت پر پڑا ہے۔ اکتوبر 2025 سے پاکستان نے سکیورٹی وجوہات کی بنا پر طورخم، چمن اور سپن بولدک جیسے اہم سرحدی راستوں کو کئی بار بند کیا ۔    افغان وزارت صنعت و تجارت کے مطابق، دونوں ممالک کے درمیان تجارت کا حجم 2024 میں 2.46 ارب ڈالر تھا، جو 2025 میں گر کر 1.77 ارب ڈالر رہ گیا، یعنی تقریباً 40 فیصد کی کمی واقع ہوئی ہے ۔ افغانستان کی پاکستان کو برآمدات میں 38 فیصد کمی آئی، جبکہ پاکستان سے درآمدات بھی 23 فیصد تک گر گئیں ۔ پاکستان کے لئے یہ بندش ماہانہ 2.5 ارب روپے کے ٹیکس ریونیو کے نقصان کا سبب بن رہی ہے ۔    تجارت میں اس تعطل کی وجہ سے افغانستان نے اپنا رخ ایران اور وسطی ایشیائی ریاستوں ازبکستان اور قازقستان کی طرف کر لیا ہے ۔ 2025 میں وسطی ایشیائی ریاستوں کے ساتھ افغان تجارت 122 ملین ڈالر سے بڑھ کر 216 ملین ڈالر تک پہنچ گئی ہے ۔    پاکستان نے غیر قانونی غیر ملکیوں کی واپسی کے منصوبے (IFRP) کے تحت لاکھوں افغانوں کو واپس بھیجنے کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے ۔    پہلا مرحلہ اکتوبر 2023 میں شروع ہوا جس میں غیر دستاویزی افغانوں کو نکالا گیا ۔    دوسرا مرحلہ اپریل 2024 میں افغان سٹیزن کارڈ (ACC) ہولڈرز کو نشانہ بنایا گیا ۔    تیسرا مرحلہ اگست 2025 میں شروع ہوا جس کا ہدف 1.4 ملین پروف آف رجسٹریشن (PoR) کارڈ ہولڈرز ہیں ۔    انسانی حقوق کی تنظیموں اور اقوام متحدہ نے اس جبری انخلاء پر تشویش کا اظہار کیا ہے، کیونکہ واپس جانے والے افغانوں کو طالبان کے دور میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور معاشی بدحالی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے ۔ مستقبل میں یہ مسئلہ دونوں ممالک کے درمیان تلخی کی ایک مستقل وجہ بنا رہے گا، کیونکہ پاکستان اسے سکیورٹی کی ضرورت قرار دیتا ہے جبکہ کابل اسے نسلی امتیاز اور انسانی حقوق کی پامالی سمجھتا ہے ۔    پاکستان اور افغانستان کے درمیان حالیہ کشیدگی میں سوشل میڈیا نے پٹرول کا کام کیا ہے۔ دونوں جانب سے پروپیگنڈا اور غلط معلومات (Misinformation) کی تشہیر نے عوامی سطح پر نفرتوں کو ہوا دی ہے۔ افغان طالبان اور ان کے حامیوں نے ایکس (سابقہ ٹویٹر) پر پاکستان کے خلاف ایک منظم مہم چلا رکھی ہے ۔    طالبان کے پروپیگنڈا سیل نے تاجکستان کے انٹیلی جنس چیف اور دیگر غیر ملکی عہدیداروں کے نام سے جعلی اکاؤنٹس بنائے تاکہ پاکستان اور اس کے پڑوسیوں کے درمیان سفارتی تعلقات خراب کیے جا سکیں ۔    سوشل میڈیا پر پشتون اور بلوچ قوم پرستی کو ہوا دے کر پاکستانی شہریوں کو اپنی ریاست اور فوج کے خلاف اکسانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں ۔    اسلام آباد میں دھماکوں یا سیاسی بحران کے بارے میں مصنوعی ذہانت (AI) سے تیار کردہ تصاویر اور جعلی خبریں پھیلا کر ہیجان پیدا کیا جاتا ہے ۔    تحقیقاتی رپورٹس کے مطابق، شدت پسند گروہوں میں داعش خراسان (ISK) ڈیجیٹل میدان میں سب سے زیادہ نفیس اور خطرناک پروپیگنڈا کر رہی ہے، جو 12 سے زائد زبانوں میں مواد تیار کرتی ہے ۔ تاہم، افغان سرزمین سے ہونے والے سوشل میڈیا استعمال میں ٹی ٹی پی کے حامی اور طالبان کے ڈیجیٹل اثاثے زیادہ متحرک ہیں جو براہ راست پاکستان کی داخلی سلامتی کو نشانہ بناتے ہیں ۔ پاکستان میں بھی قوم پرست اور مخصوص سیاسی حلقے ان بیانیوں کو نادانستہ یا دانستہ طور پر آگے بڑھاتے ہیں، جس سے دونوں ممالک کے شہریوں کے درمیان رابطے کے پل ٹوٹ رہے ہیں ۔    تعلقات میں خرابی کا ایک ابھرتا ہوا اور انتہائی خطرناک پہلو دریائے کنڑ (Kunar River) پر ڈیم کی تعمیر ہے ۔ افغانستان نے پاکستان سے مشاورت کے بغیر اس دریا پر ڈیم بنانے کا اعلان کیا ہے، جو خیبر پختونخوا کے لئے پانی کی فراہمی کا ایک اہم ذریعہ ہے ۔ پاکستان اسے آبی دہشت گردی کے طور پر دیکھتا ہے، کیونکہ اس سے پاکستان کے شمال مغربی علاقوں میں زراعت اور بجلی کی پیداوار بری طرح متاثر ہو سکتی ہے ۔    تزویراتی لحاظ سے، پاکستان کے لئے یہ صورتحال تشویشناک ہے کہ بھارت نے کابل میں اپنے سفارتی مشن کو دوبارہ فعال کر دیا ہے اور طالبان کے ساتھ قریبی تعلقات استوار کر رہا ہے ۔ پاکستان کو خدشہ ہے کہ افغانستان ایک بار پھر بھارت کے لئے لانچنگ پیڈ بن جائے گا، جیسا کہ سابقہ دورِ حکومت میں تھا ۔    پاکستان کا سرکاری بیانیہ اب انتہائی سخت ہو چکا ہے۔ وزیر دفاع خواجہ آصف نے اسے کھلی جنگ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ اگر کابل نے دہشت گردوں کو لگام نہ دی تو پاکستان اپنی سرحدوں کے اندر کارروائی کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے ۔ آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے واضح کیا ہے کہ پاکستان کی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا اور افغان سرزمین کا پاکستان کے خلاف استعمال بند ہونا چاہئے ۔    دوسری طرف، طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد اور وزیر خارجہ امیر خان متقی کا کہنا ہے کہ پاکستان اپنی داخلی ناکامیوں کا ملبہ افغانستان پر نہ ڈالے ۔ ان کا موقف ہے کہ ٹی ٹی پی پاکستان کا اندرونی مسئلہ ہے اور کابل کسی کے خلاف جارحیت کا ارادہ نہیں رکھتا، لیکن اپنی خود مختاری کا دفاع کرنا جانتا ہے ۔    پاکستان اور افغانستان کے مابین تعلقات ایک ایسے موڑ پر ہیں جہاں واپسی کا راستہ مشکل نظر آتا ہے۔ تزویراتی گہرائی کا پرانا خواب اب ایک ڈراؤنی حقیقت بن چکا ہے۔ ارومچی میں ہونے والے حالیہ مذاکرات اگرچہ کشیدگی میں عارضی کمی کا باعث بن سکتے ہیں، لیکن جب تک ٹی ٹی پی کی پناہ گاہوں اور ڈیورنڈ لائن کی شناخت جیسے بنیادی مسائل حل نہیں ہوتے، یہ خطہ عدم استحکام کا شکار رہے گا۔ مستقبل میں پاکستان کی پالیسی مزید جارحانہ دفاع (Aggressive Defense) کی طرف مائل ہو سکتی ہے، جس میں فضائی حملے اور معاشی پابندیاں ایک معمول بن جائیں گی۔ دوسری طرف، افغانستان کا اپنی معیشت کو پاکستان سے الگ کر کے ایران اور وسطی ایشیا سے جوڑنا پاکستان کے تزویراتی اثر و رسوخ کو مزید کم کر دے گا۔ اس تمام صورتحال میں سب سے زیادہ نقصان دونوں ممالک کے عام شہریوں، تاجروں اور ان لاکھوں مہاجرین کا ہو رہا ہے جو دو ریاستوں کے انا اور مفادات کی جنگ میں پس رہے ہیں۔
پاک افغان تعلقات کا بحران: تاریخی تناظر، عسکری تصادم، اور سفارتی تعطل کا جامع تجزیہ

