دی خیبر ٹائمز مانیٹرنگ ڈیسک : خلیج فارس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایک انتہائی جارحانہ اقدام کے بعد امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی عروج پر پہنچ گئی ہے۔ امریکی صدر نے تزویراتی طور پر انتہائی اہم سمندری گزرگاہ ‘آبنائے ہرمز’ کی دوبارہ ناکہ بندی کا اعلان کرتے ہوئے وہاں سے گزرنے والے تمام تجارتی جہازوں پر بھاری ٹیکس عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس پر ایرانی فوج کی جانب سے بھی انتہائی سخت اور خطرناک ردعمل سامنے آیا ہے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بین الاقوامی سیاست اور عالمی معیشت کو ہلا کر رکھ دینے والے فیصلوں کا اعلان کیا، کہ اب سے دنیا بھر میں امریکا کو آبنائے ہرمز کے محافظ کے نام سے جانا جائے گا، انہوں نے اعلان کیا کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تمام تجارتی کارگو پر 20 فیصد کی شرح سے فیس وصول کی جائے گی۔
انہوں نے وضاحت کی کہ یہ ناکہ بندی دیگر ممالک کیلئے نہیں ہے۔ آبنائے ہرمز کھلا ہے اور مستقبل میں بھی کھلا رہے گا۔ آزادانہ نقل و حمل کی اجازت ہوگی، تاہم یہ ناکہ بندی صرف ایرانی بحری جہازوں اور ان کے گاہکوں کو روکنے کیلئے کی گئی ہے۔ امریکی صدر کے مطابق آبنائے ہرمز پر کنٹرول، ناکہ بندی اور فیس کی وصولی کے نئے طریقہ کار پر فوری طور پر عمل شروع کیا جا رہا ہے، سخت گیر موقف اپناتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو براہ راست فوجی کارروائی کی دھمکی بھی دی۔ انہوں نے کہا، کہ اگر ایران نے مجھے قتل کرنے یا اقدامِ قتل کی کسی بھی دھمکی پر عمل کرنے کی کوشش کی، تو اس کے نتائج انتہائی سنگین ہوں گے۔ ایسی صورت میں ایران کو ایک ہزار میزائلوں سے نشانہ بنایا جائے گا۔”
امریکی بیانات پر ردعمل دیتے ہوئے ایرانی حکام نے واضح کیا ہے کہ انہوں نے امریکا کے سامنے گھٹنے نہیں ٹیکے۔ ایرانی حکومت کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے، کہ ہم نے امریکا سے کسی قسم کے مذاکرات کی کوئی درخواست نہیں کی ہے۔ تاہم، کشیدگی کو کم کرنے کیلئے ہم نے قطری ثالثوں کے دورہِ ایران کو قبول کیا تھا اور ان سے بات چیت ہوئی ہے۔
امریکی صدر کی جانب سے آبنائے ہرمز پر کنٹرول حاصل کرنے کے دعوے پر ایرانی مسلح افواج بپھر گئیں اور انہوں نے گامبرون (آبنائے ہرمز) کے دفاع کیلئے کھلم کھلا وارننگ جاری کر دی، ایرانی فوج نے اپنے آفیشل بیان میں دوٹوک الفاظ میں کہا کہ وہ امریکا کو کسی بھی صورت آبنائے ہرمز کے معاملات میں مداخلت کی اجازت نہیں دیں گے۔
ایران کی مرضی اور اجازت کے بغیر آبنائے ہرمز میں ہونے والی کسی بھی امریکی یا غیر ملکی سرگرمی کا انتہائی سخت اور منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔
ایرانی فوج نے خلیجی اور ہمسایہ ممالک کو مخاطب کرتے ہوئے خطرناک انتباہ جاری کیا کہ:
اگر خطے کے کسی بھی ملک نے اس معاملے میں امریکا کی حمایت کی یا اس کا ساتھ دیا، تو اسے ایران کے خلاف براہِ راست جنگ تصور کیا جائے گا۔
ایرانی عسکری قیادت نے خبردار کیا کہ اگر امریکا نے اپنی ہٹ دھرمی برقرار رکھی تو یہ کشیدگی پورے خطے میں پھیل جائے گی، جس کی مکمل تباہی اور ذمہ داری امریکا اور اس کے اتحادیوں پر عائد ہوگی۔
ماہرینِ معیشت کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز پر 20 فیصد فیس اور ناکہ بندی کے اس اعلان سے دنیا بھر میں تیل کی قیمتوں میں زبردست اچھال اور عالمی تجارتی بحران پیدا ہونے کا شدید خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔
أ——————————————————————————
Exclusive Summary: US-Iran Standoff Escalates Over Strait of Hormuz
US President Donald Trump has announced an immediate naval blockade of the Strait of Hormuz, declaring the US the official “guardian” of the critical maritime choke point. The move introduces heavy economic penalties and direct military threats, sparking an immediate and fierce backlash from Tehran.Key Takeaways:The Blockade & 20% Fee: The US will levy a 20% fee on all commercial cargo passing through the strait. While open to other nations, the blockade strictly targets Iranian vessels and their trade partners.The 1,000-Missile Threat: Trump issued a direct military warning, promising retaliation with 1,000 missiles if Iran attempts to execute any assassination plots or threats against his life.Iran’s Diplomatic Stance: Tehran firmly denied requesting talks with Washington, though they confirmed accepting a diplomatic visit from Qatari mediators.Military Retaliation Warning: The Iranian military vowed to block US interference. Crucially, they warned neighboring countries that supporting the US will be treated as a direct act of war against Iran, risking a full-scale regional conflict.The Stakes: While designed to squeeze Iran’s economy, the 20% global cargo fee and potential military confrontation risk triggering an immediate global energy crisis and skyrocketing oil prices.




