پشاور ( دی خیبرٹائمز مانیٹرنگ ڈیسک ) ایران کے نائب وزیرِ خارجہ برائے قانونی و بین الاقوامی امور کاظم غریب آبادی نے پیر (27 جولائی) کو کہا ہے کہ تہران نے ثالثوں کی وساطت سے اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات میں امریکا کی پیش کردہ تجاویز محض اسلئے مسترد کر دی تھیں کہ ان میں امریکا کے بے جا مطالبات شامل تھے۔ ایران میں قانونی امور کے ماہرین کی ایک کانفرنس کے دوران کہا ہے کہ انہوں نے آبنائے ہرمز کے تنازع پر عمان میں ہونے والی بات چیت کی تفصیلات بھی بتائیں، جہاں بھی ایران نے ایک امریکی حمایت یافتہ تجویز مسترد کر دی تھی۔
غریب آبادی کے مطابق بات چیت اسلام آباد میں شروع ہوئی تھی، جہاں امریکی وفد نے ایسا منصوبہ پیش کیا جس میں بے جا مطالبات شامل کرکے غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کیا تھا۔ ان کے بقول: امریکی فریق نے دو انتہائی مطالبات رکھے اور کہا کہ اگر انہیں قبول نہ کیا گیا تو مذاکرات ناکام تصور کئے جائینگے اور وہ چلے جائیں گے۔ ہم نے پیش کئے جانے والے ان کے مطالبات کردئے اور انہیں جانے کیلئے کہہ دیا۔ ایرانی وفد نے منصوبہ واضح طور پر مسترد کیا تو امریکی وفد، اپنے پہلے سے کئے گئے اعلان کے مطابق، بات چیت چھوڑ کر واپس چلا گیا۔
نائب وزیرخارجہ نے بتایا کہ ایرانی وفد نے نہ تو مذاکرات جاری رکھنے پر اصرار کیا اور نہ ہی ایسی کوئی درخواست کی، اور ان کے بقول یہ رویہ اس بات کی مثال ہے کہ ایران باوقار انداز میں سفارت کاری کر رہا ہے۔
غریب آبادی نے آبنائے ہرمز کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے بتایا کہ ایران کی جانب سے اس اہم بحری گزرگاہ کو دوبارہ بند کئے جانے کے بعد عمان میں بھی بات چیت ہوئی۔ عمانی وفد نے زور دیا کہ جہازوں کی آمدورفت کیلئے کھول دیا گیا، جنوبی راستہ اُس وقت تک کھلا رکھا جائے جب تک ایران اور عمان کسی نتیجے پر نہ پہنچ جائیں، اور اس کے بعد اسے بند کر دیا جائے۔ ایران نے یہ تجویز بھی قبول نہیں کی۔
انہوں نے واضح کیا کہ بات چیت کا نتیجہ خواہ کچھ بھی نکلے، جنگ کے آغاز سے ہی ایران کی اصولی پالیسی واضح رہی ہے کہ ایسی تجاویز قبول نہیں کی جائیں گی، اور آبنائے ہرمز کو بند رکھنے کی پالیسی بدستور برقرار ہے، جسے انہوں نے ایران کی باوقار سفارت کاری کی ایک اور مثال قرار دیا۔
موجودہ کشیدگی کی بنیاد 28 فروری 2026 میں پڑی، جب امریکا اور اسرائیل نے ایران کے خلاف مشترکہ فضائی مہم کا آغاز کیا۔ صرف 12 گھنٹوں کے دوران تقریباً 900 حملے کئے گئے جن کا نشانہ ایران کی جوہری تنصیبات، فوجی ڈھانچہ اور اعلیٰ قیادت تھی۔ ابتدائی حملوں ہی میں اُس وقت کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای سمیت درجنوں اعلیٰ حکام ہلاک ہو گئے۔ ایک ہفتے بعد ایران کی 88 رکنی مجلسِ خبرگان نے خامنہ ای کے صاحبزادے مجتبیٰ خامنہ ای کو نیا سپریم لیڈر مقرر کر دیا۔
ایران نے جوابی کارروائی میں اسرائیل، خطے میں امریکی اڈوں اور خلیجی ممالک پر میزائل و ڈرون حملے کئے، جبکہ جنگ کے آغاز ہی سے آبنائے ہرمز بند کر دیا گیا، یہ وہ اہم گزرگاہ ہے جہاں سے دنیا کے تقریباً بیس فیصد تیل کی ترسیل ہوتی ہے۔ آٹھ اپریل 2026 کو پاکستان کی ثالثی سے ایک مشروط جنگ بندی طے پائی۔
طویل مذاکرات کے بعد، جن میں پاکستان کے علاوہ قطر، سعودی عرب، ترکیہ اور مصر نے بھی ثالثی کی، امریکا اور ایران نے 17 جون 2026 کو اسلام آباد میمورنڈم آف انڈرسٹینڈنگ پر دستخط کئے۔ صدر ٹرمپ نے یہ معاہدہ فرانس کے شہر ورسائے میں جی سیون اجلاس کے موقع پر دستخط کیا، ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے تہران میں، جبکہ وزیراعظم شہباز شریف نے بطور ثالث اسلام آباد میں اس کی توثیق کی۔ چودہ نکات پر مشتمل اس معاہدے میں جنگ کے مستقل خاتمے، ایک دوسرے کی خودمختاری کے احترام، حتمی معاہدے کیلئے 60 روزہ مذاکراتی مدت، آبنائے ہرمز سے تجارتی جہازوں کی محفوظ اور بلا معاوضہ آمدورفت کی بحالی، اور امریکی بحری ناکہ بندی کے خاتمے جیسے نکات شامل تھے۔
