News graphic featuring two Pakistani police officers representing Khyber Pakhtunkhwa and Punjab Police, with police insignia and a map in the background.

میاں سعید اور احمد محی الدین کے چرچے

تحریر : رسول داوڑ

احمد محی الدین پنجاب پولیس کے گریڈ 19 کے پولیس افسر رہ چکے ہیں۔ پاکستان نیوی میں لیفٹیننٹ کے عہدے سے تقریباً 12 سال بعد ریٹائرمنٹ لے کر پولیس فورس میں شمولیت اختیار کی۔ محی الدین پنجاب پولیس میں مختلف اضلاع کے ڈی پی او رہ چکے ہیں۔ انہیں عوام کی دادرسی اور جرائم میں کمی لانے کے باعث خوب پذیرائی ملی۔ شہریوں کی شکایات براہِ راست سننے، قبضہ گروپوں، منشیات فروشوں اور جرائم پیشہ عناصر کے خلاف سخت کارروائی اور موقع پر احکامات جاری کرنے کے باعث وہ نہ صرف پنجاب بلکہ خیبرپختونخوا میں بھی عوامی سطح پر بے حد مقبول ہوئے تھے۔ خیبرپختونخوا کے لوگ ان کی کھلی کچہری میں احکامات سن کر سوشل میڈیا پر انہیں داد دیے بغیر نہیں رہتے تھے۔

رواں سال پنجاب کے احمد محی الدین نے باعزت طریقے سے قبل از وقت، ناگزیر ذاتی وجوہات کی بنا پر ریٹائرمنٹ لے کر اپنا نام لوگوں کی گڈ بُک میں ڈال دیا۔

اب آتے ہیں پشاور پولیس کے احمد محی الدین کی جانب۔ گریڈ 20 کے پولیس افسر ڈاکٹر میاں سعید نے پشاور میں جرائم پیشہ عناصر کے خلاف سخت کریک ڈاؤن کے احکامات جاری کیے، جس سے پولیس انکاؤنٹرز میں اضافہ ہوا اور نامور بڑے جرائم پیشہ ملزمان کا صفایا ہوا۔ تاہم، عوامی شکایات سننے کیلئے بے تاب شہری انصاف کی تلاش میں سرگرداں، اخبارات اور ٹی وی کے دفاتر کے چکر کاٹ کر کے پی کے احمد محی الدین کی توجہ اپنی جانب مبذول کرانے میں کامیاب نہ ہو سکے۔
شہرِ اقتدار پشاور میں سیف سٹی کے کیمرے لگنے کے باوجود اسٹریٹ کرائمز میں آئے روز اضافہ ہوتا گیا۔ منشیات فروشی میں کمی آئی، نہ چوری، ڈکیتی اور راہزنی میں کمی آئی، البتہ اس کی رپورٹنگ میں کمی ضرور آئی۔ پہلے سہ ماہی، ششماہی، نوماہی اور سالانہ کارکردگی رپورٹس پر پریس کانفرنسز ہوتی تھیں، اب کارکردگی دکھانے کیلئے اعداد و شمار تک چھپائے جاتے ہیں۔ یہاں تک کہ کرائم رپورٹرز کو پیشگی اجازت کے بغیر پولیس لائنز میں جانے کی اجازت نہیں دی جاتی۔
ڈاکٹر میاں سعید احمد کی نمایاں شہرت پشاور میں سخت گیر پولیسنگ اور جرائم پیشہ گروہوں کے خلاف کارروائی کے حوالے سے ہے۔ بظاہر پشاور پولیس چیف نے مشہور کریمنل گینگز کا خاتمہ کرکے پنجاب پولیس کے احمد محی الدین بننے کی کوشش ضرور کی، مگر پنجاب کے احمد محی الدین کی طرز پر عام اور غریب لوگوں کی دادرسی کے حوالے سے شہرت کمانے میں انہیں کامیابی نہیں ملی۔

