26 April, 2026
اہم خبریں
  • واشنگٹن میں ٹرمپ کی موجودگی میں وائٹ ہاؤس میڈیا ڈنر پر فائرنگ، امریکی صدر محفوظ، حملہ آور گرفتار
  • پاکستان سے اچھے تعلقات ناگزیر، ارومچی مذاکرات نے بہتر مستقبل کی راہ کھول دی، افغان وزیر خارجہ
  • برطانیہ میں پاسداران انقلاب کو دہشتگرد قرار دینے کی قانون سازی کی تیاری
  • پشاور کبیر ریسٹورنٹ سیل، چائنہ سالٹ برآمد، منیجر گرفتار
  • درابن تھانہ پر راکٹ حملہ، شدید فائرنگ، عمارت کو نقصان
  • Home
  • اہم خبریں
  • پاکستان
    • دینی مسائل
    • اہم خبریں
    • مذہب
    • تصاویر اور مناظر
    • سیر و تفریح
    • دلچسپ و عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
    • صحت
  • افغانستان
  • علاقائی
  • کالمز
  • انٹرنیشنل
  • کاروبار
  • کھیل
  • شوبز
  • کاپی رائٹس
    • پرائیویسی پالیسی
    • قوائد و ضوابت
    • ہمارے بارے میں
  • Home
  • اہم خبریں
  • پاکستان
    • دینی مسائل
    • اہم خبریں
    • مذہب
    • تصاویر اور مناظر
    • سیر و تفریح
    • دلچسپ و عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
    • صحت
  • افغانستان
  • علاقائی
  • کالمز
  • انٹرنیشنل
  • کاروبار
  • کھیل
  • شوبز
  • کاپی رائٹس
    • پرائیویسی پالیسی
    • قوائد و ضوابت
    • ہمارے بارے میں

ہمارا یوٹیوب چینل

ہمارا فیس بک پیج

The Khyber Times

خصوصی فیچرز

پشتون تحفظ مؤومنٹ کے اہم رہنما شہاب خٹک کے بھائی ڈاکٹر نعیم الدین خٹک کو نامعلوم افراد نے پشاور کے بھرے بازار میں گولی مارکر شہید کردیا
شمالی وزیرستان کو کس کی نظر لگ گئی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ احسان داوڑ
کیا لڑانے والے کامیاب نہیں ہوئے ؟؟؟ خصوصی تحریر: رسول داوڑ
شمالی وزیرستان ،رمضان المبارک کا چاندنظرآگیا
بول کہ لب آزاد ہیں تیرے…. تحریر رفعت انجم

حیرت انگیز

واشنگٹن میں ٹرمپ کی موجودگی میں وائٹ ہاؤس میڈیا ڈنر پر فائرنگ، امریکی صدر محفوظ، حملہ آور گرفتار 
واشنگٹن ( دی خیبر ٹائمز مانیٹرنگ ڈیسک) امریکا کے دارالحکومت واشنگٹن میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی موجودگی میں وائٹ ہاؤس کے میڈیا نمائندوں کے اعزاز میں منعقدہ عشائیے کے دوران فائرنگ کا سنسنی خیز واقعہ پیش آیا، جس کے نتیجے میں تقریب میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا، تاہم صدر ٹرمپ محفوظ رہے جبکہ حملہ آور کو فوری کارروائی کرتے ہوئے گرفتار کر لیا گیا۔ امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ تقریب واشنگٹن کے معروف ہلٹن ہوٹل میں جاری تھی جہاں وائٹ ہاؤس کی کوریج کرنے والے صحافیوں، میڈیا نمائندوں، حکومتی شخصیات اور اعلیٰ سیکیورٹی حکام کی بڑی تعداد موجود تھی۔ عشائیے کا باقاعدہ آغاز ہی ہوا تھا کہ اچانک ہال میں ایک زور دار آواز گونجی جسے ابتدائی طور پر کچھ شرکا نے دھماکہ یا شیشے ٹوٹنے کی آواز سمجھا، لیکن چند لمحوں بعد معلوم ہوا کہ یہ فائرنگ کی آواز تھی۔ رپورٹس کے مطابق واقعے سے چند سیکنڈ قبل صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایک سیکورٹی پرچی دکھائی گئی، اسی نوعیت کی پرچی وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولائن لیویٹ کو بھی دی گئی تھی۔ پرچی ملتے ہی صدر ٹرمپ کے چہرے کے تاثرات بدل گئے جبکہ ان کے قریب بیٹھی ایک خاتون کو بھی واضح طور پر حیرت اور پریشانی میں دیکھا گیا۔ اس کے فوراً بعد سیکریٹ سروس کے اہلکار حرکت میں آئے اور پورے بال روم میں ایمرجنسی ردعمل شروع ہوگیا۔ عینی شاہدین کے مطابق اچانک فائرنگ جیسی آواز سنائی دینے پر تقریب میں موجود متعدد مہمان چیخ اٹھے اور کئی افراد اپنی میزوں کے نیچے چھپ گئے۔ کچھ صحافیوں نے موبائل فونز بند کر کے زمین پر لیٹنے کو ترجیح دی جبکہ سیکریٹ سروس کے مسلح اہلکاروں نے چند ہی لمحوں میں صدر ٹرمپ کو حصار میں لے کر ہال سے باہر منتقل کر دیا۔ اسی دوران کئی اہلکاروں نے اسلحہ تان کر داخلی راستوں کو گھیر لیا اور مشتبہ شخص کی تلاش شروع کردی۔ امریکی میڈیا کا کہنا ہے کہ حملہ آور مرکزی دروازے کے قریب نصب میگنیٹو میٹر کی جانب تیزی سے بڑھا اور اسی دوران اس نے بال روم کے قریب موجود ایک سیکریٹ سروس اہلکار کو گولی مارنے کی کوشش کی۔ اطلاعات کے مطابق سیکیورٹی اہلکار جوابی کارروائی کے لئے فوراً متحرک ہوئے اور حملہ آور کو قابو میں کر لیا گیا۔ ابتدائی اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ ایک اہلکار زخمی ہوا ہے، تاہم اس کی حالت سے متعلق فوری طور پر تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔ واقعے کے بعد پورے ہوٹل کو سیکیورٹی حصار میں لے لیا گیا اور بم ڈسپوزل، فرانزک اور وفاقی تفتیشی ٹیموں کو طلب کر لیا گیا۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا حملہ آور نے اکیلے کارروائی کی یا اس کے پیچھے کسی منظم گروہ یا سیاسی محرک کا ہاتھ تھا۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق ابتدائی تفتیش میں حملہ آور کے پس منظر، اس کی ہوٹل تک رسائی اور اسلحہ اندر لانے کے طریقہ کار پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے، کیونکہ تقریب میں صدر کی موجودگی کے باعث سیکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کئے گئے تھے۔ یہ واقعہ اس لحاظ سے بھی غیر معمولی قرار دیا جا رہا ہے کہ وائٹ ہاؤس میڈیا نمائندوں کے اعزاز میں ہونے والا یہ عشائیہ امریکی سیاسی اور صحافتی حلقوں کا ایک اہم سالانہ اجتماع سمجھا جاتا ہے، جہاں صدور عموماً صحافیوں سے غیر رسمی انداز میں ملاقات کرتے ہیں۔ ایسے حساس موقع پر فائرنگ نے امریکی سیکیورٹی سسٹم پر کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ فائرنگ کے واقعے کے کچھ دیر بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر اپنا ردعمل جاری کرتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن ڈی سی میں یہ ایک غیر معمولی شام تھی، سیکریٹ سروس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے شاندار اور بہادرانہ کام کیا، انہوں نے چند لمحوں میں صورتحال کو قابو میں لیا۔ صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ حملہ آور کو حراست میں لے لیا گیا ہے اور انہوں نے سفارش کی تھی کہ شو جاری رہنے دیا جائے، تاہم تمام فیصلے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مکمل ہدایات کے مطابق کئے جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی عوام کو یہ جان کر اطمینان ہونا چاہئے کہ سیکیورٹی ادارے ہر خطرے سے نمٹنے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔ سیاسی مبصرین کے مطابق یہ واقعہ نہ صرف امریکی صدارتی سیکیورٹی کے حوالے سے تشویش کا باعث ہے بلکہ یہ آئندہ صدارتی انتخابی ماحول میں بھی ایک نئی بحث چھیڑ سکتا ہے، کیونکہ ڈونلڈ ٹرمپ پہلے ہی کئی متنازع سیکیورٹی خدشات اور سیاسی کشیدگی کے بیچ انتخابی مہم چلا رہے ہیں۔ واشنگٹن میں پیش آنے والی اس فائرنگ نے ایک بار پھر امریکی داخلی سلامتی کے نظام کو عالمی توجہ کا مرکز بنا دیا ہے۔
