مشرقِ وسطیٰ جنگ: امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کا معاہدہ ختم، دونوں جانب سے شدید فضائی حملے
دی خیبر ٹائمز مانیٹرنگ ڈیسک
خلیج فارس میں جاری کشیدگی ایک بار پھر خطرناک موڑ پر پہنچ گئی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جنگ بندی کے خاتمے کے اعلان کے بعد امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کھلی جنگ میں تبدیل ہو چکی ہے۔
امریکا اور ایران کے درمیان گزشتہ ماہ طے پانے والا فریجائل (نازک) جنگ بندی کا معاہدہ اب مکمل طور پر ختم ہو چکا ہے۔ اس معاہدے کا بنیادی مقصد آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کی محفوظ آمدورفت کو یقینی بنانا تھا، تاہم دونوں فریقین ایک دوسرے پر معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرتے رہے ہیں۔ امریکی حکام کے مطابق، ایران نے تجارتی جہازوں پر حملے جاری رکھے، جبکہ ایران کا مؤقف ہے کہ وہ آبنائے ہرمز پر اپنی خود مختاری اور نگرانی چاہتا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نہایت سخت لہجہ اختیار کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ جنگ بندی ختم ہو چکی ہے۔ انہوں نے دھمکی دی ہے کہ امریکا ایران کو سخت جواب دے گا ۔ صدر ٹرمپ کے مطابق، ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانا اور امریکی مفادات کو چیلنج کرنا اب ناقابلِ برداشت ہے۔
ایران کی جانب سے بھی جارحانہ بیانات اور کارروائیاں جاری ہیں۔ ایرانی پاسدارانِ انقلاب کا کہنا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز میں اپنی نگرانی برقرار رکھنے کیلئے کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہیں۔ تازہ ترین کارروائی میں ایران نے نہ صرف امریکی اہداف بلکہ خلیجی ممالک بحرین، کویت اور قطر میں بھی اپنے حملوں کا دائرہ بڑھایا ہے، جسے تہران کی جانب سے ایک انتباہ قرار دیا جا رہا ہے۔
جمعرات کی صبح امریکا نے ایران کے 90 سے زائد فوجی اہداف کو نشانہ بنایا۔ ان حملوں میں ایران کے ایئر ڈیفنس سسٹم، میزائل اور ڈرون اسٹوریج سائٹس کو تباہ کرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
ایران نے جواب میں بحرین، کویت اور قطر میں موجود فوجی تنصیبات پر میزائل اور ڈرون داغے۔ بحرین کے حکام نے تصدیق کی ہے کہ انہوں نے کئی ایرانی ڈرونز کو فضا میں ہی تباہ کر دیا۔
یہ فائرنگ کا سلسلہ جو گزشتہ ماہ کے معاہدے کے بعد کچھ عرصے کیلئے تھم گیا تھا، ایک بار پھر شدت اختیار کر چکا ہے۔ یہ سکون کا وقفہ بہت قلیل تھا، کیونکہ دونوں ممالک کے درمیان بنیادی تنازعات آبنائے ہرمز پر کنٹرول پر کوئی دیرپا حل نہیں نکل سکا۔
آج صبح سے ہی خطے میں خوف و ہراس پایا جاتا ہے۔ کویت اور بحرین کی فضائی حدود میں سائرن بجتے رہے ہیں۔ امریکی سینٹ کام کا کہنا ہے کہ وہ اپنے اثاثوں اور تجارتی جہازوں کے تحفظ کیلئے مکمل طور پر تیار ہے۔
خطے کے ماہرین اور سینیئر صحافیوں کی رائے ہے، کہ دونوں ممالک اس وقت ایک ایسی جنگ میں الجھ چکے ہیں جہاں سفارت کاری کے راستے بند ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔ ایران جہاں آبنائے ہرمز پر اپنا کنٹرول منوانا چاہتا ہے، وہیں امریکا اسے عالمی تجارت کیلئے آزاد راستہ قرار دے کر طاقت کا استعمال کر رہا ہے۔ آنے والے دن اس خطے کیلئے انتہائی فیصلہ کن ثابت ہوں گے۔
دی خیبر ٹائمز اپنے قارئین کو اس سنگین صورتحال پر لمحہ بہ لمحہ اپ ڈیٹ کرتا رہے گا۔
——————————————————–
EXCLUSIVE: Middle East Escalation as US-Iran Ceasefire Collapses
The fragile ceasefire between the United States and Iran has officially collapsed, leading to a direct and intensifying military confrontation in the region.
Key Developments:
Status of the Agreement: The previous ceasefire, intended to ensure the safe passage of commercial vessels through the Strait of Hormuz, has been declared void as both nations accused each other of breaching the terms.
US Stance: President Donald Trump has officially declared the ceasefire over, promising to “hit [Iran] hard.” This follows continued Iranian efforts to challenge American interests and trade navigation in the Strait of Hormuz.
Iran’s Position: Iran remains defiant, asserting its readiness to go to any lengths to maintain surveillance and control over the Strait of Hormuz. Tehran has significantly expanded the conflict zone beyond direct US targets, directing aggression toward neighboring Gulf nations.
Latest Situation Report (July 9, 2026):
Duration of Calm: The period of calm, which followed last month’s temporary agreement, has ended, and intense military engagement has resumed.
Military Activity:
US Operations: In a major offensive this morning, the US launched strikes on over 90 Iranian military targets, aiming to neutralize air defense systems, missile sites, and drone storage facilities.Iranian Retaliation: Iran responded to the American strikes by launching drone and missile attacks against military facilities in Bahrain, Kuwait, and Qatar. Bahraini officials have confirmed the interception of several hostile drones.The region remains in a state of high alert as diplomatic avenues appear increasingly limited.




