امن کمیٹی، پولیس اور سیکیورٹی اداروں کے درمیان اختیارات کی کشمکش نے ایک بڑے بحران کا راستہ کیوں ہموار کیا؟
دی خیبر ٹائمز : خصوصی رپورٹ
لکی مروت اور بنوں کے درمیان حالیہ کشیدگی فی الوقت ایک معاہدے اور فریقین کے درمیان طے پانے والی مفاہمت کے بعد ٹلتی دکھائی دے رہی ہے، تاہم اس بحران کا اختتام ابھی مکمل امن کی ضمانت نہیں۔ اصل مسئلہ صرف یہ نہیں کہ سڑکوں پر احتجاج ختم ہوا یا فریقین نے ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھ کر معاملات طے کر لئے، بنیادی سوال یہ ہے کہ دہشتگردی کے خلاف کارروائی، مقامی امن کمیٹیوں کے کردار، پولیس کے اختیارات اور مختلف قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان کمانڈ اور رابطے کا نظام کس طرح کام کرے گا؟
حالیہ بحران نے ایک ایسے انتظامی اور سیکیورٹی خلا کی نشاندہی کی ہے جسے اگر مستقل بنیادوں پر دور نہ کیا گیا تو ایک معمولی واقعہ بھی دوبارہ شدید کشیدگی پیدا کرسکتا ہے۔
اس وقت سب سے بڑا چیلنج اعتماد کا بحران ہے۔ پولیس، امن کمیٹیوں، سیاسی نمائندوں، انتظامیہ اور دیگر سیکیورٹی اداروں کے درمیان اگر اختیارات اور ذمہ داریوں کی حدود واضح نہ ہوں تو دہشتگردی کے خلاف جنگ خود ایک انتظامی تنازع میں تبدیل ہوسکتی ہے۔
لکی مروت اور بنوں کے علاقوں میں دہشتگردی کا مسئلہ نیا نہیں۔ گزشتہ برسوں کے دوران ان اضلاع میں پولیس، سیکیورٹی فورسز اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مسلسل دہشتگرد حملوں کا سامنا رہا ہے۔
لیکن موجودہ صورتحال کی حساسیت اس لئے زیادہ ہے کہ یہاں دو الگ نوعیت کے مسائل ایک دوسرے سے جڑ گئے ہیں۔
ایک طرف مقامی دہشتگرد نیٹ ورکس کے خلاف کارروائی کی ضرورت ہے، جبکہ دوسری طرف اس کارروائی میں شامل مقامی عناصر، امن کمیٹیوں اور پولیس کے اختیارات پر سوالات پیدا ہوئے ہیں۔
یہی وہ مقام ہے جہاں ریاستی اختیار کی واضح حد بندی ضروری ہوجاتی ہے۔
اگر امن کمیٹی کا کردار صرف معاونت، معلومات کی فراہمی اور مجاز اداروں کے ساتھ تعاون تک محدود ہے تو اسے اسی دائرے میں رکھا جانا چاہئے۔ دہشتگردی کے خلاف گرفتاری، تفتیش، مقدمہ، تفتیشی تحویل اور قانونی کارروائی کا اختیار ریاست کے باقاعدہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے پاس ہونا چاہئے۔
فریقین کے درمیان طے پانے والے معاہدے کے اہم نکات سے ظاہر ہوتا ہے کہ بحران کو ختم کرنے کی کوشش میں امن کمیٹی کے کردار کو قانونی اور انتظامی حدود میں لانے پر خاص زور دیا گیا ہے۔
معاہدے کے مطابق کسی شخص کو غیر قانونی طور پر حراست میں نہیں رکھا جائے گا۔
دہشتگردی یا عسکریت پسندی میں مطلوب افراد کو فوری طور پر کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (CTD) کے حوالے کیا جائے گا اور ان کی گرفتاری باقاعدہ طور پر ظاہر کی جائے گی۔
یہ شق انتہائی اہم ہے کیونکہ دہشتگردی کے خلاف کارروائی میں سب سے بنیادی اصول یہی ہے کہ مشتبہ شخص کو قانون کے دائرے میں لاکر اس کے خلاف شفاف قانونی کارروائی کی جائے۔
یعنی کسی مقامی کمیٹی، گروہ یا غیر رسمی فورم کو ریاستی اداروں کے متوازی حراستی اختیار حاصل نہیں ہونا چاہئے۔
معاہدے کا ایک اہم پہلو امن کمیٹی کے ارکان کیلئے مخصوص اور منظور شدہ وردی کی شرط بھی ہے۔