واشنگٹن میں ٹرمپ کی موجودگی میں وائٹ ہاؤس میڈیا ڈنر پر فائرنگ، امریکی صدر محفوظ، حملہ آور گرفتار
پاکستان سے اچھے تعلقات ناگزیر، ارومچی مذاکرات نے بہتر مستقبل کی راہ کھول دی، افغان وزیر خارجہ 
پشاور ( دی خیبر ٹائمز مانیٹرنگ ڈیسک) افغانستان کے وزیر خارجہ مولوی امیر خان متقی نے چین میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان ہونے والے حالیہ مذاکرات کو نہایت مثبت اور حوصلہ افزا پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ کابل اور اسلام آباد کے درمیان پیدا ہونے والی غلط فہمیوں اور کشیدگی کو کم کرنے کے لئے محتاط سفارت کاری اور ذمہ دارانہ طرزِ عمل وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ دو اسلامی اور ہمسایہ ممالک کے درمیان تعلقات کو جذباتی بیانات یا وقتی تنازعات کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جا سکتا بلکہ قومی مفاد، خطے کے استحکام اور عوامی ضرورتوں کو سامنے رکھ کر فیصلے کرنا ہوں گے۔ افغان وزارت خارجہ کے ڈپلومیسی انسٹیٹیوٹ کی چھٹی تخصصی تربیتی کورس کی تقریبِ فراغت سے خطاب کرتے ہوئے امیر خان متقی نے کہا کہ چین کے شہر ارومچی میں کابل اور اسلام آباد کے نمائندوں کے درمیان ہونے والی حالیہ بات چیت کو افغانستان میں سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے اور یہ مذاکرات دونوں ممالک کے درمیان جمی ہوئی برف پگھلانے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے وقت میں جب پاکستان اور افغانستان کے تعلقات گزشتہ کئی ماہ سے سیکیورٹی، سرحدی تنازعات، مہاجرین کی واپسی اور دہشت گردی کے الزامات کی وجہ سے دباؤ کا شکار رہے، بیجنگ میں ہونے والا سفارتی رابطہ ایک نئی امید کے طور پر سامنے آیا ہے۔ مولوی امیر خان متقی نے تقریب سے خطاب میں نئے افغان سفارتکاروں کو خصوصی طور پر ہدایت دی کہ وہ ایسے بڑے اور حساس معاملات میں انتہائی محتاط رہیں جن میں دو برادر اسلامی اور پڑوسی ممالک شامل ہوں۔ انہوں نے کہا کہ ایک سفارتکار کی اصل آزمائش انہی نازک مواقع پر ہوتی ہے جب اسے یہ سمجھنا پڑتا ہے کہ کس بیان، کس مؤقف اور کس سفارتی انداز سے ملک کو فائدہ ہو سکتا ہے اور کس غیر ذمہ دارانہ طرزِ عمل سے قومی مفادات کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ ان کے بقول افغانستان اس وقت خطے میں تنہائی نہیں بلکہ روابط، تعاون اور توازن کی پالیسی چاہتا ہے، اس لیے نئی سفارتی کھیپ کو جذبات سے زیادہ تدبر اور حکمت کو اپنانا ہوگا۔ پاکستان اور افغانستان کے تعلقات میں گزشتہ ایک سال کے دوران مسلسل اتار چڑھاؤ دیکھا گیا۔ اسلام آباد کی جانب سے بارہا یہ الزام عائد کیا جاتا رہا کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے جنگجو افغان سرزمین استعمال کر کے پاکستان میں حملے کر رہے ہیں، جبکہ کابل حکومت ان الزامات کو مکمل طور پر تسلیم کرنے سے گریز کرتی رہی۔ اسی دوران سرحدی گزرگاہوں کی بندش، تجارتی سامان کی ترسیل میں رکاوٹیں، افغان مہاجرین کی بے دخلی، اور دونوں جانب سے سخت بیانات نے ماحول کو مزید کشیدہ کر دیا۔ پاکستان نے متعدد مواقع پر کہا کہ افغانستان کو اپنی سرزمین کسی بھی ہمسایہ ملک کے خلاف استعمال ہونے سے روکنا ہوگا، جبکہ افغان طالبان حکومت کی جانب سے یہ مؤقف اپنایا گیا کہ مسائل کا حل دباؤ نہیں بلکہ براہ راست مذاکرات میں ہے۔ انہی بڑھتی ہوئی پیچیدگیوں کے باعث چین نے دونوں ممالک کے درمیان سفارتی فاصلے کم کرنے کے لئے متحرک کردار ادا کیا۔ چین نہ صرف پاکستان کا قریبی اتحادی ہے بلکہ افغانستان میں بھی معدنیات، تجارت اور علاقائی رابطہ کاری کے بڑے منصوبوں میں دلچسپی رکھتا ہے۔ بیجنگ یہ سمجھتا ہے کہ اگر پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی برقرار رہی تو نہ صرف سی پیک کے توسیعی امکانات متاثر ہوں گے بلکہ وسطی ایشیا تک رسائی، تجارتی راہداریوں اور انسداد دہشت گردی کے علاقائی اہداف کو بھی نقصان پہنچے گا۔ اسی پس منظر میں چین نے حالیہ ہفتوں میں پاکستان اور افغانستان کے اعلیٰ حکام کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لئے سرگرم سفارت کاری کی۔ بیجنگ میں ہونے والی حالیہ ملاقات میں سرحدی سلامتی، انٹیلی جنس تعاون، مہاجرین، ٹرانزٹ تجارت، سفارتی رابطوں کی بحالی اور باہمی اعتماد سازی جیسے امور زیر بحث آئے۔ اگرچہ مذاکرات کی مکمل تفصیلات منظر عام پر نہیں آئیں، تاہم دونوں فریقوں کی جانب سے لہجے میں نرمی دیکھی گئی، جسے مبصرین ایک اہم تبدیلی قرار دے رہے ہیں۔ پشاور اور کابل کے تجزیہ کاروں کے مطابق افغان وزیر خارجہ کی جانب سے ان مذاکرات کو مثبت قرار دینا محض رسمی بیان نہیں بلکہ کابل کی پالیسی میں ایک محتاط سفارتی اشارہ ہے۔ یہ اس بات کی علامت سمجھا جا رہا ہے کہ افغان طالبان حکومت پاکستان کے ساتھ جاری تناؤ کو کم کرنا چاہتی ہے، کیونکہ معاشی بحران، عالمی تنہائی اور اندرونی دباؤ کے باعث افغانستان مزید علاقائی محاذ آرائی کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ متقی کا سفارتکاروں کو دیا گیا یہ پیغام بھی اہم قرار دیا جا رہا ہے کہ وہ ہر حساس مسئلے میں “ملکی فائدہ اور نقصان” کو سمجھیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کابل حکومت اپنی نئی سفارتی ٹیم کو زیادہ عملی، مفاداتی اور کم جذباتی خارجہ پالیسی کی طرف لے جانا چاہتی ہے۔ پاکستان کے ساتھ تعلقات میں بہتری نہ صرف افغان تجارت کے لئے ضروری ہے بلکہ دنیا کے سامنے ایک معتدل اور ذمہ دار ریاستی روئے کا تاثر دینے کے لیے بھی ناگزیر سمجھی جا رہی ہے۔ سفارتی ذرائع کے مطابق چین کی میزبانی میں پاکستان، افغانستان اور چین کے درمیان سہ فریقی رابطوں کا سلسلہ مزید تیز ہونے کا امکان ہے۔ اگر بیجنگ مذاکرات کے بعد اعتماد سازی کے عملی اقدامات سامنے آتے ہیں تو سرحدی کشیدگی میں کمی، تجارتی راستوں کی بحالی، سفارتی نمائندگی کے دائرہ کار میں اضافہ اور سیکیورٹی تعاون کے نئے فریم ورک کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔ مولوی امیر خان متقی کے حالیہ بیان نے کم از کم یہ واضح کر دیا ہے کہ کابل اس موقع کو ضائع نہیں کرنا چاہتا اور وہ پاکستان کے ساتھ تعلقات کو تصادم سے نکال کر سفارت کاری کی پٹڑی پر واپس لانے کے لیے تیار دکھائی دیتا ہے۔ اب نگاہیں اس بات پر مرکوز ہیں کہ آیا اسلام آباد اور کابل اس نرم ہوتے ہوئے سفارتی ماحول کو عملی پیش رفت میں بدل پاتے ہیں یا نہیں؟
پاکستان سے اچھے تعلقات ناگزیر، ارومچی مذاکرات نے بہتر مستقبل کی راہ کھول دی، افغان وزیر خارجہ
