A split-screen digital news graphic with a woman in a bright royal blue traditional outfit and dupatta (covering her head) on the right panel. The left panel shows a news control desk background with large Urdu text reading 'خیبر پختونخوا مریم نواز کیلئے درد سر' and a red byline 'تحریر: رسول داوڑ'.

مریم نواز صاحبہ کے بیان پر چند سنجیدہ سوالات

خصوصی تحریر: نرسول داوڑ

وزیراعلی پنجاب مریم نواز صاحبہ کا یہ بیان کئی سنجیدہ سوالات کو جنم دیتا ہے۔ اگر پنجاب کو بھارت سے کم اور خیبرپختونخوا، بلوچستان اور سندھ سے زیادہ دہشتگردی کا خطرہ ہے تو پھر سوال یہ ہے کہ ان صوبوں میں جاری دہشتگردی کے خاتمے کی ذمہ داری کس کی ہے؟

پاکستان خود بارہا بھارت اور افغانستان پر دہشتگردی کی سرپرستی اور معاونت کے الزامات عائد کرتا رہا ہے۔ ایسے میں یہ کہنا کہ پنجاب کو بھارت سے کم جبکہ اپنے ہی ملک کے صوبوں سے زیادہ خطرہ ہے، کم از کم ایک واضح تضاد ضرور پیدا کرتا ہے۔

یہ بیان دیتے وقت کیا پنجاب میں دہشتگردی کا کوئی حملہ ہوا تھا ؟ یا پھر پنجاب کی تقسیم کی بحث کو کسی اور طرف موڑنے کیلئے ایسا بیان دینا ضروری سمجھا گیا؟

خیبرپختونخوا گزشتہ دو دہائیوں سے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں بھاری قیمت ادا کر رہا ہے۔ یہاں پولیس اہلکار، سکیورٹی فورسز، قبائلی عمائدین اور عام شہری مسلسل اپنی جانیں قربان کرتے رہے ہیں۔

مریم نواز صاحبہ کے بقول پنجاب کو دہشتگردی کے تھریٹس ہیں، لیکن اگر پنجاب کو تھریٹس کا سامنا ہے تو خیبرپختونخوا کے لوگ ان تھریٹس سے آگے بڑھ کر روزانہ اپنی جانیں گنوا رہے ہیں،ان سے زبردستی بھتے لئے جاتے ہیں اور دہشتگردی کا براہ راست نشانہ بن رہے ہیں۔

ایک ایسا صوبہ جس کے پاس ملک کیلئے وافر قدرتی وسائل اور بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت موجود ہے، وہاں کے عوام آج بھی بجلی کی لوڈشیڈنگ اور دیگر بنیادی مسائل کا سامنا کر رہے ہیں۔

اگر باقی صوبوں میں دہشت گردی پنجاب کے لیے خطرہ بن رہی ہے تو پنجاب یا وفاقی حکومت سیاسی الزام تراشی کے بجائے اس خطرے کے خاتمے کیلئے عملی اقدامات کیوں نہیں اٹھاتی؟

امن و امان اور قومی سلامتی کسی ایک صوبے کا معاملہ نہیں، پورے پاکستان کا مسئلہ ہے۔

خیبرپختونخوا کو مورد الزام ٹھہرانے کے بجائے اس صوبے کے عوام کی قربانیوں کو تسلیم کیا جائے۔ پنجاب کو محفوظ بنانے کا راستہ خیبرپختونخوا کو کمزور کرنے سے نہیں بلکہ پورے ملک کو دہشتگردی سے پاک کرنے سے نکلتا ہے۔

فورسز ، وفاقی حکومت اور قومی سطح پر کام کرنے والے قانون نافذ کرنے والے ادارے دہشتگردی کے خلاف ریاستی پالیسی کا حصہ ہیں۔ اگر ملک کے کسی صوبے میں امن و امان قائم نہیں ہو اور عوام مسلسل جانیں قربان کرنے لگے پھر وفاقی حکومت کی کوئی ذمہ داری نہیں بنتی؟۔

