English: Blockade on Balochistan highway with rocks and tires during security crisis

بلوچستان: شاہراہوں پر لوٹ مار اور بدامنی کے واقعات میں اضافہ، قلات سے 2 مسخ شدہ لاشیں برآمد

کوئٹہ ( ویب ڈیسک) بلوچستان میں مرکزی شاہراہوں پر مسافروں اور تجارتی گاڑیوں کی سیکیورٹی کے حوالے سے صورتحال انتہائی تشویشناک شکل اختیار کر گئی ہے۔ کوئٹہ سے مکران، تفتان، کراچی اور پنجاب کو ملانے والی شاہراہیں غیر محفوظ ہوتی جا رہی ہیں۔
پولیس زرائع کے مطابق مسلح افراد اور عسکریت پسند اہم شاہراہوں پر ناکے لگا کر مسافر بسوں کو روکتے ہیں، جہاں شہریوں کی شناختی دستاویزات چیک کی جاتی ہیں، جبکہ مسافروں سے نقدی، موبائل فون اور دیگر قیمتی سامان لوٹ لیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ مال بردار گاڑیوں کو لوٹنے اور انہیں نذرِ آتش کرنے کے واقعات میں بھی اضافہ ہوا ہے، جس سے تاجر برادری اور عام مسافروں میں خوف و ہراس پھیل رہا ہے۔
اسی اثناء میں ضلع قلات کے دو مختلف علاقوں ‘زوزائی’ اور ‘سوربڑو’ سے دو افراد کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں۔ لیویز اور سیکیورٹی حکام کے مطابق زوزائی سے ملنے والی لاش کی شناخت غلام حیدر ولد شاہ جہاں کے نام سے ہوئی ہے، جبکہ سوربڑو سے برآمد ہونے والی مسخ شدہ لاش کی شناخت فی الحال نہیں ہو سکی ہے۔ مقامی انتظامیہ نے لاشوں کو تحویل میں لے کر کارروائی کا آغاز کر دیا ہے اور شاہراہوں پر پیٹرولنگ بڑھانے کیلئے سیکیورٹی فورسز کو متحرک کیا جا رہا ہے۔

Exclusive Summary:

Balochistan is witnessing growing security concerns along major highways, with reports of armed groups stopping passenger buses, checking travelers’ identity documents and robbing passengers of cash, mobile phones and valuables. Cargo vehicles have also reportedly been looted and set on fire. Meanwhile, two bodies, including one described as mutilated, were recovered from separate areas of Qalat district. Authorities have launched investigations and are increasing security patrols along key routes.