تحریر: دی خیبر ٹائمز ڈیسک
خیبر پختونخوا میں آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت ایمرجنسی اور گورنر راج کا نفاذ محض ایک انتظامی قدم نہیں، بلکہ ایک ایسا سٹریٹیجک اقدام نظر آتا ہے جس نے اصولی طور پر نہ صرف صوبے کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا ہے بلکہ ماضی کے قبائلی علاقوں (فاٹا) کی پرانی حیثیت کو ایک نئی اور وسیع تر ہیئت میں بحال کر دیا ہے۔ اس بار فرق یہ ہے کہ سابق فاٹا کے 7+1 اضلاع کے ساتھ مزید 4 ملحقہ اضلاع بنوں، لکی مروت، ٹانک اور ڈیرہ اسماعیل خان کو بھی اس نئے انتظامی ڈھانچے کے دائرہ کار میں شامل کر کے اس کا حجم مزید بڑھا دیا گیا ہے۔
حکومت نے قبائلیوں کی جانب سے ممکنہ قانونی یا آئینی اعتراضات کا راستہ روکنے کیلئے ایک 48 رکنی “Area Representative and Development Council” (ARDC) یعنی علاقائی نمائندہ و ترقیاتی کونسل تو تشکیل دے دی ہے، تاہم اس کونسل کی ہیئتِ ترکیبی، پسِ پردہ اہداف اور انتظامی اختیارات پر سنگین سوالات جنم لے رہے ہیں۔
پشاور کے سینئر صحافی اور سیاسی تجزیہ کار شمیم شاہد نے اپنے ایک حالیہ تجزئے و وی لاگ میں اس کونسل پر گہرے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اس 48 رکنی کونسل میں شامل بیشتر افراد وہ ہیں جنہوں نے ملک میں جاری دہشتگردی اور شدت پسندی کے خلاف کبھی ایک لفظ بھی نہیں بولا۔ یہی نہیں بلکہ کونسل میں ایسے عناصر کو نمائندگی دی گئی ہے جو 2018 میں فاٹا کے صوبہ خیبر پختونخوا میں انضمام کے شدید مخالف اور پرانے نظام کے حامی رہے ہیں۔
شمیم شاہد کے مطابق، گورنر خیبر پختونخوا کا کردار اس پوری ترتیب میں محض ایک “ڈاکخانے” (Post Office) جیسا نظر آتا ہے، جس کا کام راولپنڈی اور اسلام آباد سے تیار شدہ ڈرافٹ اور مسودے موصول کر کے ان پر دستخط کرنا اور انہیں واپس بھیجنا ہے۔
کونسل کے کردار کو مزید متنازع بنانے والی بات یہ ہے کہ تحریک انصاف کی سابقہ حکومت میں جب جنرل فیض حمید کور کمانڈر پشاور تھے، اس وقت طالبان اور دیگر شدت پسند تنظیموں سے مذاکرات کے لیے افغانستان بھیجے گئے وفود میں اسی کونسل کے متعدد ممبران شامل تھے۔ مبصرین کا خیال ہے کہ ان افراد کے کالعدم تحریک طالبان پاکستان (TTP) اور دیگر شدت پسند گروپوں کے ساتھ انتہائی نزدیک سے روابط رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کونسل کی عوامی قبولیت صفر کے برابر ہے اور اسے “چھتری سے اتارے گئے” ان شخصیات کا ٹولہ قرار دیا جا رہا ہے جنہیں کسی عوامی انتخاب یا حمایت کا حاصل نہیں ہے۔
کونسل کی ترجیحات کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ حال ہی میں گورنر ہاؤس پشاور میں وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کی، جس میں انہوں نے نہ صرف صوبے میں گورنر راج جیسے متنازع اقدام پر انہیں مبارکباد پیش کی بلکہ دعویٰ کیا کہ اس اقدام نے صوبے کو ایک بڑی تباہی سے بچا لیا ہے۔
اس کے ساتھ ہی کونسل نے درخواست کی ہے کہ انہیں مکمل انتظامی اختیارات تفویض کئے جائیں اور کونسل کے ایک وفد کو ایک ہفتے کیلئے کابل (افغانستان) بھیجا جائے تاکہ وہ افغان طالبان کی امارتِ اسلامیہ اور ٹی ٹی پی سے براہِ راست مذاکرات کر کے پاکستان میں جاری بدامنی اور دونوں ممالک کے درمیان سرحدی کشیدگی کا خاتمہ کر سکیں۔
قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ جب ماضی میں یہی شخصیات افغانستان میں طالبان کے ساتھ مذاکرات کیلئے گئی تھیں، تو افغان امارتِ اسلامیہ اور وہاں موجود شدت پسند تنظیموں نے سابقہ قبائلی اضلاع کو صوبہ خیبر پختونخوا سے الگ کر کے پرانا انتظامی اور قانونی نظام بحال کرنے پر زور دیا تھا۔ آج جو کچھ پشاور اور اسلام آباد میں ہو رہا ہے، وہ اسی ایجنڈے کی تکمیل کی ایک واضح شکل نظر آتی ہے۔
نوٹیفکیشن اور بیوروکریسی کو MPO کے تحت لامحدود اختیارات
انتظامی سطح پر خیبر پختونخوا کے ان 12 اضلاع کو عملی طور پر صوبائی سیٹ اپ سے الگ تھلگ کر دیا گیا ہے۔ صوبائی خودمختاری کی معطلی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ حکومتِ خیبر پختونخوا کے محکمہ داخلہ و قبائلی امور نے ایک نیا نوٹیفکیشن جاری کیا ہے۔
نوٹیفکیشن کے اہم ترین نکات درج ذیل ہیں:
آئین کے آرٹیکل 232 اور 234 کی روشنی میں: گورنر راج کے تحت ویسٹ پاکستان مینٹیننس آف پبلک آرڈر (MPO) آرڈیننس 1960 کے سیکشن 26 کا سہارا لیتے ہوئے تمام اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز (DCs) کو خصوصی اختیارات تفویض کر دئے گئے ہیں۔
گرفتاری اور نافذ کرنے کے اختیارات: تمام ڈپٹی کمشنرز کو شہریوں کی نظر بندی، گرفتاری اور احکامات پر عمل درآمد کے براہِ راست اختیارات دئے گئے ہیں۔
پولیس رپورٹس پر فوری ایکشن: ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (DPO) کی جانب سے امن و امان کے نام پر فراہم کردہ کسی بھی رپورٹ پر متعلقہ ڈپٹی کمشنر MPO کے تحت فوری طور پر کارروائی اور گرفتاری کا پابند ہوگا۔
فوری نفاذ: یہ حکم نامہ صوبے بھر میں فوری طور پر نافذ العمل کر دیا گیا ہے، جس کے تحت بیوروکریسی اور سیکیورٹی اداروں کو لامحدود اور یکطرفہ اختیارات حاصل ہو گئے ہیں۔
معدنی وسائل، عالمی نظریں اور کھربوں کے ذخائر
خیبر پختونخوا اور بالخصوص سابق فاٹا اور ملحقہ اضلاع کو انتظامی طور پر الگ تھلگ کرنے کے اس پورے کھیل کے پیچھے جہاں سیاسی و سیکیورٹی مقاصد ہیں، وہاں اس خطے کے اربوں ڈالر مالیت کے معدنیات اور نایاب قدرتی وسائل (Critical Minerals & Rare Earth Elements) سب سے بڑا محرک بن کر سامنے آئے ہیں۔
حال ہی میں گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے ایک بیان میں اعتراف کیا تھا کہ “معدنیات نکالنے کیلئے ہی ہوتے ہیں، اور حکومت وہی تو کر رہی ہے۔”
سیاسی و معاشی مبصرین کے مطابق، ان اضلاع کے غیر معمولی معدنی ذخائر پر امریکی حکام اور عالمی طاقتوں کی نظریں جمی ہوئی ہیں، جو کسی بھی قیمت پر یہاں موجود قیمتی دھاتوں اور سٹریٹیجک معدنیات تک رسائی حاصل کرنا چاہتی ہیں۔ بعض سینیئر تجزیہ کاروں کا خدشہ ہے کہ موجودہ سیاسی و آئینی گٹھ جوڑ اور کونسل کی تشکیل کا ایک بڑا مقصد عالمی سطح پر ان وسائل کے ٹھیکے اور لائسنس دینے کا راستہ ہموار کرنا ہو سکتا ہے۔
اگرچہ اس وقت بھی خطے میں قیمتی دھاتوں اور معدنیات کی بے دریغ اور غیر شفاف لوٹ مار جاری ہے، لیکن ماہرینِ معیشت کا کہنا ہے کہ اگر پاکستان کے ان معدنی ذخائر کو سائنسی، شفاف اور سنجیدہ بنیادوں پر نکالا جائے، تو نہ صرف پاکستان پر موجود تمام تر غیر ملکی اور ملکی قرضوں کا مکمل خاتمہ ممکن ہے، بلکہ پاکستان دنیا کے امیر ترین اور معاشی طور پر خودکفیل ممالک کی صف میں کھڑا ہو سکتا ہے، اور ملک کو آئی ایم ایف (IMF)، ورلڈ بینک یا دیگر عالمی مالیا تی اداروں کے سامنے کشکول لے کر کھڑا ہونے کی ضرورت نہیں رہے گی۔
