دی خیبر ٹائمز: خصوصی رپورٹ
پشاور: خیبرپختونخوا میں تحریک انصاف کے گزشتہ دورِ حکومت کے دوران مساجد کو شمسی توانائی پر منتقل کرنے کے اربوں روپے کے منصوبے میں شدید بے ضابطگیوں کا انکشاف ہوا ہے۔ حاصل شدہ سرکاری دستاویزات کے مطابق، منصوبے کیلئے طے شدہ سرکاری مالی تخمینوں کو پسِ پشت ڈال کر من پسند ریٹس کی منظوری دی گئی، جس کے نتیجے میں سرکاری خزانے کو نصف ارب روپے (50 کروڑ) سے زائد کا اضافی چونا لگا۔
اس اہم پروجیکٹ میں نہ صرف کاغذی کارروائی میں قانونی قواعد کی خلاف ورزی کی گئی بلکہ ابتدائی مرحلے میں نااہل قرار دی گئی کمپنیوں کو بھی پراسرار طور پر دوبارہ شاملِ ٹینڈر کر کے ٹھیکے دئے گئے۔
دستاویزات کے مطابق پی ٹی آئی حکومت کے دور میں صوبے کی 2 ہزار 490 مساجد کو سولرائز کرنے کیلئے مجموعی طور پر 7 مختلف پیکیجز بنائے گئے تھے۔ قواعد کے مطابق کسی بھی سرکاری ٹھیکے کی منظوری کے لیے محکمے کا طے کردہ انجینئرنگ تخمینہ بنياد بنتا ہے، لیکن اس منصوبے کے تمام ساتوں پیکیجز میں کام کا ٹھیکہ لینے والی کمپنیوں کی بولیاں سرکاری تخمینے سے 7.98 فیصد سے لے کر 10.99 فیصد تک زائد ثابت ہوئیں۔
سرکاری ملازمین اور ٹھیکیداروں کے اس باہمی گٹھ جوڑ اور زائد ریٹس کی منظوری کے باعث قومی خزانے کو 50 کروڑ روپے سے زیادہ کا براہِ راست اضافی نقصان اٹھانا پڑا۔
شفافیت کے زبانی دعووں کی قلعی اس وقت کھلتی ہے جب پری کوالیفکیشن (ابتدائی فنی چھان بین) کے مرحلے پر نظر ڈالی جائے۔ دستاویزات سے پتہ چلتا ہے کہ ابتدائی جانچ پڑتال کے دوران جن دو کمپنیوں کو تکنیکی بنیادوں پر نااہل اور ناکام قرار دے کر باہر کر دیا گیا تھا، انہوں نے محض ایک رسمی شکایت درج کرائی۔ اس شکایت کے فوراً بعد تمام قواعد و ضوابط کو بالائے طاق رکھتے ہوئے انہیں نہ صرف دوبارہ ٹینڈرنگ کے عمل میں گھسیٹ کر لایا گیا بلکہ بولی میں شامل ہونے کا موقع بھی فراہم کیا گیا۔
منصوبے کے اخراجات کے تعین میں بھی شدید گڑبڑ سامنے آئی ہے۔ نیشنل ریڈیو اینڈ ٹیلی کمیونیکیشن کارپوریشن (NRTC) کے پہلے سے جاری اسی نوعیت کے ایک پروجیکٹ کے ریٹس اور موجودہ پروجیکٹ کے سرکاری تخمینے کا جب موازنہ کیا گیا تو معلوم ہوا کہ اس نئے منصوبے میں فی سولر یونٹ لاگت کو تقریباً 1 لاکھ 56 ہزار روپے زائد رکھا گیا۔ اتنے بڑے پیمانے پر فی یونٹ لاگت کا غیر معمولی فرق مالی بدعنوانی کی طرف واضح اشارہ کر رہا ہے۔
تحقیقاتی دستاویزات کا سب سے چوکا دینے والا پہلو این آر ٹی سی (NRTC) کے سابقہ معاہدے میں تاخیر کا معاملہ ہے۔ این آر ٹی سی نے مقررہ وقت پر کام مکمل نہیں کیا، جس پر معاہدے کی رو سے ادارے پر 58 کروڑ 60 لاکھ روپے کا بھاری جرمانہ عائد ہونا بنتا تھا۔ تاہم، خلاف ورزی پر نوٹس لینے اور جرمانہ وصول کرنے کے بجائے حیران کن طور پر ادارے کو مکمل معافی دی گئی اور یہی نہیں بلکہ اسی ادارے کو 41 کروڑ 91 لاکھ روپے کی لاگت سے مزید 500 مساجد کی سولرائزیشن کا نیا ٹھیکہ بھی تھما دیا گیا۔
دوسری جانب، معاملے پر پختونخوا انرجی ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن (PEDO) کے حکام نے تمام الزامات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے موقف اپنایا ہے کہ منصوبے میں کے پی پی آر اے (KPPRA) کے تمام قوانین اور شفافیت کا پورا خیال رکھا گیا ہے۔
پیڈو ترجمان کا کہنا ہے، کہ تمام کمپنیوں کی بولیوں کی جانچ کا عمل قانونی طریقہ کار کے تحت مکمل ہوا اور کسی بھی فرم کو ناجائز فائدے سے نہیں نوازا گیا۔ معاہدے میں تاخیر کی بنیادی وجہ ادارہ جاتی غفلت نہیں بلکہ صوبے کو درپیش شدید مالیاتی بحران اور فنڈز کی عدم دستیابی تھی۔ پیڈو حکام کے مطابق صوبے بھر میں مجموعی طور پر 7 ہزار 500 مساجد کو شمسی توانائی پر منتقل کرنے کا ہدف مقرر ہے جس پر مرحلہ وار کام بلا تاخیر جاری ہے۔
KP Mosques Solarization Project: Audit Uncovers Bidding Irregularities and Overspending
-
Excessive Financial Bids: During the previous PTI administration, 2,490 mosques were designated for solarization across 7 packages. The successful bids exceeded the government’s official engineering estimates by 7.98% to 10.99%, placing an additional financial burden of over PKR 500 million on the provincial treasury.
-
Re-Inclusion of Disqualified Firms: Two companies initially disqualified during technical pre-qualification were re-included in the bidding process after submitting complaints, raising concerns over transparency and compliance with procurement rules.
-
Per-Unit Cost Discrepancy: A comparison revealed an estimated gap of PKR 156,000 per solar unit between the current project estimates and previous comparable projects executed by the National Radio and Telecommunication Corporation (NRTC).
-
Penalty Waiver & New Contract Award: Despite contract delays that warranted a penalty of approximately PKR 586 million on NRTC, the penalty was waived, and the entity was awarded an additional contract to solarize 500 more mosques at an estimated cost of PKR 419.1 million.
-
PEDO’s Response: The Pakhtunkhwa Energy Development Organization (PEDO) rejected the allegations, stating that all processes complied with KPPRA rules and transparency standards. PEDO attributed the project delays to financial constraints and fund availability rather than technical failures, reaffirming the overall target to solarize 7,500 mosques across the province.
- The Khyber Times News Desk; Email: thekhybertimes@gmail.com