شہرِ اقتدار میں جرائم کم دکھانے کیلئے یہ طریقہ استعمال کیا گیا کہ چوری، ڈکیتی، راہزنی، اغوا اور دیگر کیسز کا پہلے تھانوں میں اندراج بہت کم کیا جاتا ہے۔ دوسری جانب آج کل کرائم چارٹ بھی میڈیا کے ساتھ شیئر کرنا بند کر دیا گیا ہے، تاکہ سب اچھا کی رپورٹ چلا دی جائے اور کوئی ان جرائم میں اضافے پر تنقید نہ کر سکے۔
شہر کے بیشتر تھانوں میں محرر صاحبان درخواست گزار شہری سے سادہ کاغذ پر شکایت لکھ کر ایک دو ہفتے بعد آنے کا کہتے ہیں اور درخواست گزار اتنا ذلیل ہو جاتا ہے کہ وہ مقدمے کے اندراج کا ارادہ ہی چھوڑ دیتا ہے۔ یوں ایک کیس کم ریکارڈ ہو جاتا ہے۔
ناخوشگوار واقعات رونما ہونے، پولیس اہلکاروں کے خلاف شکایات، خصوصاً پولیس پر حملوں یا قتل کے واقعات رونما ہونے پر میڈیا پرسنز کو فوری موقف تک نہیں دیا جاتا۔ شاید اس لئے کہ شہرِ اقتدار سے کرائم رپورٹنگ کم سے کم ہو اور ’’کارکردگی پر داغ نہ لگے‘‘۔
بعض اوقات شہری میڈیا آفسز میں اپنی شکایات لے جاتے ہیں، مگر ان الزامات پر بھی پولیس افسران موقف دینے کیلئے تیار نہیں ہوتے۔ اکثر و بیشتر شہری پولیس اہلکاروں یا پولیس افسران کے خلاف شکایات کرتے ہیں، لیکن ان شکایات پر نہ کوئی نوٹس لینے کی کوشش کرتا ہے اور نہ ہی کسی کارروائی کی ضرورت محسوس کی جاتی ہے۔
حالیہ بڑے انکاؤنٹر کے بعد سی سی پی او میاں سعید ایک ویڈیو بیان میں کہتے ہیں کہ بعض پولیس اہلکار قبضہ گروپس کے سہولت کار ہیں۔ اب جب وہ سہولت کار ہیں تو ان کے خلاف کیا کارروائی ہوئی یا کارروائی کب تک متوقع ہے؟
پشاور میں چند مشہور جرائم پیشہ ملزمان کو انجام تک پہنچانے کے حوالے سے سی سی پی او نے اپنی شہرت ضرور بنائی ہے، لیکن ان میں بھی مبینہ فیک انکاؤنٹرز کے ذریعے ماورائے عدالت قتل کے الزامات سامنے آتے رہے ہیں۔
رواں ہفتے پشاور کے مضافاتی علاقے بڈھ بیر سے خبر موصول ہوئی کہ ایس ایچ او کے کوارٹر میں زیرِ حراست دو ملزمان نے مبینہ طور پر ہتھکڑیاں کھول کر پولیس سے اسلحہ چھین لیا، دو پولیس اہلکاروں کو گولیاں مار کر زخمی کیا اور دونوں فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ خبر میڈیا اور سوشل میڈیا کی زینت بنی تو ایس ایچ او بڈھ بیر کو پولیس لائنز کلوز کر دیا گیا، مگر اس سوال کا جواب نہیں ملا کہ انہیں کب سے ماورائے قانون اپنے پاس رکھا گیا تھا۔
ان دو مبینہ راہزن ملزمان میں سے ایک، ملزم عمیر، کے والدین نے میڈیا کو بتایا کہ ان کے بیٹے کو 22 دن قبل گھر سے اٹھا کر ایس ایچ او بڈھ بیر نے اپنے کوارٹر میں زیرِ حراست رکھا ہوا تھا۔ والدین نے بیٹے کی بازیابی کے لیے عدالت کا دروازہ بھی کھٹکھٹایا، مگر انہیں بتایا جاتا رہا کہ پولیس کو ان کے بیٹے کے بارے میں کوئی علم نہیں۔
اب جب دونوں مبینہ راہزن ملزمان فرار ہو گئے ہیں تو ان کے والدین کے مطابق پولیس ان کے گھروں پر آ کر چھاپے مار رہی ہے اور سامان لے جا رہی ہے۔ اس معاملے پر پولیس کی جانب سے موقف دینے کے بجائے مکمل خاموشی اختیار کی گئی ہے۔
