Mahmood Khan Achakzai addresses Pakistan's National Assembly, calling for political unity, parliamentary strength, dialogue with opposition parties, and easing restrictions on PTI founder Imran Khan.

محمود خان اچکزئی کا سیاسی مفاہمت پر زور، عمران خان سے ملاقاتوں پر پابندیوں اور اقبال آفریدی کے معاملے پر سوالات

اسلام آباد (دی خیبر ٹائمز رپورٹنگ ڈیسک) پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ اور رکن قومی اسمبلی محمود خان اچکزئی نے قومی اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ملک میں سیاسی کشیدگی کے خاتمے، پارلیمنٹ کی بالادستی اور سیاسی قوتوں کے درمیان مفاہمت کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ ماضی کی غلطیوں کی اصلاح کی جا سکتی ہے، لیکن اس کیلئے تمام سیاسی جماعتوں کو سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔
قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے محمود خان اچکزئی نے وزیراعظم شہباز شریف کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ کو مضبوط بنایا جائے اور تمام سیاسی جماعتوں کے درمیان ایک ایسا قومی معاہدہ کیا جائے جس کے تحت ایک دوسرے کے خلاف انتقامی سیاست اور سیاسی مخالفت میں رکاوٹیں کھڑی کرنے کا سلسلہ ختم ہو۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کو ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچنے کے بجائے ملک کے وسیع تر مفاد میں مل کر کام کرنا چاہئے تاکہ جمہوری نظام مستحکم ہو اور سیاسی استحکام پیدا ہو سکے۔
انہوں نے وفاق اور صوبوں کے مالی معاملات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ آئینی طور پر فیڈریشن صوبوں کو وسائل اور فنڈز فراہم کرتی ہے، تاہم موجودہ صورتحال میں صوبوں کے حقوق اور وسائل متاثر ہونے کی شکایات سامنے آ رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبوں کو ان کا جائز حق ملنا چاہئے اور وفاقی اکائیوں کے درمیان اعتماد کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
محمود خان اچکزئی نے پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین عمران خان کے معاملے پر بھی بات کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ان کے ساتھ غیر ضروری سختی نہ کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی مسائل کا حل جیلوں اور پابندیوں میں نہیں بلکہ مذاکرات اور سیاسی عمل میں پوشیدہ ہے۔ ان کے بقول ایک دوسرے کو گرفتار کرنے اور جیلوں میں ڈالنے سے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ سیاسی تقسیم مزید گہری ہوگی۔
اپنی تقریر کے دوران انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر عمران خان سے کسی کی ملاقات ہو جائے تو اس میں کیا قباحت ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی رہنماؤں کے درمیان رابطے اور ملاقاتیں جمہوری عمل کا حصہ ہوتی ہیں اور انہیں غیر معمولی معاملہ نہیں بنایا جانا چاہئے۔
محمود خان اچکزئی نے قومی اسمبلی کے رکن اقبال آفریدی کے معاملے کو بھی ایوان میں اٹھایا اور اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق سے استفسار کیا کہ اقبال آفریدی کو ایوان سے کیوں نکالا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس معاملے کی وضاحت کی جانی چاہئے تاکہ ایوان کے ارکان کو حقائق سے آگاہ کیا جا سکے۔
اس موقع پر اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ اقبال آفریدی کو قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی پر ایوان سے نکالا گیا تھا۔ اسپیکر کے مطابق اقبال آفریدی نے بعض افراد کے ساتھ بدتمیزی کی، گالم گلوچ کی اور جسمانی طور پر تشدد بھی کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر وہ پارلیمنٹ کے ارکان اور قومی اسمبلی کے عملے کا تحفظ یقینی نہیں بنا سکتے تو انہیں اسپیکر کی کرسی پر بیٹھنے کا کوئی حق نہیں۔
ایاز صادق نے واضح کیا کہ پارلیمنٹ کے وقار، نظم و ضبط اور ارکان و عملے کی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا اور قواعد کی خلاف ورزی کرنے والے کسی بھی شخص کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔
محمود خان اچکزئی کی تقریر ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ملک میں سیاسی کشیدگی، اپوزیشن اور حکومت کے درمیان تناؤ اور مختلف سیاسی جماعتوں کے درمیان مفاہمت کے امکانات پر بحث جاری ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق اچکزئی کی جانب سے پارلیمنٹ کو مضبوط بنانے، سیاسی قیدیوں کے معاملے پر نرمی اختیار کرنے اور تمام جماعتوں کے درمیان قومی مفاہمت کی اپیل مستقبل کی سیاسی بحث میں اہمیت اختیار کر سکتی ہے۔