کوہاٹ (خصوصی رپورٹ): کوہاٹ ہنگو روڈ پر واقع پرانی پولیس لائنز کی مسجد میں جمعہ کی نماز کے دوران (تقریباً دوپہر 1:20 بجے) بارود سے بھری گاڑی کا شدید دھماکا ہوا، جس کے بعد مسلح دہشتگردوں نے کمپاؤنڈ پر حملہ کر دیا۔ افسوسناک واقعے میں ایس پی ٹریفک اور ڈی ایس پی سمیت 15 پولیس اہلکاروں اور 6 عام شہریوں سمیت مجموعی طور پر 21 افراد شہید جبکہ 103 زخمی ہو گئے۔
ابتدائی رپورٹ اور ریسکیو حکام کے مطابق واقعے کی تفصیلات درج ذیل ہیں:
مجموعی شہدا (21): 15 پولیس اہلکار اور 6 عام شہری۔ شہید شہریوں میں رکشے میں سوار ایک بدقسمت باپ ان کے دو معصوم بچوں سمیت شہید ہوگیا ہے۔ ڈسٹرکٹ سپیشلسٹ پیڈیاٹرکس ڈاکٹر اسرائیل خان اورکزئی بھی شہید ہونے والوں میں شامل ہیں۔
اہم شہید پولیس افسران: ایس پی ٹریفک اکبر محمد شنواری، ڈی ایس پی نعمت خان، اے ایس آئی اشتیاق بخاری، ایف آر پی اہلکار فہیم
افسوسناک واقعے میں 103 افراد زخمی ہوگئے ہیں، جس میں 73 پولیس اہلکار اور 30 عام شہری شامل ہیں۔
ہسپتالوں کی صورتحال: 13 شدید زخمیوں کو تشویشناک حالت کے باعث لیڈی ریڈنگ ہسپتال (LRH) پشاور منتقل کیا گیا ہے، جبکہ 90 زخمیوں کو ڈی ایچ کیو ہسپتال کوہاٹ میں طبی امداد دی جا رہی ہے۔
ابتدائی رپورٹ کے مطابق حملے میں 5 سے 7 دہشتگرد شامل تھے (جبکہ مقامی عینی شاہدین کے مطابق یہ تعداد اس سے زائد ہو سکتی ہے)۔ بارود سے بھری گاڑی کے دھماکے اور دو ابتدائی خودکش دھماکوں کے بعد دیگر مسلح حملہ آور کمپاؤنڈ کے اندر داخل ہو گئے۔
دہشتگردوں نے سی ٹی ڈی کے دفتر اور مال خانے تک رسائی حاصل کر کے وہاں موجود سرکاری اسلحے کا کنٹرول سنبھال لیا اور سیکیورٹی فورسز کے ساتھ مقابلہ شروع کیا ہے، پولیس ذرائع کے مطابق سی ٹی ڈی کے مال خانے میں بھاری مقدار میں جدید اسلحہ اور گولہ بارود موجود ہے، جس کی وجہ سے صورتحال انتہائی حساس اور خطرناک رخ اختیار کر گئی۔
واقعے کے فوراً بعد سیکیورٹی فورسز، پاک فوج کے اسپیشل کمانڈوز اور سی ٹی ڈی کے خصوصی دستوں نے پورے علاقے کا محاصرہ کر کے مشترکہ کلیئرنس آپریشن شروع کر دیا ہے۔
سیکیورٹی اہلکار اور سی ٹی ڈی کا عملہ انتہائی مہارت اور حکمتِ عملی کے ساتھ مقابلہ کر رہا ہے، جبکہ رات کے آخری حصے میں بھی پولیس لائنز کے اندر سے ہلکے اور بھاری ہتھیاروں کی فائرنگ کا تبادلہ جاری ہے۔ سیکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر اور عام شہریوں کو محفوظ رکھنے کیلئے پولیس لائنز کے قریب واقع تمام رہائشی مکانات کو فوری طور پر خالی کرا لیا گیا ہے۔ جبکہ کوہاٹ ہنگو شاہراہ کو آمدورفت کیلئے مکمل بند کر کے سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے تاکہ آپریشن کو بلا تعطل مکمل کیا جا سکے۔
Summery
-
Tragic Casualties: 21 people were killed—including 15 police personnel and 6 civilians—and 103 others were injured (73 police, 30 civilians). High-profile martyrs include SP Traffic Akbar Muhammad Shinwari, DSP Naimat Khan, ASI Ishtiaq Bukhari, FRP officer Faheem, and pediatric specialist Dr. Israil Khan Orakzai. A father and his two children in a rickshaw were also among the civilian casualties.
-
Attack Strategy & Armory Breach: At around 1:20 PM during Friday prayers, a vehicle loaded with explosives detonated at the gate of the Old Police Lines mosque on Kohat-Hangu Road. Following two suicide detonations, 5 to 7 heavily armed militants infiltrated the compound and accessed the CTD office armory (malkhana), using state-stored weaponry to engage security forces.
-
Medical Emergency Response: DHQ Hospital Kohat treated 90 wounded victims, while 13 critically injured individuals were transferred to Lady Reading Hospital (LRH) in Peshawar for emergency treatment.
-
Ongoing Late-Night Operation: Joint security forces, including Pakistan Army commandos, Police, and CTD, are conducting a high-stakes clearance operation into the late hours of the night. Heavy and light gunfire exchanges continue as forces isolate the armory area.
-
Precautionary Measures: Security forces have evacuated surrounding residential homes and completely blocked the Hangu-Kohat highway to safeguard civilians and facilitate the clearance operation.
- About Author- Nasir Dawar: Editor The Khyber Times and Researcher. Contact: dawarjan@gmail.com