اگر قانون ہاتھ میں لے کر ماورائے عدالت کارروائیاں ہی کرنی ہیں تو پھر عدالتیں کس لیے ہیں اور وکلا نے کالے کوٹ کیوں پہن رکھے ہیں؟
پشاور میں ابابیل فورس کے حوالے سے شکایات زبان زدِ عام ہیں، مگر اس معاملے پر بھی مکمل خاموشی اختیار کی جاتی ہے۔ افغان مہاجرین کو ڈی پورٹ کرنے کے نام پر ڈرا دھمکا کر پیسے بٹورنے اور سادہ لوح لوگوں کو تنگ کرنے کی شکایات سامنے آتی رہی ہیں۔
تقریباً ہر ہوٹل اور ہر ریڑھی بان سے مفت کھانا بعض پولیس اہلکاروں کا استحقاق بن گیا ہے، مگر بدقسمتی سے ان معاملات پر نہ کوئی کارروائی ہوتی ہے اور نہ ہی پولیس افسران کی جانب سے کوئی واضح موقف دیا جاتا ہے۔
یہ شکایات بھی ہیں کہ پولیس اہلکار شہریوں کے گھروں میں داخل ہو کر زیورات لے جاتے ہیں، مگر غریب شہریوں کی دادرسی شاید ان کی ترجیحات میں شامل ہی نہیں۔
آج کل محکمہ پولیس میں سزا کا نظام کمزور، جبکہ جزا کا نظام خاصا مضبوط نظر آتا ہے۔ سرٹیفکیٹ ڈسٹری بیوشن تقریبات اور نقد انعامات کی تقریبات میں اضافہ دیکھنے کو ملا ہے، مگر گزشتہ ڈیڑھ سے دو سال کے دوران شہرِ اقتدار پشاور میں اسنیچنگ کے واقعات میں اتنا اضافہ ہوا ہے کہ اب بیشتر تھانوں میں اکثر مقدمات درج ہی نہیں کیے جاتے، بلکہ سفارش کے بعد روزنامچہ رپورٹ درج کی جاتی ہے۔
یہاں تک کہ صحافیوں یا ایسے افراد کو بھی، جن کی سی سی پی او، ایس ایس پی، ایس پی، ڈی ایس پی یا ایس ایچ او تک رسائی ہوتی ہے، ایف آئی آر درج کرانے کیلئے سفارش کرانا پڑتی ہے۔ بعض اوقات آئی جی تک درخواست دینا پڑتی ہے۔
دوسری جانب خیبرپختونخوا پولیس کو موجودہ آئی جی ذوالفقار حمید کے دور میں صوبائی حکومت کی جانب سے ٹیکنالوجی، ڈرون گنز، سی سی ٹی وی اور دیگر پولیس آلات کی خریداری کیلئے بڑے پیمانے پر فنڈنگ ہوئی ہے۔ اربوں روپے کے یہ اخراجات اپنی جگہ، لیکن اصل سوال یہ ہے کہ ان وسائل کا مؤثر استعمال اور خریداری کا معیار کیا رہا؟ اس کا اندازہ شاید موجودہ افسران کے جانے کے بعد ہی ہو سکے گا۔
لگتا ہے کہ آئی جی کی توجہ آپریشنل سائیڈ پر کم، جبکہ خریداری کی جانب زیادہ ہے۔ شاید اسی لیے ان کے دور میں قتل و غارت، راہزنی، چوری، ڈکیتی، پولیس کو ٹارگٹ بنانے اور پولیس اہلکاروں کی شہادتوں میں اضافہ ضرور ہوا ہے۔
سنٹرل پولیس آفس کی جانب سے جنوبی اضلاع میں بڑھتی بدامنی اور پولیس میں بے چینی پر بھی کافی عرصے تک خاموشی رہی، یہاں تک کہ حالات اس نہج تک پہنچے کہ قومی سطح کے سیاسی رہنماؤں نے بھی اس پر تنقید شروع کر دی۔
پشاور میں اس وقت آئس نشے کے استعمال اور فروخت کے حوالے سے کیسز اور شکایات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ قتل و غارت کے واقعات بڑھ رہے ہیں، جبکہ گن کلچر بھی خطرناک حد تک پھیل چکا ہے۔
بڑے اور معروف جرائم پیشہ افراد کے خلاف ماورائے عدالت کارروائی اپنی جگہ، لیکن ہر پانچویں یا چھٹے گھر میں موجود غیر قانونی اسلحے کے خلاف کوئی مؤثر آپریشن یا کارروائی نظر نہیں آتی۔ نتیجتاً معمولی تنازعات پر بھی لوگ اسلحہ نکال لیتے ہیں اور شدید فائرنگ کے واقعات سامنے آتے ہیں۔

