A 4-panel image collage. Clockwise from top-left: Pakistani military and civilian officials present an open box of mineral gems to foreign leaders; former KP Chief Minister Sohail Afridi sits seriously in his office with flags; PPP leader Faisal Karim Kundi speaks at a press conference rostrum; and Defense Minister Khawaja Asif gestures while speaking at a desk.

معدنیات کا معما اور خیبر پختونخوا کا سیاسی بحران: بین الاقوامی مفادات، ریاستی بیانیہ اور اپوزیشن کے خدشات

تجزیہ: دی خیبر ٹائمز ڈیسک

پاکستان اس وقت بیک وقت دو شدید ترین محاذوں پر نبرد آزما ہے۔ ایک طرف معاشی تنزلی سے نکلنے کیلئے ملک کے غیر استعمال شدہ اربوں ڈالر کے معدنی وسائل کی عالمی منڈی میں پیشکش ہے، جس کے ساتھ ہی بین الاقوامی طاقتوں کی دلچسپی اور ان کے ممکنہ اثر و رسوخ سے جڑے سوالات جنم لے رہے ہیں۔ دوسری طرف، خیبر پختونخوا کی سر زمین پر سکیورٹی کی دائم بگاڑ، گورنر راج کا متنازعہ نفاذ اور وفاق و صوبائی قیادت کے درمیان پیدا ہونے والی سیاسی خلیج نے ملکی استحکام پر گہرے سوالیہ نشان ثبت کر دئے ہیں۔
اسی تمام تناظر میں وزیرِ دفاع خواجہ آصف کی حالیہ گفتگو محض ایک دفاعی بیان نہیں، بلکہ موجودہ ریاستی حکمتِ عملی کی وہ تصویر ہے جس میں حکومت اپنے فیصلے ثابت کرنے کیلئے ایک طرف معاشی مجبوریوں کا سہارا لے رہی ہے اور دوسری طرف صوبائی بدامنی کا تمام تر ملبہ سابقہ صوبائی انتظامیہ کے سر ڈالتی نظر آتی ہے۔

پاکستان کے پاس موجود پٹرولیم، گیس، تانبے، سونے اور دیگر نایاب معدنیات کے ذخائر اب عالمی سیاسی شطرنج کا اہم مہرہ بن چکے ہیں۔ کینیڈا، آسٹریلیا، چین اور امریکہ جیسے بڑی معاشی طاقتوں کی نظریں ملک کے قدرتی وسائل پر جمی ہوئی ہیں۔ وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے ان افواہوں کی سخت الفاظ میں تردید کی ہے کہ پاکستان نے امریکہ یا کسی بھی غیر ملکی کمپنی کو بلوچستان یا دیگر خطوں کی مائنز اور معدنیات کے ٹھیکے سونپ دئے ہیں۔

خواجہ آصف کا موقف بڑا واضح ہے کہ فی الوقت تمام ممالک سے بات چیت صرف مذاکرات اور جائزہ لینے کی حد تک محدود ہے۔ حکومت کا یہ ماننا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی، خطیر سرمائے اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے بغیر زمین کے نیچے دبے ان خزائن کو باہر نکالنا ناممکن ہے۔ اس لئے ریاست اس ملک کے ساتھ پیشرفت کرے گی جہاں پاکستان کے قومی مفادات محفوظ ہوں گے۔

تاہم ریاستی وضاحتوں کے برعکس اپوزیشن بالخصوص جمیعت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے الزامات نے معاشی افق پر شکوک و شبہات کی نئی لہر پیدا کر دی ہے۔ مولانا فضل الرحمان اور ان کے ہم خیال سیاسی رہنما بارہا یہ دعویٰ کر چکے ہیں کہ عسکری و سیاسی اسٹیبلشمنٹ امریکہ کے ساتھ پائیدار تعلقات اور معاشی امداد کے بدلے ملکی معدنیات تک ان کی رسائی کو یقینی بنا رہی ہے۔ مولانا کا اشارہ عسکری قیادت کے اس حالیہ دورہ امریکہ کی طرف ہے جہاں امریکی صدر کے سامنے پاکستانی معدنیات کے نمونے پیش کئے گئے تھے۔

یہ تضاد اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ عالمی طاقتوں کے ساتھ معاشی لین دین میں شفافیت کی جس قدر ضرورت ہے، اس کی عدم موجودگی نے عوامی اور سیاسی حلقوں میں قومی اثاثوں کی سودے بازی کا خوف پیدا کر دیا ہے۔

