17 May, 2026
اہم خبریں
  • صدر ٹرمپ کا دورہ چین اور عالمی جیو پولیٹکس پر اس کے اثرات
  • بنوں پولیس امن کمیٹی کا قیام، دہشتگردوں کے خلاف ’’آپریشن انتقامِ شہداء‘‘ شروع کرنے کا اعلان
  • میڈم پنکی، نام ہی کافی ہے: کوکین کوئین کا شاہانہ پروٹوکول اور اشرافیہ کے ’نشیلے‘ گٹھ جوڑ کا پردہ چاک
  • جب تک میڈیا ورکرز کے جائز مطالبات تسلیم نہیں ہوتے جدوجہد جاری رہے گی، خیبر یونین آف جرنلسٹس
  • بہت ہوچکا، صحافیوں کے استحصال کے خلاف جمعہ سے میدان عمل میں نکلنے کا فیصلہ! ارشادعلی
  • Home
  • اہم خبریں
  • پاکستان
    • دینی مسائل
    • اہم خبریں
    • مذہب
    • تصاویر اور مناظر
    • سیر و تفریح
    • دلچسپ و عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
    • صحت
  • افغانستان
  • علاقائی
  • کالمز
  • انٹرنیشنل
  • کاروبار
  • کھیل
  • شوبز
  • کاپی رائٹس
    • پرائیویسی پالیسی
    • قوائد و ضوابت
    • ہمارے بارے میں
  • Home
  • اہم خبریں
  • پاکستان
    • دینی مسائل
    • اہم خبریں
    • مذہب
    • تصاویر اور مناظر
    • سیر و تفریح
    • دلچسپ و عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
    • صحت
  • افغانستان
  • علاقائی
  • کالمز
  • انٹرنیشنل
  • کاروبار
  • کھیل
  • شوبز
  • کاپی رائٹس
    • پرائیویسی پالیسی
    • قوائد و ضوابت
    • ہمارے بارے میں

ہمارا یوٹیوب چینل

ہمارا فیس بک پیج

The Khyber Times

خصوصی فیچرز

پشتون تحفظ مؤومنٹ کے اہم رہنما شہاب خٹک کے بھائی ڈاکٹر نعیم الدین خٹک کو نامعلوم افراد نے پشاور کے بھرے بازار میں گولی مارکر شہید کردیا
شمالی وزیرستان کو کس کی نظر لگ گئی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ احسان داوڑ
کیا لڑانے والے کامیاب نہیں ہوئے ؟؟؟ خصوصی تحریر: رسول داوڑ
شمالی وزیرستان ،رمضان المبارک کا چاندنظرآگیا
بول کہ لب آزاد ہیں تیرے…. تحریر رفعت انجم