بظاہر یہ ایک معمولی انتظامی شرط معلوم ہوسکتی ہے، لیکن اس کے پیچھے ایک اہم اصول موجود ہے، ریاستی کارروائی میں شامل کسی بھی معاون فورس یا کمیٹی کے ارکان کی شناخت واضح ہونی چاہئے۔
غیر واضح شناخت، غیر رسمی مسلح گروہوں اور ریاستی اہلکاروں کے درمیان فرق ختم ہونے سے نہ صرف شہریوں کیلئے مسائل پیدا ہوسکتے ہیں بلکہ مستقبل میں کسی بھی کارروائی کی ذمہ داری طے کرنا بھی مشکل ہوجاتا ہے۔
اسی لئے امن کمیٹی کو ایک معاون کردار تک محدود رکھنا اس معاہدے کی بنیادی روح معلوم ہوتی ہے۔
مرکزی انسدادِ دہشتگردی کارروائیاں CTD، پاک فوج اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے انجام دیں گے، جبکہ امن کمیٹی صرف مجاز حکام کی ہدایات کے تحت معاونت کرے گی۔
یہ تقسیم اگر عملی طور پر بھی برقرار رہتی ہے تو مستقبل کے تنازعات کو کم کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔
ماورائے عدالت کارروائیوں پر پابندی: معاہدے کی سب سے اہم شق:
معاہدے میں ماورائے عدالت قتل، جبری گمشدگی، تشدد، غیر قانونی گرفتاری اور انتقامی کارروائیوں سے مکمل اجتناب کی شرط شامل ہے۔
یہ شق محض انسانی حقوق کا معاملہ نہیں بلکہ ریاستی انسدادِ دہشتگردی حکمت عملی کی ساکھ سے بھی براہ راست جڑی ہوئی ہے۔
دہشتگردی کے خلاف جنگ میں ریاست اگر قانون سے ہٹ کر کارروائی کرتی ہے تو اس کے نتیجے میں مقامی آبادی کا اعتماد متاثر ہوسکتا ہے۔ دوسری جانب قانون کے مطابق کارروائی، گرفتاری کا اندراج، تفتیش اور عدالت کے سامنے مقدمہ پیش کرنا ریاستی اداروں کو قانونی جواز فراہم کرتا ہے۔
معاہدے میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ کمیٹی کے نام پر کسی شہری کو ذاتی طور پر ہراساں، گرفتار یا سزا نہیں دی جائے گی۔
یہ شرط اس خدشے کو بھی ظاہر کرتی ہے کہ دہشتگردی کے خلاف اجتماعی کارروائی اور ذاتی دشمنیوں کے درمیان لکیر واضح رکھنا ضروری ہے۔
لکی مروت اور بنوں جیسے قبائلی و نیم قبائلی سماجی ڈھانچے رکھنے والے علاقوں میں ذاتی، خاندانی اور مقامی تنازعات کا اپنا ایک تاریخی پس منظر ہے۔
ایسے ماحول میں کسی شخص کو دہشتگرد قرار دینا، کسی پر مخبری کا الزام لگانا یا کسی مقامی دشمنی کو انسدادِ دہشتگردی کے عنوان میں تبدیل کرنا انتہائی خطرناک ہوسکتا ہے۔
اسی لئے معاہدے میں منشیات، غیر قانونی اسلحے، بھتہ خوری، ذاتی دشمنی اور اختیارات کے غلط استعمال سے اجتناب کی شرط کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔
اصل امتحان یہ ہوگا کہ ان شرائط پر عملدرآمد کون اور کس طریقے سے یقینی بناتا ہے؟
حالیہ بحران سے ایک بنیادی سبق یہ سامنے آتا ہے کہ مقامی دہشتگرد نیٹ ورکس سے نمٹنے کیلئے پولیس کے کردار کو واضح اور مضبوط کرنا ضروری ہے۔
پولیس مقامی جغرافیہ، آبادی، قبائلی و سماجی روابط اور جرائم پیشہ و عسکریت پسند نیٹ ورکس کے بارے میں وہ معلومات رکھتی ہے جو کسی بھی انسدادِ دہشتگردی حکمت عملی کیلئے اہم ہوسکتی ہیں۔
خصوصاً گزشتہ چند ماہ کے دوران پولیس کی کارروائیوں کو مؤثر قرار دئے جانے کے تناظر میں ضروری ہے کہ ان کارروائیوں کی رفتار برقرار رکھی جائے۔
تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ پولیس کسی دوسرے ریاستی ادارے سے الگ ہوکر کام کرے۔
اصل ضرورت اداروں کے درمیان واضح کمانڈ، مشترکہ انٹیلی جنس اور آپریشنل رابطے کی ہے۔