پاکستان کا صوبہ خیبر پختونخوا جو گزشتہ دو دہائیوں سے دہشتگردی کا سب سے بڑا شکار رہا ہے، ایک بار پھر گہرے سکیورٹی اور انتظامی بحران میں گھرا ہوا ہے۔ وفاقی حکومت اور سکیورٹی اداروں کا بنیادی گلہ یہ رہا ہے کہ تحریک انصاف کی سابق صوبائی حکومت (بالخصوص علی امین گنڈاپور اور مستعفی/غیر فعال وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے ادوار) نے دہشتگردی کے خاتمے اور ریاست کی رٹ بحال کرنے میں وفاق سے مطلوبہ تعاون نہیں کیا۔

خواجہ آصف کا دعویٰ ہے کہ گزشتہ ڈیڑھ سال میں ہونے والا جانی و مالی نقصان صوبائی حکومت کی چشم پوشی اور مجرمانہ خاموشی کا نتیجہ تھا۔ ان کے مطابق انٹیلی جنس اداروں کو دہشتگردوں کی پناہ گاہوں کا باقاعدہ علم تھا، لیکن صوبائی انتظامیہ کی جانب سے سیاسی مفادات اور بے دلی کی وجہ سے کوئی یکسو اور طاقتور کارروائی دیکھنے میں نہیں آئی۔
معاملہ یہ ہے کہ سکیورٹی آپریشنز (IBOs) کے بعد جب تک مقامی پولیس اور انتظامی ڈھانچہ وہاں ریاستی رٹ قائم نہ کرے، انٹیلی جنس بنیادوں پر کی جانے والی کامیابیاں عارضی ثابت ہوتی ہیں اور دہشتگرد دوبارہ متحرک ہو جاتے ہیں۔ اب وفاق کا کہنا ہے کہ صوبے میں قائم ہونے والا نیا سیٹ اپ بلا تاخیر اور بلا سیاسی تفریق ریاست کی رٹ کو نافذ کرے گا تاکہ عوام کو تحفظ فراہم کیا جا سکے۔

گورنر راج کا نفاذ: سیاسی مجبوری یا ایک اور انتظامی غلطی؟
خیبر پختونخوا میں تمام سیاسی آپشنز ختم ہونے کے بعد گورنر راج کا نفاذ عمل میں لایا گیا، جسے اپوزیشن کی جانب سے آئین کی پامالی اور عوامی رائے پر شب خون قرار دیا جا رہا ہے۔ اس معاملے پر وزیرِ دفاع کا اندازِ گفتگو خاصا تند و تیز تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ سیدھی انگلیوں سے گھی نہ نکلے تو انگلیاں ٹیڑھی کرنی پڑتی ہیں۔

خواجہ آصف کے مطابق حکومت کا مقصد کسی سیاسی جماعت کو نشانہ بنانا نہیں بلکہ صوبے کو انتظامی انارکی سے نکالنا تھا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ جو عناصر اور سیاسی رہنما اس اقدام کی شدید مخالفت کر رہے ہیں، اصل میں وہ اپنے لئے نئے سیاسی ڈھانچے میں کسی درجے کی شراکت داری کے متلاشی تھے، اور جب انہیں یہ موقع نہ ملا تو وہ واویلا مچا کر صوبائی مفادات کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اپوزیشن کی تمام تر سیاست ایک فردِ واحد (عمران خان) کے گرد گھومتی ہے اور وہ خیبر پختونخوا کے عام شہریوں کے بنیادی مسائل، امن و امان اور معاشی بحران سے مکمل طور پر لاتعلق ہو چکے ہیں۔
اس تمام بحران کے ساتھ ساتھ، خواجہ آصف کا گزشتہ سیاسی ادوار بالخصوص پی ڈی ایم حکومت کے فیصلوں کے حوالے سے انکشاف بھی اہم ہے۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ عدم اعتماد کی تحریک کی کامیابی کے فوراً بعد ن لیگ اور وہ خود ایک ماہ کے اندر عام انتخابات کرانے کے حق میں تھے، تاکہ ملک میں سیاسی اور معاشی استحکام آ سکے۔
تاہم اس وقت کے اتحادیوں (جن میں مولانا فضل الرحمان بھی شامل تھے) کی ضد پر حکومت کو ایک سال تک طول دیا گیا، اور اسی ایک سال نے ملکی سیاست اور معیشت کی حالت کو یکسر بدل کر رکھ دیا۔ یہ اعتراف اس بات کا ثبوت ہے کہ موجودہ حکمران اتحاد ماضی میں کئے گئے اپنے سیاسی فیصلوں کی قیمت اب تک ادا کر رہا ہے، جبکہ اپوزیشن اس دور کے فیصلوں کو ہی موجودہ ابتر صورتحال کا ذمہ دار قرار دیتی ہے۔
خواجہ آصف کی وضاحتیں اور اپوزیشن کے ردِعمل کو اگر ایک پیج پر رکھ کر دیکھا جائے تو پاکستان کی داخلی و خارجی پالیسی پر گہرے بادل چھائے دکھائی دیتے ہیں۔

