تحریر: ناصر داوڑ
خیبر پختونخوا میں آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت ایمرجنسی اور گورنر راج کا نفاذ محض ایک عارضی انتظامی قدم نہیں، بلکہ ایک ایسا سٹریٹیجک اقدام نظر آتا ہے جس نے اصولی طور پر نہ صرف صوبے کو انتظامی طور پر تقسیم کر دیا ہے بلکہ ماضی کے قبائلی علاقوں (فاٹا) کی پرانی حیثیت کو ایک نئی اور وسیع تر ہیئت میں بحال کر دیا ہے۔ اس بار فرق یہ ہے کہ سابق فاٹا کے 8 اضلاع اور فرنٹیئر ریجنز کے ساتھ ساتھ مزید 4 ملحقہ اضلاع بنوں، لکی مروت، ٹانک اور ڈیرہ اسماعیل خان کو بھی اس نئے انتظامی ڈھانچے کے دائرہ کار میں شامل کر کے اس کا حجم مزید بڑھا دیا گیا ہے۔
حکومت نے قبائلیوں کی جانب سے ممکنہ قانونی یا آئینی اعتراضات کا راستہ روکنے کیلئے ایک 48 رکنی “ایریا ریپریزنٹیٹو اینڈ ڈیولپمنٹ کونسل” (ARDC) یعنی علاقائی نمائندہ و ترقیاتی کونسل تو تشکیل دے دی ہے، تاہم اس کونسل کی ہیئتِ ترکیبی، پسِ پردہ اہداف اور انتظامی اختیارات پر سنگین سوالات جنم لے رہے ہیں۔
12 اضلاع کا نیا انتظامی ڈھانچہ اور ایڈمنسٹریٹر کے لامحدود اختیارات
پشاور کے سینئر صحافی لحاظ علی نے اپنے ایک وی لاگ میں اس نئے انتظامی سیٹ اپ کا پردہ چاک کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ان 12 اضلاع کے تمام تر اختیارات صوبائی حکومت سے لے کر وفاق کو سونپ دئے گئے ہیں، جس میں ایڈیشنل چیف سیکرٹری (ACS) ان 12 اضلاع کا ایڈمنسٹریٹر ہوگا، جسے وزیراعلیٰ اور صوبائی کابینہ کے برابر اختیارات حاصل ہوں گے۔
ایڈمنسٹریٹر ان 12 اضلاع کے مالی، سیکیورٹی اور انتظامی امور میں مکمل طور پر خودمختار ہوگا اور وہ براہِ راست وزیراعظم سے مشاورت یا انہیں احکامات اور مسودے بھیجنے کا مجاز ہوگا۔
11 اکتوبر 2026 کو گورنر راج کے نفاذ کے بعد وفاق کی جانب سے جاری کردہ آرڈر نمبر 2 کے تحت ان 12 اضلاع پر آئین کے چیپٹر 3، آرٹیکل 175 اور خیبر پختونخوا کے گورنمنٹ رولز آف بزنس 1985 کا اطلاق معطل کر دیا گیا ہے۔ تمام اختیارات ایک ہی فرد یعنی ایڈمنسٹریٹر کے پاس مرکوز کر دئے گئے ہیں۔ ان اضلاع کیلئے پشاور میں ایک الگ ایریا ڈیولپمنٹ سیکرٹریٹ قائم کیا جائیگا، جس میں 5 انتظامی سیکرٹریز اور 3 ایڈوائزرز (ایڈوائزر برائے سیکیورٹی، ایڈوائزر برائے اطلاعات، اور لیگل ایڈوائزر) تعینات ہوں گے۔
تمام اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز اس سیکرٹریٹ کے تحت کام کریں گے، جبکہ 48 رکنی کونسل کے اراکین کی حیثیت صوبائی اسمبلی کے ممبران کے برابر رکھی گئی ہے۔ اگرچہ ان علاقوں میں سول کورٹس فعال رہیں گی، لیکن ملازمین کے تبادلوں اور تمام انتظامی امور کا حتمی اختیار صرف ایڈمنسٹریٹر (ACS) کے پاس ہوگا۔
کونسل کی ساخت، سیاسی تحفظات اور افغان طالبان سے روابط
پشاور کے سینئر صحافی اور سیاسی تجزیہ کار شمیم شاہد نے اپنے ایک حالیہ تجزئے میں اس کونسل کی تشکیل پر گہرے خدشات کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس 48 رکنی کونسل میں شامل بیشتر افراد وہ ہیں جنہوں نے ملک میں جاری شدت پسندی اور دہشتگردی کے خلاف کبھی آواز بلند نہیں کی۔ اس کونسل میں ایسے عناصر کو بھی شامل کیا گیا ہے جو 2018 میں فاٹا کے خیبر پختونخوا میں انضمام کے شدید مخالف اور پرانے نظام کے حامی رہے ہیں۔
