Alt Text: Aerial view of a massive Pakistan Tehreek-e-Insaf (PTI) protest rally crowd with a prominent red and green PTI flag in the foreground.

ٹوٹے دل اور بانی کی محبت: کے پی کے پی ٹی آئی ورکرز وفاق کو پھر ٹف ٹائم دینے کو تیار

دی خیبر ٹائمز : سیاسی تجزیہ

پاکستان کی جدید سیاسی تاریخ میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کو ایک ایسی سیاسی طاقت کے طور پر دیکھا جاتا ہے جس نے عوام کو متحرک کرنے اور مزاحمتی بیانئے کو برقرار رکھنے کے معاملے میں اپنے قدم مضبوط رکھے۔ اپریل 2022ء میں عدم اعتماد کی تحریک کے نتیجے میں اقتدار سے فراغت کے بعد سے جماعت نے مسلسل سٹریٹ پاور اور عوامی مقبولیت کو اپنی سیاست کا محور بنائے رکھا ہے۔ 9 مئی 2023ء کے پرتشدد واقعات، عسکری تنصیبات پر حملوں کے الزامات اور بانی پی ٹی آٗئی چیئرمین عمران خان کی گرفتاری کے بعد ریاست کی سخت گیر پالیسیوں کے باوجود، پی ٹی آئی کا نچلی سطح پر ورکرز کا تحرک تاحال مکمل ختم نہیں ہو سکا۔
عمران خان کی رہائی اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف پی ٹی آئی نے اپریل 2022ء سے نومبر 2024ء کے دوران متعدد لانگ مارچ اور احتجاجی مظاہرے منظم کئے۔ اس سلسلہ وار تحرک کا پہلا بڑا قدم 25 مئی 2022ء کو پہلا آزادی مارچ تھا، جس کی قیادت پشاور سے اسلام آباد ڈی چوک کی جانب عمران خان، علی امین گنڈاپور، مراد سعید اور شاہ محمود قریشی نے کی۔ یہ مارچ شدید شیلنگ اور پکڑ دھکڑ کے بعد بلیو ایریا پہنچ کر اچانک ختم کر دیا گیا۔ اس کے بعد 28 اکتوبر سے نومبر 2022ء کے دوران لاہور سے راولپنڈی جی ٹی روڈ کے راستے حقیقی آزادی مارچ 2 نکالا گیا، جس میں شاہ محمود قریشی اور اسد عمر عمران خان کے ہمراہ تھے، تاہم وزیر آباد میں بانی پی ٹی آئی پر قاتلانہ حملے کے بعد اس مارچ کا اختتام بھی راولپنڈی میں کر دیا گیا۔

9 سے 12 مئی 2023ء کے گرفتاری مخالف احتجاج نے ملکی سیاست میں سخت ترین موڑ پیدا کیا۔ ڈاکٹر یاسمین راشد اور عمر سرفراز چیمہ جیسے رہنماؤں کی زیرِ قیادت ملک گیر مظاہروں کے بعد کور کمانڈر ہاؤس لاہور پر حملے کی صورتحال پیدا ہوئی، جس نے بڑے پیمانے پر ریاستی کریک ڈاؤن اور سینیئر قیادت کی گرفتاریوں کی راہ ہموار کی۔

صورتحال کچھ سنبھلی تو 8 ستمبر 2024ء کو سنگجانی اسلام آباد کے مقام پر بیرسٹر گوہر، عمر ایوب اور شبلی فراز کی موجودگی میں علی امین گنڈاپور نے ایک طاقتور جلسہ کیا جہاں سخت شرائط کے باوجود تند و تیز تقریر کی گئی۔ اس کے بعد 4 سے 6 اکتوبر 2024ء کو خیبر پختونخوا سے ڈی چوک اسلام آباد کے مارچ کے دوران کے پی ہاؤس کا محاصرہ اور علی امین گنڈاپور کی پراسرار روپوشی کا واقعہ سامنے آیا۔ بالآخر 24 تا 27 نومبر 2024ء کو صوابی و پشاور سے اسلام آباد کی جانب علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کی مشترکہ قیادت میں نکلنے والا فائنل کال مارچ ڈی چوک پر شدید شیلنگ اور سخت سیکیورٹی ردِعمل کے باعث رات کے اندھیرے میں قافلوں کی واپسی پر ختم ہوا۔

