طورخم بارڈر پر بندش کے باعث مال بردار ٹرکوں کی لمبی قطار اور سڑک کنارے پریشان بیٹھا ہوا ایک ڈرائیور

بند سرحدیں، ٹوٹتے روزگار: پاک افغان کشیدگی کا خمیازہ کون بھگت رہا ہے؟

دی خیبر ٹائمز : خصوصی مضمون
طورخم اور چمن کی سرحدی گزرگاہوں پر جب پھاٹک بند ہوتا ہے تو یہ محض دو ملکوں کے درمیان ایک انتظامی فیصلہ نہیں ہوتا۔ اس ایک فیصلے کے پیچھے ہزاروں ٹرک ڈرائیور، دیہاڑی دار مزدور، پھل و سبزی کے تاجر اور وہ خاندان ہوتے ہیں جن کے گھر کا چولہا اسی سرحد پار آمد و رفت سے جلتا ہے۔ پاکستان اور افغانستان کے تعلقات کی تاریخ ہمیشہ سے نشیب و فراز کا شکار رہی ہے، مگر حالیہ برسوں میں یہ اتار چڑھاؤ اتنی بار دہرایا گیا ہے کہ سرحد کے دونوں اطراف بسنے والے عام شہریوں کی زندگی غیر یقینی کی مستقل کیفیت میں جینے پر مجبور ہو چکی ہے۔
جب سیاست سرحد پر بھی تالا لگا دیتی ہے
گزشتہ ڈیڑھ دو برس کے دوران طورخم اور چمن کی گزرگاہیں کئی بار ہفتوں بلکہ مہینوں کیلئے بند رہ چکی ہیں۔ کبھی سرحدی چوکیوں کی تعمیر پر تنازع کھڑا ہوا، کبھی فائرنگ کے تبادلے نے حالات کشیدہ کئے، اور کبھی دونوں ممالک کے درمیان بڑھتی بداعتمادی نے راستے بند کروا دئے۔ ہر بار جب یہ گزرگاہیں بند ہوئیں، تو نقصان کا سب سے پہلا اور سب سے بھاری بوجھ سرحدی علاقوں کے عام لوگوں پر پڑا۔
چمن جیسے شہر کی بڑی آبادی کا روزگار براہ راست پاک افغان تجارت سے جڑا ہوا ہے۔ ایک طویل بندش کے دوران وہاں روزانہ لاکھوں ڈالر کا نقصان ہوتا رہا، سبزی منڈی سے وابستہ تاجروں کا مال گوداموں اور کنٹینروں میں سڑتا رہا، اور مزدور پیشہ گھرانوں کیلئے دو وقت کی روٹی کمانا مشکل ہو گیا۔ طورخم کی جانب بھی یہی منظر بار بار دہرایا گیا، سینکڑوں مال بردار گاڑیاں راستے میں پھنسی رہیں، پھل اور سبزیاں خراب ہوتی رہیں، اور جو خاندان روزانہ کی بنیاد پر مزدوری یا چھوٹے کاروبار سے کمائی کرتے تھے، ان کیلئے فاقوں کی نوبت آ گئی۔ سرحد کے اس پار مریضوں کو علاج کے لئے آنا جانا بھی مشکل ہو گیا، اور کئی بار سرحد پار خاندان مہینوں ایک دوسرے سے ملنے سے محروم رہے۔
اس کشیدگی کا اثر صرف روزمرہ مزدوروں تک محدود نہ رہا۔ ادویات ساز کمپنیوں کی افغانستان کو برآمدات، جو بعض کاروباروں کی آمدنی کا خاصا بڑا حصہ ہیں، شدید متاثر ہوئیں۔ سیمنٹ سازی جیسی صنعتوں کو، جو کم لاگت افغان کوئلے پر انحصار کرتی تھیں، مہنگا درآمدی کوئلہ خریدنا پڑا۔ سرکاری اندازوں کے مطابق محض چند ہفتوں کی بندش سے دونوں ممالک کو محصولات کی مد میں اربوں روپے کا نقصان اٹھانا پڑا، اور اگر یہ صورتحال طویل عرصے تک برقرار رہتی تو نقصان کا دائرہ مزید کئی گنا بڑھ سکتا تھا۔
اسی غیر یقینی صورتحال نے پاکستان کو مجبور کیا کہ وہ افغانستان کے راستے پر انحصار کم کرنے کیلئے متبادل تجارتی راہداریوں کی طرف دیکھے، جیسے ایران کے راستے وسطی ایشیا تک رسائی کیلئے نئے بارڈر ٹرمینل کا فعال کیا جانا۔ یہ اقدام خود اس بات کا ثبوت ہے کہ بار بار کی سرحدی بندش نے تاجروں اور حکومت دونوں کے اعتماد کو کس حد تک متاثر کیا ہے؟ ایک ایسا اعتماد جسے دوبارہ بحال کرنے میں برسوں لگ سکتے ہیں۔
انہی حالات کے پس منظر میں حالیہ دنوں کابل میں ہونے والے اعلیٰ سطحی مذاکرات ایک خوش آئند پیش رفت کے طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔ افغان عبوری حکومت نے یقین دہانی کرائی ہے کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہونے دی جائیگی، جبکہ پاکستان نے بھی افغان عوام کیلئے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر اپنی سرحدیں اور تجارتی راستے کھلے رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ ان مذاکرات میں چین کی ثالثی کا کردار بھی نمایاں رہا ہے، جس نے دونوں ممالک کو بات چیت کی میز پر لانے میں مدد دی۔
دونوں ممالک کو درپیش مشترکہ چیلنجز خاص طور پر دہشت گردی، اسمگلنگ اور غیر قانونی نقل و حرکت پر قابو پانے کیلئے مربوط حکمت عملی کی ضرورت پر بھی اتفاق پایا جاتا ہے۔ اس کیلئے انٹیلی جنس شیئرنگ اور بارڈر مینجمنٹ کے نظام کو مزید مؤثر بنانا ناگزیر ہے، تاکہ سرحد پار آمد و رفت محفوظ بھی رہے اور تجارت بھی رکاوٹوں سے پاک ہو۔
معاشی تعاون بھی دو طرفہ تعلقات کا ایک اہم پہلو ہے۔ پاک افغان ٹرانزٹ ٹریڈ ایگریمنٹ پر مکمل عملدرآمد، طورخم اور چمن بارڈر پر سہولیات کی بہتری، اور وسط ایشیائی ریاستوں تک رسائی کیلئے راہداری منصوبے دونوں ممالک کے مفاد میں ہیں۔ اگر یہ راستے مستقل بنیادوں پر کھلے اور مستحکم رہیں، تو نہ صرف سرحدی شہروں کی معیشت دوبارہ سانس لے سکے گی بلکہ خطے میں تجارت کے نئے دروازے بھی کھل سکتے ہیں۔
سرحد کے دونوں جانب بسنے والوں کیلئے سب سے بڑا سوال یہ نہیں کہ کابل یا اسلام آباد میں کیا اعلانات ہوتے ہیں، بلکہ یہ ہے کہ آیا اگلی سیاسی یا سکیورٹی کشیدگی پر ایک بار پھر ان کا روزگار داؤ پر لگ جائے گا۔ ماضی میں کئی بار ایسا ہوا ہے کہ سرحد کھلنے کی خبر پر تاجروں اور مزدوروں نے خوشی منائی، مگر تھوڑے ہی عرصے بعد کسی نئے تنازع نے دوبارہ راستے بند کروا دئے۔ یہی وجہ ہے کہ سرحدی علاقوں کے باسی اب صرف عارضی سکون نہیں بلکہ دیرپا اور مستقل استحکام چاہتے ہیں۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ ماضی کی تلخیوں کو پیچھے چھوڑ کر مستقبل کی طرف دیکھا جائے۔ عوامی سطح پر رابطے، ثقافتی تبادلے اور میڈیا تعاون سے وہ غلط فہمیاں دور ہو سکتی ہیں جو اکثر سرکاری سطح کے تنازعات کو مزید ہوا دیتی ہیں۔ ایک مستحکم اور پرامن افغانستان پاکستان کے مفاد میں ہے، اور ایک خوشحال، مستحکم پاکستان افغانستان کیلئے بھی اتنا ہی ضروری ہے دونوں معیشتیں، دونوں سرحدوں کے قبائل اور خاندان صدیوں سے ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں، اور ان کا مقدر الگ الگ نہیں لکھا جا سکتا۔
دونوں ہمسایہ ممالک کو باہمی احترام اور عدم مداخلت کے اصولوں پر کاربند رہتے ہوئے اپنے تعلقات کو نئی بنیادوں پر استوار کرنا ہوگا۔ لیکن اس بار ضرورت اس بات کی ہے کہ سفارتی میز پر ہونے والے وعدے صرف بیانات تک محدود نہ رہیں بلکہ زمینی حقیقت میں تبدیل ہوں تاکہ طورخم اور چمن جیسی گزرگاہیں دوبارہ کبھی سیاسی کشیدگی کی نذر نہ ہوں، اور سرحد کے دونوں طرف بسنے والے کروڑوں عام شہریوں کو وہ معاشی استحکام اور ذہنی سکون میسر آئے جس کے وہ برسوں سے منتظر ہیں۔ یہی خطے کے پائیدار امن اور ترقی کی اصل ضمانت ہے۔