حیرت انگیز

صدر ٹرمپ کا دورہ چین اور عالمی جیو پولیٹکس پر اس کے اثرات تحریر: ناصر داوڑ ریاستہائے متحدہ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا 13 سے 15 مئی 2026 تک ہونے والا تزویراتی دورہ چین عالمی سیاست کی تاریخ میں ایک اہم موڑ قرار دیا جا رہا ہے ۔ تقریباً نو سالوں کے طویل عرصے کے بعد کسی برسرِاقتدار امریکی صدر کا یہ پہلا دورہ چین تھا، اس سے قبل آخری بار خود صدر ٹرمپ نے ہی نومبر 2017 میں بیجنگ کا دورہ کیا تھا ۔ یہ دورہ ایک ایسے انتہائی حساس وقت پر وقوع پذیر ہوا جب مشرق وسطیٰ میں امریکہ-اسرائیل اور ایران کے مابین جنگ اور آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کے باعث عالمی جیو پولیٹکس اور معیشت شدید دباؤ کا شکار تھی ۔ تزویراتی تجزیہ کار اس دورے کو ایک پائیدار تزویراتی شراکت داری کے بجائے محض ایک عارضی بحرانی انتظام اور سفارتی جنگ بندی کے طور پر دیکھ رہے ہیں ۔ یہ دورہ اصل میں اپریل 2026 کے پہلے ہفتے کیلئے طے کیا گیا تھا، لیکن فروری میں ایران کے خلاف شروع ہونے والی جنگ اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی بحرانی صورتحال کے باعث اسے مئی تک ملتوی کر دیا گیا تھا ۔    بدھ، 13 مئی 2026 کی شام صدر ٹرمپ کا طیارہ بیجنگ کیپٹل انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر اترا جہاں چینی نائب صدر ہان ژینگ، امریکہ میں متعین چینی سفیر ژی فینگ، ایگزیکٹو نائب وزیر خارجہ ما ژاؤکسو، اور چین میں امریکی سفیر ڈیوڈ پرڈیو نے ان کا استقبال کیا ۔ صدر ٹرمپ کے اعزاز میں ایک شاندار عسکری آنر گارڈ اور فوجی بینڈ پیش کیا گیا جس کے بعد ان کا قافلہ سخت سیکیورٹی میں فور سیزنز بیجنگ ہوٹل منتقل ہوا، جبکہ امریکی وفد کے دیگر ارکان کو کیمپنسکی ہوٹل بیجنگ یانشا سینٹر میں ٹھہرایا گیا ۔ اگلے روز، یعنی جمعرات 14 مئی 2026 کی صبح، صدر ٹرمپ باقاعدہ دوطرفہ مذاکرات کیلئے عظیم عوامی ہال پہنچے جہاں چینی صدر شی جن پنگ نے ان کا والہانہ استقبال کیا ۔ مذاکرات کے بعد دونوں رہنماؤں نے بیجنگ کے تاریخی معبد ٹیمپل آف ہیون کا دورہ کیا، جس کے بعد وہ 1975 میں جیرالڈ فورڈ کے بعد اس معبد کا دورہ کرنے والے دوسرے برسرِاقتدار امریکی صدر بن گئے ۔ اسی روز شام کو صدر شی نے عظیم عوامی ہال کے سنہری کمرے میں صدر ٹرمپ کے اعزاز میں ایک پُرآسائش سرکاری ضیافت کا اہتمام کیا، جس میں بیجنگ روسٹ ڈک اور روایتی چینی پکوان پیش کئے گئے اور اسی دوران صدر ٹرمپ نے چینی صدر کو 24 ستمبر 2026 کو امریکہ کے جوابی سرکاری دورے کی باقاعدہ دعوت پیش کی ۔ دورے کے آخری روز، یعنی جمعہ 15 مئی 2026 کو، صدر شی نے صدر ٹرمپ کی میزبانی ژونگ نان ہائی کے باغیچے میں چائے کی دعوت پر کی ۔ یہ غیر معمولی دعوت نامہ دراصل 2017 میں مار-اے-لاگو میں چینی صدر کی میزبانی کے جواب میں تھا، جہاں دونوں رہنماؤں نے باغات کی سیر کی اور ایک تفصیلی ورکنگ لنچ کے بعد صدر ٹرمپ ائیر فورس ون کے ذریعے واپس روانہ ہو گئے ۔    اس تاریخی دورے کا ایک بڑا مرکز دونوں ممالک کے مابین تجارتی جنگ کو عارضی طور پر روکنا اور معاشی مفادات کو متوازن کرنا تھا، جس کیلئے فریقین نے کئی اہم شعبوں میں تجارتی معاہدوں کی تفصیلات کو زیر بحث لایا ۔ معاشی معاہدوں میں سب سے بڑی اور اہم پیش رفت ہوابازی کے شعبے میں امریکی کمپنی بوئنگ (Boeing) کیلئے دیکھی گئی، جہاں صدر ٹرمپ کے مطابق چین نے ابتدائی طور پر کم از کم 200 مسافر بردار طیاروں کی خریداری کا عزم ظاہر کیا ہے، جسے مستقبل میں مزید بڑھا کر 750 طیاروں تک لے جایا جا سکتا ہے ۔ اگرچہ اس آرڈر کے حتمی مینوفیکچرنگ اور فراہمی کی تاریخوں پر چینی انتظامیہ نے تاحال کوئی باضابطہ رسید یا تفصیلی دستاویز جاری نہیں کی، لیکن بوئنگ نے اس تزویراتی عزم کو چینی مارکیٹ کے دوبارہ کھلنے کے حوالے سے ایک بڑی کاروباری فتح قرار دیا ہے ۔ زراعت کے شعبے میں، امریکی تجارتی نمائندے جیمی سن گریر کے مطابق، چین نے آئندہ تین سالوں کیلئے سالانہ بنیادوں پر دہرے ہندسے (double-digit) یعنی دسیوں ارب ڈالر مالیت کے امریکی سویا بین اور دیگر زرعی مصنوعات خریدنے کی یقین دہانی کروائی ہے ۔ اس کے علاوہ معاشی سفارت کاری کے تحت چین نے امریکی گائے کے گوشت (beef) پر عائد دیرینہ درآمدی پابندی عارضی طور پر اٹھانے کا فیصلہ کیا، اگرچہ دورے کے اختتام پر چینی کسٹمز حکام نے تیکنیکی وجوہات کا حوالہ دیتے ہوئے اس درآمدی اجازت کے دائرہ کار کو دوبارہ محدود کر دیا ۔ معاشی مذاکرات میں امریکی خام تیل اور توانائی کے دیگر شعبوں سے درآمدات کی ممکنہ چینی خریداری پر بھی سنجیدہ بات چیت ہوئی ۔    ان تمام معاشی سرگرمیوں اور تجارتی بہاؤ کو مستقل بنیادوں پر منظم کرنے کیلئے دونوں ممالک نے دو اہم وفاقی ادارے قائم کرنے پر باقاعدہ اتفاق کیا، جنہیں بورڈ آف ٹریڈ (Board of Trade) اور بورڈ آف انویسٹمنٹ (Board of Investment) کا نام دیا گیا ہے ۔ ان میں سے بورڈ آف ٹریڈ کا بنیادی کام دونوں ممالک کے مابین غیر حساس اشیاء کی درآمد و برآمد پر یکطرفہ ٹیرف اور تجارتی مسائل کو براہ راست حکومتی سطح پر حل کرنا ہوگا، جبکہ بورڈ آف انویسٹمنٹ ایک مستقل سرکاری فورم کے طور پر دونوں معیشتوں کے مابین سرمایہ کاری کے مسائل اور مارکیٹ تک رسائی کی سہولیات کا جائزہ لے گا ۔ چینی وزیر خارجہ وانگ ای نے تصدیق کی کہ دونوں ممالک کی ورکنگ ٹیمیں ان دونوں بورڈز کی باقاعدہ ساخت اور دوطرفہ ٹیرف میں متوازن کٹوتی کے فریم ورک کے تحت باہمی تجارتی حجم کو بڑھانے کیلئے متعلقہ تفصیلات پر اب بھی مسلسل مذاکرات کر رہی ہیں ۔ دفاعی محاذ پر دونوں ممالک کے مابین کسی بڑے عسکری معاہدے پر دستخط نہیں ہوئے کیونکہ چین نے اپنے بڑھتے ہوئے جوہری ذخائر اور جدید ترین میزائل پروگرام کو کسی بھی قسم کے بین الاقوامی کنٹرول کے دائرے میں لانے یا اس پر بحث کرنے سے صاف انکار کر دیا ۔ تاہم، دونوں رہنماؤں نے مصنوعی ذہانت کے عسکری استعمال، بالخصوص جوہری ہتھیاروں کے فائرنگ کنٹرول سسٹمز کو مکمل طور پر خودکار بنانے سے روکنے پر اتفاق کیا، اور تزویراتی غلط فہمیوں سے بچنے کیلئے واشنگٹن اور بیجنگ کے مابین ایک مخصوص AI ہاٹ لائن قائم کرنے کی تجویز پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا ۔    ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ دورہ مشرق وسطیٰ کے ایک بڑے بحران کے سائے میں انجام پایا کیونکہ فروری 2026 کے آخر میں امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر مشترکہ فضائی حملوں کے بعد شروع ہونے والی جنگ نے عالمی معیشت اور توانائی کے راستوں کو ہلا کر رکھ دیا تھا ۔ اس ہولناک تنازعے کو روکنے کے لیے پاکستان نے انتہائی فعال اور جرات مندانہ سفارتی کردار ادا کیا اور 8 اپریل 2026 کو پاکستان کی ثالثی کے نتیجے میں دونوں فریقین ایک عارضی جنگ بندی پر متفق ہوئے تھے ۔ اسی سلسلے میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے 11 اور 12 اپریل کو اسلام آباد کا دورہ کیا تھا جہاں انہوں نے ایرانی سفارت کاروں کے ساتھ براہ راست غیر رسمی بات چیت کا آغاز کیا ۔ تاہم، یہ امن عمل انتہائی نازک موڑ پر تھا کیونکہ ایران نے امریکی مطالبات کو مسترد کرتے ہوئے امریکہ سے جنگی نقصانات کا معاوضہ اور آبنائے ہرمز پر اپنی غیر مشروط خودمختاری کا مطالبہ کیا تھا، جسے صدر ٹرمپ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر "مکمل طور پر ناقابلِ قبول" قرار دے کر مسترد کر دیا تھا ۔ چین کے لیے آبنائے ہرمز کا بحران معاشی بقا کا مسئلہ ہے کیونکہ چین اپنی ضرورت کا تقریباً 40 فیصد خام تیل اسی بحری راستے سے درآمد کرتا ہے، اس لیے بیجنگ مذاکرات کے دوران صدر ٹرمپ نے تہران پر چین کے گہرے اقتصادی اثر و رسوخ کو استعمال کرنے کی ضرورت پر زور دیا ۔ چین نے تہران کو پرامن حل کے لیے قائل کرنے پر آمادگی ظاہر کی لیکن اس کے بدلے میں واشنگٹن سے یہ ضمانت طلب کی کہ وہ چینی بینکوں اور مالیاتی اداروں پر عائد کی جانے والی ثانوی امریکی پابندیاں منجمد کر دے، جس کے باعث یہ سربراہی ملاقات عسکری کارروائیوں کو روکنے اور سفارتی راستے کھلے رکھنے کیلئے ایک اہم سدِ راہ ثابت ہوئی ۔    پاکستان اس جیو پولیٹیکل منظرنامے میں ایک اہم فریق کے طور پر ابھرا ہے، جہاں اس کی جغرافیائی حیثیت اور تزویراتی سفارت کاری نے اسے عالمی توجہ کا مرکز بنا دیا ہے ۔ سفارتی سطح پر پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار کسی امریکی صدر نے عوامی سطح پر پاکستان کی عسکری اور سیاسی قیادت کا اس حد تک اعتراف کیا ہے، جہاں چین سے واپسی پر ائیر فورس ون پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے واضح الفاظ میں کہا کہ امریکہ نے ایران کے ساتھ جنگ بندی بنیادی طور پر پاکستان کی درخواست اور اس پر ایک احسان کے طور پر قبول کی ہے ۔ صدر ٹرمپ نے پاکستان کے عسکری سربراہ فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیر اعظم شہباز شریف کی تعریف کرتے ہوئے انہیں "شاندار لوگ" قرار دیا، جس نے عالمی سطح پر پاکستان کے سفارتی قد کاٹھ میں بے پناہ اضافہ کیا ۔ مزید برآں، چین اور پاکستان نے 31 مارچ 2026 کو مشترکہ طور پر جو پانچ نکاتی امن اقدام پیش کیا تھا، اسے عالمی برادری اور بالخصوص گلوبل ساؤتھ کے ممالک کی طرف سے ایک معقول اور قابلِ عمل فریم ورک کے طور پر سراہا گیا ہے، جس نے پاکستان کو بیجنگ کے ایک تزویراتی شراکت دار کے طور پر مزید مستحکم کیا اور چین-پاکستان اقتصادی راہداری (CPEC) کے سیکیورٹی ماحول کو بہتر بنانے میں مدد دی ۔ دوسری جانب، پاکستان کیلئے سب بهت بڑا تزویراتی خطرہ اس کی غیر جانبداری پر اٹھنے والے سوالات ہیں، کیونکہ امریکی انٹیلی جنس اور سیٹلائٹ تصاویر کی بنیاد پر واشنگٹن میں یہ شکوک و شبہات پائے جاتے ہیں کہ بحران کے دوران کچھ ایرانی عسکری طیاروں نے پاکستانی فضائی اڈوں پر لاجسٹک پناہ لی تھی ۔ اگرچہ پاکستانی دفتر خارجہ نے ان الزامات کی سختی سے تردید کی ہے، لیکن امریکی انتظامیہ کے اندر یہ تاثر ابھرا ہے کہ پاکستان مشرق وسطیٰ کے بحران میں دوہرا کھیل کھیل رہا ہے ۔ امریکی سیکیورٹی حکام کا یہ بھی ماننا ہے کہ پاکستان ایرانی موقف کو واشنگٹن کے سامنے زیادہ مثبت بنا کر پیش کر رہا ہے جو زمینی حقیقت سے مطابقت نہیں رکھتا، چنانچہ اگر مستقبل میں ایران کے ساتھ مذاکرات دوبارہ ناکام ہوتے ہیں تو واشنگٹن کی جانب سے پاکستان پر دباؤ اور اقتصادی تعزیرات کا خطرہ بڑھ سکتا ہے ۔    صدر ٹرمپ کے دورہ چین اور واشنگٹن-بیجنگ کے مابین پیدا ہونے والے عارضی تناؤ کے خاتمے سے جنوبی ایشیا کے تزویراتی توازن میں نمایاں تبدیلیاں متوقع ہیں، جس نے نئی دہلی کو شدید تشویش میں مبتلا کر دیا ہے ۔ بھارت کی جیو پولیٹیکل اہمیت اب تک اس مفروضے پر قائم تھی کہ امریکہ کو چین کا مقابلہ کرنے کیلئےبھارت کی اشد ضرورت ہے، لیکن اگر امریکہ اور چین کے مابین تعلقات بہتر ہوتے ہیں تو واشنگٹن کیلئے بھارت کو ایک مراعات یافتہ شراکت دار بنائے رکھنے کی اہمیت کم ہو جائے گی اور اس کا سفارتی اثر و رسوخ بھی متاثر ہو سکتا ہے ۔ اس کے علاوہ عالمی سپلائی چین کی منتقلی پر بھی گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، کیونکہ بھارتی معیشت نے حال ہی میں چین پر عائد امریکی ٹیرف سے بچنے کیلئے غیر ملکی سرمایہ کاری حاصل کی تھی، لیکن اگر ان نئے مذاکرات کے نتیجے میں چین پر ٹیرف نرم کر دئے جاتے ہیں، تو سرمایہ کاری دوبارہ چین کا رخ کر سکتی ہے، جو بھارتی مینوفیکچرنگ سیکٹر کیلئے ایک بڑا دھچکا ہو گا ۔ نئی دہلی کو یہ خدشہ بھی ستا رہا ہے کہ واشنگٹن اور بیجنگ کے مابین جیو پولیٹیکل افہام و تفہیم کے نتیجے میں امریکہ پاکستان کے عسکری اور جوہری پروگرام پر وہ سخت گیر دباؤ برقرار نہیں رکھے گا جس کی بھارت کو توقع تھی، خاص طور پر جب پاکستان مشرق وسطیٰ میں امریکی مفادات کے لیے ایک ناگزیر ثالث بن کر ابھرا ہے ۔    بین الاقوامی تعلقات کے ماہرین کا متفقہ فیصلہ ہے کہ اگرچہ اس دورے کی تصاویر اور مصافحے انتہائی مثبت دکھائی دیتے ہیں، لیکن دونوں عالمی طاقتوں کے مابین پائے جانے والے گہرے اسٹرکچرل اختلافات اور غلط فہمیوں کا مستقل ازالہ ممکن نہیں نظر آتا ۔ واشنگٹن کیلئے استحکام کا مطلب ایک ایسا تزویراتی ماحول ہے جہاں چین امریکی قیادت میں قائم عالمی نظام کو چیلنج نہ کرے، جبکہ چین کیلئے اس کا مطلب ایک کثیر الجہتی دنیا کا قیام ہے جہاں امریکی اثر و رسوخ رفتہ رفتہ کم ہو ۔ فروری 2026 میں امریکی سپریم کورٹ کی جانب سے صدر ٹرمپ کے یکطرفہ ٹیرف قوانین کو غیر آئینی قرار دینے کے فیصلے نے ٹرمپ کو اندرونی طور پر معاشی محاذ پر کمزور کر دیا تھا، جس کے باعث وہ بیجنگ سے کسی بھی قیمت پر ایک معاشی فتح حاصل کرنے کیلئے بے چین تھے ۔ چین نے ٹرمپ کی اس کمزوری اور ان کی کاروباری سوچ کو بھانپتے ہوئے انہیں چند چیدہ تجارتی مراعات پیش کر کے وقت حاصل کر لیا ہے، تاکہ وہ اپنی تکنیکی اور عسکری صلاحیتوں کو مزید مستحکم کر سکے ۔ تائیوان کی سلامتی اور امریکی ساختہ جدید سیمی کنڈکٹرز چپس پر برآمدی پابندیاں جیسے بنیادی تنازعات بدستور جوں کے توں موجود ہیں، جو کسی بھی وقت دوبارہ ایک نئی کشیدگی کو جنم دے سکتے ہیں ۔    اگر تاریخی تناظر میں دیکھا جائے تو امریکی صدور کے دورے ہمیشہ عالمی تزویراتی صف بندیوں کو تبدیل کرنے کا باعث بنے ہیں ۔ رچرڈ نکسن نے فروری 1972 میں پہلا تاریخی دورہ کیا جس نے سرد جنگ کا رخ موڑ دیا ۔ اس کے بعد جیرالڈ فورڈ نے 1975 میں معبدِ ٹیمپل آف ہیون کا دورہ کیا ۔ رونالڈ ریگن نے 1984 میں چین کے ساتھ سائنسی اور تجارتی تعاون کے معاہدے کئے ۔ جارج ایچ ڈبلیو بش نے 1989 میں قریبی ذاتی روابط کو فروغ دیا ۔ بل کلنٹن نے 1998 میں نو روزہ طویل ترین ریاستی دورہ کیا ۔ جارج ڈبلیو بش نے ریکارڈ چار مرتبہ دورہ کیا ۔ باراک اوباما نے تین بار دورہ کر کے موسمیاتی تبدیلی پر تاریخی پیرس معاہدے کیلئے مشترکہ عزم حاصل کیا ۔ صدر ٹرمپ نے خود اپنے پہلے دورے کے دوران نومبر 2017 میں بیجنگ کا دورہ کر کے تجارتی خسارے پر سخت بات چیت کی تھی ۔ ان کے بعد اب مئی 2026 کا یہ دورہ تقریباً نو سال کے وقفے کے بعد کسی امریکی صدر کا پہلا دورہ چین تھا، جس نے مشرق وسطیٰ کی جنگ، تجارتی ٹیرف کے عارضی تعطل، اور جیو پولیٹیکل استحکام کے حوالے سے ایک نیا باب کھولا ہے ۔   
صدر ٹرمپ کا دورہ چین اور عالمی جیو پولیٹکس پر اس کے اثرات