احتجاجی لہر کے ساتھ ساتھ سابق وزیراعظم عمران خان پر اپریل 2022ء سے اب تک ملک بھر میں 180 سے زائد مقدمات درج کئے جا چکے ہیں۔ اگر ان کے کیسز کی موجودہ قانونی حیثیت کا جائزہ لیا جائے تو سائفر کیس میں آفیشل سیکرٹس ایکٹ کے تحت اسلام آباد ہائی کورٹ انہیں سزا کالعدم قرار دے کر بری کر چکی ہے، جبکہ ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد نے عدت کیس (غیر شرعی نکاح) میں بھی ان کی اپیل منظور کرتے ہوئے بریت کا حکم دیا ہے۔ توشہ خانہ ریفرنس-1 (نیب) میں دی گئی 14 سال کی سزا بھی ہائی کورٹ کی جانب سے معطل ہو چکی ہے اور اس کی اپیل التوا میں ہے، جبکہ مجسٹریٹ عدالتوں نے اسلام آباد میں 9 مئی اور سیکشن 144 کی خلاف ورزی کے متعدد پرچوں میں عدم ثبوت کی بنیاد پر بریت دی ہے۔

ان تمام کامیابیوں کے باوجود عمران خان کی قانونی رہائی کی راہ میں دو بنیادی قانونی دیواریں حائل ہیں، پہلی، توشہ خانہ 2 ریفرنس (FIA) جو بلغاری جیولری سیٹ کے غیر قانونی تحویل میں رکھنے کے الزام میں خصوصی جج سینٹرل اسلام آباد کی عدالت میں زیرِ محاکمہ ہے اور جہاں ضمانتیں التوا میں ہیں، اور دوسری، 9 مئی کے سانحے سے متعلق پنجاب کی انسدادِ دہشتگردی عدالتوں (ATC) میں درج 12 کے قریب مقدمات ہیں، جن میں جناح ہاؤس، جی ایچ کیو راولپنڈی اور میانوالی ایئربیس پر حملوں کی سازش کے الزامات کے تحت ریمانڈز اور ٹرائلز جاری ہیں۔ اس کے علاوہ القدیر ٹرسٹ (£190 ملین کیس) کا نیب ٹرائل بھی احتساب عدالت میں حتمی مراحل میں داخل ہو چکا ہے۔

قانونی اور سیاسی دباؤ کے باوجود پی ٹی آئی ایوانوں کے اندر ایک زبردست عددی طاقت کی حامل ہے۔ 8 فروری 2024ء کے انتخابات میں بیٹ کا نشان واپس لئے جانے کے بعد پی ٹی آئی کے امیدواروں نے آزاد حیثیت میں الیکشن جیتا اور بعد میں سنی اتحاد کونسل میں شمولیت اختیار کی۔ اگرچہ الیکشن کمیشن نے مخصوص نشستوں سے انکار کیا تھا، تاہم سپریم کورٹ کے 12 جولائی 2024ء کے اکثریتی فیصلے نے پی ٹی آئی کو بحیثیت جماعت ان نشستوں کا حقدار ٹھہرایا، تاہم، 26ویں آئینی ترمیم کی منظوری اور اس کے نتیجے میں بننے والے نئے عدالتی فریم ورک کی وجہ سے مخصوص نشستوں پر عملدرآمد کا معاملہ اب بھی تعطل کا شکار ہے۔