زیادہ پڑھی گئی

پشتون تحفظ مؤومنٹ کے اہم رہنما شہاب خٹک کے بھائی ڈاکٹر نعیم الدین خٹک کو نامعلوم افراد نے پشاور کے بھرے بازار میں گولی مارکر شہید کردیا
شمالی وزیرستان کو کس کی نظر لگ گئی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ احسان داوڑ
کیا لڑانے والے کامیاب نہیں ہوئے ؟؟؟ خصوصی تحریر: رسول داوڑ
شمالی وزیرستان ،رمضان المبارک کا چاندنظرآگیا
بول کہ لب آزاد ہیں تیرے…. تحریر رفعت انجم
پشاورکوروناکےنشانےپرکیوں؟؟؟ تحریر: فدا عدیل

کووڈ-19لاک ڈاؤن، اسکائپ نے زبردست فیچر متعارف کرادیا

اپریل 8, 2020April 8, 2020

مائیکروسافٹ کی ویڈیو کالنگ ایپلی کیشن اسکائپ کی جانب سے صارفین کے لیے ایک بہت ہی زبردست سہولت متعارف کرائی گئی ہے جس کے بعداب صارفین کو ویڈیو کال میں شریک ہونے کے لیے آئی ڈی بنانے کی ضرورت پیش مزید پڑھیں

کیا کووڈ-19 فائیو جی ٹیکنالوجی سے پھیلتا ہے؟

اپریل 8, 2020April 8, 2020

دنیا بھر میں کورونا وائرس کے حوالے سے سوشل میڈیا پر طرح طرح کی افواہوں کا بازار گرم ہے اور ایسے میں برطانیہ میں مبینہ طور پر موبائل فون کے ٹاورز کو اس لیے آگ لگا دی گئی کہ فائیو مزید پڑھیں

  • →
  • 1
  • 2

Copyright © 2019-2020, THE KHYBER TIMES All Rights Reserved | Powered by Kifayatullah MOMAND