شمیم شاہد کا ماننا ہے کہ گورنر خیبر پختونخوا کا کردار اس پوری ترتیب میں محض ایک “ڈاکخانے” (Post Office) جیسا رہ گیا ہے، جس کا کام راولپنڈی اور اسلام آباد سے تیار شدہ ڈرافٹ موصول کر کے ان پر دستخط کرنا اور انہیں واپس بھیجنا ہے۔
کونسل کے کردار کو مزید متنازع بنانے والی بات یہ ہے کہ تحریک انصاف کی سابقہ حکومت کے دوران جب جنرل فیض حمید کور کمانڈر پشاور تھے، اس وقت کالعدم تنظیموں سے مذاکرات کیلئے افغانستان بھیجے گئے وفود میں اسی کونسل کے متعدد ممبران شامل تھے۔ مبصرین کے مطابق ان افراد کے کالعدم تحریک طالبان پاکستان (TTP) اور دیگر شدت پسند گروپوں کے ساتھ نزدیک روابط رہے ہیں، یہی وجہ ہے کہ عوام میں اس کونسل کی قبولیت نہ ہونے کے برابر ہے اور اسے “غیر منتخب شخصیات کا ٹولہ” قرار دیا جا رہا ہے۔
کابل مذاکرات کی خواہش اور اسٹیبلشمنٹ کا گٹھ جوڑ
کونسل کی ترجیحات کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ حال ہی میں اس کے وفد نے گورنر ہاؤس پشاور میں وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کی، جہاں انہوں نے نہ صرف صوبے میں گورنر راج جیسے متنازع اقدام پر انہیں مبارکباد پیش کی بلکہ یہ دعویٰ بھی کیا کہ اس اقدام نے صوبے کو ایک بڑی تباہی سے بچا لیا ہے۔
اس کے ساتھ ہی کونسل نے درخواست کی ہے کہ انہیں مکمل انتظامی اختیارات تفویض کئے جائیں اور کونسل کے ایک وفد کو ایک ہفتے کیلئے کابل (افغانستان) بھیجنے کے انتظامات کئے جائیں، تاکہ وہ افغان امارتِ اسلامیہ اور کالعدم ٹی ٹی پی سے براہِ راست مذاکرات کر کے پاکستان میں جاری بدامنی اور دونوں ممالک کے درمیان سرحدی کشیدگی کا خاتمہ ممکن بنا سکیں۔
قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ جب ماضی میں یہی شخصیات افغانستان میں مذاکرات کیلئے گئی تھیں، تو وفد کے سربراہ اور خیبر پختونخوا کے سابق مشیرِ اطلاعات بیرسٹر محمد علی سیف نے انکشاف کیا تھا کہ افغان حکام اور وہاں موجود دیگر تنظیموں نے سابقہ قبائلی اضلاع کو صوبہ خیبر پختونخوا سے الگ کر کے پرانا انتظامی و قانونی نظام بحال کرنے پر زور دیا تھا۔ آج پشاور اور اسلام آباد کے سیاسی و انتظامی فیصلے بظاہر اسی ایجنڈے کی پیش رفت معلوم ہوتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ کونسل ایک بار پھر افغانستان میں مقیم گروپوں کے ساتھ مذاکراتی عمل کی بحالی پر زور دے رہی ہے۔
نوٹیفکیشن اور بیوروکریسی کو MPO کے تحت لامحدود اختیارات
انتظامی سطح پر ان 12 اضلاع کو صوبائی انتظامی سیٹ اپ سے الگ تھلگ کرنے کے بعد، حکومتِ خیبر پختونخوا کے محکمہ داخلہ و قبائلی امور نے ایک نیا نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا ہے، جو صوبائی خودمختاری کی معطلی کا واضح ثبوت ہے۔ نوٹیفیکیشن کے مطابق آئین کے آرٹیکل 232 اور 234 کی روشنی میں گورنر راج کے تحت مینٹیننس آف پبلک آرڈر (MPO) آرڈیننس 1960 کے سیکشن 26 کا سہارا لیتے ہوئے تمام اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز (DCs) کو خصوصی اختیارات تفویض کر دئے گئے ہیں۔ تمام ڈپٹی کمشنرز کو شہریوں کی نظر بندی، گرفتاری اور احکامات پر عمل درآمد کے براہِ راست اختیارات دے دئے گئے ہیں۔ ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (DPO) کی جانب سے امن و امان کے نام پر فراہم کردہ کسی بھی رپورٹ پر متعلقہ ڈپٹی کمشنر MPO کے تحت فوری طور پر کارروائی اور گرفتاری کا پابند ہوگا۔
