04 June, 2026
اہم خبریں
  • پاکستان کی کامیاب سفارت کاری: ایران ، امریکہ امن مذاکرات میں کلیدی کردار
  • پاکستان کا معاشی بحران: بھاری ٹیکس، ٹوٹتی معیشت اور عوامی لاچارگی
  • ایران: بوشہر میں فضائی دفاعی نظام کا دشمن طیارہ مار گرانے کا دعویٰ
  • قبائلی ضلع کرم میں ٹی ٹی پی اور جماعت الاحرار کا خونیں تصادم: عسکری دھڑے بندی اور مستقبل کا منظرنامہ
  • سرکاری اسکولوں کی بربادی: نجی مافیا، تعلیمی بورڈز اور حکمران طبقے کا گٹھ جوڑ
  • Home
  • اہم خبریں
  • پاکستان
    • دینی مسائل
    • اہم خبریں
    • مذہب
    • تصاویر اور مناظر
    • سیر و تفریح
    • دلچسپ و عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
    • صحت
  • افغانستان
  • علاقائی
  • کالمز
  • انٹرنیشنل
  • کاروبار
  • کھیل
  • شوبز
  • کاپی رائٹس
    • پرائیویسی پالیسی
    • قوائد و ضوابت
    • ہمارے بارے میں
  • Home
  • اہم خبریں
  • پاکستان
    • دینی مسائل
    • اہم خبریں
    • مذہب
    • تصاویر اور مناظر
    • سیر و تفریح
    • دلچسپ و عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
    • صحت
  • افغانستان
  • علاقائی
  • کالمز
  • انٹرنیشنل
  • کاروبار
  • کھیل
  • شوبز
  • کاپی رائٹس
    • پرائیویسی پالیسی
    • قوائد و ضوابت
    • ہمارے بارے میں

ہمارا یوٹیوب چینل

ہمارا فیس بک پیج

The Khyber Times

خصوصی فیچرز

پشتون تحفظ مؤومنٹ کے اہم رہنما شہاب خٹک کے بھائی ڈاکٹر نعیم الدین خٹک کو نامعلوم افراد نے پشاور کے بھرے بازار میں گولی مارکر شہید کردیا
شمالی وزیرستان کو کس کی نظر لگ گئی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ احسان داوڑ
کیا لڑانے والے کامیاب نہیں ہوئے ؟؟؟ خصوصی تحریر: رسول داوڑ
شمالی وزیرستان ،رمضان المبارک کا چاندنظرآگیا
بول کہ لب آزاد ہیں تیرے…. تحریر رفعت انجم

حیرت انگیز

شنگریلا ڈائیلاگ میں امریکی وزیر دفاع کے بیان ک. Pakistan role in Iran-US peace talksے بعد پاکستان کی سفارتی کوششیں عالمی توجہ کا مرکز بن گئیں۔
پاکستان کی کامیاب سفارت کاری: ایران ، امریکہ امن مذاکرات میں کلیدی کردار
پاکستان کا معاشی بحران: بھاری ٹیکس، ٹوٹتی معیشت اور عوامی لاچارگی ناصر داوڑ پاکستان کا مالیاتی ڈھانچہ روایتی طور پر براہِ راست ٹیکسوں کے بجائے بالواسطہ ٹیکسوں پر بے پناہ انحصار کرتا ہے، جو وفاقی حکومت کے کل حاصل کردہ محصولات کا 60 فیصد سے زیادہ بنتے ہیں ۔ جب 1990 کے ایکٹ کے تحت پہلی بار جنرل سیلز ٹیکس نافذ کیا گیا تھا تو اس کی شرح 12.5 فیصد تھی، لیکن وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتے ہوئے معاشی خساروں کو پورا کرنے کیلئے اسے بتدریج 18 فیصد کی معیاری سطح پر لا کھڑا کیا گیا ہے ۔ یہ پالیسی اس تلخ معاشی فلسفے کی عکاسی کرتی ہے جہاں ٹیکس نیٹ کو وسیع نہ کر پانے کی وجہ سے تمام تر بوجھ بالواسطہ محصولات کے ذریعے عام صارفین پر منتقل کر دیا جاتا ہے۔ معاشی ماہرین کے مطابق، بالواسطہ ٹیکسیشن کا سب سے بڑا المیہ اس کا رجعتی کردار ہے، کیونکہ یہ امیر اور غریب دونوں کو ایک ہی لاٹھی سے ہانکتی ہے۔ اگرچہ حکومت بعض اوقات غریبوں کو ریلیف دینے کیلئے دالوں، لال مرچ، ادرک، ہلدی، انڈوں اور پولٹری کو سیلز ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دیتی ہے ، لیکن عملی طور پر یہ ریلیف صرف کاغذات تک محدود رہتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ پیداواری عمل میں استعمال ہونے والے بین السطور ذرائع جیسے ایندھن، بجلی اور گیس پر بھاری ٹیکس عائد ہیں، جو تسلسلی اثر کے تحت حتمی مصنوعات کی قیمتوں میں منتقل ہو کر مستثنیٰ اشیاء کو بھی مہنگا کر دیتے ہیں ۔    اس مالیاتی بوجھ کو مزید پیچیدہ بنانے میں صوبائی اور وفاقی سطحوں پر لاگو الگ الگ سروسز ٹیکس کا ڈھانچہ بھی اپنا کردار ادا کرتا ہے، جہاں پنجاب میں سروسز پر 16 فیصد، سندھ میں 13 فیصد، اور خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں 15 فیصد سروسز ٹیکس لاگو ہے، جبکہ وفاقی سطح پر اشیاء پر معیاری سیلز ٹیکس 18 فیصد ہے ۔ اس دوہرے دباؤ کے بھیانک اثرات ہمیں پیکڈ ڈیری اور پولٹری سیکٹر پر واضح نظر آتے ہیں، جہاں پیکڈ دودھ پر 18 فیصد سیلز ٹیکس کے نفاذ نے دودھ کی قیمتوں میں 60 سے 70 روپے فی لیٹر کا زبردست اضافہ کر دیا ہے ۔ اس غیر متوقع فیصلے سے رسمی ڈیری سیکٹر کی فروخت بری طرح متاثر ہوئی ہے، جس کے باعث دیہی علاقوں میں 500 سے زائد ملک کلیکشن سینٹرز بند ہو چکے ہیں اور تقریباً 40,000 سے زائد کسانوں کا روزگار داؤ پر لگ گیا ہے ۔ نتیجے کے طور پر، صارفین جراثیم سے پاک پیکڈ دودھ چھوڑ کر کھلے اور ملاوٹ زدہ دودھ کی طرف رجوع کر رہے ہیں، جو پاکستان میں بچوں کی سٹنٹنگ کی شرح، جو کہ پہلے ہی 37 فیصد کی خطرناک سطح پر ہے، کو مزید خراب کرنے کا سبب بنے گا ۔ لائیوسٹاک اور پولٹری کے شعبوں میں بھی خوراک پر 10 فیصد سیلز ٹیکس کے نفاذ نے عام شہریوں کیلئے پروٹین کا آخری ذریعہ بھی مہنگا کر دیا ہے، جس کے باعث پشاور جیسے بڑے شہروں میں زندہ مرغی 420 روپے فی کلو اور انڈے 240 سے 260 روپے فی درجن تک بک رہے ہیں، جبکہ بغیر ہڈی کا گائے کا گوشت سرکاری نرخ یعنی 900 روپے کے برعکس 1350 سے 1500 جبکہ پشاور کے بعض سٹوروں میں تو 1600 روپے کلو تک جا پہنچا ہے ۔    غذائی منڈیوں میں حکومتی مداخلت اور ٹیکس پالیسیوں کا تضاد چینی کے شعبے میں بھی عیاں ہے، جہاں مینوفیکچررز کو فراہم کی جانے والی چینی پر 15 روپے فی کلو وفاقی ایکسائز ڈیوٹی لاگو ہے، جبکہ دوسری طرف مارکیٹ کو مستحکم کرنے کیلئے حکومت کی جانب سے 500,000 میٹرک ٹن سفید کرسٹل چینی کی درآمد پر کسٹمز ڈیوٹی کو یکسر ختم کر کے سیلز ٹیکس کو محض 0.25 فیصد کر دیا گیا ہے ۔ ادھر گندم کے بحران نے صوبائی سطح پر تنازعات کو ہوا دی ہے، جہاں خیبر پختونخوا کے فلور ملرز نے پنجاب کی طرف سے گندم کی نقل و حمل پر پابندی کے خلاف احتجاج شروع کر دیا ہے، جسے وہ آئین کے آرٹیکل 151 کی صریح خلاف ورزی قرار دیتے ہیں ۔ ان معاشی دباؤ کے متوازی، معیشت کا غیر دستاویزی چہرہ عید الاضحیٰ جیسے تہواروں پر نمایاں ہوتا ہے، جہاں سال 2025 میں قربانی کے جانوروں اور ان سے منسلک سرگرمیوں پر عوام نے تقریباً 641 ارب روپے خرچ کیئے، جو ملکی ترقیاتی بجٹ کا تقریباً 60 فیصد بنتا ہے ۔ یہ زبردست مالیاتی بہاؤ اس بات کا بین ثبوت ہے کہ پاکستان کے معاشی بحران کی جڑیں ٹیکسوں کے ناکارہ ڈھانچے اور سرمائے کے غیر دستاویزی بہاؤ میں پیوست ہیں۔    آئندہ مالی سال کا وفاقی بجٹ (2026-27) بھی بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے 37 ماہ کے توسیعی پروگرام کی کڑی شرائط کے سائے میں تیار کیا جا رہا ہے ۔ آئی ایم ایف نے وفاق کیلئے مجموعی طور پر 17.145 ٹریلین روپے کا ریونیو ہدف مقرر کیا ہے، جس کے حصول کیلئے ایف بی آر کو 15.264 ٹریلین روپے جمع کرنے کا ہدف ملا ہے ۔ اس ہدف کے تحت صوبوں کو بھی مجبور کیا گیا ہے کہ وہ سروسز اور زرعی انکم ٹیکس سے 1.95 ٹریلین روپے اکٹھے کریں اور اپنی جی ڈی پی کے 1.4 فیصد کے مساوی سرپلس نقد وفاق کو سرنڈر کریں ۔ اس کے ساتھ ہی، صنعتی علاقوں کو دی گئی تمام رعایتوں کو 2035 تک مرحلہ وار ختم کرنے اور گندم و چینی کی سرکاری منڈیوں سے حکومت کو مکمل طور پر باہر نکالنے کی کڑی ضمانتیں دی گئی ہیں ۔ دوسری طرف، تنخواہ دار اور متوسط طبقے کو مزید نچوڑنے کی تیاریاں جاری ہیں، جہاں سالانہ 10 ملین سے زائد آمدنی پر 9 فیصد انکم ٹیکس کا اضافی بوجھ برقرار رکھنے کی تجاویز دی گئی ہیں، جس کی وجہ سے ملک میں ہنر مند پیشہ ور افراد کا شدید برین ڈرین ہو رہا ہے ۔ بجلی اور ایندھن کے نرخوں میں اضافے کے علاوہ پٹرولیم لیوی کا وفاقی ہدف 1.73 ٹریلین روپے مقرر کر کے پٹرولیم لیوی کو 100 روپے فی لیٹر تک لے جانے کا تزویراتی عزم ظاہر کیا گیا ہے، جس کا حتمی بوجھ ٹرانسپورٹیشن کے ذریعے روزمرہ کی ہر کھانے پینے والی شے پر پڑے گا ۔    حکومت کے ان جارحانہ ٹیکسیشن اقدامات نے تاجر برادری اور سیاسی حلقوں میں شدید مزاحمت کو جنم دیا ہے۔ ستمبر 2023 میں جماعت اسلامی اور تاجر تنظیموں کی جانب سے کی گئی شٹر ڈاؤن ہڑتال کے باعث ملک کو یومیہ تقریباً 10 ارب روپے کا معاشی نقصان اٹھانا پڑا، جہاں اصل احتجاج بجلی کے بلوں میں غیر متناسب اضافے اور آئی پی پیز کو دی جانے والی بھاری گنجائش کی ادائیگیوں کے خلاف تھا ۔ اسی طرح جولائی 2025 میں کراچی چیمبر آف کامرس نے فنانس ایکٹ کے تحت ایف بی آر کو حاصل ہونے والے گرفتاری کے اختیارات اور نقد لین دین پر عائد سخت پابندیوں کے خلاف شٹر ڈاؤن ہڑتال کی ۔ سیاسی محاذ پر جماعت اسلامی کے راولپنڈی دھرنے (جولائی 2024) نے حکومت کو دباؤ میں لا کر آئی پی پیز کے آڈٹ کیلئے ٹاسک فورس کے قیام کا معاہدہ کروایا، لیکن ان وعدوں پر عمل درآمد نہ ہونے کے باعث جنوری 2025 میں ایک بار پھر ملک گیر احتجاج کی لہر شروع ہوئی، جو اس بات کی غماز ہے کہ عوام اور حکومت کے مابین معاشی معاہدے کا اعتماد مکمل طور پر ختم ہو چکا ہے ۔    لیکن یہاں ایک انتہائی اہم سوال جنم لیتا ہے کہ ملکی تاریخ کی بدترین مہنگائی اور معاشی لاچارگی کے باوجود کینیا یا سری لنکا کی طرح پاکستان میں کوئی بڑا عوامی سیلاب سڑکوں پر کیوں نہیں آیا؟ احتجاج کی سیاسیات کے ماہرین اس کی متبادل اور گہری وجوہات بتاتے ہیں۔ پہلا عنصر مادی وسائل کی شدید قلت ہے، احتجاج منظم کرنے اور سڑکوں پر نکلنے کیلئے وقت، پیسہ اور باہمی رابطوں کی ضرورت ہوتی ہے جو کہ خطِ غربت سے نیچے سسکتے ہوئے غریب خاندانوں کے پاس بالکل نہیں ہے، کیونکہ ان کیلئے ایک دن کام چھوڑنے کا مطلب رات کا فاقہ ہے ۔ دوسرا بڑا عنصر پرامن مظاہرین کے خلاف ریاست کا غیر معمولی جبر، لاٹھی چارج اور بلاجواز گرفتاریوں کا خوف ہے، جس کی وجہ سے احتجاج کی ذاتی لاگت ایک عام آدمی کیلئے ناقابلِ برداشت بن جاتی ہے ۔ اس مایوسی کو سیاسی جماعتوں اور آزاد مزدور تنظیموں کی مکمل لاتعلقی اور آپس کی سیاسی و عدالتی کشمکش نے مزید گہرا کر دیا ہے، جہاں ٹی وی ٹاک شوز اور سیاسی قائدین عام آدمی کے معاشی وجود کی جنگ لڑنے کے بجائے صرف اقتدار کے جوڑ توڑ میں مگن ہیں ۔ اس سیاسی بیگانگی نے عوام کے اندر ایک گہرا نفسیاتی جمود اور مایوسی پیدا کر دی ہے، جس کے تحت وہ اجتماعی مزاحمت کو بے سود سمجھتے ہوئے انفرادی بقا کی تگ و دو یا پھر خاموش ہجرت کا راستہ چن رہے ہیں ۔    اس گھمبیر معاشی اور سماجی جمود کو توڑنے کیلئے اب پاکستان کو روایتی لیت و لعل سے ہٹ کر انقلابی اصلاحات کا راستہ اختیار کرنا ہوگا۔ سب سے پہلا قدم پیکڈ ڈیری مصنوعات پر عائد 18 فیصد کا سفاکانہ سیلز ٹیکس واپس لے کر اسے 5 فیصد کی رعایتی شرح پر لانا ہے، تاکہ دیہی معیشت کا تحفظ اور بچوں کی غذائی ضرورت کو سستی اور محفوظ قیمت پر پورا کیا جا سکے ۔ بجٹ 2026-27 میں تنخواہ دار طبقے پر عائد 9 فیصد کا اضافی انکم ٹیکس سرچارج اور سولر پینلز پر عائد 18 فیصد کا ٹیکس فوری طور پر ختم کیا جائے، تاکہ انسانی سرمائے کے برین ڈرین کو روکا جا سکے اور متبادل توانائی کا فروغ ہو سکے ۔ اس خسارے کو پورا کرنے کیلئے رئیل اسٹیٹ اور بااثر زرعی زمینداروں کو حقیقی معنوں میں ٹیکس نیٹ میں لایا جائے ۔ تاجروں کو ہراساں کرنے والے ایف بی آر کے گرفتاری کے تعزیری قوانین کو واپس لیتے ہوئے چھوٹے خوردہ فروشوں کیلئے بجلی کے بلوں کے ذریعے 10,000 روپے ماہانہ کا فلیٹ اور آسان فکسڈ ٹیکس نظام رائج کیا جائے، جو معیشت کو دستاویزی بنانے کا سب سے عملی اور پرامن طریقہ ہے ۔ اور سب سے بڑھ کر، آئی پی پیز کو دی جانے والی گنجائش کی ادائیگیوں کا کڑا آڈٹ کر کے بجلی کے بنیادی ٹیرف کو سستا کیا جائے، کیونکہ اس تزویراتی معاشی سرجری کے بغیر ملکی صنعتی پیداوار کی بحالی اور روپے کی قدر کو سہارا دینا محض ایک خام خیالی ہی رہے گا ۔   
پاکستان کا معاشی بحران: بھاری ٹیکس، ٹوٹتی معیشت اور عوامی لاچارگی
ایران: بوشہر میں فضائی دفاعی نظام کا دشمن طیارہ مار گرانے کا پشاور مانیٹرنگ ڈیسک: ایران کے ساحلی صوبے بوشہر میں فضائی دفاعی نظام نے مبینہ طور پر ایک دشمن (امریکی) طیارے کو مار گرایا ہے۔ اس واقعے کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا، تاہم مقامی حکام نے صورتحال کو معمول کے مطابق قرار دیا ہے۔ ایرانی میڈیا اور نیم سرکاری خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق، آج رات بوشہر کے علاقے میں زوردار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ ابتدائی طور پر ان دھماکوں کے حوالے سے قیاس آرائیاں کی جا رہی تھیں، تاہم بعد ازاں ایرانی حکام نے تصدیق کی کہ یہ آوازیں فضائی دفاعی نظام کے فعال ہونے اور ایک نامعلوم طیارے کو نشانہ بنانے کے نتیجے میں پیدا ہوئیں۔ ضلع جام کے گورنر نے میڈیا کو بتایا کہ سیکیورٹی فورسز نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے ایک دشمن طیارے کو تباہ کر دیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ شہر میں اب صورتحال مکمل طور پر معمول کے مطابق ہے اور کسی قسم کا کوئی غیر معمولی واقعہ پیش نہیں آیا۔ اس اہم پیشرفت کے باوجود، تاحال امریکی حکام کی جانب سے کسی طیارے کے گرائے جانے یا تباہ ہونے کی تصدیق نہیں کی گئی ہے۔ عالمی عسکری مبصرین اس واقعے کو خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں دیکھ رہے ہیں۔ واضح رہے کہ یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب خطے میں پہلے ہی شدید تناؤ پایا جاتا ہے۔ اس سے قبل برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرزنے ایرانی خبر ایجنسی فارس کے حوالے سے یہ دعویٰ کیا تھا کہ ایران نے آبنائے ہرمز کے قریب امریکی بحری جہازوں کو نشانہ بناتے ہوئے بیلسٹک میزائل فائر کیے ہیں۔ اگرچہ ان میزائل حملوں کے بارے میں مزید تفصیلات تاحال واضح نہیں ہیں، لیکن بوشہر کے حالیہ واقعے نے خطے میں سیکیورٹی کی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ دی خیبر ٹائمز اس خبر پر نظر رکھے ہوئے ہے اور جیسے ہی مزید مصدقہ تفصیلات سامنے آئیں گی، قارئین کو آگاہ کیا جائے گا۔