بنوں پولیس امن کمیٹی کا قیام، دہشتگردوں کے خلاف ’’آپریشن انتقامِ شہداء‘‘ شروع کرنے کا اعلان بنوں (فرحت اللہ بابر) بنوں میں دہشتگردی کے خلاف ’’آپریشن انتقامِ شہداء‘‘ کے نام سے پولیس امن کمیٹی قائم کر دی گئی۔ اس سلسلے میں بنوں پولیس لائن میں پولیس امن کمیٹی کے اہلکاروں کا ایک گرینڈ اجلاس منعقد ہوا، جس میں بڑی تعداد میں پولیس اہلکاروں نے شرکت کی۔ اجلاس کے دوران مقررین نے دہشتگردی کے خاتمے اور علاقے میں امن کے قیام کیلئے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے امن کمیٹی کے صدر حضرت اللہ نے کہا کہ دہشتگردوں کے خلاف انتقامی کارروائیوں کا آغاز کر دیا گیا ہے اور پولیس کے تمام شہداء کے خون کا حساب لیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ عوام کے جان و مال کا تحفظ پولیس کی اولین ذمہ داری ہے اور پولیس ہر صورت شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنائے گی۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ امن کے قیام کیلئے پولیس کے ساتھ تعاون کریں، کیونکہ عوامی حمایت کے بغیر دہشتگردی کے خلاف جنگ میں کامیابی ممکن نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بنوں کو دوبارہ پرامن ضلع بنانے کیلئے تمام طبقات کو متحد ہونا ہوگا۔ حضرت اللہ نے کہا کہ آئندہ پولیس اہلکار سیکورٹی فورسز کے ساتھ کرفیو ڈیوٹی انجام نہیں دیں گے، اور اگر کسی اہلکار کو اس پر مجبور کیا گیا تو امن کمیٹی اس کا بھرپور جواب دے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ پولیس امن کمیٹی اپنے فیصلے خود کرے گی، تاہم ڈیوٹی میں کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی، جبکہ عوام کے ساتھ ظلم و زیادتی کی بھی اجازت نہیں ہوگی۔ شہری پولیس سے متعلق اپنی شکایات کمیٹی کے سامنے پیش کرسکیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پولیس امن کمیٹی مکمل طور پر غیر سیاسی ہوگی، تاہم بنوں کے مشران، اقوام اور عوام کو اس تحریک میں شامل کیا جائے گا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ جن افراد نے دہشتگردوں کو حجرے یا بیٹھکیں فراہم کر رکھی ہیں، وہ فوری طور پر یہ سہولت واپس لیں، بصورت دیگر انہیں سہولت کار تصور کرتے ہوئے کارروائی کی جائے گی۔ حضرت اللہ نے مزید کہا کہ جن افراد کے رشتہ دار دہشتگرد گروہوں کے ساتھ شامل ہیں، وہ اپنی پوزیشن واضح کریں اور انہیں اس سرگرمی سے باز رکھنے کی کوشش کریں، بصورت دیگر ان سے لاتعلقی اختیار کریں۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسی شخص کے دہشتگردوں سے تعلقات ثابت ہوئے تو اس کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پولیس دہشتگردی کے خلاف جنگ میں بھرپور انداز میں شریک ہوچکی ہے اور جلد علاقے سے دہشتگردوں کا مکمل خاتمہ کر دیا جائے گا۔
بنوں پولیس امن کمیٹی کا قیام، دہشتگردوں کے خلاف ’’آپریشن انتقامِ شہداء‘‘ شروع کرنے کا اعلان
میڈم پنکی، نام ہی کافی ہے: کوکین کوئین کا شاہانہ پروٹوکول اور اشرافیہ کے ’نشیلے‘ گٹھ جوڑ کا پردہ چاک تحریر: ناصر داوڑ پاکستان کے سماجی اور قانونی منظر نامے میں منشیات کی اسمگلنگ نے حالیہ برسوں میں ایک ایسی ہولناک شکل اختیار کر لی ہے جو روایتی جرائم کی حدود سے تجاوز کر کے قومی سلامتی کیلئے خطرہ بن چکی ہے۔ اس بحران کا ایک نمایاں اور خوفناک چہرہ انمول عرف پنکی ہے، جسے میڈیا اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے کوکین کوئین کے لقب سے پکارا ہے ۔ یہ کیس محض ایک مجرمہ کی گرفتاری کا قصہ نہیں ہے، بلکہ یہ پاکستان کے اس تاریک نظام کا عکس ہے جہاں مجرمانہ گروہ، طاقتور اشرافیہ، اور ریاستی اداروں کے بعض عناصر ایک دوسرے کے ساتھ اس طرح پیوست ہیں کہ انصاف کا تصور دھندلا کر رہ گیا ہے۔ انمول پنکی کی زندگی کی کہانی کسی جرم و سزا پر مبنی فلمی اسکرپٹ جیسی ہے، جو یہ واضح کرتی ہے کہ کس طرح سماجی خواہشات اور غلط صحبت انسان کو جرائم کی دنیا کے آخری سرے تک لے جا سکتی ہے۔ 1995 میں کراچی کے علاقے بلوچ پاڑہ میں ایک متوسط گھرانے میں پیدا ہونے والی انمول گلیمر اور فیشن کی دنیا میں نام کمانا چاہتی تھی ۔ چودہ سال کی چھوٹی عمر میں گھر چھوڑنے کے فیصلے نے اسے روایتی تحفظ سے دور کر کے جرائم کے ممکنہ خطرات کے سامنے لا کھڑا کیا۔ اس کی جرائم کی دنیا میں باقاعدہ شمولیت اتفاقیہ نہیں بلکہ انتہائی سٹریٹجک تعلقات کا نتیجہ تھی۔ اس نے پہلے ایک بین الاقوامی وکیل سے شادی کی جو مبینہ طور پر کوکین کی عالمی تجارت سے جڑا ہوا تھا، جہاں سے اس نے بین الاقوامی اسمگلنگ کے رموز سیکھے ۔ بعد ازاں، اس کی ایک سابق پولیس انسپیکٹر رانا اکرام سے وابستگی نے اسے وہ ادارہ جاتی تحفظ فراہم کیا جو کسی بھی منظم مجرمانہ نیٹ ورک کی بقا کے لیے ضروری ہوتا ہے ۔ ان بااثر شوہروں اور اپنے بھائیوں، ناصر اور شوکت کی مدد سے اس نے ایک ایسا نیٹ ورک بنایا جو پنجاب سے کراچی تک پھیلا ہوا تھا ۔ پنکی کا نیٹ ورک روایتی ڈیلرز سے بالکل مختلف تھا کیونکہ اس نے اس میں برانڈنگ اور کوالٹی کنٹرول کا تصور متعارف کرایا۔ وہ موبائل لیبارٹریز چلاتی تھی جہاں کوکین ہائیڈروکلورائڈ اور کیٹامائن جیسے مہلک کیمیکلز کی مدد سے منشیات تیار کی جاتی تھیں ۔ اس کے نیٹ ورک کی طرف سے تیار کردہ کوکین کے مختلف گریڈز مارکیٹ میں دستیاب تھے، جن میں اعلیٰ ترین گولڈن کیٹیگری 13,728 روپے فی گرام کے حساب سے فروخت ہوتی تھی ۔ اس کی مارکیٹنگ کا نعرہ تھا: ملکہ میڈم پنکی - نام ہی کافی ہے، انجوائے کریں ۔ اس کیس کا سب سے چونکا دینے والا پہلو انمول پنکی کی عدالت میں دیدہ دلیری اور اسے ملنے والا شاہانہ پروٹوکول ہے ۔ جب اسے عدالت میں پیش کیا گیا تو وہ بغیر ہتھکڑیوں کے، انتہائی پراعتماد انداز میں اور ایک وی آئی پی کی طرح داخل ہوئی، جس نے ریاستی رٹ کا مذاق اڑا کر رکھ دیا ۔ اس کی یہ بے خوفی ان خفیہ تعلقات کا نتیجہ تھی جو اس نے ڈانس پارٹیوں کے ذریعے بنائے تھے۔ کہا جاتا ہے کہ اس کے گاہکوں میں بڑے سیاستدان، بیوروکریٹس، ان کی بیویاں اور معاشرے کے دیگر انتہائی بااثر افراد اور ان کے بچے شامل تھے ۔ سب سے خوفناک انکشاف یہ ہے کہ وہ مبینہ طور پر اپنے ان بااثر گاہکوں کی منشیات استعمال کرنے کی ویڈیوز بنا کر رکھتی تھی تاکہ انہیں بلیک میل کر سکے، یہی وجہ تھی کہ پولیس اسے بارہ سال تک چھونے سے بھی کتراتی رہی ۔ پاکستان میں ایسے طاقتور لوگوں کی کہانیاں عام ہیں جو سیاستدانوں اور افسران کے ساتھ گہرے تعلقات کی وجہ سے سنگین جرائم کے باوجود آزاد گھوم رہے ہیں۔ انمول پنکی کے کیس کا جب ہم رانا ثناء اللہ جیسے ہائی پروفائل سیاسی مقدمات سے موازنہ کرتے ہیں تو نظام کے تضادات واضح ہو جاتے ہیں۔ رانا ثناء اللہ کو 15 کلو ہیروئن کے الزام میں گرفتار کیا گیا، لیکن 2022 میں وہ بری ہو گئے کیونکہ استغاثہ ٹھوس ثبوت فراہم کرنے میں ناکام رہا ۔ اسی طرح آصف علی زرداری کے خلاف 2018 کا "فیک اکاؤنٹس اسکینڈل" منی لانڈرنگ کے گھناؤنے جرائم کا ایک بڑا ثبوت سمجھا جاتا ہے، جہاں اربوں روپے کی غیر قانونی ترسیلات کیلئے درجنوں بے نامی اکاؤنٹس استعمال کئے گئے ۔ ایک طرف ٹھوس شواہد کے باوجود مجرموں کو عدالتوں میں پروٹوکول ملتا ہے اور دوسری طرف سیاسی اثر و رسوخ کی وجہ سے سنگین مقدمات منطقی انجام تک نہیں پہنچ پاتے۔ تحقیقات کے دوران انمول پنکی کے موبائل فون سے حاصل ہونے والا ڈیٹا اس نیٹ ورک کی وسعت کا منہ بولتا ثبوت ہے، جس میں 835 رابطہ نمبرز ملے ہیں اور ان میں سے 300 نمبرز اس کے ایکٹو کسٹمرز کے بتائے جاتے ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق، ان گاہکوں میں 30 کے قریب سیاستدانوں کے نام سامنے آئے ہیں جنہیں وہ براہِ راست منشیات فراہم کرتی تھی۔ انمول عرف پنکی نے اس دھندے میں ملوث اور گاہکوں میں صرف سیاست دان، بیوروکریٹس یا ان کی بیویاں ہی نہیں فلم انڈسٹری سے تعلق رکھنے والے بھی بڑے بڑے نام اگل دئے ہیں، جن میں معروف اداکار ساجد حسن کے بیٹے کی گرفتاری بھی اس سلسلے کی ایک کڑی قرار دی جا رہی ہے۔ پولیس حکام کا دعویٰ ہے کہ اس گروہ میں غیر ملکی، خاص طور پر افریقی باشندے بھی شامل ہیں جو لاہور میں بیٹھ کر اس نیٹ ورک کو چلا رہے تھے ۔ اگرچہ خوف کے بادلوں میں ابھی بہت سے نام منظر عام پر آنا مشکل ہیں، لیکن شاید وقت کے ساتھ ساتھ مزید حقائق سامنے آ جائیں گے، مگر بدقسمتی سے ہماری عدالتوں کے انتہائی کمزور استغاثے کی وجہ سے ان کی گرفتاری، انہیں منطقی انجام یا عبرت کا نشانہ نہیں بنایا جا سکتا۔