یہ حکم نامہ صوبے بھر میں فوراً نافذ العمل کر دیا گیا ہے، جس کے تحت بیوروکریسی اور سیکیورٹی اداروں کو لامحدود اور یکطرفہ اختیارات حاصل ہو گئے ہیں۔
معدنی وسائل، عالمی نظریں اور کھربوں کے ذخائر
خیبر پختونخوا اور بالخصوص سابق فاٹا و ملحقہ اضلاع کو انتظامی طور پر الگ تھلگ کرنے کے اس پورے کھیل کے پیچھے جہاں سیاسی و سیکیورٹی مقاصد ہیں، وہاں اس خطے کے اربوں بلکہ کربوں ڈالر مالیت کے معدنیات اور نایاب قدرتی وسائل سب سے بڑا محرک بن کر سامنے آئے ہیں۔
حال ہی میں گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے اپنے ایک بیان میں اعتراف کیا تھا کہ “معدنیات نکالنے کیلئے ہی ہوتے ہیں، اور حکومت وہی تو کر رہی ہے۔”
سیاسی و معاشی مبصرین کے مطابق، ان اضلاع کے غیر معمولی معدنی ذخائر پر عالمی طاقتوں بالخصوص امریکی حکام کی نظریں جمی ہوئی ہیں، جو کسی بھی قیمت پر یہاں موجود قیمتی دھاتوں اور سٹریٹیجک معدنیات تک رسائی حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ بعض سینئر تجزیہ کاروں کا خدشہ ہے کہ موجودہ سیاسی و آئینی گٹھ جوڑ اور کونسل کی تشکیل کا ایک بڑا مقصد عالمی سطح پر ان وسائل کے ٹھیکے اور لائسنس دینے کا راستہ ہموار کرنا ہو سکتا ہے۔
اگرچہ اس وقت بھی خطے میں قیمتی دھاتوں اور معدنیات کی بے دریغ اور غیر شفاف لوٹ مار جاری ہے، لیکن ماہرینِ معیشت کا کہنا ہے کہ اگر پاکستان کے ان معدنی ذخائر کو سائنسی، شفاف اور سنجیدہ بنیادوں پر نکالا جائے تو نہ صرف پاکستان پر موجود تمام تر ملکی و غیر ملکی قرضوں کا مکمل خاتمہ ممکن ہے، بلکہ پاکستان دنیا کے امیر ترین اور معاشی طور پر خودکفیل ممالک کی صف میں کھڑا ہو سکتا ہے، اور ملک کو آئی ایم ایف (IMF)، ورلڈ بینک یا دیگر عالمی مالیاتی اداروں کے سامنے کشکول لے کر کھڑا ہونے کی ضرورت نہیں رہے گی۔
خیبر پختونخوا کو آئینی ایمرجنسی، 48 رکنی غیر منتخب کونسل، اور بیوروکریسی کو MPO کے لامتناہی اختیارات کے ذریعے چلانے کا یہ نیا تجربہ نہ صرف صوبائی خودمختاری کے لیے ایک شدید دھچکا ہے بلکہ عوامی اعتماد کو بھی مکمل طور پر مجروح کر رہا ہے۔ اگر اس تمام تر تحرک کا مقصد محض وسائل پر قبضہ اور نمائشی مذاکرات ہیں، تو اس سے خطے میں پائیدار امن قائم ہونے کے بجائے گہری ناامیدی، عوامی بے چینی اور مزید عدم استحکام جنم لے گا۔
اس کی ویڈیو رپورٹ یہاں ملاحظہ کرسکتے ہیں:
خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی؟ ایک فرد کے تحت 12 اضلاع، معدنی وسائل کا مستقبل اور نئے تنازعات!
یہ بھی ملاحظہ کیجئے: سونے کی کان پر بیٹھے بھکاری: قرض ملا ہے، ڈھول بجاؤ
Summary
Executive Summary: KP Constitutional Crisis, FATA Restructuring & Strategic Mineral Wealth