ایران: بوشہر میں فضائی دفاعی نظام کا دشمن طیارہ مار گرانے کا دعویٰ
قبائلی ضلع کرم میں ٹی ٹی پی اور جماعت الاحرار کا خونیں تصادم: عسکری دھڑے بندی اور مستقبل کا منظرنامہ دی خیبر ٹائمز خصوصی تجزیہ : قبائلی ضلع کرم کا جغرافیہ طویل عرصے سے سیکیورٹی فورسز، فرقہ وارانہ کشیدگی اور عسکریت پسند گروہوں کے مابین طاقت کے توازن کی جنگ کا مرکز رہا ہے۔ 20 مئی 2026 کو ایک انتہائی ہلاکت خیز واقعہ پیش آیا، جب ضلع کرم میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان (TTP) کے مقامی کاظم گروپ اور کالعدم جماعت الاحرار (JuA) کے امتی گروپ کے درمیان گھات لگا کر کیا گیا ایک مسلح تصادم ہوا۔ اس وحشیانہ مڈبھیڑ کے نتیجے میں 18 جنگجو ہلاک ہوئے، جن کی لاشیں بعد ازاں مقامی افراد نے سپردِ خاک کر دیں۔ خیبر پختونخوا کے صحافتی حلقوں میں اس واقعے پر ہونے والی بحث کے مطابق، یہ جھڑپ حالیہ برسوں میں پاکستانی طالبان کے اندرونی دھڑوں کے درمیان ہونے والا سب سے بڑا اور خونیں ترین واقعہ ہے، جس نے اس عسکریت پسند نیٹ ورک کی نام نہاد تنظیمی یکجہتی کے پردے کو چاک کر کے رکھ دیا ہے۔ ماضی میں بھی ٹی ٹی پی اور جماعت الاحرار کے مابین کئی بار اختلافات پیدا ہوئے، لیکن وہ غلط فہمیوں کا خاتمہ کر کے دوبارہ متحد ہو جاتے تھے۔ تاہم، اس حالیہ واقعے کے بعد دونوں تنظیموں کے مابین تعلقات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ اب ان کے دوبارہ متحد ہونے کا امکان نہ ہونے کے برابر ہے۔ صحافتی حلقوں کا ماننا ہے کہ جماعت الاحرار اور ٹی ٹی پی کے مابین تعلقات میں بگاڑ کی اصل جڑ 7 اگست 2022 کو صوبہ پکتیکا میں عمر خالد خراسانی کو ان کے دیگر ساتھیوں سمیت ایک ریموٹ کنٹرول بم دھماکے میں مارےگئے تھے۔ اس وقت بھی جماعت الاحرار ٹی ٹی پی سے الگ ہو گئی تھی، لیکن سراج الدین حقانی کی مداخلت اور عمر خالد خراسانی کے قتل کی شفاف تحقیقات کے وعدے پر وہ دوبارہ متحد ہو گئے تھے۔ تاہم، آج تک نہ تو ٹی ٹی پی اور نہ ہی امارتِ اسلامیہ افغانستان نے اس واقعے کی کوئی شفاف تحقیقات کی ہیں، جس کے نتیجے میں اب حالات مزید سنگین ہو چکے ہیں۔ اس تصادم کے فوری بعد جماعت الاحرار کے مرکزی ترجمان اسد منصور نے ایک تفصیلی پریس ریلیز جاری کر کے تحریک طالبان پاکستان کی اعلیٰ قیادت، بالخصوص امیر مفتی نور ولی محسود کے دھڑے پر اپنے 18 ساتھیوں کو نشانہ بنانے کا باضابطہ الزام عائد کیا۔ جماعت الاحرار نے اپنے بیان میں دوٹوک الفاظ میں اعلان کیا کہ اب اس خون کا بدلہ لینا ہم پر فرض ہو چکا ہے۔ جماعت الاحرار کے ترجمان اسد منصور نے یہ بھی بتایا ہے کہ تحریک طالبان پاکستان (TTP) کے کمانڈر کاظم نے مرکزی امیر مفتی نور ولی محسود کی براہِ راست ہدایات پر ان کے ساتھیوں کو نشانہ بنایا ہے۔ اسد منصور کے مطابق، ان کے کل 28 ساتھی تھے جنہیں کمانڈر کاظم نے کھانے کی دعوت پر بلایا تھا اور پیغام بھیجا تھا کہ چند ضروری امور پر مشاورت کے لئے اکٹھے بیٹھیں اور آئندہ کا لائحہ عمل طے کریں۔ تاہم، اس مقام تک پہنچنے سے قبل ہی کمانڈر کاظم اپنے دیگر مسلح ساتھیوں سمیت گھات لگا کر بیٹھے تھے۔ جوں ہی ان کے ساتھیوں کی گاڑیاں وہاں پہنچیں، ٹی ٹی پی کے جنگجوؤں نے اندھا دھند فائرنگ کر دی، جس کے نتیجے میں موقع پر ہی ان کے 18 افراد ہلاک ہو گئے، جبکہ 10 ساتھیوں کو یرغمال بنا کر نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا۔ اسد منصور نے بتایا کہ ان یرغمالیوں کی بازیابی کے لئے افغانستان میں مذاکرات کا عمل جاری ہے، تاہم انہوں نے اس مقام کی نشاندہی نہیں کی جہاں انہیں رکھا گیا ہے۔ البتہ مقامی ذرائع یہ بتاتے ہیں کہ یرغمال بنائے گئے ان 10 افراد کو افغانستان منتقل کر دیا گیا ہے۔ اسد منصور کا ماننا ہے کہ ٹی ٹی پی نے ان افراد کو غالباً اس لئے گرفتار کیا ہے تاکہ انہیں سودے بازی کے مہرے کے طور پر استعمال کرتے ہوئے مذاکرات کا عمل شروع کیا جا سکے۔ اسد منصور نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ قبائلی اضلاع خیبر، اورکزئی اور کرم میں ان کا اثر و رسوخ تیزی سے بڑھ رہا ہے، اور ٹی ٹی پی ان یرغمالیوں کو بطور دباؤ استعمال کر کے ان تینوں اضلاع سے انہیں بے دخل کرنا چاہتی ہے۔ انہوں نے دوٹوک الفاظ میں عزم کا اظہار کیا کہ اگست کا مہینہ ختم ہونے تک وہ ان تینوں اضلاع سے تحریک طالبان پاکستان کا نام و نشان مٹا دیں گے۔ انہوں نے یہ بھی کہا ہے، کہ اس مقصد کے حصول کے لئے انہیں جتنی بھی بڑی قربانی دینی پڑی، وہ اس کے لئے تیار ہیں اور ان علاقوں سے ٹی ٹی پی کا خاتمہ کئے بغیر دم نہیں لیں گے۔ دوسری جانب، تحریک طالبان پاکستان کی مرکزی قیادت نے اس انتہائی حساس عسکری دھچکے پر مکمل سکوت اختیار کر رکھا ہے، جسے عسکری ماہرین تنظیم کے داخلی انتشار کو مزید بے نقاب ہونے سے بچانے کیلئے ایک تزویراتی حکمتِ عملی قرار دیتے ہیں۔ اس خونریز مڈبھیڑ کی سنگینی کو سمجھنے کیلئے اس میں شامل مقامی کمانڈروں کے تنظیمی کردار اور ان کے پس منظر کا احاطہ کرنا ناگزیر ہے، کیونکہ یہ تصادم بنیادی طور پر دو بااثر نیٹ ورکس کے مابین علاقائی بالادستی کی جنگ تھا۔ ہلاک ہونے والوں میں سب سے نمایاں نام جماعت الاحرار کے اہم ترین فیلڈ کمانڈر ممتاز المعروف 'امتی' کا ہے، جو عمر خالد خراسانی کے انتہائی معتمد تھے اور کرم، خیبر، اور اورکزئی کے اضلاع میں 'امتی گروپ' کے سربراہ کے طور پر متحرک تھے۔ افغانستان میں موجود ٹی ٹی پی کے ایک محسود کمانڈر نے ٹی ٹی پی کے مرکزی امیر مفتی نور ولی سے رابطہ کر کے اس واقعے اور جماعت الاحرار کے حوالے سے ان کا موقف جاننے کی کوشش کی۔ مفتی نور ولی نے مختصر جواب میں کہا کہ یہ واقعہ تشویشناک ضرور ہے، مگر مرکزی قیادت کو اس کی تفصیلات معلوم نہیں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ محض ایک ضلع کی سطح پر مقامی گروپوں کا باہمی تصادم ہے اور تاحال ان کی کرم کے مقامی ذمہ داروں سے اس معاملے پر بات نہیں ہو سکی ہے۔ مذکورہ محسود کمانڈر نے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ اس واقعے اور جماعت الاحرار کی جانب سے الزامات کے بعد انہوں نے امیرِ ٹی ٹی پی کی سیکیورٹی بڑھا دی ہے، کیونکہ جماعت الاحرار نے اپنے بیانات میں براہِ راست مرکزی قیادت کا نام لیا ہے۔ کمانڈر کے مطابق، ابھی یہ واضح نہیں کہ یہ واقعہ کیسے اور کیوں رونما ہوا ہے، لہٰذا کرم کے ذمہ داروں سے رابطے کے بعد ہی اس پر کوئی ٹھوس بات ہو سکے گی۔ فی الحال مرکزی قیادت کے پاس اس واقعے کی کوئی باضابطہ تفصیلات موجود نہیں ہیں۔ کرم میں ٹی ٹی پی کے مقامی کمانڈر کاظم ہیں، جن کے بارے میں ان کے آبائی علاقے کے مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ کاظم کی عمر 25 سال سے زیادہ نہیں، البتہ وہ تحریک طالبان پاکستان کی قیادت، بالخصوص امیر مفتی نور ولی محسود کے انتہائی رازدار اور بااعتماد ساتھی سمجھے جاتے ہیں۔ جس علاقے میں یہ واقعہ پیش آیا، وہاں کاظم ایک انتہائی بااثر اور کٹر آپریشنل کمانڈر کے طور پر جانے جاتے ہیں، جنہیں ٹی ٹی پی کے مرکزی امیر کی براہِ راست تائید حاصل ہے۔ اس سارے عمل میں جماعت الاحرار کے ترجمان اسد منصور اپنا میڈیا نیٹ ورک استعمال کرتے ہوئے ٹی ٹی پی کی قیادت کو مسلسل انتقام کا انتباہ جاری کر رہے ہیں۔ مقامی لوگوں اور کرم پولیس کا کہنا ہے کہ مرنے والوں میں سے دس افراد کا تعلق افغانستان سے ہے، جبکہ حملہ آوروں کی شناخت کے حوالے سے کمانڈر کاظم کے علاوہ دیگر جنگجوؤں کے بارے میں کوئی حتمی معلومات نہیں ہیں، تاہم یہ خیال کیا جاتا ہے کہ ان کے ساتھ بھی بڑی تعداد میں افغان شہری موجود ہیں۔ جوپورے ضلع میں تخریبی کارروائیاں کرتے رہتے ہیں۔ کمانڈر کاظم کا تعلق لوئر کرم کے علاقے بگن سے ہے اور ان کا خاندان مقامی طور پر خاصا بااثر سمجھا جاتا تھا۔ ان کے والد ملک گل رحمان المعروف گلے ملک، اپنے علاقے میں اورکزئی قوم کے معتبر نمائندے تھے۔ تاہم، گزشتہ سال 2025 میں کمانڈر کاظم کی عسکریت پسندی اور طالبان میں شمولیت کی پاداش میں گزشتہ سال 2025 میں حکومتی کارروائی کے دوران ان کا آبائی گھر مسمار کر دیا گیا، جس کے بعد سے ان کا خاندان علاقہ چھوڑ کر روپوش ہو گیا ہے۔ جب قبائلی عمائدین سے اس خاندان کی روپوشی کی وجوہات کے بارے میں دریافت کیا گیا، تو انہوں نے واضح کیا کہ حکومتی کارروائی کے علاوہ دیگر عوامل بھی اس ہجرت کا سبب بنے ہیں۔ عمائدین کے مطابق، کمانڈر کاظم کے ملوث ہونے والی ٹارگٹ کلنگ اور دیگر پرتشدد کارروائیوں کے بعد ان کے خاندان کو شدید سکیورٹی خدشات لاحق ہو گئے تھے۔ انہیں یہ خوف تھا کہ کاظم کی دشمنیوں کے نتیجے میں ان کے دیگر بھائیوں کو انتقام کا نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ ایک قبائلی ملک نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ کاظم کے بھائی کسی جہادی تنظیم سے ان کا تعلق نہیں، وہ محنت مزدوری کیلئے پاکستان چھوڑ کر متحدہ عرب امارات منتقل ہو چکے ہیں، اور امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ان کے والد بھی وہیں چلے گئے ہیں۔ تاہم، جس دن سے یہ خاندان گاؤں سے نکلا ہے، تب سے ان کا اپنے آبائی علاقے میں کسی بھی شخص سے کوئی رابطہ نہیں رہا ہے۔ یہ تصادم کوئی اچانک واقعہ نہیں، بلکہ ایک دہائی پر محیط نظریاتی اور تنظیمی کشمکش کا منطقی انجام ہے۔ جماعت الاحرار نے 2014 میں ٹی ٹی پی سے علیحدگی اختیار کی تھی، اور اگرچہ 2020 میں انضمام کی کوشش کی گئی، لیکن 2022 میں عمر خالد خراسانی کی ہلاکت نے یہ خلیج ناقابلِ تلافی بنا دی۔ جماعت الاحرار کو یقین ہے کہ ان کے بانی نور ولی محسود نے قتل کروایا، اور اسی کشمکش کے باعث 2025 سے جماعت الاحرار نے اپنے متوازی دفاتر دوبارہ بحال کر لئے تھے۔ اس سے قبل جماعت الاحرار نے شمالی وزیرستان کے حافظ گل بہادر گروپ کے ساتھ اتحاد کی کوشش بھی کی تھی جو آپریشنل حدود اور کابل کے دباؤ کے باعث ناکام رہی، تاہم اب قوی امکان ہے کہ موجودہ خونریزی کے بعد وہ 'اتحاد المجاہدین پاکستان' میں شامل ہو جائے۔ سراج الدین حقانی اور امارتِ اسلامیہ افغانستان کیلئے یہ صورتحال تشویشناک ہے، کیونکہ وہ داعش (ISKP) کے پھیلاؤ کو روکنے، اپنی سرزمین پر داخلی جنگ سے بچنے، اور پاکستان کے خلاف ٹی ٹی پی کو تزویراتی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کیلئے ان گروہوں کے درمیان ثالثی کی کوشش کرتے رہے ہیں۔ اس خونی تصادم کے معاشی محرکات بھی نہایت اہم ہیں۔ مقامی عمائدین کے مطابق یہ کشیدگی دراصل ایک طویل عرصے سے جاری بھتہ خوری کی جنگ کا تسلسل ہے۔ قبائلی ضلع خیبر میں پہلے تحریک طالبان پاکستان (TTP) مائننگ کے ٹھیکیداروں سے بھتہ وصول کرتی تھی، تاہم جماعت الاحرار کے الگ ہونے کے بعد صورتحال بدل گئی۔ جماعت الاحرار نے ضلع خیبر میں منرلز کے ٹھیکیداروں کو اپنے نیٹ ورک میں شامل کر کے ٹی ٹی پی کو اس علاقے سے بے دخل کر دیا۔ یہی عمل بعد ازاں قبائلی ضلع اورکزئی میں دہرایا گیا، جہاں جماعت الاحرار نے کوئلے کی کانوں کے ٹھیکیداروں کو ٹی ٹی پی کو بھتہ دینے سے منع کر کے یہ سلسلہ خود سنبھال لیا۔ اب یہی تنازع ضلع کرم منتقل ہو چکا ہے، جس پر کمانڈر کاظم کو شدید اعتراض تھا۔ کرم، جو اپر، لوئر اور سینٹرل تین حصوں میں تقسیم ہے، وہاں کے منرلز ٹھیکیداروں سے کمانڈر کاظم کا گروپ بھتہ وصول کرتا ہے۔ اس کے علاوہ، ضلع بھر میں جاری تمام سرکاری ترقیاتی منصوبوں کے ٹھیکیداروں سے بھی کمانڈر کاظم پانچ فیصد بھتہ وصول کر رہے ہیں۔ لہٰذا، جماعت الاحرار کی کرم میں آمد کمانڈر کاظم اور ان کے نیٹ ورک کیلئے اپنے وسیع معاشی مفادات پر ایک براہِ راست ضرب کی مانند تھی۔ مقامی عمائدین اور عوام سے کی گئی بات چیت کی روشنی میں، مستقبل کے حوالے سے دو اہم منظرنامے سامنے آتے ہیں۔ پہلا یہ کہ جماعت الاحرار باضابطہ طور پر ٹی ٹی پی کے خلاف اعلانِ جنگ کر کے ایک الگ عسکری بلاک تشکیل دے دیں، جس سےقبائلی علاقوں میں عسکریت پسندی کا ڈھانچہ طاقت کے کئی مراکز میں بٹ جائے گا۔ دوسرا منظرنامہ یرغمالی بحران سے جڑا ہے، اگر مذاکرات ناکام رہے تو ٹارگٹ کلنگ کی ایک ایسی لامتناہی جنگ شروع ہو سکتی ہے جس کا حتمی فائدہ داعش (ISKP) کو پہنچے گا۔ داعش اس عسکری خلا کا فائدہ اٹھا کر کرم میں فرقہ وارانہ کشیدگی کو مزید ہوا دے سکتی ہے، جس سے خطے کا امن شدید خطرات کی زد میں آ جائے گا۔ مقامی عمائدین کا یہ بھی کہنا ہے کہ یرغمال بنائے گئے دس افراد کے بدلے میں ٹی ٹی پی ایک مشروط معاہدے کی جانب جا سکتی ہے، جس میں یہ شرط رکھی جا سکتی ہے کہ جماعت الاحرار کا کوئی بھی رکن مستقبل میں ضلع کرم میں داخل نہیں ہوگا۔ اس تصادم کی سنگینی کو سمجھنے کیلئے اس خطے کی عسکری تاریخ کا جائزہ لینا ضروری ہے۔ اورکزئی کے عمائدین کے مطابق، پاکستان میں داعش خراسان (ISKP) کا پہلا امیر حافظ سعید خان تھا جس کا تعلق اورکزئی سے تھا۔ وہ 2014 میں تحریک طالبان پاکستان سے ناراض ہو کر داعش میں شامل ہوا اور 2016 میں افغانستان کے صوبہ ننگرہار میں ایک امریکی ڈرون حملے میں ہلاک ہو گیا۔ حافظ سعید خان کے ہمراہ ٹی ٹی پی کے کئی اہم کمانڈروں نے بھی داعش میں شمولیت اختیار کی تھی۔ ان ابتدائی ساتھیوں میں کمانڈر گل زمان فتح نمایاں تھا، جو حافظ سعید خان کا دستِ راست اور داعش خراسان کا نائب امیر مقرر ہوا تھا۔ اس کے علاوہ، ٹی ٹی پی کے سابق مرکزی ترجمان شاہد اللہ شاہد (اصل نام شیخ مقبول اورکزئی) اور کمانڈر دولت خان بھی داعش میں شامل ہونے والے اہم اورکزئی نژاد کمانڈر تھے۔ دوسری جانب، قبائلی ضلع مہمند سے تعلق رکھنے والے خلیفہ عمر منصور کی داعش میں شمولیت ابتدائی طور پر متنازع رہی۔ اگرچہ وہ حافظ سعید خان کے قریبی ساتھی تھے، لیکن وہ ٹی ٹی پی مہمند (حال جماعت الاحرار) کے سربراہ مرحوم عمر خالد خراسانی کے ساتھ بھی گہری وابستگی رکھتے تھے، جس کی وجہ سے ان کی باضابطہ وابستگی ایک طویل عرصے تک غیر واضح رہی۔ مجموعی طور پر، ان ابتدائی بیعت کرنے والوں میں اکثریت کا تعلق اورکزئی ایجنسی سے تھا، کیونکہ حافظ سعید خان کا وہاں مضبوط اثر و رسوخ تھا۔ یہ تمام افراد بعدازاں مختلف امریکی ڈرون حملوں، افغان سیکیورٹی فورسز یا افغان طالبان کے ساتھ جھڑپوں میں ہلاک ہو گئے۔ ان کمانڈروں کی ہلاکت کے بعد داعش خراسان کی قیادت میں بڑی تبدیلیاں آئیں اور تنظیم میں غیر ملکی جنگجوؤں کا اثر و رسوخ بڑھ گیا۔ اس تاریخی پس منظر کے باوجود، آج بھی اورکزئی اور ملحقہ ضلع کرم میں ایسے عناصر کی ایک بڑی تعداد موجود ہے۔ ٹی ٹی پی کے ساتھ ان کا نظریاتی اور تنظیمی اتحاد اب ممکن دکھائی نہیں دیتا، جبکہ جماعت الاحرار کے ٹی ٹی پی سے راہیں جدا کرنے کے بعد ان کے مابین قربتوں کے نئے امکانات پیدا ہوئے ہیں۔ اس وقت یہ گروہ نہ صرف علاقے میں مشترکہ عسکری کارروائیوں میں ملوث ہیں، بلکہ معاشی خود مختاری کیلئے منرلز کے کاروبار اور سرکاری ٹھیکیداروں سے بھتہ خوری بھی کر رہے ہیں۔ مزید برآں، یہ دیکھا گیا ہے کہ یہ عناصر اب امیر کاروباری شخصیات اور بیرونِ ملک (خصوصاً متحدہ عرب امارات) میں مقیم خاندانوں کو بھی بھتے کی دھمکیاں دے کر وصولیوں کا دائرہ کار وسیع کر چکے ہیں۔ اس عسکری انتشار کے ساتھ ساتھ کرم اور اورکزئی میں متحارب مذہبی و مسلکی جیسے نظریاتی مسائل بھی شدت اختیار کر چکے ہیں۔ کرم کے عمائدین کے مطابق، داعش کا بنیادی ہدف مقامی اہل تشیع برادری ہے، جس کے پیشِ نظر اہل تشیع نے اپنے دفاع کیلئے کرم میں "زینبیون" اور "مہدی ملیشیا" جیسے جہادی نیٹ ورکس کو فعال کر رکھا ہے۔ ان نیٹ ورکس کو مبینہ طور پر ایران کی پشت پناہی اور فنڈنگ حاصل ہے۔ عمائدین کا کہنا ہے کہ اہل تشیع کیلئے یہ ملیشیاز اپنی سیکیورٹی کو یقینی بنانے کیلئے ناگزیر ہیں، بصورتِ دیگر ان کیلئے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔ عمائدین کا خیال ہے کہ جماعت الاحرار اور داعش کے مقامی عناصر کے مابین بڑھتی ہوئی قربتیں اور ان کا کرم و اورکزئی میں متحرک ہونا، آنے والے دنوں میں سیکیورٹی فورسز اور اہل تشیع برادری کیلئے نئے چیلنجز پیدا کر سکتا ہے۔ قوی امکان ہے کہ یہ گروہ اپنی معاشی خود مختاری کیلئے منرلز کے کاروبار اور سرکاری ٹھیکیداروں سے بھتہ خوری کے ساتھ ساتھ، سیکیورٹی اداروں اور اہل تشیع برادری کے خلاف اپنی کارروائیوں میں تیزی لائیں گے۔ اس صورتحال نے کرم کو ایک ایسی نئی عسکری اور مسلکی کشمکش کی دہلیز پر کھڑا کر دیا ہے، جہاں کسی بھی وقت فرقہ وارانہ تصادم کا نیا اور خطرناک سلسلہ شروع ہو سکتا ہے۔ گزشتہ دو دنوں کے دوران سیکیورٹی ایجنسیوں اور پولیس کے حکام سمیت ایک درجن سے زائد ذرائع کے ساتھ ہونے والی تفصیلی بات چیت کی بنیاد پر، میں تشویشناک نتائج کا خدشہ ظاہر کیا جاسکتا ہے ، وہ یہ کہ ان حلقوں میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ ریاست کو اس باہمی لڑائی سے فائدہ ہو سکتا ہے، اس مفروضے کے ساتھ کہ جیسے جیسے یہ عسکریت پسند گروہ ایک دوسرے کو کمزور کریں گے، وہ فطری طور پر کمزور ہو جائیں گے اور ریاست کیلئے خطرہ کم ہوگا۔ تاہم، خیبرپختونخوا کے سینیئر صحافیوں کا ماننا ہے کہ یہ ایک خطرناک غلط فہمی ہے۔ موجودہ صورتحال کو دیکھتے ہوئے یہ اندازہ لگایا جاسکتا ہے، کہ جاری تنازعہ کے جلد ہی اورکزئی اور خاص طور پر کرم اضلاع میں گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔ عسکریت پسندی کے خاتمے کے بجائے، یہ داخلی جنگ ایک ایسا تزویراتی خلا پیدا کرنے کا امکان رکھتی ہے جسے دولتِ اسلامیہ خراسان صوبہ (ISKP) استعمال کرنے کیلئے تیار ہے۔ اگر ISKP اس خلا میں متحرک ہو جاتا ہے، تو یہ نہ صرف موجودہ فرقہ وارانہ عدم استحکام کو مزید بڑھا دے گا بلکہ پاکستانی ریاست کیلئے ایک زیادہ خوفناک اور پیچیدہ سیکیورٹی چیلنج کے طور پر بھی ابھرے گا۔
قبائلی ضلع کرم میں ٹی ٹی پی اور جماعت الاحرار کا خونیں تصادم: عسکری دھڑے بندی اور مستقبل کا منظرنامہ
سرکاری اسکولوں کی بربادی: نجی مافیا، تعلیمی بورڈز اور حکمران طبقے کا گٹھ جوڑ دی خیبر ٹائمز خصوصی تجزیہ پاکستان کا تعلیمی نظام دو متوازی دھاروں میں تقسیم ہے۔ ایک طرف سرکاری اسکول ہیں جہاں ملک کی اکثریتی آبادی اپنے بچوں کو بھیجنے پر مجبور ہے، تو دوسری طرف پرائیویٹ تعلیمی ادارے ہیں جو جدید سہولیات اور معیاری تعلیم کے دعوے دار ہیں۔ اس نظام کی سب سے بڑی ستم ظریفی یہ ہے کہ پالیسی ساز یعنی وزراء، بیوروکریٹس، اعلیٰ افسران اور کاروباری اشرافیہ میں سے شاذ و نادر ہی کسی کے بچے سرکاری اسکولوں میں زیرِ تعلیم نظر آتے ہیں۔ سرکاری سطح پر اس بات کا کوئی شفاف ریکارڈ موجود نہیں کہ کتنے سرکاری عہدیداران کے بچے سرکاری اسکولوں میں پڑھتے ہیں، تاہم زمینی حقائق بتاتے ہیں کہ یہ شرح تقریباً صفر ہے۔ جب تک حکمران طبقے کے بچے سرکاری اسکولوں کے انہی بوسیدہ بینچوں یا ٹاٹ پر نہیں بیٹھتے جن پر ایک غریب کا بچہ بیٹھتا ہے، تب تک پالیسی سازی میں وہ درد شامل نہیں ہو سکتا جو نظام کی اصلاح کیلئے ضروری ہے۔ پالیسی سازوں کیلئے سرکاری اسکول کی چھت کا گرنا، پینے کا پانی کی یا دیگر بنیادی سہولیات کا فقدان یا اساتذہ کی غیر حاضری محض ایک فائل کا مسئلہ رہ جاتا ہے، نہ کہ زندگی اور موت کا سوال۔ پرائیویٹ تعلیمی اداروں کی کامیابی کا راز کوئی جادو نہیں، بلکہ مارکیٹ کی طلب اور سرکاری نظام کی ناکامی ہے۔ ان اداروں میں اساتذہ کی حاضری اور کارکردگی کا سخت احتساب ہوتا ہے کیونکہ والدین فیس ادا کر رہے ہوتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا نجی تعلیمی مافیا سرکاری نظام کو بہتر نہیں ہونے دیتا؟ اس کا جواب دو رخی ہے۔ بہت سے سرکاری عہدیداران خود پرائیویٹ تعلیمی اداروں کے مالکان یا شراکت دار ہیں۔ جب کسی کا مالی مفاد سرکاری اسکولوں کے زوال میں وابستہ ہو، تو وہ کبھی نہیں چاہے گا کہ سرکاری اسکول اتنے معیاری ہو جائیں کہ نجی اسکولوں کی دکانیں بند ہو جائیں۔ اس صورتحال کو مزید پیچیدہ بنانے میں ثانوی تعلیمی بورڈز کا کردار کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ ایک ایسا گٹھ جوڑ تشکیل پا چکا ہے جس میں سرکاری اسکولوں کے بچوں کو کسی بھی صورت سبقت نہ ملنے دی جائے۔ پرائیویٹ اسکول مالکان کے درمیان اس بات کا مقابلہ ہے کہ ان کے طلبا بورڈ کے ٹاپ ٹین میں جگہ بنائیں، جس کے حصول کیلئے سفارش، تحفے تحائف اور رشوت خوری کا کھل کر سہارا لیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ملک بھر کے تعلیمی بورڈز میں چیئرمین کی کرسی کے حصول کیلئے سیاسی رسہ کشی اور بھاری رقوم کا استعمال ایک معمول بن چکا ہے۔ اگر سرکاری اسکولوں میں تعلیم کا معیار نجی اداروں کے برابر ہو جائے، تو غیر ضروری پرائیویٹ اسکول بند ہو جائیں گے اور تعلیم ایک منافع بخش کاروبار سے نکل کر دوبارہ بنیادی انسانی حق بن جائے گی۔ پاکستان میں تعلیمی اصلاحات تب ہی ممکن ہیں جب مفادات کا یہ ٹکراؤ ختم ہو۔ جب تک بیوروکریسی، سیاستدانوں اور بااثر شخصیات کیلئے اپنے بچوں کو سرکاری اسکولوں میں بھیجنا لازمی نہیں کیا جاتا، تب تک سرکاری درسگاہوں کی حالتِ زار تبدیل ہونا محال ہے۔ جس دن حکمران طبقے کے بچے سرکاری اسکولوں کے ٹوٹی ہوئی کھڑکیوں والے کمروں میں بیٹھنے لگیں گے، اسی دن تعلیمی بجٹ میں اضافہ بھی ہوگا اور نظامِ تعلیم کی کایا پلٹ بھی، کیونکہ تب یہ ان کی اپنی مجبوری اور ضرورت بن جائے گی۔ دی خیبر ٹائمز ۔ عوامی آواز، حقائق کی تلاش
سرکاری اسکولوں کی بربادی: نجی مافیا، تعلیمی بورڈز اور حکمران طبقے کا گٹھ جوڑ
اسلام آباد میں گیسٹ ہاؤسز کی بندش: لاکھوں افراد کے بے روزگار ہونے کا خدشہ پشاور ( رشید آفاق سے) وفاقی حکومت کی جانب سے اسلام آباد میں گیسٹ ہاؤسز کے خلاف جاری سخت کارروائیوں اور آئے روز چھاپوں کے بعد ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے۔ متاثرہ طبقے اور کاروباری حلقوں نے حکومت کے اس اقدام کو عوام دوست کے بجائے ’غریب دشمن‘ پالیسی قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ غریبوں کا روزگار چھیننے کے بجائے ان کیلئے آسانیاں پیدا کی جائیں۔ وفاقی دارالحکومت میں رجسٹرڈ گیسٹ ہاؤسز کی تعداد 12 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے۔ اگر ایک اوسط گیسٹ ہاؤس میں 10 ملازمین کو بھی شمار کیا جائے تو یہ تعداد ایک لاکھ 20 ہزار تک پہنچتی ہے، جبکہ بڑے گیسٹ ہاؤسز میں یہ تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ حکومت اس اہم شعبے کو ریگولیٹ کرنے کے بجائے اسے بند کروانے پر تلی ہوئی ہے، جس سے ایک بڑی تعداد میں لوگ بے روزگار ہو کر فاقہ کشی پر مجبور ہو سکتے ہیں۔ گیسٹ ہاؤس انڈسٹری سے وابستہ ایک شخصیت نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ وفاقی حکومت کا دعویٰ تو ملک سے غربت ختم کرنے کا تھا، لیکن موجودہ اقدامات سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ حکومت غربت ختم کرنے کے بجائے غریب کو ختم کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت روزانہ کی بنیاد پر گیسٹ ہاؤسز پر چھاپے مار رہی ہے، مالکان اور ملازمین کو بلاجواز تنگ کیا جا رہا ہے، اور معمولی مسائل پر گیسٹ ہاؤسز کو سیل کر کے سیکڑوں افراد کو ایک ہی دن میں بے روزگار کر دیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اب بہت سے مالکان اس کاروبار سے مایوس ہو کر اسے ہمیشہ کے لیے خیرباد کہنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسلام آباد میں ان گیسٹ ہاؤسز کا یومیہ کرایہ 3 سے 4 ہزار روپے تک ہوتا ہے، جو کہ عام آدمی یا متوسط طبقے کی پہنچ میں ہے۔ دور دراز علاقوں سے آنے والے غریب مسافر، مریض اور ملازمت پیشہ افراد، جو دیگر فائیو اسٹار ہوٹلوں کے بھاری اخراجات برداشت نہیں کر سکتے، انہی گیسٹ ہاؤسز میں قیام کرتے ہیں۔ متاثرین اور شہریوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ گیسٹ ہاؤسز مالکان اور ان کے ہزاروں ملازمین کے روزگار پر رحم کرے۔ حکومت کی جانب سے جاری کردہ یہ کارروائیاں نہ صرف ایک پورے شعبے کو تباہ کر رہی ہیں، بلکہ ان غریب مسافروں کی مشکلات میں بھی اضافہ کر رہی ہیں جو مجبوری کے تحت وفاقی دارالحکومت کا رخ کرتے ہیں۔ انتظامیہ کو چاہئے کہ وہ سخت گیر رویہ ترک کر کے افہام و تفہیم اور ضابطہ اخلاق کے تحت معاملات کو حل کرے۔
اسلام آباد میں گیسٹ ہاؤسز کی بندش: لاکھوں افراد کے بے روزگار ہونے کا خدشہ

زیادہ پڑھی گئی

پشتون تحفظ مؤومنٹ کے اہم رہنما شہاب خٹک کے بھائی ڈاکٹر نعیم الدین خٹک کو نامعلوم افراد نے پشاور کے بھرے بازار میں گولی مارکر شہید کردیا
شمالی وزیرستان کو کس کی نظر لگ گئی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ احسان داوڑ
کیا لڑانے والے کامیاب نہیں ہوئے ؟؟؟ خصوصی تحریر: رسول داوڑ
شمالی وزیرستان ،رمضان المبارک کا چاندنظرآگیا
بول کہ لب آزاد ہیں تیرے…. تحریر رفعت انجم
پشاورکوروناکےنشانےپرکیوں؟؟؟ تحریر: فدا عدیل
صدر ٹرمپ کا دورہ چین اور عالمی جیو پولیٹکس پر اس کے اثرات تحریر: ناصر داوڑ ریاستہائے متحدہ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا 13 سے 15 مئی 2026 تک ہونے والا تزویراتی دورہ چین عالمی سیاست کی تاریخ میں ایک اہم موڑ قرار دیا جا رہا ہے ۔ تقریباً نو سالوں کے طویل عرصے کے بعد کسی برسرِاقتدار امریکی صدر کا یہ پہلا دورہ چین تھا، اس سے قبل آخری بار خود صدر ٹرمپ نے ہی نومبر 2017 میں بیجنگ کا دورہ کیا تھا ۔ یہ دورہ ایک ایسے انتہائی حساس وقت پر وقوع پذیر ہوا جب مشرق وسطیٰ میں امریکہ-اسرائیل اور ایران کے مابین جنگ اور آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کے باعث عالمی جیو پولیٹکس اور معیشت شدید دباؤ کا شکار تھی ۔ تزویراتی تجزیہ کار اس دورے کو ایک پائیدار تزویراتی شراکت داری کے بجائے محض ایک عارضی بحرانی انتظام اور سفارتی جنگ بندی کے طور پر دیکھ رہے ہیں ۔ یہ دورہ اصل میں اپریل 2026 کے پہلے ہفتے کیلئے طے کیا گیا تھا، لیکن فروری میں ایران کے خلاف شروع ہونے والی جنگ اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی بحرانی صورتحال کے باعث اسے مئی تک ملتوی کر دیا گیا تھا ۔    