اب سوال یہ ہے کہ پشاور کے سی سی پی او ڈاکٹر میاں سعید نے بڑے گینگز کے خاتمے کے لیے کوشش ضرور کی، مگر وہ عام شہریوں کی شکایات کا ازالہ کرنے کیلئے پنجاب کے احمد محی الدین نہ بن سکے۔

The article by Rasul Dawar contrasts the public policing styles of former Punjab Police officer Ahmad Mohiuddin with Peshawar Capital City Police Officer (CCPO) Dr. Mian Saeed, highlighting broader administrative and operational failures within the Khyber Pakhtunkhwa (KP) police force.

Public Accessibility vs. Heavy-Handed Policing

Ahmad Mohiuddin (Punjab Police): A Grade-19 officer and former Navy Lieutenant who earned widespread acclaim across Punjab and KP for his open-court (khuli kachehri) system, prompt redressal of public grievances, and direct enforcement against organized crime and land grabbers before taking early voluntary retirement.
Dr. Mian Saeed (Peshawar Police): A Grade-20 officer who attempted to replicate Mohiuddin’s profile by launching aggressive crackdowns and police encounters against major criminal syndicates in Peshawar. While he successfully eliminated prominent gangs, he failed to establish public trust or offer relief to ordinary citizens seeking justice.
Data Suppression and Procedural Obstacles

Despite the installation of Safe City surveillance, street crime, robberies, theft, and drug trade remain widespread in Peshawar. Rather than reducing actual crime rates, police management has suppressed crime reporting by refusing to register FIRs at local police stations, withholding quarterly performance data from the media, and restricting journalists’ access to Police Lines.
Complainants are routinely stalled at police stations, forcing citizens to seek political or high-level administrative intervention just to log standard reports.
Misconduct, Extrajudicial Encounters, and Misplaced Priorities

Illegal Detentions and Fake Encounters: Peshawar police face mounting criticism for alleged extrajudicial killings and unlawful detentions. In a prominent example from Badaber, two suspects escaped SHO custody after being held extrajudicially for 22 days, leading to subsequent unannounced raids on the suspects’ family homes while police maintained strict silence.
Street-Level Corruption: Street units such as the Ababil Force face allegations of harassing and extorting Afghan refugees under the guise of deportation, extorting local vendors, and conducting unauthorized residential raids.
Administrative Shift under KP IG Zulfiqar Hameed: Under IG Zulfiqar Hameed, the department has prioritized multi-billion-rupee technology procurement (drones, CCTV equipment) and frequent internal reward ceremonies over core field operations. Consequently, illegal weapon proliferation, synthetic drug (ice) usage, targeted attacks on police personnel, and violent crimes continue to rise unchecked.