اگر تمام ایوانوں کی پارلیمانی گنتی کا احاطہ کیا جائے تو قومی اسمبلی کی 336 نشستوں میں سے پی ٹی آئی کے 80 سے 92 کے قریب براہِ راست ارکان موجود ہیں جبکہ 20 سے زائد مخصوص نشستیں سپریم کورٹ کے فیصلے کے تحت عملدرآمد کی منتظر ہیں۔ سینیٹ کے 96 رکنی ایوان میں 25 سے 31 سینیٹرز کے ساتھ پی ٹی آئی ایوانِ بالا کی سب سے بڑی اپوزیشن فورس ہے۔

صوبائی سطح پر، خیبر پختونخوا اسمبلی کی 145 نشستوں میں سے 90 سے زائد براہِ راست ارکان اور 20 مخصوص نشستوں کے حق کے ساتھ جماعت کو دو تہائی اکثریت حاصل ہے۔ پنجاب اسمبلی کی 371 نشستوں پر پی ٹی آئی کے 100 سے 107 ارکان جیتے، تاہم وہاں کی 27 مخصوص نشستیں التوا میں ہونے کے باعث ن لیگ کو عددی اکثریت کا فائدہ ملا ہوا ہے۔ سندھ اسمبلی کی 168 نشستوں پر 12 سے 14 اور بلوچستان کی 65 نشستوں پر 5 سے 6 ارکان کی نمائندگی کے ساتھ، مجموعی طور پر ملک بھر میں 300 سے زائد منتخب قانون ساز پی ٹی آئی کا پارلیمانی پرچم تھامے ہوئے ہیں۔

اکتوبر 2024ء میں ڈی چوک مارچ کے دوران وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کے پراسرار اقدامات نے سیاسی حلقوں کو حیرت میں ڈال دیا تھا۔ جب ورکرز اسلام آباد کے داخلی راستوں پر آنسو گیس کا سامنا کر رہے تھے، گنڈاپور خیبر پختونخوا ہاؤس پہنچ گئے جہاں رینجرز اور پولیس نے عمارت کا محاصرہ کر لیا۔ وہیں سے وہ تقریباً 48 گھنٹے کیلئے منظرِ عام سے پراسرار طور پر غائب ہو گئے۔ اس ڈرامائی صورتحال کا اختتام اس وقت ہوا جب وہ اچانک پشاور میں کے پی اسمبلی کے اجلاس میں نمودار ہوئے اور ایوان سے جذباتی خطاب کرتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ وہ حراست سے بچنے اور صوبے میں انتظامی خلا نہ بننے دینے کیلئے حکمت عملی کے تحت وہاں سے نکلے تھے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق گنڈاپور پر دوہرا شدید دباؤ قائم ہے۔ ایک طرف ورکرز اور بانی چیئرمین کا تقاضا ہے کہ وہ مزاحمت کی اگلی صفوں میں رہیں، تو دوسری طرف بحیثیت وزیراعلیٰ انہیں مقتدرہ اور وفاق کے ساتھ صوبائی فنڈز اور حکومت کی سالمیت کیلئے ایک ورکنگ ریلیشن شپ برقرار رکھنی ہے۔ ستمبر کے 27 تاریخ کے احتجاج کے موقع پر کے پی حکومت نے اپنی صوبائی مشینری، ریسکیو کرینوں اور بلڈوزروں کو آگے رکھ کر اور صوابی انٹرچینج کو مرکزی نقطہ بنا کر وفاقی کنٹینرز ہٹانے کی جو حکمت عملی اپنائی، وہ اس بات کا ثبوت ہے کہ کے پی کو ایک سٹریٹجک سپورٹ بیس کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ تاہم وفاق کی جانب سے راستے سیل کئے جانے کی صورت میں گنڈاپور اپنی حکومت کو بچانے کے لئے محفوظ راستہ اختیار کر لیتے ہیں۔