پولیس کو مطلوب دہشتگردوں کے خلاف کارروائی کا اختیار اور قانونی تحفظ ملنا چاہئے، جبکہ CTD اور دیگر متعلقہ اداروں کے ساتھ معلومات کا فوری تبادلہ یقینی بنایا جانا چاہئے۔
لکی مروت اور ملحقہ علاقوں کی سیکیورٹی صورتحال کا ایک اہم مگر نسبتاً کم زیرِ بحث پہلو پنجاب کی سرحد سے متصل علاقے اور گھنے جنگلات ہیں۔
مقامی طور پر بعض جنگلاتی علاقوں کو “درگہ” کہا جاتا ہے۔
ایسے جغرافیائی مقامات کسی بھی مسلح گروہ کیلئے عارضی پناہ، نقل و حرکت، اسلحہ چھپانے یا کارروائی کے بعد فرار کیلئے استعمال ہوسکتے ہیں۔
اسلئے صرف شہری آبادیوں میں سرچ آپریشن یا چیک پوسٹوں میں اضافہ کافی نہیں ہوگا۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ ان جنگلاتی علاقوں کی باقاعدہ جغرافیائی نقشہ بندی کی جائے،مشتبہ راستوں اور گزرگاہوں کی نشاندہی کی جائے، مرحلہ وار کلیئرنس کی جائے اور کلیئرنس کے بعد مستقل نگرانی کا نظام بنایا جائے، ساتھ ساتھ پنجاب و خیبر پختونخوا کے متعلقہ اداروں کے درمیان معلومات کا فوری تبادلہ یقینی بنایا جائے۔
سب سے اہم بات یہ ہے کہ کلیئرنس آپریشن کے بعد علاقے کو دوبارہ غیر نگرانی شدہ نہ چھوڑا جائے، ورنہ ایک مرتبہ صاف کیا گیا علاقہ دوبارہ محفوظ پناہ گاہ میں تبدیل ہوسکتا ہے۔
کسی بھی عسکریت پسند تنظیم کیلئے صرف جنگجو ہی اہم نہیں ہوتے، اس کے پیچھے ایک پورا سپورٹ نیٹ ورک ہوسکتا ہے جس میں رہائش، خوراک، نقل و حرکت، مالی معاونت، مواصلات، مقامی سہولت کاری اور دیگر لاجسٹک ضروریات شامل ہوتی ہیں۔
لکی مروت و بنوں بحران کے تناظر میں اس پہلو پر خصوصی توجہ ضروری ہے۔
جو لوگ دانستہ طور پر دہشتگردوں کو پناہ، خوراک، اسلحہ، مالی معاونت یا دیگر سہولیات فراہم کرتے ہیں، ان کی شناخت ہونی چاہئے۔ لیکن اس عمل میں بھی ثبوت، قانون اور عدالتی طریقہ کار کو بنیادی حیثیت حاصل ہونی چاہئے۔
بغیر ثبوت کسی شہری یا خاندان کو دہشتگردوں کا معاون قرار دینا مسئلہ حل کرنے کے بجائے مزید پیچیدہ کرسکتا ہے۔انسدادِ دہشتگردی کی کامیابی کا انحصار صرف آپریشن پر نہیں بلکہ اس معلومات پر ہوتا ہے جس کی بنیاد پر آپریشن کیا جاتا ہے۔لکی مروت اور بنوں میں مقامی سطح پر انٹیلی جنس جمع کرنے کے نظام کو مزید مؤثر بنانے کی ضرورت ہے۔
پولیس، CTD، ضلعی انتظامیہ اور دیگر متعلقہ اداروں کے درمیان معلومات کے تبادلے کا ایسا نظام ہونا چاہئے جس میں معلومات جمع ہوں ، تصدیق ہو، تجزیہ ہو، متعلقہ ادارے تک فوری پہنچے، کارروائی ہو، نتیجہ دوبارہ انٹیلی جنس نظام میں شامل کیا جائے۔
اگر کسی ادارے کے پاس اہم معلومات موجود ہوں لیکن دوسرے متعلقہ ادارے تک بروقت نہ پہنچیں تو بہترین آپریشنل صلاحیت بھی محدود ہوجاتی ہے۔
اسی لئے موجودہ بحران کے بعد سب سے اہم اصلاحات میں سے ایک انٹیلی جنس شیئرنگ کا مقامی اور ضلعی سطح پر مضبوط نظام ہونا چاہئے۔معاہدے میں پولیس کو اطلاع دینے کی شرط کیوں اہم ہے؟
معاہدے کے مطابق کسی کارروائی یا چھاپے سے قبل ڈی ایس پی یا ڈی پی او بنوں کو باقاعدہ اطلاع دی جائیگی۔ یہ شق بظاہر انتظامی نوعیت کی ہے، لیکن اس کا تعلق براہ راست کمانڈ اینڈ کنٹرول سے ہے۔
اگر ایک ہی علاقے میں متعدد مسلح یا قانون نافذ کرنے والے عناصر اپنی اپنی سطح پر کارروائیاں شروع کردیں تو غلط شناخت، دوستانہ فائرنگ، شہریوں میں خوف اور قانونی پیچیدگیاں پیدا ہوسکتی ہیں۔اسی لئے ہر آپریشن کی ذمہ داری، کمانڈ اور قانونی حیثیت واضح ہونا ضروری ہے۔