میڈم پنکی، نام ہی کافی ہے: کوکین کوئین کا شاہانہ پروٹوکول اور اشرافیہ کے ’نشیلے‘ گٹھ جوڑ کا پردہ چاک
جب تک میڈیا ورکرز کے جائز مطالبات تسلیم نہیں ہوتے جدوجہد جاری رہے گی، خیبر یونین آف جرنلسٹس پشاور (دی خیبرٹائمز رپورٹنگ ڈیسک) خیبر یونین آف جرنلسٹس نے صوبہ بھر کے تمام صحافیوں، ویڈیو جرنلسٹس، فوٹو جرنلسٹس، میڈیا ورکرز، پریس کلبز کے عہدیداروں اور تمام صحافتی تنظیموں کا بھرپور احتجاجی تحریک میں شرکت، خیبر یونین اف جرنلسٹ ایسوسی ایشن کے سیکرٹری جنرل ارشاد علی نے ایک بیان میں کہا ہے، کہ یکجہتی کے اظہار اور اس جدوجہد کو کامیاب بنانے میں کردار ادا کرنے پر تہہ دل سے شکریہ ادا کیا ہے۔ پشاور سمیت خیبر پختونخوا کے تمام اضلاع میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں میں جس طرح صحافی برادری نے متحد ہو کر شرکت کی، وہ قابلِ تحسین اور حوصلہ افزا ہے، یہ بات اس حقیقت کی غمازی کرتی ہے کہ میڈیا ورکرز اپنے حقوق، تنخواہوں کی بروقت ادائیگی، جبری برطرفیوں کے خاتمے اور معاشی استحصال کے خلاف ایک پلیٹ فارم پر متحد ہیں۔ خیبر یونین آف جرنلسٹس تمام شرکاء، عہدیداران اور صحافتی تنظیموں کی قربانیوں، محنت اور مسلسل جدوجہد کو سراہتی ہے، کیونکہ یہ اتحاد ہی ہماری اصل طاقت ہے، اور اسی اتحاد کی بدولت میڈیا ورکرز کے حقوق کی یہ تحریک مزید مضبوط اور مؤثر ہو رہی ہے۔ یونین نے اس امید کا اظہار کیا کہ صحافی برادری کا یہ اتحاد آئندہ بھی اسی طرح برقرار رہے گا اور جب تک میڈیا ورکرز کے تمام جائز مطالبات تسلیم نہیں کئے جاتے، یہ جدوجہد جاری رہے گی۔
جب تک میڈیا ورکرز کے جائز مطالبات تسلیم نہیں ہوتے جدوجہد جاری رہے گی، خیبر یونین آف جرنلسٹس
بہت ہوچکا، صحافیوں کے استحصال کے خلاف جمعہ سے میدان عمل میں نکلنے کا فیصلہ! ارشادعلی پشاور ( پریس ریلیز کے ایچ یو جے) خیبر یونین آف جرنلسٹس کے زیر اہتمام پشاور پریس کلب میں ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں ملک بھر خصوصا خیبر پختونخوا میں مختلف میڈیا اداروں کی جانب سے کارکن صحافیوں، ویڈیو جرنلسٹس اور دیگر میڈیا ورکرز کی مسلسل برطرفیوں، تنخواہوں کی عدم ادائیگی، جبری استعفوں اور میڈیا ورکرز کے معاشی استحصال پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا۔اجلاس میں خیبر یونین آف جرنلسٹس اور پشاور پریس کلب کے عہدیداروں سمیت پشاور کے سینئر صحافیوں اور میڈیا ورکرز نے شرکت کی جبکہ موجودہ صورتحال کے خلاف متفقہ طور پر صوبہ گیر احتجاجی تحریک شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا، اجلاس میں متفقہ طور پر اعلان کیا گیا کہ جمعہ کے روز سے خیبر پختونخوا بھر میں مختلف میڈیا اداروں کی جانب سے کارکن صحافیوں، ویڈیو جرنلسٹس اور دیگر میڈیا ورکرز کی مسلسل برطرفیوں، تنخواہوں کی عدم ادائیگی، جبری استعفوں اور میڈیا ورکرز کے معاشی استحصال کے خلاف احتجاجی تحریک کا باقاعدہ آغاز کیا جائے گا جس کے تحت احتجاجی مظاہرے، ریلیاں اور دیگر احتجاجی اقدامات شامل ہوں گے ،اجلاس کے شرکاء نے حکومت خیبر پختونخوا سے مطالبہ کیا کہ محکمہ اطلاعات کے سرکاری اشتہارات کو میڈیا اداروں کی جانب سے بے روزگار کیے گئے صحافیوں کی بحالی، بقایا جات کی ادائیگی اور ملازمین کے حقوق کے تحفظ سے مشروط کیا جائے، شرکا نے مطالبہ کیا کہ ایسے میڈیا اداروں کو سرکاری اشتہارات نہ دیے جائیں جو کارکن صحافیوں کو تنخواہوں سے محروم رکھتے ہیں یا انہیں جبری طور پر ملازمتوں سے فارغ کر رہے ہیں۔اجلاس میں صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ جرنلسٹس پروٹیکشن بل کے نفاذ کو یقینی بنایا جائے اور خیبر پختونخوا میں صحافیوں کو تحفظ فراہم کیا جائے۔ شرکا نے پیکا ایکٹ کے تحت صحافیوں کے خلاف درج مقدمات فوری طور پر واپس لینے کا بھی مطالبہ کیا،اجلاس میں وفاقی حکومت اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا گیا کہ آئی ٹی این ای جج کو فوری طور پر خیبر پختونخوا میں تعینات کیا جائے تاکہ صحافیوں اور میڈیا ورکرز کو درپیش قانونی مسائل، میں آسانی ہو ۔ شرکا کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا میں آئی ٹی این ای جج کی عدم تعیناتی کے باعث صحافی برادری کو شدید مشکلات کا سامنا ہے اور متعدد مقدمات تاخیر کا شکار ہو رہے ہیں۔اجلاس میں سینئر صحافی اور پشاور پریس کلب کے سابق نائب صدر عرفان خان سمیت دیگر صحافیوں کو پیکا ایکٹ کے تحت نوٹسز جاری کیے جانے کی شدید مذمت کی گئی اور اسے آزادی صحافت پر حملہ قرار دیا گیا۔ شرکا نے کہا کہ صحافیوں کو ہراساں کرنے کے لیے کالے قوانین کا استعمال ناقابلِ قبول ہے،اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدر خیبر یونین آف جرنلسٹس کاشف الدین سید ،پشاور پریس کلب کے صدر ایم ریاض،پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس ورکرزکے صدر شمیم شاہد اور دیگر نے کہا کہ میڈیا ورکرز کے ساتھ جاری ناانصافیاں ناقابلِ برداشت ہو چکی ہیں اور صحافی برادری اپنے حقوق کے حصول کے لیے ہر سطح پر بھرپور جدوجہد کرے گی۔ مقررین نے اس عزم کا اظہار کیا کہ صحافی برادری اتحاد و اتفاق کے ساتھ اپنی جدوجہد کو آگے بڑھائے گی۔ انہوں نے کہا کہ اب بہت ہو چکا، میڈیا مالکان کے ظلم، استحصال، جبری برطرفیوں اور تنخواہوں کی مسلسل عدم ادائیگی کو مزید برداشت نہیں کیا جائے گا۔ شرکا نے واضح کیا کہ صحافیوں کے حقوق کے تحفظ، باعزت روزگار اور بقایا جات کی ادائیگی کے لیے ہر سطح پر بھرپور اور متحد آواز بلند کی جائے گی۔انہوں نے خبردار کیا کہ اگر صحافیوں کے مسائل فوری طور پر حل نہ کیے گئے تو احتجاجی تحریک کا دائرہ پورے ملک تک وسیع کیا جائے گا۔
بہت ہوچکا، صحافیوں کے استحصال کے خلاف جمعہ سے میدان عمل میں نکلنے کا فیصلہ! ارشادعلی
خیبر پختونخوا میں ریستی رٹ کا چیلینج، عسکری نیٹ ورکس کی بحالی، انتقامی خلا اور مقامی ابادی پر اثرات کا تنقیدی مطالعہ خیبر پختونخوا میں امن و امان کی ابتر صورتحال محض ایک مقامی انتظامی تعطل نہیں ہے، بلکہ یہ ایک وسیع تر علاقائی تزویراتی بحران کا شاخسانہ ہے جس نے ریاست کی رٹ کو ہلا کر رکھ دیا ہے ۔ اگست 2021 میں افغانستان میں طالبان کی دوبارہ آمد کے بعد سے، کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان (TTP) اور دیگر عسکری دھڑوں کی کارروائیوں میں جو غیر معمولی تیزی آئی ہے، اس نے صوبے کے کونے کونے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے ۔ اعداد و شمار کے مطابق، عسکریت پسندوں کے حملوں کی تعداد جو 2021 میں محض 282 تھی، غیر معمولی رفتار سے بڑھتی ہوئی 2024 میں 1,758 سالانہ تک جا پہنچی ہے ۔ یہ خوفناک رجحان ظاہر کرتا ہے کہ عسکریت پسندوں نے نہ صرف جدید ترین امریکی ساختہ نائٹ ویژن اور تھرمل آلات تک رسائی حاصل کر لی ہے، بلکہ وہ سرحد پار محفوظ پناہ گاہوں کا بھرپور فائدہ اٹھا رہے ہیں ۔ اس عسکری پھیلاؤ کے نتیجے میں صوبے میں سیکیورٹی فورسز شدید دباؤ کا شکار ہیں، ریاستی عملداری بری طرح متاثر ہوئی ہے، اور شہری حقوق و عوامی جان و مال کا تحفظ ناممکن ہو کر رہ گیا ہے ۔    