اس وقت پی ٹی آئی کو اپنی تنظیمی تاریخ کے شدید ترین اندرونی دھڑے بندی اور نظریاتی کشمکش کا سامنا ہے۔ پارٹی کے اندر دو واضح مکتبہ فکر قائم ہو چکے ہیں، ایک مزاحمتی و سخت گیر دھڑا: اس کی قیادت خیبر پختونخوا کے پشتون رہنما علی امین گنڈاپور، عاطف خان، شہرام تراکئی، بشریٰ بی بی کے قریبی حلقے اور سوشل میڈیا ونگ کر رہا ہے۔ ان کا موقف ہے کہ وفاق یا مقتدرہ سے مذاکرات بے سود ہیں اور عمران خان کی رہائی صرف اسلام آباد کو سڑکوں کی طاقت سے بند کرنے سے ہی ممکن ہے۔جبکہ دوسرا قانون دان و معتدل دھڑا: اس کی قیادت چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان، اپوزیشن لیڈر عمر ایوب، سینیٹر شبلی فراز اور سلمان اکرم راجہ کر رہے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ جماعت کو آئینی، پارلیمانی اور عدالتی محاذ پر جنگ لڑنی چاہئے اور پرتشدد احتجاج سے گریز کرنا چاہئے تاکہ ریاست کو نئے ملٹری ٹرائلز یا مزید قانونی پابندیاں لگانے کا موقع نہ ملے۔
ان اندرونی اختلافات کی وجہ سے عام ورکرز میں ابہام پیدا ہوتا ہے، کیونکہ ایک طرف گنڈاپور مارچ کی قیادت کر رہے ہوتے ہیں تو دوسری طرف پارلیمانی قیادت وفاقی وزرا سے بات چیت کر رہی ہوتی ہے۔ اس کی وجہ سے مظاہروں کے دوران وہ ورکرز اس تعداد میں باہر نہیں نکلتے جس کی توقع کی جاتی ہے۔

اسی دوران، 9 مئی کے بعد سے جیلوں میں قید رہنماؤں کا ایک بڑا سلسلہ قائم ہے، بانی چیئرمین عمران خان اگست 2023ء سے اڈیالہ جیل میں پابندِ سلاسل ہیں، شاہ محمود قریشی اڈیالہ اور کوٹ لکھپت جیل میں قید کاٹ رہے ہیں، جبکہ ڈاکٹر یاسمین راشد، سینیٹر اعجاز چوہدری، محمود الرشید اور عمر سرفراز چیمہ انسدادِ دہشتگردی کے سنگین مقدمات کے تحت جیلوں میں موجود ہیں۔ صنم جاوید اور عالیہ حمزہ ایک سال سے زائد قید کے بعد ضمانت پر باہر آئیں، جبکہ سابق خاتونِ اول بشریٰ بی بی نے بھی توشہ خانہ-2 اور القدیر ٹرسٹ کیسز میں طویل قید کے بعد حال ہی میں ضمانت حاصل کی ہے۔

پی ٹی آئی کا مستقبلی منظرنامہ چند کلیدی شخصیات کی پیش قدمی سے جڑا ہے۔ عمران خان کی بہن علیمہ خان اڈیالہ جیل سے پیغام رسانی کا سب سے معتبر ذریعہ بن کر ابھری ہیں اور وہ پارلیمانی قیادت کی سست روی پر مسلسل تنقید کرتے ہوئے سخت گیر بیانئے کو جلا بخش رہی ہیں۔ دوسری طرف، بشریٰ بی بی کی اسلام آباد مارچ میں عملی شمولیت نے یہ ثابت کیا ہے کہ وہ خان کی غیر موجودگی میں ورکرز کو متحرک کرنے کا طاقتور استعارہ بن سکتی ہیں، اگرچہ ان پر لٹکتی ہوئی قانونی تلواریں ان کی متحرک سیاست کی راہ میں رکاوٹ بن سکتی ہیں۔