معاہدے میں امن کمیٹی کے ارکان کو احتجاج، دھرنے یا سڑکیں بند کرنے میں حصہ لینے سے بھی روک دیا گیا ہے۔ یہ شق اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ فریقین نے سیکیورٹی کے مسئلے کو سیاسی یا عوامی دباؤ کے ذریعے حل کرنے کے بجائے ادارہ جاتی طریقہ کار اختیار کرنے پر اتفاق کیا ہے۔
تاہم اس کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ امن کمیٹی یا اس کے ارکان کے جائز تحفظات کے اظہار کیلئے قانونی اور باقاعدہ فورم دستیاب ہو۔
محض احتجاج پر پابندی مسئلے کا مستقل حل نہیں، اصل حل یہ ہے کہ شکایات متعلقہ اداروں تک پہنچیں اور ان کا فیصلہ مقررہ طریقہ کار کے تحت ہو۔
معاہدے میں کسی ادارے کے ساتھ اختلاف کی صورت میں ریجنل پولیس آفیسر (RPO) بنوں کی ہدایت کو حتمی انتظامی حوالہ قرار دیا گیا ہے۔ یہ شق اداروں کے درمیان تنازع کو سڑک یا مسلح طاقت کے ذریعے حل کرنے کے بجائے ادارہ جاتی چین آف کمانڈ میں رکھنے کی کوشش ہے۔ اگر اس اصول پر مستقل طور پر عمل کیا جائے تو مستقبل میں کسی معمولی اختلاف کے بڑے بحران میں تبدیل ہونے کے امکانات کم ہوسکتے ہیں۔
معاہدے میں ایم این اے شیر افضل خان مروت، ایم این اے مولانا نسیم علی شاہ اور ایم پی اے پختون یار خان کو اہلکاروں کے تبادلوں یا انتظامی خدشات کے ازالے کیلئے قانونی و جمہوری کردار ادا کرنے کا ذمہ دار قرار دیا گیا ہے۔
یہاں بھی ایک اہم لکیر کھینچنا ضروری ہے۔ سیاسی نمائندوں کا کردار ضمانت، عوامی شکایات کی نمائندگی اور جمہوری رابطے تک محدود رہنا چاہئے۔ انہیں پولیس یا CTD کے روزمرہ آپریشنل فیصلوں کا متبادل نہیں بننا چاہئے۔
اگر سیاسی قیادت انتظامی شکایات کو قانونی طریقے سے متعلقہ فورم تک پہنچاتی ہے تو یہ ادارہ جاتی نظام کو مضبوط کرتی ہے، لیکن اگر سیاسی دباؤ آپریشنل فیصلوں میں براہ راست مداخلت بن جائے تو وہی مسئلہ دوبارہ پیدا ہوسکتا ہے جسے ختم کرنے کیلئے معاہدہ کیا گیا ہے۔
سوشل میڈیا پر لکی مروت اور بنوں کے علاوہ خیبر پختونخوا کے عوامی حلقے یا سوشل ایکٹیویسٹ کا انتہائی اہم سوال نوٹ کیا گیا، کہ کیا اس معاہدے کے بعد بحران ختم ہوسکتا ہے؟ یہ شاید اس پورے معاملے کا سب سے اہم سوال ہے۔ فی الوقت کشیدگی کا کم ہونا مثبت پیش رفت ہے، لیکن اسے مستقل امن قرار دینا قبل از وقت ہوگا۔ بحران کا اصل امتحان اگلے مرحلے میں ہوگا۔
کیا امن کمیٹی اپنے متعین کردار تک محدود رہتی ہے؟
کیا پولیس کو اپنے قانونی اختیارات کے مطابق کام کرنے کی آزادی ملتی ہے؟
کیا CTD مطلوب افراد کے خلاف قانونی کارروائی بروقت مکمل کرتا ہے؟
کیا مختلف ادارے ایک دوسرے کے ساتھ معلومات شیئر کرتے ہیں؟
کیا پنجاب سے متصل جنگلاتی اور بعض پہاڑی علاقوں کی مسلسل نگرانی ہوتی ہے؟
کیا دہشتگردوں کے مقامی سہولت کاروں کے خلاف ثبوت کی بنیاد پر کارروائی ہوتی ہے؟
اور سب سے بڑھ کر، کیا کسی نئے واقعے کی صورت میں فریقین دوبارہ سڑکوں پر آنے کے بجائے اسی معاہدے کے طے شدہ ادارہ جاتی طریقہ کار کے تحت معاملہ حل کریں گے؟
شہریوں کے سوالات بالکل جائز ہے ان کا حق ہے کہ کوئی بھی شہری سنجیدہ سوال اٹھائے اور مترلقہ حلقے ان سوالات کا ترجیحی بنیادوں پر غور کریں، یہی کامیابی کی جانب پہلا پیش رفت ثابت ہوسکتا ہے۔ حالیہ کشیدگی سے سب سے بڑا سبق یہی ملتا ہے کہ بحران ختم ہونے کے بعد سیکیورٹی اداروں کو مطمئن ہوکر بیٹھ نہیں جانا چاہئے۔
