دی خیبر ٹائمز خصوصی رپورٹ: شمالی وزیرستان کا حالیہ واقعہ صرف ایک نوجوان کے اغواء کی کہانی نہیں ہے، بلکہ یہ اس تلخ حقیقت کا آئینہ دار ہے کہ ہمارے قبائلی علاقوں میں اب بھی ریاستی قانون کے بجائے جنگل کا قانون اور انتہا پسندانہ سوچ غالب ہے۔ ننھی کرکٹر آئینہ وزیر کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد زعفران وزیر نامی نوجوان کا اغواء اس بات کی زندہ مثال ہے کہ وہاں درندگی اور انسانی حقوق کا استحصال کس حد تک بڑھ چکا ہے۔
آئینہ وزیر، وہ چھوٹی بچی جس نے کرکٹ کے میدان میں اپنی صلاحیتوں سے لوگوں کے دل جیتے، اسے داد دینے کے بجائے ایک تنازع کا مرکز بنا دیا گیا۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ:
کیا ایک ننھی بچی کی ٹیلنٹ پر مبنی ویڈیو بنانا ایسا “گناہ” ہے جس کی سزا اغواء اور تشدد ہو؟
کیا قبائلی معاشرے میں بچیوں کے حقوق اور ان کی خوشیوں کا گلا گھونٹنا ہی اب روایت بن چکی ہے؟
زعفران وزیر، جس پر ویڈیو وائرل کرنے کا الزام ہے، اسے نامعلوم مقام پر قید کر کے اس کی ویڈیو جاری کرنا طالبان طرز کی اسی “متوازی عدالت” کی یاد دلاتا ہے جہاں قانون کی کوئی گنجائش نہیں۔
یہ واقعہ ریاستی اداروں کے منہ پر ایک تمانچہ ہے۔ جب مسلح افراد دن دہاڑے کسی کو اغواء کر لیتے ہیں اور اپنی ویڈیو جاری کرتے ہیں، تو یہ واضح پیغام ہے کہ ریاست بے بس اور کمزور ہو چکی ہے۔
ریاست کا کام شہری کو تحفظ فراہم کرنا ہے، چاہے اس نے کوئی غلطی ہی کیوں نہ کی ہو۔
اگر ویڈیو اپلوڈ کرنا جرم تھا، تو اس کا فیصلہ سائبر کرائم قوانین کے تحت عدالت کو کرنا چاہیے تھا، نہ کہ مسلح جتھوں کو۔
آئینہ وزیر جیسی بچیوں کو ہراساں کرنے یا ان کے خاندان پر دباؤ ڈالنے والے عناصر کے خلاف ایکشن لینا ریاست کی ذمہ داری تھی۔
یہ واقعہ ثابت کرتا ہے کہ خواتین اور بچیوں کے حقوق کا استحصال اب ایک منظم شکل اختیار کر چکا ہے۔ ایک بچی کو کھیل سے روکنا، اسے ذہنی دباؤ میں لانا اور پھر اس معاملے کی آڑ میں انسانی جانوں سے کھیلنا درندگی کی انتہا ہے۔
“اگر فرد ہی منصف بن جائے اور گروہ ہی جلاد، تو پھر معاشرے اور جنگل میں کوئی فرق باقی نہیں رہتا۔”
زعفران وزیر کی بازیابی صرف ایک فرد کی رہائی نہیں ہوگی، بلکہ یہ قانون کی بحالی کا امتحان ہے۔ اگر ریاست اب بھی خاموش رہی، تو شمالی وزیرستان میں انتہا پسندی اور جبری سزاؤں کا یہ سلسلہ پورے ملک کے امن کو اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے۔ عوام کا مطالبہ ہے کہ مجرموں کو کٹہرے میں لایا جائے اور آئینہ وزیر جیسی بیٹیوں کو وہ محفوظ ماحول دیا جائے جہاں وہ بلا خوف و خطر اپنے خواب پورے کر سکیں۔