خیبر پختونخوا کو آئینی ایمرجنسی، 48 رکنی غیر منتخب کونسل، اور بیوروکریسی کو MPO کے لامتناہی اختیارات کے ذریعے چلانے کا یہ نیا تجربہ نہ صرف صوبائی خودمختاری کیلئے ایک شدید دھچکا ہے بلکہ عوامی اعتماد کو مکمل طور پر مجروح کر رہا ہے۔ اگر مقصد محض وسائل پر قبضہ اور نمائشی مذاکرات ہیں تو اس سے خطے میں پائیدار امن قائم ہونے کے بجائے گہری ناامیدی اور عدم استحکام جنم لے گا۔
یہ بھی ملاحظہ کیجئے: فاٹا انضمام یا پرانے نظام کی طرف واپسی؟ خیبرپختونخوا میں گورنر راج، نئی کونسل اور معدنی وسائل پر سوالات
Executive Summary: Constitutional Crisis, FATA Restructuring & KP’s Mineral Wealth
-
De Facto Partition & FATA Restoration: Following the imposition of Emergency and Governor’s Rule under Articles 232 and 234, Khyber Pakhtunkhwa (KP) faces a de facto division. The former FATA structure has been effectively restored and expanded to include four additional adjoining districts, creating a broader non-provincial administrative zone.
-
The 48-Member Advisory Council (ARDC): To preempt tribal opposition, a 48-member Area Representative and Development Council was established. However, political analyst Shamim Shahid notes that the council primarily comprises individuals who opposed the 2018 FATA merger and have historically refrained from condemning terrorism. Criticisms highlight that the Governor’s office acts merely as a “post office” for orders drafted in Islamabad and Rawalpindi.
-
Proximity to Militant Groups & Afghan Talks: Several council members previously participated in talks with militant groups in Kabul under former Corp Commander Lt Gen Faiz Hamid. The council’s leadership has urged PM Shehbaz Sharif to empower them for direct talks with the Afghan Taliban to resolve cross-border tensions—aligning with demands made earlier by Islamic Emirate officials to segregate former tribal areas from KP.
-
Draconian Administrative Measures (MPO Powers): Under a recent notification from KP’s Home and Tribal Affairs Department, Deputy Commissioners (DCs) across all districts have been granted extraordinary detention and enforcement powers under Section 26 of the Maintenance of Public Order (MPO) Ordinance 1960, acting directly on police (DPO) reports.
-
Exploitation of Critical Minerals & Global Interests: The central focus of this political restructuring appears to be KP’s massive critical mineral and rare earth reserves (valued at over $7 trillion). While Governor Faisal Karim Kundi publicly defended mining operations, analysts raise concerns over non-transparent resource extraction and potential foreign (U.S.) interest. Proper, transparent utilization of these resources could eliminate Pakistan’s debt burden and dependence on IMF loans.
About the Author
Nasir Dawar is a journalist, researcher and Editor of The Khyber Times, with extensive experience covering militancy, conflict, security and political developments in Khyber Pakhtunkhwa, the former FATA and Afghanistan. His research focuses particularly on militant movements, regional security, Afghanistan and Pakistan-Afghanistan relations.
Contact: dawarjan@gmail.com