دہشتگرد نیٹ ورک اپنی حکمت عملی تبدیل کرسکتے ہیں۔ ایک بڑا حملہ، کسی اہم شخصیت کی ہلاکت، پولیس اہلکاروں پر حملہ، کسی مشتبہ شخص کی گرفتاری یا کسی شہری کے ساتھ مبینہ زیادتی دوبارہ عوامی غصے کو جنم دے سکتی ہے۔
ایسے میں اگر اداروں کے درمیان اعتماد پہلے سے کمزور ہو تو ایک مقامی واقعہ تیزی سے پولیس بمقابلہ امن کمیٹی، سیاسی قیادت بمقابلہ انتظامیہ یا عوام بمقابلہ ریاست کے تنازع میں تبدیل ہوسکتا ہے۔
اسلئے موجودہ مفاہمت کو اختتام نہیں بلکہ ایک نئے سیکیورٹی فریم ورک کا آغاز سمجھنے کی ضرورت ہے۔
دی خیبر ٹائمز کا تجزیہ: آگ بجھ گئی ہے، راکھ ابھی گرم ہے
لکی مروت و بنوں بحران فی الوقت ٹل گیا ہے، مگر اس کے بنیادی اسباب پوری طرح ختم نہیں ہوئے۔
ریاست کیلئے سب سے ضروری کام یہ ہے کہ اختیار اور ذمہ داری کی لکیر واضح کی جائے۔
دہشتگردی کے خلاف کارروائی ریاست کے باقاعدہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ذمہ داری ہونی چاہئے۔ پولیس اور CTD کو مقامی نیٹ ورکس کے خلاف کارروائی کیلئے مطلوبہ وسائل، انٹیلی جنس اور قانونی اختیار دیا جائے۔ امن کمیٹیوں کو معاون اور رابطہ کاری کے کردار تک محدود رکھا جائے۔
اس کے ساتھ پنجاب سے متصل جنگلاتی پٹی اور مقامی طور پر “درگہ” کہلانے والے ممکنہ محفوظ علاقوں پر مستقل توجہ دی جائے۔
صرف ایک مرتبہ آپریشن کرنا کافی نہیں ہوگا۔ کلیئر، ہولڈ اور مانیٹر کی مستقل حکمت عملی درکار ہے۔
دوسری جانب دہشتگردوں کے ممکنہ سہولت کاروں کے خلاف کارروائی بھی قانون اور شواہد کی بنیاد پر ہونی چاہئے، تاکہ انسدادِ دہشتگردی کی کارروائی ذاتی دشمنیوں یا اجتماعی سزا میں تبدیل نہ ہو۔
اور سب سے اہم: انٹیلی جنس شیئرنگ:
اگر پولیس کو مقامی سطح پر حاصل ہونے والی معلومات بروقت CTD اور دیگر متعلقہ اداروں تک پہنچتی رہیں، اور مختلف ادارے ایک دوسرے کے ساتھ مربوط انداز میں کام کریں، تو دہشتگردی کے خلاف کارروائی زیادہ مؤثر ہوسکتی ہے۔
حالیہ عرصے میں کسی بڑے واقعے کا نہ ہونا یقیناً حوصلہ افزا ہے، لیکن اسے خطرے کے خاتمے کی علامت نہیں سمجھا جاسکتا۔
لکی مروت اور بنوں کو اس وقت وقتی سکون نہیں، مستقل سیکیورٹی میکانزم کی ضرورت ہے۔ کیونکہ اس خطے میں امن کا سب سے بڑا دشمن صرف دہشتگرد نہیں، اداروں کے درمیان عدم اعتماد، اختیارات کا ابہام اور معلومات کا بروقت تبادلہ نہ ہونا بھی اتنا ہی خطرناک ہوسکتا ہے۔
موجودہ معاہدہ اگر صرف ایک وقتی سیاسی سمجھوتہ بن کر رہ گیا تو اگلا بحران شاید پہلے سے زیادہ شدید ہو۔لیکن اگر اسے واضح کمانڈ، قانونی کارروائی، مضبوط پولیسنگ، مؤثر انٹیلی جنس اور اداروں کے درمیان مستقل رابطے کی بنیاد بنا دیا گیا تو یہی بحران ایک ایسے نظام کی تشکیل کا نقطۂ آغاز بھی بن سکتا ہے جو لکی مروت، بنوں اور ملحقہ علاقوں میں طویل المدتی امن کی بنیاد رکھ سکے۔ فیصلہ اب اس بات پر ہوگا کہ معاہدے پر دستخط کے بعد ادارے اسے کس حد تک عملی حقیقت بناتے ہیں۔
Exclusive Summary | The Khyber Times
Lakki Marwat Bannu Crisis: Power Struggle Over Security Roles Exposes Institutional Gaps
