Iranian photojournalist Yalda Moaiery smiling in a navy blue scarf

ایرانی عدالت نے اسرائیلی اور امریکی مفادات کیلئے کام کرنے کے الزام میں خاتون فوٹو جرنلسٹ کو 15 سال قید کی سزا سنادی

انٹرنیشنل فیڈریشن آف جرنلسٹس (IFJ) کا انکشاف، ایوارڈ یافتہ صحافی یلدا معیری کی غیر موجودگی میں فیصلہ،
خاتون صحافی کا موقف: “مجھے سماعت کی کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی”

پشاور (دی خیبر ٹائمز وار مانیٹرنگ ڈیسک) ایران کی ایک عدالت نے عالمی سطح پر معروف اور ایوارڈ یافتہ خاتون فوٹو جرنلسٹ یلدا معیری کو ان کی غیر موجودگی میں 15 سال قید کی سخت سزا سنا دی ہے۔
صحافیوں کی عالمی تنظیم انٹرنیشنل فیڈریشن آف جرنلسٹس (آئی ایف جے) کے مطابق، تہران کی عدالت نے یلدا معیری کو صیہونی حکومت (اسرائیل) اور ریاستہائے متحدہ امریکہ کے مفادات میں سرگرمیاں انجام دینے کا مجرم قرار دیا ہے۔ تنظیم کے بیان میں وضاحت کی گئی ہے کہ ان کے خلاف عائد تمام الزامات کا تعلق بنیادی طور پر ان کے پیشہ ورانہ صحافتی کام، تصاویر اور سوشل میڈیا سمیت آن لائن پلیٹ فارمز پر شائع کردہ مواد سے ہے۔
دوسری جانب ایوارڈ یافتہ فوٹو جرنلسٹ یلدا معیری نے فیصلے پر شدید تحفظات ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس عدالتی سماعت میں شریک نہیں ہو سکیں کیونکہ حکام یا عدالت کی طرف سے انہیں سماعت کی تاریخ، وقت یا مقدمے سے متعلق کوئی پیشگی اطلاع یا رسمی نوٹس فراہم ہی نہیں کیا گیا تھا۔ انہوں نے اس عدالتی فیصلے کو یکطرفہ اور غیر منصفانہ قرار دیا ہے۔
واضح رہے کہ یلدا معیری کو اس سے قبل ستمبر 2022 میں بھی ایرانی پولیس اور سیکیورٹی اداروں نے اس وقت گرفتار کیا تھا جب وہ 22 سالہ کرد خاتون مہسا امینی کی پولیس حراست میں ہلاکت کے بعد ملک بھر میں پھیلے احتجاجی مظاہروں کی کوریج کر رہی تھیں۔ ستمبر 2022 کی گرفتاری کے بعد وہ تقریباً 3 ماہ تک تہران کی ایوین جیل میں قید رہیں، جس کے بعد انہیں ضمانت پر رہا کر دیا گیا تھا۔
آئی ایف جے سمیت صحافتی آزادی کیلئے کام کرنے والی عالمی تنظیموں نے ایرانی حکام کے اس قدم پر شدید تشویش اور مذمت کا اظہار کیا ہے۔ عالمی برادری کا کہنا ہے کہ صحافیوں کو ان کی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں پر سزا دینا آزادیِ اظہارِ رائے پر حملہ ہے، اور ایران سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ صحافیوں پر عائد پابندیاں فوری ختم کرکے یلدا معیری کو باعزت رہا کیا جائے ۔

Summary: Iranian Photojournalist Yalda Moaiery Sentenced to 15 Years in Prison

Here is a summary of the news report regarding photojournalist Yalda Moaiery:

Key Highlights

  • 15-Year Prison Sentence: An Iranian court in Tehran has sentenced award-winning photojournalist Yalda Moaiery to 15 years in prison in absentia.

  • Nature of Charges: According to the International Federation of Journalists (IFJ), she was convicted of acting in favor of Israeli (“Zionist regime”) and U.S. interests.

  • Basis for Conviction: The charges against her stem directly from her professional photojournalism work and content published online.

  • Lack of Due Process: Moaiery stated she was never notified of the court date or issued a summons, leaving her unable to attend and defend herself in court.

  • Prior Arrest & Background: She was previously arrested in September 2022 while covering nationwide protests following the death of Mahsa Amini in police custody. She was released on bail after spending nearly three months in prison.

Fact Sheet

Detail Information
Subject

Yalda Moaiery (Award-winning Iranian Photojournalist)

Sentence

15 years imprisonment (in absentia)

Allegations

Working in favor of U.S. and Israeli interests via journalism and online posts

Reporting Source

International Federation of Journalists (IFJ)

Previous History

Detained in Sep 2022 during Mahsa Amini protests; bailed after ~3 months