بدھ، 13 مئی 2026 کی شام صدر ٹرمپ کا طیارہ بیجنگ کیپٹل انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر اترا جہاں چینی نائب صدر ہان ژینگ، امریکہ میں متعین چینی سفیر ژی فینگ، ایگزیکٹو نائب وزیر خارجہ ما ژاؤکسو، اور چین میں امریکی سفیر ڈیوڈ پرڈیو نے ان کا استقبال کیا ۔ صدر ٹرمپ کے اعزاز میں ایک شاندار عسکری آنر گارڈ اور فوجی بینڈ پیش کیا گیا جس کے بعد ان کا قافلہ سخت سیکیورٹی میں فور سیزنز بیجنگ ہوٹل منتقل ہوا، جبکہ امریکی وفد کے دیگر ارکان کو کیمپنسکی ہوٹل بیجنگ یانشا سینٹر میں ٹھہرایا گیا ۔ اگلے روز، یعنی جمعرات 14 مئی 2026 کی صبح، صدر ٹرمپ باقاعدہ دوطرفہ مذاکرات کیلئے عظیم عوامی ہال پہنچے جہاں چینی صدر شی جن پنگ نے ان کا والہانہ استقبال کیا ۔ مذاکرات کے بعد دونوں رہنماؤں نے بیجنگ کے تاریخی معبد ٹیمپل آف ہیون کا دورہ کیا، جس کے بعد وہ 1975 میں جیرالڈ فورڈ کے بعد اس معبد کا دورہ کرنے والے دوسرے برسرِاقتدار امریکی صدر بن گئے ۔ اسی روز شام کو صدر شی نے عظیم عوامی ہال کے سنہری کمرے میں صدر ٹرمپ کے اعزاز میں ایک پُرآسائش سرکاری ضیافت کا اہتمام کیا، جس میں بیجنگ روسٹ ڈک اور روایتی چینی پکوان پیش کئے گئے اور اسی دوران صدر ٹرمپ نے چینی صدر کو 24 ستمبر 2026 کو امریکہ کے جوابی سرکاری دورے کی باقاعدہ دعوت پیش کی ۔ دورے کے آخری روز، یعنی جمعہ 15 مئی 2026 کو، صدر شی نے صدر ٹرمپ کی میزبانی ژونگ نان ہائی کے باغیچے میں چائے کی دعوت پر کی ۔ یہ غیر معمولی دعوت نامہ دراصل 2017 میں مار-اے-لاگو میں چینی صدر کی میزبانی کے جواب میں تھا، جہاں دونوں رہنماؤں نے باغات کی سیر کی اور ایک تفصیلی ورکنگ لنچ کے بعد صدر ٹرمپ ائیر فورس ون کے ذریعے واپس روانہ ہو گئے ۔    اس تاریخی دورے کا ایک بڑا مرکز دونوں ممالک کے مابین تجارتی جنگ کو عارضی طور پر روکنا اور معاشی مفادات کو متوازن کرنا تھا، جس کیلئے فریقین نے کئی اہم شعبوں میں تجارتی معاہدوں کی تفصیلات کو زیر بحث لایا ۔ معاشی معاہدوں میں سب سے بڑی اور اہم پیش رفت ہوابازی کے شعبے میں امریکی کمپنی بوئنگ (Boeing) کیلئے دیکھی گئی، جہاں صدر ٹرمپ کے مطابق چین نے ابتدائی طور پر کم از کم 200 مسافر بردار طیاروں کی خریداری کا عزم ظاہر کیا ہے، جسے مستقبل میں مزید بڑھا کر 750 طیاروں تک لے جایا جا سکتا ہے ۔ اگرچہ اس آرڈر کے حتمی مینوفیکچرنگ اور فراہمی کی تاریخوں پر چینی انتظامیہ نے تاحال کوئی باضابطہ رسید یا تفصیلی دستاویز جاری نہیں کی، لیکن بوئنگ نے اس تزویراتی عزم کو چینی مارکیٹ کے دوبارہ کھلنے کے حوالے سے ایک بڑی کاروباری فتح قرار دیا ہے ۔ زراعت کے شعبے میں، امریکی تجارتی نمائندے جیمی سن گریر کے مطابق، چین نے آئندہ تین سالوں کیلئے سالانہ بنیادوں پر دہرے ہندسے (double-digit) یعنی دسیوں ارب ڈالر مالیت کے امریکی سویا بین اور دیگر زرعی مصنوعات خریدنے کی یقین دہانی کروائی ہے ۔ اس کے علاوہ معاشی سفارت کاری کے تحت چین نے امریکی گائے کے گوشت (beef) پر عائد دیرینہ درآمدی پابندی عارضی طور پر اٹھانے کا فیصلہ کیا، اگرچہ دورے کے اختتام پر چینی کسٹمز حکام نے تیکنیکی وجوہات کا حوالہ دیتے ہوئے اس درآمدی اجازت کے دائرہ کار کو دوبارہ محدود کر دیا ۔ معاشی مذاکرات میں امریکی خام تیل اور توانائی کے دیگر شعبوں سے درآمدات کی ممکنہ چینی خریداری پر بھی سنجیدہ بات چیت ہوئی ۔    ان تمام معاشی سرگرمیوں اور تجارتی بہاؤ کو مستقل بنیادوں پر منظم کرنے کیلئے دونوں ممالک نے دو اہم وفاقی ادارے قائم کرنے پر باقاعدہ اتفاق کیا، جنہیں بورڈ آف ٹریڈ (Board of Trade) اور بورڈ آف انویسٹمنٹ (Board of Investment) کا نام دیا گیا ہے ۔ ان میں سے بورڈ آف ٹریڈ کا بنیادی کام دونوں ممالک کے مابین غیر حساس اشیاء کی درآمد و برآمد پر یکطرفہ ٹیرف اور تجارتی مسائل کو براہ راست حکومتی سطح پر حل کرنا ہوگا، جبکہ بورڈ آف انویسٹمنٹ ایک مستقل سرکاری فورم کے طور پر دونوں معیشتوں کے مابین سرمایہ کاری کے مسائل اور مارکیٹ تک رسائی کی سہولیات کا جائزہ لے گا ۔ چینی وزیر خارجہ وانگ ای نے تصدیق کی کہ دونوں ممالک کی ورکنگ ٹیمیں ان دونوں بورڈز کی باقاعدہ ساخت اور دوطرفہ ٹیرف میں متوازن کٹوتی کے فریم ورک کے تحت باہمی تجارتی حجم کو بڑھانے کیلئے متعلقہ تفصیلات پر اب بھی مسلسل مذاکرات کر رہی ہیں ۔ دفاعی محاذ پر دونوں ممالک کے مابین کسی بڑے عسکری معاہدے پر دستخط نہیں ہوئے کیونکہ چین نے اپنے بڑھتے ہوئے جوہری ذخائر اور جدید ترین میزائل پروگرام کو کسی بھی قسم کے بین الاقوامی کنٹرول کے دائرے میں لانے یا اس پر بحث کرنے سے صاف انکار کر دیا ۔ تاہم، دونوں رہنماؤں نے مصنوعی ذہانت کے عسکری استعمال، بالخصوص جوہری ہتھیاروں کے فائرنگ کنٹرول سسٹمز کو مکمل طور پر خودکار بنانے سے روکنے پر اتفاق کیا، اور تزویراتی غلط فہمیوں سے بچنے کیلئے واشنگٹن اور بیجنگ کے مابین ایک مخصوص AI ہاٹ لائن قائم کرنے کی تجویز پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا ۔    ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ دورہ مشرق وسطیٰ کے ایک بڑے بحران کے سائے میں انجام پایا کیونکہ فروری 2026 کے آخر میں امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر مشترکہ فضائی حملوں کے بعد شروع ہونے والی جنگ نے عالمی معیشت اور توانائی کے راستوں کو ہلا کر رکھ دیا تھا ۔ اس ہولناک تنازعے کو روکنے کے لیے پاکستان نے انتہائی فعال اور جرات مندانہ سفارتی کردار ادا کیا اور 8 اپریل 2026 کو پاکستان کی ثالثی کے نتیجے میں دونوں فریقین ایک عارضی جنگ بندی پر متفق ہوئے تھے ۔ اسی سلسلے میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے 11 اور 12 اپریل کو اسلام آباد کا دورہ کیا تھا جہاں انہوں نے ایرانی سفارت کاروں کے ساتھ براہ راست غیر رسمی بات چیت کا آغاز کیا ۔ تاہم، یہ امن عمل انتہائی نازک موڑ پر تھا کیونکہ ایران نے امریکی مطالبات کو مسترد کرتے ہوئے امریکہ سے جنگی نقصانات کا معاوضہ اور آبنائے ہرمز پر اپنی غیر مشروط خودمختاری کا مطالبہ کیا تھا، جسے صدر ٹرمپ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر "مکمل طور پر ناقابلِ قبول" قرار دے کر مسترد کر دیا تھا ۔ چین کے لیے آبنائے ہرمز کا بحران معاشی بقا کا مسئلہ ہے کیونکہ چین اپنی ضرورت کا تقریباً 40 فیصد خام تیل اسی بحری راستے سے درآمد کرتا ہے، اس لیے بیجنگ مذاکرات کے دوران صدر ٹرمپ نے تہران پر چین کے گہرے اقتصادی اثر و رسوخ کو استعمال کرنے کی ضرورت پر زور دیا ۔ چین نے تہران کو پرامن حل کے لیے قائل کرنے پر آمادگی ظاہر کی لیکن اس کے بدلے میں واشنگٹن سے یہ ضمانت طلب کی کہ وہ چینی بینکوں اور مالیاتی اداروں پر عائد کی جانے والی ثانوی امریکی پابندیاں منجمد کر دے، جس کے باعث یہ سربراہی ملاقات عسکری کارروائیوں کو روکنے اور سفارتی راستے کھلے رکھنے کیلئے ایک اہم سدِ راہ ثابت ہوئی ۔    