تہران (دی خیبر ٹائمز مانیٹرنگ ڈیسک) تہران میں شہید سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی نمازِ جنازہ کی تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں، جبکہ اس موقع پر ایران نے اسرائیل اور امریکا کو واضح اور دو ٹوک الفاظ میں خبردار کیا ہے کہ اگر جنازے کے دوران کسی بھی قسم کی جارحیت یا اشتعال انگیزی کی گئی تو ایرانی ردعمل انتہائی سخت اور فیصلہ کن ہوگا۔
آیت اللہ علی خامنہ ای کی نمازِ جنازہ کل تہران میں ادا کی جائیگی، جس کیلئے سیکیورٹی کے انتہائی سخت اور غیر معمولی انتظامات کئے گئے ہیں۔ تہران کی سڑکوں پر سوگ کا سماں ہے اور عوام کی بڑی تعداد شہید لیڈر کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کیلئے جمع ہو رہی ہے۔
ایرانی حکام کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ دشمن کو یہ بات ذہن نشین کر لینی چاہئے کہ جنازے کے جلوس یا تدفین کے عمل کے دوران کسی بھی طرح کا حملہ ایران کیلئے ناقابلِ قبول ہوگا۔ بیان میں خبردار کیا گیا ہے کہ اگر اسرائیل یا امریکہ نے اس حساس موقع پر کوئی غلطی کی تو اسے ایران کے انتہائی سخت اور تباہ کن جواب کا سامنا کرنا پڑے گا۔
اس تاریخی اور اہم موقع پر عالمی برادری کی نظریں تہران پر مرکوز ہیں۔ حکام کے مطابق، نمازِ جنازہ میں شرکت کیلئے دنیا بھر سے اعلیٰ سطحی وفود کی آمد کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔ اس تقریب میں کئی سربراہانِ مملکت سمیت دنیا بھر کے 100 سے زائد ممالک کے وفود اور مندوبین شرکت کریں گے۔ اس غیر معمولی عالمی شرکت کو ایران کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
سپریم کمانڈر کے آخری رسومات کی آدائیگی کیلئے تہران کی انتظامیہ نے سیکیورٹی کے سخت ترین انتظامات کئے ہیں، شہر کے اہم داخلی و خارجی راستوں پر سیکیورٹی کے خصوصی دستے تعینات کرکے کڑی نگرانی کی جا رہی ہے۔ انتظامیہ اور حکومتی عہدیداروں نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ نظم و ضبط کا مظاہرہ کریں اور سیکیورٹی اداروں کے ساتھ مکمل تعاون کریں۔
تہران (دی خیبر ٹائمز مانیٹرنگ ڈیسک) تہران میں شہید سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی نمازِ جنازہ کی تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں، جبکہ اس موقع پر ایران نے اسرائیل اور امریکا کو واضح اور دو ٹوک الفاظ میں خبردار کیا ہے کہ اگر جنازے کے دوران کسی بھی قسم کی جارحیت یا اشتعال انگیزی کی گئی تو ایرانی ردعمل انتہائی سخت اور فیصلہ کن ہوگا۔
آیت اللہ علی خامنہ ای کی نمازِ جنازہ کل تہران میں ادا کی جائیگی، جس کیلئے سیکیورٹی کے انتہائی سخت اور غیر معمولی انتظامات کئے گئے ہیں۔ تہران کی سڑکوں پر سوگ کا سماں ہے اور عوام کی بڑی تعداد شہید لیڈر کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کیلئے جمع ہو رہی ہے۔
ایرانی حکام کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ دشمن کو یہ بات ذہن نشین کر لینی چاہئے کہ جنازے کے جلوس یا تدفین کے عمل کے دوران کسی بھی طرح کا حملہ ایران کیلئے ناقابلِ قبول ہوگا۔ بیان میں خبردار کیا گیا ہے کہ اگر اسرائیل یا امریکہ نے اس حساس موقع پر کوئی غلطی کی تو اسے ایران کے انتہائی سخت اور تباہ کن جواب کا سامنا کرنا پڑے گا۔
اس تاریخی اور اہم موقع پر عالمی برادری کی نظریں تہران پر مرکوز ہیں۔ حکام کے مطابق، نمازِ جنازہ میں شرکت کیلئے دنیا بھر سے اعلیٰ سطحی وفود کی آمد کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔ اس تقریب میں کئی سربراہانِ مملکت سمیت دنیا بھر کے 100 سے زائد ممالک کے وفود اور مندوبین شرکت کریں گے۔ اس غیر معمولی عالمی شرکت کو ایران کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
سپریم کمانڈر کے آخری رسومات کی آدائیگی کیلئے تہران کی انتظامیہ نے سیکیورٹی کے سخت ترین انتظامات کئے ہیں، شہر کے اہم داخلی و خارجی راستوں پر سیکیورٹی کے خصوصی دستے تعینات کرکے کڑی نگرانی کی جا رہی ہے۔ انتظامیہ اور حکومتی عہدیداروں نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ نظم و ضبط کا مظاہرہ کریں اور سیکیورٹی اداروں کے ساتھ مکمل تعاون کریں۔
:یہ بھی ملاحظہ کیجئے
قبائلی ضلع کرم میں ٹی ٹی پی اور جماعت الاحرار کا خونیں تصادم: عسکری دھڑے بندی اور مستقبل کا منظرنامہ
_____________________________________________
As of July 4, 2026, Iran has officially begun a massive, multi-day funeral process for the late Supreme Leader Ayatollah Ali Khamenei in Tehran. Following his death in February 2026, these state-organized ceremonies are being conducted amidst high security and significant international attention, with global delegations in attendance. Iranian authorities have issued strict warnings against any foreign interference or provocation during this period of national mourning.