* De Facto Partition & FATA Restoration: The imposition of Emergency and Governor’s Rule under Articles 232 and 234 in Khyber Pakhtunkhwa (KP) represents a strategic administrative shift. It effectively partitions KP by restoring the former FATA structure and expanding it to include four adjacent districts Bannu, Lakki Marwat, Tank, and Dera Ismail Khan.
* Centralization under the Administrator (ACS): According to journalist Lihaz Ali, full administrative, financial, and security powers over these 12 districts have been transferred from the provincial government to the federal level. An Additional Chief Secretary (ACS) will act as Administrator with power equivalent to a Chief Minister and Cabinet, operating through a dedicated Area Development Secretariat in Peshawar. Orders No. 2 issued after Governor’s Rule suspend Chapter 3, Article 175, and KP Government Rules of Business 1985 for these districts.
* The 48-Member Advisory Council (ARDC) & TTP Links: To counter tribal opposition, a 48-member Area Representative and Development Council was formed. Senior analyst Shamim Shahid notes the council largely comprises individuals who opposed the 2018 FATA merger and have historically refrained from condemning terrorism. Former KP Information Advisor Barrister Mohammad Ali Saif previously revealed that during talks in Kabul, Afghan officials and militant groups pushed for reversing the FATA merger an agenda this council appears to be advancing by requesting direct talks with the Afghan Taliban.
* Draconian MPO Powers: Under a notification from KP’s Home and Tribal Affairs Department, Deputy Commissioners (DCs) across all districts have been empowered with extensive detention and enforcement authority under Section 26 of the Maintenance of Public Order (MPO) Ordinance 1960, acting directly on reports from District Police Officers (DPOs).
* Exploitation of $7 Trillion Mineral Reserves: The underlying driver of this administrative division appears to be KP’s vast critical minerals and rare earth elements. While Governor Faisal Karim Kundi publicly defended state extraction of minerals, analysts express concern over non-transparent foreign (U.S.) exploitation. Proper, transparent utilization of these resources could potentially pay off Pakistan’s national debt and end reliance on IMF loans.
About the Author
Nasir Dawar is a journalist, researcher and Editor of The Khyber Times, with extensive experience covering militancy, conflict, security and political developments in Khyber Pakhtunkhwa, the former FATA and Afghanistan. His research focuses particularly on militant movements, regional security, Afghanistan and Pakistan-Afghanistan relations.
Contact: dawarjan@gmail.com




