Galyat Development Authority GDA office building in Abbottabad, Khyber Pakhtunkhwa

گلیات ڈیولپمنٹ اتھارٹی میں شدید انتظامی بحران

معاون خصوصی عدیل اقبال کے رویے کے خلاف ڈی جی سمیت 3 اعلیٰ افسران کا تبادلے کا مطالبہ

سوشل میڈیا پر تشہیر اور سیاسی مداخلت سے ورکنگ ماحول متاثر، عدیل اقبال کا غیر قانونی تعمیرات کی ہائی لیول انکوائری کا اعلان، افسران کے تبادلے کی درخواستوں کو ذاتی معاملہ قرار دے دیا

پشاور (دی خیبر ٹائمز مانیٹرنگ ڈیسک) خیبر پختونخوا کے اہم ترین سیاحتی زون گلیات میں صوبائی حکومت کے معاون خصوصی برائے سیاحت عدیل اقبال اور گلیات ڈیولپمنٹ اتھارٹی (GDA) کی انتظامیہ کے درمیان شدید تنازعہ کھڑا ہو گیا ہے۔ عدیل اقبال کے مبینہ غیر مناسب روئے اور اسے سوشل میڈیا پر تشہیر کرنے کے خلاف جی ڈی اے کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) سمیت تین اعلیٰ ترین افسران نے اپنے تبادلے کیلئے چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا کو تحریری درخواستیں جمع کرا دی ہیں۔
ذرائع کے مطابق یہ تنازعہ چند روز قبل اس وقت شروع ہوا جب معاون خصوصی برائے سیاحت عدیل اقبال نے گلیات کا دورہ کیا۔ دورے کے دوران معاون خصوصی کا جی ڈی اے کے اعلیٰ افسران کے ساتھ رویہ انتہائی غیر مناسب اور سخت رہا۔ مبینہ طور پر افسران کو سرِعام ہراساں اور تضحیک کا نشانہ بنایا گیا، اور اس دوران بننے والی ویڈیوز کو بعد میں معاون خصوصی کے آفیشل اور ذاتی سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر شیئر کیا گیا، جس سے بیوروکریسی اور سرکاری ملازمین میں شدید تشویش پھیل گئی۔
اس واقعے کے فوری بعد گلیات ڈیولپمنٹ اتھارٹی (GDA) کے تین اہم ترین اور سینئر افسران محمد فہد (ڈائریکٹر جنرل، جی ڈی اے) نور الحق (ڈائریکٹر ایڈمنسٹریشن) اور فرخ جدون (ڈائریکٹر بلڈنگ کنٹرول) نے مشترکہ طور پر چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا کو اپنے تبادلے کی درخواستیں ارسال کر دیں۔
چیف سیکرٹری کو لکھی گئی درخواست میں افسران نے واضح موقف اپنایا ہے، کہ حالیہ فیلڈ وزٹ کے دوران کئے گئے بعض عوامی بیانات اور سوشل میڈیا پر تشہیر سے ادارے کا ورکنگ ماحول بری طرح متاثر ہوا ہے۔ قانونی اور انتظامی ابہام کے باعث ادارے کی مؤثر کارکردگی متاثر ہو رہی ہے۔ یہ درخواست کسی ایک واقعے کا نتیجہ نہیں بلکہ ذاتی وجوہات پر مبنی ہے، لہٰذا سرکاری خدمت کے بہتر مفاد میں ہمارا تبادلہ کسی دوسری مناسب جگہ کیا جائے۔
درخواست میں مزید یاد دہانی کرائی گئی ہے کہ گزشتہ چھ ماہ کے دوران جی ڈی اے میں اہم اور انقلابی اصلاحات متعارف کرائی گئی تھیں، لیکن موجودہ حالات میں کام جاری رکھنا ممکن نہیں رہا۔
دوسری جانب، معاون خصوصی برائے سیاحت عدیل اقبال نے اس معاملے پر اپنا سخت موقف برقرار رکھا ہے۔ میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انہوں نے یہ دورہ عوامی شکایات اور تجاوزات کی بڑے پیمانے پر موجودگی کے بعد کیا تھا۔
ان کا کہنا تھا، کہ وہ وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کی واضح ہدایات کے مطابق گلیات میں تجاوزات کے خلاف بلا امتیاز کارروائی یقینی بنائیں گے، حکومت گلیات میں ہونے والی تمام غیر قانونی تعمیرات کی اعلیٰ سطح پر انکوائری کرانے جا رہی ہے، جس افسر یا اہلکار نے بھی اپنے دور میں غیر قانونی تعمیرات کی اجازت دی یا اس میں معاونت کی، اس کے خلاف سخت ترین تادیبی کارروائی کی جائے گی، اگر کسی افسر نے غصے یا دباؤ میں آ کر عہدے سے ہٹنے کی درخواست دی ہے تو یہ ان کا خالصتاً ذاتی معاملہ ہے، حکومت دباؤ میں نہیں آئے گی۔
اس واقعے کے بعد سوشل میڈیا اور عوامی حلقوں میں ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے۔ سوشل میڈیا صارفین کی ایک بڑی تعداد کا کہنا ہے کہ عدیل اقبال سمیت خیبرپختونخوا کے اکثر وزرا اور معاونین انتظامی امور چلانے کا تجربہ نہیں رکھتے۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ موجودہ صوبائی حکومت کے بیشتر وزراء اور معاونین ناتجربہ کار ہیں، جو مائیکرو مینجمنٹ اور سستی شہرت (سوشل میڈیا پبلسٹی) کیلئے اداروں کے سربراہان کو سرِعام تذلیل کا نشانہ بناتے ہیں، جس سے صوبے کا انتظامی ڈھانچہ مفلوج ہو رہا ہے۔ تاہم، عدیل اقبال کے حامیوں کا دعویٰ ہے کہ بیوروکریسی مافیا کے ساتھ ملی بھگت کر کے غیر قانونی تعمیرات کو تحفظ دے رہی تھی اور معاون خصوصی نے عوامی مفاد میں ایکشن لیا ہے۔
اب گیند چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا کے کورٹ میں ہے کہ آیا وہ ان تینوں افسران کے تبادلے کی درخواست منظور کرتے ہیں یا اس سیاسی و انتظامی تنازعے کو حل کرنے کیلئے کوئی درمیانی راہ نکالی جاتی ہے۔