———————————————————————————————————————————————————————————————————–

Executive Summary: The Global View

The recurring closures of key Pak-Afghan border crossings, specifically Torkham and Chaman, transcend mere administrative friction, inflicting profound economic and humanitarian distress on border communities. Over the past two years, bilateral trade has been frequently paralyzed by geopolitical standoffs and security disputes, leaving thousands of truck drivers, daily wagers, and local traders facing financial ruin as perishable goods decay in transit.

Beyond immediate border economies, this systemic volatility has disrupted major domestic industrial supply chains. Pakistan’s pharmaceutical exports have suffered a significant blow, while industries like cement manufacturing—heavily reliant on low-cost Afghan coal—have faced inflated production costs due to expensive alternative imports. These persistent disruptions have effectively compelled Islamabad to diversify its trade strategies, increasingly exploring alternative corridors through Iran to access Central Asian markets.

However, recent high-level, China-mediated diplomatic talks in Kabul offer a strategic breakthrough. With the Afghan interim government pledging to prevent its soil from being used against Pakistan, and Islamabad reaffirming its commitment to open trade and humanitarian pathways, there is a renewed emphasis on robust border management and intelligence sharing. For enduring regional stability, both nations must institutionalize these bilateral frameworks, ensuring that geopolitical tensions no longer hold hostage the economic survival of millions dependent on these vital corridors.