جہاں تک علی امین گنڈاپور کے سیاسی انتقام کا تعلق ہے، تو وہ ریاست سے حتمی ٹکراؤ یا گورنر راج کی نوبت لانے کے بجائے، صوبائی خودمختاری، وفاق مخالف بیانئے، اور پنجاب کی پولیس کو کے پی کی حدود میں داخل ہونے سے روک کر اپنا سیاسی وزن برقرار رکھیں گے۔

پاکستان تحریک انصاف کا سیاسی سفر ایک انتہائی باریک توازن پر قائم ہے۔ جماعت کے پاس خیبر پختونخوا میں دو تہائی اکثریت اور ملک بھر میں 300 سے زائد منتخب نمائندوں کا وزنی مینڈیٹ موجود ہے۔ تاہم، 180 سے زائد قانونی مقدمات، سینیئر قیادت کی پابندِ سلاسل موجودگی اور وکیل رہنماؤں بمقابلہ سیاسی و سخت گیر دھڑوں کی باہمی کھینچ تان نے پارٹی کی سٹریٹ پاور کو شدید متاثر کیا ہے۔
جب تک پی ٹی آئی اپنے اندرونی اختلافات کو ختم کر کے قانون دانوں، صوبائی حکومت اور سٹریٹ ورکرز کے درمیان ایک متفقہ اور یکسو اسٹریٹجی مرتب نہیں کرتی، تب تک محض وقفے وقفے کی احتجاجی کالوں کے ذریعے اپنے بانی چیئرمین کی رہائی یا اقتدار میں واپسی ممکن بنانا ایک کٹھن اور دشوار گزار چیلنج رہے گا۔
اس تمام تر ابہام اور بد اعتمادی کے باوجود، خیبر پختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف کے کارکنان آج بھی اس طاقت کے حامل ہیں کہ وہ نہ صرف مخالف سیاسی جماعتوں کو ششدر کر سکتے ہیں، بلکہ وفاق کو سخت ٹائم دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اگرچہ بار بار کے احتجاج کے دوران ورکرز کو سڑکوں پر تنہا چھوڑ کر قیادت کے نکل جانے جیسے تلخ واقعات نے ان کے دل توڑے ہیں اور قیادت و کارکنان کے درمیان بد اعتمادی کی فضا قائم کی ہے، لیکن اپنے قائد عمران خان سے بے پناہ عقیدت اور محبت وہ جذبہ ہے جو انہیں ٹوٹے ہوئے دل کے ساتھ بھی دوبارہ سڑکوں پر لانے کی سکت رکھتا ہے۔

Executive Summary
“Despite internal ambiguity and growing mistrust toward the top leadership—stemming from repeated instances of being left stranded on the streets during protests Pakistan Tehreek-e-Insaf’s (PTI) grassroots workers in Khyber Pakhtunkhwa remain a formidable political force. Their unwavering devotion and deep-seated loyalty to founding chairman Imran Khan remain the ultimate driving factor. Even with broken hearts and skepticism toward the party hierarchy, this emotional bond retains the power to mobilize KP workers back onto the streets, capable of surprising political rivals and posing a tough challenge to the federal government.”

Key Takeaways (Bullet Points)
* Grassroots Powerhouse in KP: PTI’s cadre in Khyber Pakhtunkhwa continues to possess the organizational strength and street power necessary to catch political opponents off guard and give a tough time to the federal administration.
* Distrust in Party Leadership: Repeated instances where top leaders withdrew or exited mid-protest have left workers feeling abandoned, fostering a climate of ambiguity and mistrust between the leadership and the ranks.
* The Imran Khan Factor: Despite disillusionment with the party hierarchy, the workers’ deep affection and emotional alignment with Imran Khan remain the sole catalyst capable of driving them back onto the streets even with “broken hearts.”
This summary can be used as an English abstract, an executive summary, or social media intro for the report in The Khyber Times.

About Author- Nasir Dawar: Editor The Khyber Times & Researcher.

contact: dawarjan@gmail.com