پاکستان اس جیو پولیٹیکل منظرنامے میں ایک اہم فریق کے طور پر ابھرا ہے، جہاں اس کی جغرافیائی حیثیت اور تزویراتی سفارت کاری نے اسے عالمی توجہ کا مرکز بنا دیا ہے ۔ سفارتی سطح پر پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار کسی امریکی صدر نے عوامی سطح پر پاکستان کی عسکری اور سیاسی قیادت کا اس حد تک اعتراف کیا ہے، جہاں چین سے واپسی پر ائیر فورس ون پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے واضح الفاظ میں کہا کہ امریکہ نے ایران کے ساتھ جنگ بندی بنیادی طور پر پاکستان کی درخواست اور اس پر ایک احسان کے طور پر قبول کی ہے ۔ صدر ٹرمپ نے پاکستان کے عسکری سربراہ فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیر اعظم شہباز شریف کی تعریف کرتے ہوئے انہیں "شاندار لوگ" قرار دیا، جس نے عالمی سطح پر پاکستان کے سفارتی قد کاٹھ میں بے پناہ اضافہ کیا ۔ مزید برآں، چین اور پاکستان نے 31 مارچ 2026 کو مشترکہ طور پر جو پانچ نکاتی امن اقدام پیش کیا تھا، اسے عالمی برادری اور بالخصوص گلوبل ساؤتھ کے ممالک کی طرف سے ایک معقول اور قابلِ عمل فریم ورک کے طور پر سراہا گیا ہے، جس نے پاکستان کو بیجنگ کے ایک تزویراتی شراکت دار کے طور پر مزید مستحکم کیا اور چین-پاکستان اقتصادی راہداری (CPEC) کے سیکیورٹی ماحول کو بہتر بنانے میں مدد دی ۔ دوسری جانب، پاکستان کیلئے سب بهت بڑا تزویراتی خطرہ اس کی غیر جانبداری پر اٹھنے والے سوالات ہیں، کیونکہ امریکی انٹیلی جنس اور سیٹلائٹ تصاویر کی بنیاد پر واشنگٹن میں یہ شکوک و شبہات پائے جاتے ہیں کہ بحران کے دوران کچھ ایرانی عسکری طیاروں نے پاکستانی فضائی اڈوں پر لاجسٹک پناہ لی تھی ۔ اگرچہ پاکستانی دفتر خارجہ نے ان الزامات کی سختی سے تردید کی ہے، لیکن امریکی انتظامیہ کے اندر یہ تاثر ابھرا ہے کہ پاکستان مشرق وسطیٰ کے بحران میں دوہرا کھیل کھیل رہا ہے ۔ امریکی سیکیورٹی حکام کا یہ بھی ماننا ہے کہ پاکستان ایرانی موقف کو واشنگٹن کے سامنے زیادہ مثبت بنا کر پیش کر رہا ہے جو زمینی حقیقت سے مطابقت نہیں رکھتا، چنانچہ اگر مستقبل میں ایران کے ساتھ مذاکرات دوبارہ ناکام ہوتے ہیں تو واشنگٹن کی جانب سے پاکستان پر دباؤ اور اقتصادی تعزیرات کا خطرہ بڑھ سکتا ہے ۔    صدر ٹرمپ کے دورہ چین اور واشنگٹن-بیجنگ کے مابین پیدا ہونے والے عارضی تناؤ کے خاتمے سے جنوبی ایشیا کے تزویراتی توازن میں نمایاں تبدیلیاں متوقع ہیں، جس نے نئی دہلی کو شدید تشویش میں مبتلا کر دیا ہے ۔ بھارت کی جیو پولیٹیکل اہمیت اب تک اس مفروضے پر قائم تھی کہ امریکہ کو چین کا مقابلہ کرنے کیلئےبھارت کی اشد ضرورت ہے، لیکن اگر امریکہ اور چین کے مابین تعلقات بہتر ہوتے ہیں تو واشنگٹن کیلئے بھارت کو ایک مراعات یافتہ شراکت دار بنائے رکھنے کی اہمیت کم ہو جائے گی اور اس کا سفارتی اثر و رسوخ بھی متاثر ہو سکتا ہے ۔ اس کے علاوہ عالمی سپلائی چین کی منتقلی پر بھی گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، کیونکہ بھارتی معیشت نے حال ہی میں چین پر عائد امریکی ٹیرف سے بچنے کیلئے غیر ملکی سرمایہ کاری حاصل کی تھی، لیکن اگر ان نئے مذاکرات کے نتیجے میں چین پر ٹیرف نرم کر دئے جاتے ہیں، تو سرمایہ کاری دوبارہ چین کا رخ کر سکتی ہے، جو بھارتی مینوفیکچرنگ سیکٹر کیلئے ایک بڑا دھچکا ہو گا ۔ نئی دہلی کو یہ خدشہ بھی ستا رہا ہے کہ واشنگٹن اور بیجنگ کے مابین جیو پولیٹیکل افہام و تفہیم کے نتیجے میں امریکہ پاکستان کے عسکری اور جوہری پروگرام پر وہ سخت گیر دباؤ برقرار نہیں رکھے گا جس کی بھارت کو توقع تھی، خاص طور پر جب پاکستان مشرق وسطیٰ میں امریکی مفادات کے لیے ایک ناگزیر ثالث بن کر ابھرا ہے ۔    بین الاقوامی تعلقات کے ماہرین کا متفقہ فیصلہ ہے کہ اگرچہ اس دورے کی تصاویر اور مصافحے انتہائی مثبت دکھائی دیتے ہیں، لیکن دونوں عالمی طاقتوں کے مابین پائے جانے والے گہرے اسٹرکچرل اختلافات اور غلط فہمیوں کا مستقل ازالہ ممکن نہیں نظر آتا ۔ واشنگٹن کیلئے استحکام کا مطلب ایک ایسا تزویراتی ماحول ہے جہاں چین امریکی قیادت میں قائم عالمی نظام کو چیلنج نہ کرے، جبکہ چین کیلئے اس کا مطلب ایک کثیر الجہتی دنیا کا قیام ہے جہاں امریکی اثر و رسوخ رفتہ رفتہ کم ہو ۔ فروری 2026 میں امریکی سپریم کورٹ کی جانب سے صدر ٹرمپ کے یکطرفہ ٹیرف قوانین کو غیر آئینی قرار دینے کے فیصلے نے ٹرمپ کو اندرونی طور پر معاشی محاذ پر کمزور کر دیا تھا، جس کے باعث وہ بیجنگ سے کسی بھی قیمت پر ایک معاشی فتح حاصل کرنے کیلئے بے چین تھے ۔ چین نے ٹرمپ کی اس کمزوری اور ان کی کاروباری سوچ کو بھانپتے ہوئے انہیں چند چیدہ تجارتی مراعات پیش کر کے وقت حاصل کر لیا ہے، تاکہ وہ اپنی تکنیکی اور عسکری صلاحیتوں کو مزید مستحکم کر سکے ۔ تائیوان کی سلامتی اور امریکی ساختہ جدید سیمی کنڈکٹرز چپس پر برآمدی پابندیاں جیسے بنیادی تنازعات بدستور جوں کے توں موجود ہیں، جو کسی بھی وقت دوبارہ ایک نئی کشیدگی کو جنم دے سکتے ہیں ۔    اگر تاریخی تناظر میں دیکھا جائے تو امریکی صدور کے دورے ہمیشہ عالمی تزویراتی صف بندیوں کو تبدیل کرنے کا باعث بنے ہیں ۔ رچرڈ نکسن نے فروری 1972 میں پہلا تاریخی دورہ کیا جس نے سرد جنگ کا رخ موڑ دیا ۔ اس کے بعد جیرالڈ فورڈ نے 1975 میں معبدِ ٹیمپل آف ہیون کا دورہ کیا ۔ رونالڈ ریگن نے 1984 میں چین کے ساتھ سائنسی اور تجارتی تعاون کے معاہدے کئے ۔ جارج ایچ ڈبلیو بش نے 1989 میں قریبی ذاتی روابط کو فروغ دیا ۔ بل کلنٹن نے 1998 میں نو روزہ طویل ترین ریاستی دورہ کیا ۔ جارج ڈبلیو بش نے ریکارڈ چار مرتبہ دورہ کیا ۔ باراک اوباما نے تین بار دورہ کر کے موسمیاتی تبدیلی پر تاریخی پیرس معاہدے کیلئے مشترکہ عزم حاصل کیا ۔ صدر ٹرمپ نے خود اپنے پہلے دورے کے دوران نومبر 2017 میں بیجنگ کا دورہ کر کے تجارتی خسارے پر سخت بات چیت کی تھی ۔ ان کے بعد اب مئی 2026 کا یہ دورہ تقریباً نو سال کے وقفے کے بعد کسی امریکی صدر کا پہلا دورہ چین تھا، جس نے مشرق وسطیٰ کی جنگ، تجارتی ٹیرف کے عارضی تعطل، اور جیو پولیٹیکل استحکام کے حوالے سے ایک نیا باب کھولا ہے ۔   

صدر ٹرمپ کا دورہ چین اور عالمی جیو پولیٹکس پر اس کے اثرات

مئی 17, 2026May 17, 2026

تحریر: ناصر داوڑ ریاستہائے متحدہ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا 13 سے 15 مئی 2026 تک ہونے والا تزویراتی دورہ چین عالمی سیاست کی تاریخ میں ایک اہم موڑ قرار دیا جا رہا ہے ۔ تقریباً نو سالوں کے مزید پڑھیں

Copyright © 2019-2020, THE KHYBER TIMES All Rights Reserved | Powered by Kifayatullah MOMAND