معاہدے کے باوجود کشیدگی برقرار رہی، جولائی کے پہلے ہفتے میں ایران نے آبنائے ہرمز میں قطری ایل این جی ٹینکر سمیت متعدد تجارتی جہازوں پر حملے کئے، جس کے جواب میں امریکا نے فضائی حملوں کا سلسلہ شروع کیا جو کئی دن جاری رہا، اور 8 جولائی تک صدر ٹرمپ نے اعلان کر دیا کہ مفاہمتی یادداشت ختم ہو چکی ہے۔ ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے آبنائے ہرمز کو دوبارہ اگلے حکم تک بند کرنے کا اعلان کیا، جس کے بعد ایران نے بحرین، کویت، اردن، قطر اور عمان پر بھی حملے کئے۔ امریکا نے جوابی طور پر تین راتوں کے دوران 300 سے زائد اہداف نشانہ بنائے۔ اٹھارہ جولائی کو غریب آبادی نے باضابطہ طور پر اعلان کیا کہ امریکی خلاف ورزیوں کے سبب ایران نے اسلام آباد معاہدے کے تحت اپنی تمام تر ذمہ داریوں پر عمل درآمد معطل کر دیا ہے۔
اسی دوران صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ 12 جولائی کو عمان میں ایران اور امریکا کے مابین 11 گھنٹے تک براہ راست مذاکرات ہوئے جن میں طویل مدتی امن معاہدہ طے پا گیا تھا، مگر بعد میں ایران نے نئے مطالبات پیش کر دئے۔ غریب آبادی نے اس دعوے کی سختی سے تردید کی اور کہا کہ عمان میں صرف عمانی حکام سے ملاقاتیں ہوئی تھیں، امریکا کے ساتھ کوئی براہ راست مذاکرات نہیں ہوئے۔
گزشتہ چند روز کے دوران کشیدگی میں کچھ کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ صدر ٹرمپ کے بقول انہوں نے علاقائی ثالثوں کی درخواست پر گزشتہ جمعہ سے حملے روک رکھے ہیں، جو 8 اپریل کی جنگ بندی کے بعد سب سے نمایاں وقفہ ہے۔ خطے کے ذرائع کے مطابق کسی بڑے حملے کے بغیر گزرے دنوں میں مذاکرات میں “نمایاں پیش رفت” ہوئی ہے، خصوصاً آبنائے ہرمز میں بحری ٹریفک کے انتظام کے حوالے سے، جس پر ایران اور عمان کے درمیان براہ راست بات چیت جاری ہے۔ تاہم ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے پیر کو تہران میں پریس کانفرنس میں واضح کیا کہ اگرچہ ثالث فریقین کے پیغامات پہنچا رہے ہیں، امریکا کے ساتھ فی الوقت کوئی براہ راست مذاکرات نہیں ہو رہے۔
بلوم برگ کی رپورٹ کے مطابق ایران اور عمان اب آبنائے ہرمز میں ایک تیسرا راستہ کھولنے پر بھی غور کر رہے ہیں، جو موجودہ شمالی (ایرانی) اور جنوبی (عمانی) راستوں کے درمیان واقع ہے اور جنگ کے آغاز سے تقریباً غیر مستعمل رہا ہے۔ عمانی مذاکرات کاروں نے امید ظاہر کی ہے کہ اس بارے میں چند ہی دنوں میں معاہدہ طے پا سکتا ہے۔ ایران نے روس میں اپنے سفیر کے ذریعے یہ بھی واضح کیا ہے کہ روسی جہازوں کیلئے آبنائے ہرمز سے گزرنے کی خصوصی سہولت برقرار رہے گی۔
اس نرمی کے باوجود صدر ٹرمپ نے پیر کو اسرائیلی ٹی وی چینل کو انٹرویو میں خبردار کیا کہ اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو امریکا دوبارہ سخت فوجی کارروائی کی طرف لوٹ جائیگا، اور سفارتی موقع محدود ہے۔ معاملات کو یا تو تیزی سے آگے بڑھنا ہوگا، یا بالکل نہیں۔ ٹرمپ منگل کو وائٹ ہاؤس میں اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو سے ملاقات کریں گے، جس میں نیتن یاہو کی جانب سے ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق انٹیلی جنس معلومات پیش کئے جانے کی توقع ہے۔ عالمی تیل منڈی میں بھی اس نرمی کے واضح اثرات دیکھے گئے ہیں، پیر کو برینٹ خام تیل کی قیمت میں 11 فیصد سے زائد کمی ریکارڈ کی گئی، جو اپریل کے بعد ایک ہی دن میں سب سے بڑی کمی ہے۔
خیال رہے کہ ایران، امریکا اور خطے کے دیگر ممالک کے درمیان جاری کشیدگی اور مذاکرات کی صورتحال تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے۔ اس رپورٹ میں شامل معلومات 28 جولائی 2026 تک دستیاب تازہ ترین اطلاعات پر مبنی ہیں۔
Exclusive Summary : Sources linked to Tehrik-e-Taliban Pakistan (TTP) claim that the Afghan Taliban leadership has instructed TTP and Jamaat-ul-Ahrar members to operate inside Pakistan, record videos of their alleged training camps and activities, and publish them on social media to create the impression that they are based in Pakistan rather than Afghanistan. The claims could not be independently verified.