The recent Lakki Marwat-Bannu crisis may have eased following an agreement between the stakeholders, but the underlying security and administrative tensions remain unresolved. The crisis exposed a deeper problem: overlapping authorities and a lack of clarity between police, Counter Terrorism Department (CTD), security institutions, political representatives and local peace committees.
The agreement seeks to restore a clear chain of command by restricting peace committees to a supporting and intelligence-sharing role, while arrests, investigations, detention and legal proceedings against suspected militants remain the responsibility of formal state institutions. It also prohibits illegal detention, extrajudicial killings, enforced disappearances, torture and retaliatory actions.
A key provision requires suspected militants to be handed over to CTD and their arrests formally recorded. Peace committee members are also required to wear an approved uniform and are barred from conducting independent operations, blocking roads or participating in protests. Police authorities must be informed before operations, while the RPO Bannu has been designated as the final administrative reference in case of institutional disputes.
The report argues that the agreement will only succeed if these provisions are implemented in practice. Police and CTD need clearly defined authority, operational freedom, resources and real-time intelligence-sharing mechanisms, while political leaders should facilitate public grievances without interfering in operational decisions.
Another major security concern is the forested and mountainous belt along the Punjab KP boundary, where militant groups could potentially establish temporary hideouts and escape routes. The report recommends a sustained “clear, hold and monitor” strategy, rather than one-time operations, along with joint intelligence coordination between KP and Punjab authorities.
The report also highlights the importance of targeting militant support and facilitation networks, but strictly on the basis of evidence and due process to prevent counterterrorism measures from becoming tools for personal or tribal disputes.
The central question now is whether the agreement can transform a temporary truce into a permanent security framework. If institutional mistrust, unclear authority and poor intelligence-sharing persist, another major incident could quickly reignite the crisis.
The Khyber Times analysis: The fire may have been extinguished, but the ashes are still hot. The agreement provides an opportunity to build a stronger system based on lawful policing, unified command, intelligence coordination and accountability but its real test will be its implementation after the political settlement fades from public attention.