برطانیہ میں پاسداران انقلاب کو دہشتگرد قرار دینے کی قانون سازی کی تیاری پشاور ( دی خیبرٹائمز مانیٹرنگ ڈیسک ) لندن میں برطانوی حکومت نے ایران کے حوالے سے ایک بڑے اور غیر معمولی قانونی اقدام کی تیاری شروع کر دی ہے جس کے تحت ایران کی پاسداران انقلاب کو دہشتگرد تنظیم قرار دینے کے لئے چند ہفتوں میں باقاعدہ قانون سازی کی جائے گی۔ برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر کے اس اعلان نے نہ صرف بین الاقوامی سفارتی حلقوں میں بحث چھیڑ دی ہے بلکہ مشرق وسطیٰ میں پہلے سے کشیدہ صورتحال کو مزید حساس بنا دیا ہے۔ برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز کے مطابق وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے واضح کیا ہے کہ ان کی حکومت پاسداران انقلاب کو دہشتگرد تنظیم قرار دینے کے لیے ضروری قانونی مسودہ جلد پارلیمنٹ میں پیش کرے گی۔ اس اقدام کو برطانیہ میں موجود بعض یہودی تنظیموں اور ایران میں مذہبی حکومت کے مخالف گروہوں کی دیرینہ مطالبات کی تکمیل کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے جو کافی عرصے سے اس ادارے پر پابندی کا مطالبہ کرتے آ رہے ہیں۔ برطانوی قانونی نظام میں اب تک یہ روایت رہی ہے کہ دہشتگردی کے قوانین کے تحت صرف غیر ریاستی عناصر اور تنظیموں کو دہشتگرد قرار دیا جاتا ہے جبکہ کسی بھی ملک کی باقاعدہ ریاستی فوج یا سرکاری ادارے کو اس فہرست میں شامل نہیں کیا جاتا۔ تاہم مجوزہ قانون سازی اس روایت میں ایک بڑی تبدیلی تصور کی جا رہی ہے کیونکہ اگر یہ قانون منظور ہو جاتا ہے تو برطانیہ پہلی بار کسی غیر ملکی ریاستی فوجی ادارے کو باضابطہ طور پر دہشتگرد تنظیم قرار دے گا۔ بین الاقوامی مبصرین کے مطابق یہ فیصلہ نہ صرف ایران برطانیہ تعلقات پر گہرے اثرات ڈال سکتا ہے بلکہ یورپی یونین کی پالیسی سے بھی ہم آہنگ ہوتا دکھائی دیتا ہے، کیونکہ یورپی یونین پہلے ہی فروری میں پاسداران انقلاب کو دہشتگرد تنظیم قرار دینے کے لئے ابتدائی فیصلہ کر چکی ہے۔ اس پیش رفت کے بعد برطانیہ کا ممکنہ اقدام مغربی دنیا میں ایران کے خلاف ایک مشترکہ سخت مؤقف کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔ سفارتی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کی قانون سازی خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا سکتی ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ایران اور مغربی طاقتوں کے درمیان جوہری پروگرام، علاقائی اثر و رسوخ اور سیکیورٹی پالیسیوں پر اختلافات برقرار ہیں۔ ان کے مطابق برطانیہ کا یہ قدم ایران کے ساتھ تعلقات میں ایک نئے اور سخت مرحلے کا آغاز ثابت ہو سکتا ہے۔ دوسری جانب انسانی حقوق اور بین الاقوامی قانون سے متعلق بعض حلقوں کا کہنا ہے کہ کسی ریاستی فوجی ادارے کو دہشتگرد تنظیم قرار دینے کا اقدام عالمی سفارتی نظام میں نئی بحث کو جنم دے سکتا ہے اور اس کے طویل مدتی سیاسی و قانونی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ برطانوی حکومت کے قریبی ذرائع کے مطابق یہ قانون سازی آنے والے ہفتوں میں پارلیمنٹ میں پیش کیے جانے کا امکان ہے جس پر سیاسی جماعتوں کے درمیان شدید بحث متوقع ہے۔ تاہم حکومت کا مؤقف ہے کہ یہ اقدام قومی سلامتی اور بین الاقوامی امن کے مفاد میں ضروری سمجھا جا رہا ہے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مشرق وسطیٰ میں پہلے ہی مختلف تنازعات اور کشیدگیاں جاری ہیں اور عالمی طاقتیں خطے میں اپنے سفارتی اور سیکیورٹی مفادات کو ازسرنو ترتیب دے رہی ہیں۔
برطانیہ میں پاسداران انقلاب کو دہشتگرد قرار دینے کی قانون سازی کی تیاری