مریم نواز صاحبہ کیا اس بیان کے زریعے بالواسطہ طور پر وزیراعظم شہباز شریف کی وفاقی حکومت سےسوال کرتا ہے کہ اگر خیبرپختونخوا، بلوچستان اور سندھ سے پنجاب کو خطرہ ہے تو وفاقی حکومت ان صوبوں میں دہشت گردی کے خاتمے کے لیے کیا کر رہی ہے؟

خیبرپختونخوا کے عوام تو دہائیوں سے دہشتگردی کی آگ میں جل رہے ہیں۔ یہاں مائیں اپنے بیٹے، بچے اپنے باپ اور خاندان اپنے پیارے کھو رہے ہیں۔ اگر بقول مریم نواز پنجاب کو خطرہ محسوس ہوتا ہے، تو کیا خیبرپختونخوا اس خطرے کی قیمت اپنی جانوں سے ادا نہیں کر رہا؟ ایسے بیانات کے زریعے صوبوں کو ایک دوسرے کے مقابل کھڑا کرنے کے بجائے کیا وفاق اور صوبائی حکومتوں کو مل کر دہشتگردی کا خاتمہ نہیں کرنا چاہئے؟ شہباز شریف صاحب خیبرپختونخوا کو محفوظ بنانے کیلئے مؤثر اقدامات کریں گے تو مریم نواز صاحبہ کو پنجاب کے محفوظ ہونے کی فکر بھی کم کرنا پڑے گی۔

خیر ان سے ہمم کیا توقعات رکھ سکتے ہیں، اس سے قبل جب موجودہ وزیر اعظم محترم میاں شہباز شریف جب پنجاب کے اسی منصب پر برا جماں تھے، ایک دو واقعات کے بعد ان کا بیان ایا تھا، انہوں ایک بیان میں کہا تھاکہ وہ دہشتگردوں سے اپیل کرتے ہیں، کہخدا کیلئے پنجاب سے منہ موڑ لیںیہاں غریب اور ،محنت کش لوگ رہتے ہیں، تو اب ہم اس سے بھی گلہ نپہیں کرسکتے۔

In an exclusive commentary, journalist Rasul Dawar sharply criticizes Punjab Chief Minister Maryam Nawaz for her statement claiming that Punjab faces a severe terrorism threat originating from Khyber Pakhtunkhwa (KP), Balochistan, and Sindh, rather than from India.

Key Highlights of the Commentary:

Contradiction of Official Stance: Dawar points out a major flaw in the Chief Minister’s premise. While Pakistan’s state narrative consistently holds foreign actors like India and Afghanistan responsible for cross-border terrorism, labeling domestic provinces as Punjab’s primary threat creates an internal contradiction and fuels inter-provincial friction.

Disregard for KP’s Sacrifices: KP has suffered two decades of relentless terrorism, with heavy casualties among civilians, tribal elders, police, and security forces. Rather than acknowledging KP’s sacrifices and socio-economic struggles  such as extortion and severe power shortages despite generating abundant natural resources the statement shifts blame onto the victimized province.

Political Diversion & Timing: The piece questions the timing and intent behind the statement, asking whether it was crafted to divert public focus away from political discussions regarding the potential administrative division of Punjab, especially since no recent terror incident in Punjab prompted the remark.

Federal Responsibility: National security and counter-terrorism fall under federal jurisdiction. Dawar argues that if Punjab is threatened by neighboring provinces, Maryam Nawaz is implicitly questioning Prime Minister Shehbaz Sharif’s federal administration regarding its failure to eliminate militant networks in KP, Balochistan, and Sindh.

Historical Precedent: The article draws parallels to a past statement made by Shehbaz Sharif during his tenure as CM Punjab, where he publicly appealed to militants to “spare Punjab” because of its working-class population. Dawar argues that provincial isolationism undermines national counter-terrorism strategy, which requires collective effort rather than pitting provinces against one another.