صوبائی سیکیورٹی کے اس مجموعی بگاڑ اور ریاستی عملداری کے زوال کا سب سے تشویشناک مظہر صوبے کے جنوبی اضلاع میں دیکھا جا سکتا ہے، جو کبھی عسکریت پسندی سے محفوظ تصور کئے جاتے تھے لیکن اب وہاں عسکریت پسندی کا نیا گڑھ قائم ہو چکا ہے جس نے پولیس کو پسپائی پر مجبور کر دیا ہے ۔ خاص طور پر ضلع کرک میں، جو کبھی پرامن سمجھا جاتا تھا، اب ایک اہم میدانِ جنگ میں تبدیل ہو چکا ہے ۔ پہلی بار شدت پسند تنظیموں نے اس ضلع تک براہِ راست رسائی حاصل کر کے سرکاری عملداری کو بری طرح متاثر کیا ہے اور صورتحال اس حد تک سنگین ہو چکی ہے کہ شام ہونے سے قبل ہی پولیس کو تھانوں اور قلعہ نما چوکیوں تک محدود کر دیا گیا ہے ۔ کرک میں حالیہ دنوں میں سیکیورٹی چیک پوسٹوں پر کواڈ کاپٹر ڈرونز کے ذریعے بمباری کی گئی، اور جب زخمی سیکیورٹی اہلکاروں کو منتقل کرنے کے لئے ایمبولینسیں روانہ ہوئیں تو عسکریت پسندوں نے گھات لگا کر ان پر حملہ کیا، لاشوں کو نذرِ آتش کیا اور گاڑیوں کو پھونک دیا ۔ اس منظم عسکری اجارہ داری نے پولیس فورس کی دن ڈھلنے کے بعد نقل و حرکت کو صفر کر دیا ہے اور مضافاتی و دیہی پٹی پر عسکریت پسندوں کی غیر اعلانیہ حکمرانی قائم ہو چکی ہے ۔    کرک کی اس ابتر صورتحال کے ساتھ ساتھ دیگر جنوبی اضلاع میں بھی قانون نافذ کرنے والے اداروں کی پسپائی اور عسکریت پسندوں کا گہرا نفوذ نمایاں ہے۔ ضلع لکی مروت میں عسکریت پسندوں نے پولیس کا وہ حشر نشر کر دیا ہے کہ اب قانون نافذ کرنے والے ادارے بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں ۔ لکی مروت میں پولیس اسٹیشنوں پر مسلسل ہونے والے راکٹ اور دستی بموں کے حملوں، اور سڑک کنارے نصب بارودی سرنگوں کے ذریعے پولیس افسران کی ہلاکتوں نے فورس کے حوصلے پست کر دئے ہیں ۔ ستمبر 2024 میں، عاجز آ کر لکی مروت کے پولیس اہلکاروں نے اپنی چوکیاں اور ڈیوٹیاں چھوڑیں اور تاجہ زئی کے مقام پر انڈس ہائی وے بلاک کر کے تاریخی دھرنا دیا ۔ ان مظاہرین کا کھلا مطالبہ تھا کہ اگر سیکیورٹی فورس کو جدید ہتھیار اور جنگی اختیارات دئے جائیں تو وہ عسکریت پسندی کا خاتمہ کر سکتے ہیں، لیکن ریاستی حکام انہیں بے یار و مددگار چھوڑ چکے ہیں ۔ اسی طرح ضلع بنوں، ٹانک اور ڈیرہ اسماعیل خان میں بھی عسکریت پسندوں نے نہ صرف سرکاری عملداری کو شدید متاثر کیا ہے، بلکہ یہاں کے عوام کا جینا بھی محال ہو گیا ہے ۔ ڈیرہ اسماعیل خان اور ٹانک میں روزانہ کی بنیاد پر بینک کی کیش گاڑیوں کی لوٹ مار، تاجروں کا اغوا برائے تاوان اور بنوں میں مئی 2026 میں ایک چیک پوسٹ پر گاڑی کے ذریعے کئے گئے خودکش دھماکے میں 15 پولیس اہلکاروں کی شہادت نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ پورا جنوبی ریجن عسکریت پسندوں کے چنگل میں آ چکا ہے ۔    جنوبی اضلاع کی اس سیکیورٹی دلدل کا موازنہ اگر قبائلی اضلاع کی موجودہ صورتحال سے کیا جائے تو یہ واضح ہوتا ہے کہ مئی 2018 میں وفاق کے زیرِ انتظام قبائلی علاقوں (FATA) کا خیبر پختونخوا کے ساتھ الحاق اس تزویراتی وعدے کے باوجود ناکام رہا کہ اس سے یہاں کی محرومیوں کا خاتمہ ہوگا، ترقیاتی خوشحالی آئے گی اور امن کا بول بالا ہوگا ۔ انضمام کے آٹھ سال بعد بھی ریاستی دعووں کی دھجیاں اڑائی گئی ہیں ۔ نہ تو ان قبائلی اضلاع کی تاریخی محرومیوں کا ازالہ کیا گیا، بلکہ اس کے برعکس یہ خطہ پہلے سے بھی کہیں زیادہ شدید بدامنی کا شکار ہو چکا ہے ۔ ریاستی ڈھانچے کی منتقلی اتنی ناقص اور عجلت پسندانہ تھی کہ نوآبادیاتی دور کے قانون (FCR) کے خاتمے کے بعد پیدا ہونے والے سیکیورٹی اور انتظامی خلا کو پورا نہیں کیا جا سکا ۔ اس سنگین سیکیورٹی بحران کا سب سے ہولناک سماجی اثر یہ نکلا ہے کہ کوئی بھی طاقت اور مالی حیثیت رکھنے والا قبائلی شخص عسکریت پسندوں کے ڈر اور معاشی زوال کی وجہ سے قبائلی اضلاع سے نکل کر پشاور ، اسلام آباد یا ملک کے دیگر شہروں میں منتقل ہونا چاہتا ہے ۔ اس کے برعکس، جس غریب شخص کے پاس ہجرت کرنے کی طاقت اور وسائل نہ ہوں، وہ ان جنگ زدہ اضلاع میں عملاً یرغمال بنے اپنے تلخ ترین دن گزارنے پر مجبور ہے ۔    قبائلی اضلاع کے اس سماجی و سیکیورٹی خلا کے معاشی اثرات پورے صوبے کی کاروباری برادری اور عام شہریوں پر بھی بھتہ خوری کی شکل میں مرتب ہو رہے ہیں۔ خیبر پختونخوا میں بدامنی کا سب سے سنگین مالی مظہر بھتہ خوری (Bhatta) کا وہ منظم جال ہے جس نے اب باقاعدہ ایک متوازی متحرک ٹیکسیشن کی شکل اختیار کر لی ہے اور عسکریت پسندوں کی بقا و فنانسنگ کا ایک بڑا حصہ اسی بھتے سے حاصل ہوتا ہے ۔ صوبے میں بھتہ خوری اس وقت اپنے عروج پر پہنچ چکی ہے جہاں عسکریت پسند گروہ اب نہ صرف بڑے سرمایہ داروں اور صنعت کاروں کو واٹس ایپ کالز اور ٹی ٹی پی کے لیٹر ہیڈز پر دھمکیاں دے کر لاکھوں ڈالر وصول کر رہے ہیں بلکہ انتہائی غریب طبقہ بھی اس عذاب سے محفوظ نہیں ہے ۔ حالت یہ ہے کہ سڑک کنارے ریڑھیاں لگانے والے غریب ریڑھی فروش بھی شدت پسند تنظیموں کو باقاعدہ بھتے کی وصولی کر کے ہی پیاز، آلو اور ٹماٹر بیچنے پر مجبور ہیں ۔ انکار کی صورت میں ان کی ریڑھیوں کو نذرِ آتش کر دیا جاتا ہے یا ان پر فائرنگ کی جاتی ہے ۔ صوبائی حکومت کی جانب سے احساس ریڑھی بان روزگار تحفظ بل 2025 کا مسودہ تیار کرنا اس معاشی المئے کا سب سے بڑا ثبوت ہے، جس کا بنیادی مقصد 140,000 سے زائد غریب دکانداروں کو اس منظم بھتہ خور مافیا کے چنگل سے بچانا ہے ۔    مذکورہ معاشی نچوڑ کی جڑیں عسکریت پسندی کی مالیاتی فنڈنگ کے منظم نیٹ ورکس سے جڑی ہوئی ہیں۔ عسکریت پسندوں کے ان فنڈنگ نیٹ ورکس کے بنیادی اہداف میں بڑے صنعت کار اور سرمایہ دار شامل ہیں جنہیں واٹس ایپ پیغامات، غیر ملکی نمبرز اور براہ راست اغوا برائے تاوان کے خطرات کا سامنا کرنا پڑتا ہے جس سے صنعتیں بند ہو رہی ہیں اور سرمایہ بیرون ملک منتقل ہو رہا ہے ۔ ان کی اس فنڈنگ کا ایک بڑا حصہ کابل، خوست اور لغمان میں بنے حوالہ اور ہنڈی کے نیٹ ورکس کے ذریعے منظم کیا جاتا ہے ۔ مزید برآں، عسکریت پسند سرکاری اور نجی ٹھیکیداروں سے ترقیاتی اور تعمیراتی منصوبوں پر 5% سے 15% تک جبری ٹیکسیشن کی شکل میں بھتہ لیتے ہیں، جس کی وجہ سے انفراسٹرکچر کے اہم منصوبے اور سی پیک فیز 2.0 کے کام معطل ہو رہے ہیں ۔ اس کام کو منظم کرنے میں شمالی و جنوبی وزیرستان کے عسکری کمانڈرز براہِ راست ملوث ہیں ۔ اس کے علاوہ، شدت پسندوں کو چرس اور افیون کی فصلوں پر 20% سے 30% تک کا براہ راست شیئر دے کر منشیات کے ڈیلرز اور اسمگلر بھی بھتہ دیتے ہیں، جس سے غیر قانونی معیشت کو فروغ ملتا ہے اور یہ کالا دھن عسکریت پسندی کی فنڈنگ کے کام آتا ہے ۔ اس غیر قانونی منشیات ٹیکسیشن کو تحریک طالبان پاکستان اور وادی تیراہ میں متحرک لشکرِ اسلام جیسی تنظیمیں باقاعدہ فنڈنگ کے ذریعے کے طور پر استعمال کرتی ہیں ۔ اس کے ساتھ ساتھ، انتہائی نچلے درجے پر غریب ریڑھی فروشوں اور دکانداروں سے ہفتہ وار یا ماہانہ بنیادوں پر مائیکرو بھتہ خوری کی جاتی ہے جہاں مقامی فعال عسکری سیل اور غنڈہ مافیا کا گٹھ جوڑ غریب خاندانوں کا معاشی استحصال کرتا ہے ۔    ریاستی سطح پر ان معاشی اور مالی نیٹ ورکس کو توڑنے کے لیے دہائیوں پر محیط بدامنی کو ختم کرنے کے نام پر سیکیورٹی اداروں کی جانب سے اب تک متعدد عسکری آپریشنز (مثلاً سوات آپریشن، ضربِ عضب، رد الفساد اور حالیہ آپریشن عزم استحکام) کئے جا چکے ہیں، لیکن یہاں مستقل امن کا قیام ایک خواب بن کر رہ گیا ہے ۔ اس ناکامی کے برعکس، حکومت نے ڈیجیٹل میڈیا کے متعدد نیٹ ورکس بنا کر یہاں ترقی، بحالی اور خوشحالی کے ایسے قصیدے گھڑے ہیں جو تھکنے کا نام نہیں لیتے، جبکہ زمینی حقائق اس کے بالکل برعکس ہے ۔ قبائلی اور جنوبی اضلاع میں وہی پرانی محرومی، وہی خوفناک بدامنی، بلکہ اب تو یہ کہا جاتا ہے کہ عسکریت پسندی کی موجودہ لہر 2014 سے قبل کی بدامنی سے بھی زیادہ ہولناک اور سنگین شکل اختیار کر چکی ہے ۔ اس تضاد کو چھپانے کے لئے ریاستی سطح پر ایک غیر اعلانیہ سنسرشپ لاگو ہے، جس کی وجہ سے پاکستانی قومی میڈیا پر بھی خیبر پختونخوا کی اس ابتر بدامنی، روزانہ کی ہلاکتوں، اور قبائلی اضلاع کی گہری سیکیورٹی و سماجی محرومی کو بالکل رپورٹ نہیں کیا جا رہا، جس کے باعث یہاں کا عام شہری خود کو ملک سے کٹا ہوا محسوس کرتا ہے ۔    اس میڈیا بلیک آؤٹ کے پسِ پردہ عسکریت پسندوں کا تنظیمی ڈھانچہ جس تیزی سے مضبوط ہوا ہے، وہ ایک تزویراتی حقیقت ہے۔ مثال کے طور پر، سال 2014 میں شروع کئے گئے آپریشن ضربِ عضب کے دوران عسکریت پسندوں کا جو تنظیمی نیٹ ورک عارضی طور پر توڑ دیا گیا تھا، عسکری منصوبہ بندی میں تزویراتی خامیوں کے باعث وہ نیٹ ورک اب نہ صرف دوبارہ جوڑ دیا گیا ہے، بلکہ پہلے سے بھی زیادہ طاقتور اور فعال ہو کر سامنے آیا ہے ۔ اس نیٹ ورک کے جڑنے کی اصل وجہ یہ تھی کہ ضربِ عضب کے دوران عسکریت پسند بھاگ کر افغانستان چلے گئے تھے ۔ 2021 میں امریکی افواج کے انخلا اور افغان طالبان کی کابل آمد کے بعد، ان جنگجوؤں کو محفوظ پناہ گاہیں ملیں، جہاں سے انہوں نے سرحد پار نقل و حرکت تیز کی اور جدید امریکی ہتھیاروں کی اسمگلنگ کے ذریعے پاکستان کے سرحدی اور جنوبی اضلاع میں اپنے نیٹ ورکس کو دوبارہ سے بحال اور فعال کر دیا ۔    عسکریت پسندوں کی اس دوبارہ تنظیمِ نو میں ان کی تنظیمی مضبوطی اور نت نئے تزویراتی اتحادوں کا کلیدی کردار ہے ۔ گزشتہ چند سالوں میں عسکریت پسندوں کے کئی منتشر اور الگ ہو جانے والے دھڑوں کو دوبارہ تحریکِ طالبان پاکستان (TTP) کے مرکزی ڈھانچے میں جوڑ دیا گیا ہے ۔ عسکری امور کے ماہرین کے مطابق، ٹی ٹی پی کا موجودہ امیر مفتی نور ولی محسود بکھری ہوئی شدت پسند تنظیموں اور دھڑوں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کرنے کا غیر معمولی ماہر مانا جاتا ہے، جس نے سخت نظم و ضبط قائم کر کے عسکریت پسندوں کی فیلڈ آپریشنل صلاحیت کو مضبوط کیا ہے ۔ اس عسکری ارتقاء کا سب سے خطرناک پہلو شمالی وزیرستان کے روایتی حافظ گل بہادر گروپ (HGBG) کا دن بہ دن مضبوط ہونا ہے، جو حکومتِ پاکستان کے لئے ایک بڑا دردِ سر بنتا جا رہا ہے ۔ اب اس گروپ نے اپنا باقاعدہ تنظیمی نام بدل کر اتحاد المجاہدین پاکستان (IMP) رکھ لیا ہے اور اس مہلک عسکری اتحاد میں ٹی ٹی پی حکیم اللہ محسود گروپ، لشکرِ اسلام گروپ اور حرکت الانقلابِ اسلامی پاکستان جیسے دھڑے شامل ہو چکے ہیں ۔    شدت پسندوں کے ان نیٹ ورکس کی تفصیلی اندرونی دھڑے بندیوں کا جائزہ لیا جائے تو ان کے عزائم اور اثرات واضح ہوتے ہیں۔ کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان (TTP) مفتی نور ولی محسود کی کلیدی قیادت میں تقریباً 80 سے زائد چھوٹے مقامی عسکری سیلز (ڈالگئی) کے اتحاد کی شکل میں متحرک ہے ۔ یہ تنظیم بنیادی طور پر جنوبی و مغربی اضلاع، سوات اور وزیرستان کے علاقوں میں سرگرم ہے اور منظم گوریلا حملوں، سیکیورٹی فورسز کی ٹارگٹ کلنگ اور بھتہ خوری کے ذریعے اثر و رسوخ بڑھاتی ہے ۔ دوسری جانب، اتحاد المجاہدین پاکستان (IMP) کا نیا اتحاد حافظ گل بہادر، لشکرِ اسلام اور حرکت الانقلابِ اسلامی کی شراکت داری سے شمالی وزیرستان، بنوں، خیبر اور وادی تیراہ میں فعال ہے ۔ یہ گروہ فوجی چھاؤنیوں پر بارود سے بھری گاڑیوں کے خودکش حملوں اور نائٹ ویژن اسنائپنگ میں مہارت رکھتا ہے ۔ ان کے ساتھ ساتھ، ٹی ٹی پی سے منحرف ہونے والا متشدد گروپ ٹی ٹی پی جماعت الاحرار (JuA) پشاور، مہمند، باجوڑ اور نوشہرہ پٹی پر سرگرم ہے، جو اگرچہ ٹی ٹی پی کے ساتھ نظریاتی الحاق رکھتا ہے مگر آزاد فیلڈ آپریشنز کے تحت شہری علاقوں میں دستی بموں کے حملے اور ٹارگٹ کلنگز کرتا ہے، جس کے باعث عام شہری روز بہ روز شدید غیر یقینی اور خوف و ہراس کی صورتحال سے دوچار ہیں ۔    اس مسلسل اور منظم بدامنی کے براہِ راست اور مہلک معاشی اثرات صوبے کے غریب عوام اور کاروباری طبقے پر مرتب ہو رہے ہیں، جس کی وجہ سے غربت اور بے روزگاری میں ہوشربا اضافہ ہوتا جا رہا ہے ۔ صوبائی دارالحکومت پشاور میں واقع حیات آباد انڈسٹریل اسٹیٹ (HIE)، جو کبھی صوبے کی معاشی ریڑھ کی ہڈی تصور کی جاتی تھی، اب عملاً کھنڈر بننے جا رہی ہے کیونکہ وہاں درجنوں صنعتیں اور فیکٹریاں تیزی سے بند ہو رہی ہیں ۔ فیکٹری مالکان اور چیمبر آف کامرس کے نمائندے اس صنعتی بندش کی دو بڑی اور بنیادی وجوہات بیان کر رہے ہیں۔ پہلی وجہ بدامنی اور بھتہ خوری ہے جس کے تحت حیات آباد کے فیکٹری مالکان کو عسکریت پسندوں کی جانب سے واٹس ایپ پر کروڑوں روپے کے بھتے کے پیغامات مل رہے ہیں اور انکار کرنے والوں کے گھروں اور فیکٹریوں کو دستی بموں سے اڑا دیا جاتا ہے ۔ اس خوف کی وجہ سے سینکڑوں مینوفیکچررز اپنا تمام سرمایہ لے کر بیرونِ ملک یا پنجاب منتقل ہو چکے ہیں ۔ دوسری بڑی وجہ بجلی کے ناقابلِ برداشت بلز اور گیس کنکشنز پر پابندی ہے، جس کی وجہ سے اب کارخانہ دار فیکٹریاں چلانے کی مالی سکت ہی نہیں رکھتے، جس کی وجہ سے روزانہ کارخانے بند ہو رہے ہیں اور مزدور بیروزگار ہو رہے ہیں ۔ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ سمال انڈسٹریز ڈویلپمنٹ بورڈ (SIDB) کے تحت 55 فیصد اور سرحد ڈویلپمنٹ اتھارٹی (SDA) کے زیرِ انتظام 64 فیصد کارخانے اب مکمل طور پر بند ہو چکے ہیں ۔    خیبر پختونخوا کے بگڑتے ہوئے سلامتی کے حالات کا براہِ راست تعلق پاکستان اور افغان امارتِ اسلامی کے مابین بڑھتے ہوئے تزویراتی اور سرحدی تنازعات سے ہے ۔ فروری 2026 میں دونوں ممالک کے درمیان بھڑک اٹھنے والی باقاعدہ سرحدی جنگ، جس میں فضائی حملے اور ڈرون حملے شامل تھے، نے دونوں پڑوسیوں کے تعلقات کو بدترین نہج پر پہنچا دیا ہے ۔ چین، جس نے پاکستان میں سی پیک منصوبوں پر 65 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کر رکھی ہے، ان حملوں اور سیکیورٹی بحران سے شدید تشویش کا شکار ہے ۔ اس جیو پولیٹیکل تعطل میں سب سے تشویشناک تزویراتی موڑ اس وقت آیا جب امارتِ اسلامی افغانستان نے چین کو ایک اہم اجلاس میں مطلع کیا کہ کابل کی یہ کوشش ہے کہ وہ پاکستانی طالبان کی مرکزی قیادت اور ان کے تمام عسکری دھڑوں کو زبردستی افغان سرزمین سے نکال کر واپس پاکستان کی سرحد کے اندر دھکیل دے رہے ہیں ۔ افغان طالبان یہ اقدام اس لئے کر رہے ہیں تاکہ ان پر دہشت گردوں کی پشت پناہی کے لگنے والے عالمی الزامات اور سفارتی بلیک میلنگ کا راستہ مکمل طور پر روکا جا سکے ۔ اس تزویراتی فیصلے کے تحت، سنکیانگ کے ایغور علیحدگی پسندوں کا مہلک گروہ ای ٹی آئی ایم یا رکستان اسلامک پارٹی (ETIM/TIP) بھی مجبوراً افغانستان سے نکل کر پاکستان کے قبائلی اضلاع کا رخ کرے گا ۔ سینکڑوں اور ہزاروں کی تعداد میں انتہائی تربیت یافتہ جنگجوؤں کی قبائلی اضلاع کی طرف یہ زبردستی منتقلی خیبر پختونخوا میں سیکیورٹی کی صورتحال کو ایک ایسی دلدل میں دھکیلنے والی ہے جہاں سے نکلنا شاید ریاست کے بس میں نہ رہے، اور یہ خدشہ روز بہ روز حقیقت بنتا جا رہا ہے کہ امن و امان کی یہ بدترین صورتحال ناقابلِ تلافی حد تک مزید خراب ہو جائے گی ۔
خیبر پختونخوا میں ریاستی رٹ کا چیلینج، عسکری نیٹ ورکس کی بحالی، انتقامی خلا اور مقامی ابادی پر اثرات کا تنقیدی مطالعہ