ریاست اگر واقعی بیرونی سرمایہ کاری کے ذریعے معدنیات کے وسائل سے مستفید ہونا چاہتی ہے، تو پارلیمنٹ کو اعتماد میں لینا ہوگا اور صوبوں بالخصوص بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے عوامی حقوق کی ضمانت دینی ہوگی، تاکہ اپوزیشن کے تحفظات کا ازالہ ہو سکے۔
 سکیورٹی کے معاملے پر سیاسی پوائنٹ اسکورنگ اور ایک دوسرے پر الزامات تراشی کا سلسلہ بند ہونا چاہئے۔ جب تک وفاق، عسکری قیادت اور تمام صوبائی دھڑے ایک صفحے پر آ کر دہشتگردی کے خلاف جامع اور پائیدار لائحہ عمل نہیں بناتے، تب تک محض گورنر راج یا انتظامی تبدیلیوں سے خیبر پختونخوا میں سچی امن و امان کی بحالی ممکن نہیں ہوگی۔

یہ بھی ملاحظہ کیجئے: پاکستان کا معاشی بحران، اشرافیہ کی شاہ خرچیاں اور وسائل کی غیر مساوی تقسیم: ایک تفصیلی تحقیقاتی رپورٹ

summary

1. Mineral Contracts and Foreign Investment Controversy
* Defense Minister’s Denial: Federal Defense Minister Khawaja Asif firmly denied rumors that Pakistan has handed over any mines or mineral contracts to the United States. He clarified that discussions are currently only at a conversational stage with international partners—including Canada, China, Australia, and the U.S.—and that Pakistan will engage with whichever nations offer secure and mutually beneficial terms, emphasizing that modern technology and foreign investment are essential to extract these subterranean resources.
* Opposition’s Counter-Allegations: Contrary to the government’s stance, JUI-F Chief Maulana Fazlur Rehman and other opposition figures have repeatedly accused the political and military establishment of trying to hand over national mineral wealth to the United States, pointing to high-profile visits and the presentation of mineral samples to foreign leadership.
2. Security Crisis and Allegations Against the Former KP Government
* Failure to Cooperate: Khawaja Asif criticized the former PTI administration in Khyber Pakhtunkhwa (specifically pointing to figures like Ali Amin Gandapur and former/resigned Chief Minister Sohail Afridi), accusing them of failing to cooperate with federal and security forces against terrorism.
* Ignored Safe Havens: He claimed that despite intelligence agencies knowing the hideouts of terrorists, the previous provincial government turned a blind eye due to political apathy, which led to a sharp rise in casualties over the past year. He stressed that state writ must be strictly enforced following intelligence-based operations (IBOs).
3. Justification of Governor’s Rule
* The Last Resort: Defending the implementation of Governor’s Rule in Khyber Pakhtunkhwa, Asif remarked that when peaceful and straightforward political methods fail, harsher administrative steps become necessary (“if direct fingers don’t work, they have to be bent”).
* Political Frustration: He alleged that those opposing Governor’s Rule are merely frustrated because they failed to secure positions in the new administrative setup and were more focused on the politics of a single individual rather than the welfare of KP citizens.
4. Past Political Decisions and PDM Era Admissions
* Early Elections Regret: Asif made a candid admission regarding the PDM government’s tenure, revealing that immediately after the successful vote of no-confidence, he urged Prime Minister Shehbaz Sharif to hold immediate elections within a month. However, alliance partners opposed it and insisted on running the government for another year—a decision he noted completely altered Pakistan’s political landscape.
* Criticism of Opposition Leaders: He also criticized opposition leaders for failing to attend or lead funeral prayers for the martyrs of terrorism, and praised Federal Interior Minister Mohsin Naqvi’s recent parliamentary address for its sincerity.
؎About the Author
Nasir Dawar is a journalist, researcher and Editor of The Khyber Times, with extensive experience covering militancy, conflict, security and political developments in Khyber Pakhtunkhwa, the former FATA and Afghanistan. His research focuses particularly on militant movements, regional security, Afghanistan and Pakistan-Afghanistan relations.
Contact: dawarjan@gmail.com