پشاور (دی خیبرٹائمز مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان اور افغانستان کے سرحدی علاقے میں کشیدگی کے خاتمے اور دیرپا امن کے قیام کیلئے ایک بڑی کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ ضلع باجوڑ اور افغانستان کے صوبہ کنڑ کے قبائلی عمائدین نے ایک تاریخی گرینڈ جرگے میں مکمل جنگ بندی اور مستقبل میں پائیدار تعاون کا اعلان کر دیا ہے۔ یہ اہم بیٹھک سرحدی مقام نوا پاس پر منعقد ہوئی، جو تاریخی اور تجارتی لحاظ سے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ اس جرگے میں دونوں اطراف کے تقریباً 30 بااثر قبائلی عمائدین نے شرکت کی اور باقاعدہ طور پر امن معاہدے کی دستاویز پر دستخط کئے۔
پاکستانی وفد کی قیادت باجوڑ سے تعلق رکھنے والے حاجی لالی شاہ (صدر باجوڑ چیمبر آف کامرس) نے کی، جبکہ افغان وفد کی سربراہی صوبہ کنڑ کے حاجی ظاہر گل نے کی۔ اس جرگے کو مہمند اور دیگر قریبی سرحدی علاقوں کے قبائل کی بھی بھرپور حمایت حاصل تھی، جو طویل عرصے سے سرحد پر ہونے والی کشیدگی اور فائرنگ کے واقعات سے براہِ راست متاثر ہو رہے تھے۔ تقریباً دو گھنٹے تک جاری رہنے والے اس دوستانہ جرگے میں ایک جامع امن فارمولے پر اتفاق کیا گیا، جس کے تحت سرحد کے دونوں جانب سے ہر قسم کی فائرنگ، گولہ باری اور دشمنی پر مبنی سرگرمیوں کو فوری طور پر بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
معاہدے کے مطابق، مستقبل میں کسی بھی ہنگامی صورتحال یا غلط فہمی کو دور کرنے کیلئے ایک مشترکہ رابطہ کمیٹی بھی تشکیل دی گئی ہے جو دونوں اطراف کے درمیان پل کا کردار ادا کرے گی۔ جرگے نے متفقہ طور پر اس بات پر زور دیا کہ امن کی بدولت نوا پاس اور دیگر روایتی تجارتی راستوں کو کھولا جانا چاہئے تاکہ مقامی معیشت کو سہارا مل سکے۔ دونوں اطراف کے عمائدین نے عزم کیا کہ وہ اپنی اپنی حدود میں امن کو نقصان پہنچانے والے عناصر کی حوصلہ شکنی کریں گے اور سرحدی پٹی پر آباد شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے گا۔
تجزیہ کار اس معاہدے کو اس لئے بھی انتہائی اہمیت کا حامل قرار دے رہے ہیں کیونکہ یہ کسی حکومتی سطح کے بجائے خالصتاً قبائلی روایات اور پختونولی کے تحت عوامی سطح پر کیا گیا ہے۔ 2007 سے سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر بند نوا پاس کے راستے کے حوالے سے یہ جرگہ ایک بڑا بریک تھرو ثابت ہو سکتا ہے۔ قبائلی عمائدین کا کہنا ہے کہ سرحد کے دونوں پار بسنے والے قبائل ایک ہی سماج کا حصہ ہیں اور وہ مزید خونریزی یا معاشی بدحالی کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ اس فیصلے سے نہ صرف باجوڑ اور کنڑ بلکہ پورے سرحدی بیلٹ میں امن کی نئی امید پیدا ہوئی ہے۔