پشاور ( دی خیبرٹائمز رپورٹنگ ٹیم) میں فوڈ سیفٹی اینڈ حلال فوڈ اتھارٹی نے ضلعی انتظامیہ کے ہمراہ ایک بڑی کارروائی کرتے ہوئے شہر کے معروف کبیر ریسٹورنٹ کو سیل جبکہ منیجر کو گرفتار کر لیا ہے۔ یہ کارروائی اس وقت عمل میں لائی گئی جب انسپکشن کے دوران ریسٹورنٹ سے بھاری مقدار میں ممنوع اور مضر صحت چائنہ سالٹ برآمد ہوا، جو سپریم کورٹ کی واضح ہدایات کے مطابق پاکستان میں استعمال کے لئے ممنوع قرار دیا جا چکا ہے۔ فوڈ سیفٹی حکام کے مطابق معائنے کے دوران نہ صرف غیر معیاری اور صحت کے لئے خطرناک اجزاء کی موجودگی ثابت ہوئی بلکہ ریسٹورنٹ میں صفائی کی صورتحال بھی انتہائی ناقص پائی گئی۔ موقع پر موجود ٹیم نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ریسٹورنٹ کو سیل کر دیا جبکہ منیجر کو حراست میں لے کر مزید قانونی کارروائی کے لئے متعلقہ حکام کے حوالے کر دیا گیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ ابتدائی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ریسٹورنٹس اور ہوٹلز میں چائنہ سالٹ کا استعمال ایک عام رجحان بنتا جا رہا ہے جو شہریوں کی صحت کے لئے سنگین خطرہ ہے۔ فوڈ اتھارٹی کے مطابق متعدد بار کارروائیوں کے باوجود بعض ہوٹل مالکان اس مضر صحت اجزاء کا استعمال ترک کرنے کے بجائے دوبارہ اسی غیر قانونی عمل کی طرف لوٹ جاتے ہیں جس سے شہریوں کی صحت مسلسل خطرے میں پڑ رہی ہے۔ پشاور میں فوڈ سیفٹی سے متعلق صورتحال طویل عرصے سے تشویش کا باعث بنی ہوئی ہے۔ شہری حلقوں کے مطابق شہر کے کئی ہوٹلوں اور ریسٹورنٹس میں کھانوں کی تیاری کے دوران ممنوع اور غیر معیاری اجزاء کا کھلے عام استعمال کیا جاتا ہے جبکہ نگرانی کے نظام میں تسلسل نہ ہونے کے باعث یہ رجحان مکمل طور پر ختم نہیں ہو پا رہا۔ اس کے نتیجے میں عوام میں فوڈ سیفٹی اداروں کی کارکردگی پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ حالیہ کارروائی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے اور شہر بھر میں ایسے ریسٹورنٹس کے خلاف بلا امتیاز کارروائیاں جاری رہیں گی جو شہریوں کی صحت سے کھیلنے میں ملوث پائے جائیں گے۔ حکام نے واضح کیا ہے کہ کسی بھی ہوٹل یا ریسٹورنٹ کو مضر صحت اشیاء کے استعمال کی اجازت نہیں دی جائے گی اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی اقدامات کئے جائیں گے۔ دوسری جانب شہریوں نے بھی مطالبہ کیا ہے کہ فوڈ سیفٹی مہم کو مزید مؤثر بنایا جائے اور صرف عارضی کارروائیوں کے بجائے مستقل نگرانی کا نظام قائم کیا جائے تاکہ ہوٹل انڈسٹری میں موجود غیر معیاری اور خطرناک رجحانات کا مکمل خاتمہ ممکن ہو سکے۔
پشاور کبیر ریسٹورنٹ سیل، چائنہ سالٹ برآمد، منیجر گرفتار
درابن تھانہ پر راکٹ حملہ، شدید فائرنگ، عمارت کو نقصان ڈیرہ اسماعل خان ( دی خیبرٹائمز ڈسٹرکٹ ڈیسک ) ڈیرہ اسماعیل خان کے علاقے درابن میں رات گئے ایک بار پھر دہشتگردی کا بڑا واقعہ پیش آیا ہے جہاں نامعلوم مسلح افراد نے تھانہ درابن کو راکٹ لانچر سے نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں تھانے کی عمارت کو شدید نقصان پہنچا اور ایک دیوار مکمل طور پر زمین بوس ہو گئی۔ پولیس کے مطابق حملہ اچانک اور منظم انداز میں کیا گیا جس کے بعد حملہ آوروں اور پولیس اہلکاروں کے درمیان شدید فائرنگ کا تبادلہ بھی ہوا جو کافی دیر تک جاری رہا۔ پولیس حکام نے بتایا کہ حملے کے دوران اہلکاروں نے فوری جوابی کارروائی کی جس سے ممکنہ بڑے نقصان کو روکا گیا تاہم خوش قسمتی سے کسی قسم کا جانی نقصان نہیں ہوا۔ واقعے کے بعد علاقے میں اضافی نفری طلب کر لی گئی اور سرچ آپریشن بھی شروع کر دیا گیا ہے تاکہ حملہ آوروں کو تلاش کیا جا سکے۔ ابتدائی معلومات کے مطابق حملہ آور رات کی تاریکی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے تھانے کے قریب پہنچے اور راکٹ لانچر سے حملہ کیا جس کے باعث زور دار دھماکہ ہوا اور قریبی علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ مقامی لوگوں نے بتایا کہ دھماکے کی آواز دور دور تک سنی گئی جس کے بعد لوگ گھروں سے باہر نکل آئے۔ یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ ڈیرہ اسماعیل خان اور خصوصاً درابن کا علاقہ اس نوعیت کے حملوں کی زد میں آیا ہو۔ گزشتہ دو دہائیوں سے یہ خطہ شدت پسندی اور دہشتگردی کی کارروائیوں کا شکار رہا ہے جس کے باعث یہاں سیکیورٹی صورتحال اکثر کشیدہ رہتی ہے۔ مقامی ذرائع کے مطابق شام کے بعد کئی علاقوں میں پولیس کی نقل و حرکت محدود ہو جاتی ہے اور بعض اوقات تھانوں کے دروازے بھی حفاظتی خدشات کے باعث بند رکھے جاتے ہیں۔ علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ مسلسل بدامنی کے باعث نہ صرف سرکاری املاک غیر محفوظ ہیں بلکہ عام شہری بھی شدید عدم تحفظ کا شکار ہیں۔ بھتہ خوری اور ٹارگٹ کلنگ جیسے واقعات نے عوامی زندگی کو بری طرح متاثر کیا ہے جبکہ سیکیورٹی ادارے بھی بڑھتے ہوئے دباؤ اور خطرات کے باعث مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ پولیس اور سیکیورٹی اداروں نے علاقے میں سرچ اینڈ اسٹرائیک آپریشن تیز کر دیا ہے اور قریبی پہاڑی و دیہی علاقوں میں بھی ناکہ بندی کر دی گئی ہے تاکہ حملہ آوروں کے ممکنہ ٹھکانوں کا سراغ لگایا جا سکے۔ حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کی ہر پہلو سے تحقیقات جاری ہیں اور ذمہ داروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔
درابن تھانہ پر راکٹ حملہ، شدید فائرنگ، عمارت کو نقصان
ایران نے امریکا سے ملاقات کی خبروں کی تردید کر دی، ایران کے اعلیٰ سطحی وفد کا اسلام آباد دورہ، خطے میں سفارتی سرگرمیاں تیز پشاور ( دی خیبر ٹائمز مانیٹرنگ ڈیسک ) پاکستان میں ایران اور امریکا کے درمیان کسی ملاقات کے طے ہونے کی خبروں کو تہران نے سختی سے مسترد کر دیا ہے جبکہ ایران کے اعلیٰ سطحی سفارتی وفد کا اسلام آباد پہنچنا خطے میں جاری سفارتی سرگرمیوں کے ایک اہم مرحلے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے واضح کیا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان کسی قسم کی براہ راست ملاقات کا کوئی منصوبہ موجود نہیں اور اس حوالے سے پھیلنے والی اطلاعات بے بنیاد ہیں۔ ترجمان کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی ایک سرکاری دورے پر اسلام آباد پہنچے ہیں جہاں وہ پاکستان کی اعلیٰ سیاسی و سفارتی قیادت سے ملاقاتیں کریں گے۔ ان ملاقاتوں میں دوطرفہ تعلقات، خطے کی مجموعی صورتحال اور پاکستان کے سفارتی کردار سے متعلق امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ اسماعیل بقائی نے کہا کہ اس دورے کا مقصد خطے میں جاری کشیدگی اور بالخصوص امریکا کی جانب سے مسلط کردہ اقدامات کے اثرات پر پاکستان کے ساتھ مشاورت کرنا ہے تاکہ خطے میں امن و استحکام کی کوششوں کو آگے بڑھایا جا سکے۔ ایرانی ترجمان نے اپنے بیان میں اس بات پر بھی زور دیا کہ پاکستان کو ایران کی جانب سے تمام سفارتی مشاہدات اور موجودہ صورتحال پر مؤقف سے آگاہ کیا جائے گا تاہم امریکا کے ساتھ کسی ملاقات یا باضابطہ مذاکرات کا کوئی ایجنڈا زیر غور نہیں۔ ان کے مطابق ایران اپنے اصولی مؤقف پر قائم ہے اور موجودہ حالات میں ترجیح خطے میں کشیدگی میں کمی اور سفارتی ذرائع سے مسائل کا حل ہے۔ خطے کی موجودہ صورتحال کو دیکھتے ہوئے یہ دورہ اس لحاظ سے بھی اہم قرار دیا جا رہا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی گزشتہ کئی برسوں سے عروج پر ہے اور مختلف ادوار میں اگرچہ بالواسطہ سفارتی رابطے سامنے آتے رہے ہیں تاہم براہ راست مذاکرات کبھی حتمی شکل اختیار نہیں کر سکے۔ سفارتی ذرائع کے مطابق ماضی میں پہلے مرحلے کے دوران عمان اور کچھ یورپی ممالک کی ثالثی سے محدود رابطے ہوئے تھے جن میں بنیادی طور پر جوہری پروگرام اور پابندیوں کے معاملے پر بات چیت کی گئی۔ اس کے بعد دوسرے مرحلے میں بھی غیر رسمی چینلز کے ذریعے پیغامات کا تبادلہ جاری رہا تاہم ان کوششوں کے باوجود کوئی مستقل پیش رفت سامنے نہیں آ سکی۔ موجودہ صورتحال میں ایران کے وزیر خارجہ کا اسلام آباد دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب خطے میں امن و امان کی مجموعی صورتحال حساس ہے اور مختلف ممالک سفارتی سطح پر کشیدگی کم کرنے کے لئے سرگرم ہیں۔ پاکستان کو اس پورے عمل میں ایک ممکنہ ثالث کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جو ماضی میں بھی ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان رابطوں میں سہولت کاری کا کردار ادا کرتا رہا ہے۔ سفارتی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ ایران اور امریکا کے درمیان براہ راست ملاقات کی تردید سامنے آ چکی ہے لیکن خطے میں جاری سفارتی سرگرمیاں اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ پس پردہ رابطوں اور بالواسطہ مذاکرات کا عمل مکمل طور پر ختم نہیں ہوا۔ ان کے مطابق پاکستان کا کردار اس حوالے سے اہم ہو سکتا ہے کیونکہ خطے میں اس کے تعلقات دونوں فریقین کے ساتھ موجود ہیں اور وہ کشیدگی کم کرنے کی کوششوں میں ایک نرم پل کا کردار ادا کر سکتا ہے۔ ایران کی جانب سے واضح تردید کے بعد یہ بات مزید نمایاں ہو گئی ہے کہ فی الحال ایران اور امریکا کے درمیان کسی بھی براہ راست مذاکراتی عمل کی باضابطہ شروعات نہیں ہوئی تاہم اسلام آباد میں ہونے والی ملاقاتیں خطے کی سفارت کاری میں ایک اہم پیش رفت کے طور پر دیکھی جا رہی ہیں۔
ایران نے امریکا سے ملاقات کی خبروں کی تردید کر دی، ایران کے اعلیٰ سطحی وفد کا اسلام آباد دورہ، خطے میں سفارتی سرگرمیاں تیز

زیادہ پڑھی گئی

پشتون تحفظ مؤومنٹ کے اہم رہنما شہاب خٹک کے بھائی ڈاکٹر نعیم الدین خٹک کو نامعلوم افراد نے پشاور کے بھرے بازار میں گولی مارکر شہید کردیا
شمالی وزیرستان کو کس کی نظر لگ گئی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ احسان داوڑ
کیا لڑانے والے کامیاب نہیں ہوئے ؟؟؟ خصوصی تحریر: رسول داوڑ
شمالی وزیرستان ،رمضان المبارک کا چاندنظرآگیا
بول کہ لب آزاد ہیں تیرے…. تحریر رفعت انجم
پشاورکوروناکےنشانےپرکیوں؟؟؟ تحریر: فدا عدیل

نارمل زندگی کی طرف لوٹ رہی ہوں ، ریٹا ولسن

اپریل 17, 2020April 17, 2020

نیویارک( دی خیبر ٹائمز شوبز ڈیسک) امریکی اداکارہ ریٹاولسن اور ان کے شوہرٹام ہینکس جوایک ماہ قبل کرونا وائرس سے متاثر ہوئے تھے حال ہی میں ایک بیان جاری کیا ہے کہ اب وہ بہتر ہورہی ہیں کیونکہ بریسٹ کینسر مزید پڑھیں

Copyright © 2019-2020, THE KHYBER TIMES All Rights Reserved | Powered by Kifayatullah MOMAND