زیادہ پڑھی گئی

پشتون تحفظ مؤومنٹ کے اہم رہنما شہاب خٹک کے بھائی ڈاکٹر نعیم الدین خٹک کو نامعلوم افراد نے پشاور کے بھرے بازار میں گولی مارکر شہید کردیا
شمالی وزیرستان کو کس کی نظر لگ گئی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ احسان داوڑ
کیا لڑانے والے کامیاب نہیں ہوئے ؟؟؟ خصوصی تحریر: رسول داوڑ
شمالی وزیرستان ،رمضان المبارک کا چاندنظرآگیا
بول کہ لب آزاد ہیں تیرے…. تحریر رفعت انجم
پشاورکوروناکےنشانےپرکیوں؟؟؟ تحریر: فدا عدیل

ویکسین وار۔۔۔۔! تحریر: شیراز پراچہ

جون 15, 2020June 15, 2020

دو روز قبل ادویات بنانے والی امریکہ کی ایک معروف کمپنی نے اعلان کیا ہے کہ وہ جولائی کے مہینہ میں کرونا وائرس کی ویکسین کا تیسرا اور حتمی ٹرائل کر رہی ہے۔ جس میں تیس ہزار رضاکار حصہ لیں مزید پڑھیں

جہالت اور لاعلمی کی دیواریں۔۔۔۔! تحریر : شیراز پراچہ

جون 15, 2020June 15, 2020

آج سے دو ھفتے پہلے تک ۔مجھے خوش فہمی تھی کہ میں ایک ایسا لکھاری ھوں جو دوسروں کو دلیل کے زریعے قائل یا متاثر کر سکتا ھے، مجھے یہ بھی زعم تھا کہ میں ایک کامیاب استاد اور مبلغ مزید پڑھیں

Tommy میرا کتا تو کتا مگر تیرا کتا تحریر: ابراہیم خان

جون 4, 2020June 5, 2020

ابراہیم خان عنوان دیکھ تو ایسا لگتا ہے کہ ذکر کتوں کا ہوگا لیکن در حقیقت یہ ذکر ہے کورونا کے ستائے پشاورکےصحافیوں کا ہے جن کے ساتھ صوبے کی حکومت کتوں والا نہ سہی توبھیڑ بکریوں کا سا سلوک مزید پڑھیں

ہمیں کرونا میں بھی نمبرون بننا ہے اے وسیم خٹک

جون 4, 2020June 4, 2020

شکر الحمداللہ ۔اللہ کےفضل و برکت سے ہم ایک لاکھ کورونا وائرس کے مریضوں سے بس تھوڑے سے مریضوں کے فرق سے پیچھے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ ہم یہ ہدف اس ہفتے کے اختتام تک پورا کرلیں گے مزید پڑھیں

کورونا، صحافی، عمران ایاز کے میسج اور شہید صحافت. عمرانیات: عمران یوسفزئی

جون 1, 2020June 1, 2020

اللہ جانے اللہ نے کس گناہ کی پاداش میں ہم پر ایک ایسی وبا نازل کی ہے جس نے تین سے چار ماہ کے دوران دنیا بھر میں صحت کے نظام کی دھجیاں بکھیر کر رکھ دی ہیں، کیسز اور مزید پڑھیں

مزید لاپرواہی کا نتیجہ موت کا رقص … شیراز پراچہ

مئی 31, 2020May 31, 2020

صرف ڈاکٹرز یا متعلقہ ماہرین صحت ہی جانتے ھیں کہ کورونا وائرس( COVID-19) کس قدر خطرناک ھے اگر یہ مرض انتہائی خطرناک نہ ھوتا تو پاکستان سمیت دنیا بھر میں ڈاکٹرز ، نرسز، اور ھسپتالوں کا عملہ نہ مرتے- صرف مزید پڑھیں

سول ملٹری بیوروکریسی کا جہیز! سید فخر کاکاخیل

مئی 31, 2020May 31, 2020

کسی زمانے میں یا شاید اب بھی شادی کی دھوم دھام اور خرچے میں ڈاکٹر یا انجنئیر ہونے کا بڑا عمل دخل ہوتا ہے۔ سرکار کے رشتہ میں بھی لگ بھگ ایسے ہی معاملات طےہوتے ہیں لیکن جہیز لینے کا مزید پڑھیں

پرائیویٹ اسکول بے لاگام _ _ _ والدین پریشان تحریر: شہزاد خٹک

مئی 31, 2020May 31, 2020

جب سے بنی نوع انسان نے دنیا میں قدم رکھا ہے تب سے لے کر آج تک انسان کی یہ فطرت ثانیہ ہے کہ وہ نئی نئی چیزوں کے بارے میں جانے انہیں دریافت کرے۔ علم کے اسی ارتقاءکی بناء مزید پڑھیں

نسل پرستی .. تحریر: جاوید مصطفی

مئی 31, 2020May 31, 2020

ہم کالا جادو، کالا بھیڑ، بلیک لسٹ، کالی بلی اور ایسے کئی الفاظ تخلیق کر چکے ہیں جن سے یہ صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ہم نے سیاہ رنگ کو بری نظر سے دیکھا ہے اور اس کے مقابلے میں مزید پڑھیں

حاجی صاحب ترنگزئی کا جہادی رخ۔ تحریر: شمس مومند

مئی 31, 2020May 31, 2020

          شمس مومند انگریزوں کے ساتھ مہمند قوم کی معرکہ آرائیوں کی تاریخ کم و بیش ایک سو سال پر محیط ہے۔ حالانکہ یہ انگریزوں کے اقتدار کا وہ سنہرا دورتھا جب مثل مشہور تھی کہ مزید پڑھیں

  • →
  • 1
  • 2
  • 3
  • …
  • 12
  • 13
  • 14
  • 15
  • 16
  • 17
  • 18
  • 19
  • ←

Copyright © 2019-2020, THE KHYBER TIMES All Rights Reserved | Powered by Kifayatullah MOMAND