تحریر و تحقیق:ناصر داوڑ
عالمی رقابت اور سنگاپور کا بنیادی مقام جنوب مشرقی ایشیا اس وقت عالمی سیاست کا سب سے اہم میدانِ جنگ بن چکا ہے۔ ایک طرف امریکہ ہے اور دوسری طرف چین ہے۔ دونوں کے درمیان جیو پولیٹیکل، معاشی اور ڈیجیٹل میدان میں سخت مقابلہ جاری ہے۔ اس عالمی کشمکش میں سنگاپور کی اہمیت مرکزی ہے۔ سنگاپور نہ صرف خطے کا معاشی مرکز ہے، بلکہ یہ مالاکا شاہراہ پر واقع اہم تجارتی محور بھی ہے۔
امریکی خارجہ پالیسی کا مقصد خطے میں چین کے اقتصادی اور تکنیکی غلبے کو روکنا ہے۔ دوسری طرف بیجنگ اپنے “بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو” اور “ڈیجیٹل سلک روڈ” کے ذریعے اثر و رسوخ بڑھا رہا ہے۔ چین اس کے تحت زیرِ سمندر مواصلاتی کیبلز، فائو جی (5G) نیٹ ورکس، آرٹیفیشل انٹیلی جنس اور سیٹلائٹ ٹیکنالوجی پر کنٹرول حاصل کرنا چاہتا ہے۔ واشنگٹن ان اقدامات کو تکنیکی آمریت اور سائبر جاسوسی کا خطرہ قرار دیتا ہے۔
سنگاپور کا غیر جانبدارانہ موقف اور فیکا (FICA) قانون اس شدید مقابلے کے باوجود سنگاپور نے کسی ایک طاقت کا آلہ کار بننے سے انکار کیا ہے۔ اس نے توازن اور خودمختاری کی پالیسی اپنائی ہے۔ سنگاپور کی وزارتِ مواصلات کے سروے کے مطابق 86 فیصد سنگاپوری باشندوں کا ماننا ہے کہ حکومت کو صرف اپنے قومی مفاد پر توجہ دینی چاہیے۔ صرف 4 فیصد لوگ امریکہ اور 4 فیصد چین کی حمایت کرتے ہیں۔
اپنی سیاست کو بیرونی اثرات سے پاک رکھنے کیلئے سنگاپور نے دسمبر 2023 میں ایک سخت قانون لاگو کیا۔ اس قانون کو “فیکا” (Foreign Interference Countermeasures Act) کہا جاتا ہے۔ اس قانون کے تحت انتظامیہ کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ بیرونی ایجنسیوں کے زیرِ اثر کام کرنے والے افراد یا اداروں کو “سیاسی طور پر اہم شخصیت” نامزد کر کے ان پر مالی و انتظامی پابندیاں عائد کرے۔
اس قانون کی پہلی زد فروری 2024 میں تاجر فلپ چن پر پڑی۔ ان پر چین کی سیاسی مشاورتی کانفرنس میں شرکت اور بیجنگ کے مفادات کو فروغ دینے کا الزام تھا۔ اس سے قبل 2017 میں نیشنل یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر ہوانگ جنگ کی رہائش منسوخ کر کے انہیں ملک بدر کیا گیا تھا، کیونکہ ان پر غیر ملکی انٹیلی جنس ایجنسیوں کے ساتھ مل کر پالیسی پر اثر انداز ہونے کا الزام تھا۔
امریکہ کی اربوں ڈالر کی مالیاتی حکمتِ عملی امریکہ نے چین کے عالمی بیانئے کو محدود کرنے کیلئے بھاری فنڈز مختص کئے ہیں۔ امریکی محکمہ خارجہ اور یو ایس آئی ڈی (USAID) نے سالانہ 400 ملین ڈالر کا “چینی اثر و رسوخ کا مقابلہ کرنے کا فنڈ” (CPIF) قائم کیا ہے۔ اس کا بنیادی مقصد عالمی اور علاقائی سطح پر چینی بیانئے کو توڑنا ہے۔
اس کے علاوہ امریکہ نے انڈو-پسیفک خطے میں اپنے اتحادیوں کی سیکیورٹی اور سپلائی چین کی مضبوطی کیلئے 1.8 ارب ڈالر کی امداد رکھی ہے۔ سفارتی آپریشنز اور معاشی متبادل فراہم کرنے کیلئے 11 ارب ڈالر کا بجٹ رکھا گیا ہے۔ جب کہ نرم طاقت (Soft Power) کو فروغ دینے کیلئے عالمی صحت اور سفارت کاری کے پروگرامز کی مد میں 9.42 ارب ڈالر مختص کئے گئے ہیں۔
این جی اوز اور سوشل میڈیا انفلوئنسرز کا استعمال: امریکہ براہِ راست پروپیگنڈا کرنے کے بجائے تھنک ٹینکس، سول سوسائٹی، این جی اوز اور مقامی انفلوئنسرز کے ذریعے کام کرتا ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ کا گلوبل انگیجمنٹ سینٹر (GEC) اور ڈی آر ایل (DRL) اس مہم کی نگرانی کرتے ہیں۔ یہ ادارے نوٹس آف فنڈنگ اپرچونیٹی (NOFO) کے ذریعے گرانٹس دیتے ہیں۔ فنڈز حاصل کرنے والی این جی اوز پر لازم ہوتا ہے کہ وہ ہر تین اور چھ ماہ بعد عوامی فکری تبدیلی اور بیانیے کی رسائی کی رپورٹس پیش کریں۔
سوشل میڈیا پر بلاگرز اور صحافیوں کے انتخاب کیلئے بھی سخت اسکریننگ کی جاتی ہے۔ 10 ہزار سے 50 ہزار يا اس سے زائد فالوورز رکھنے والے 18 سے 35 سال کے نوجوانوں کو ترجیح دی جاتی ہے۔ اس میں صنف کی برابری، سائبر سیکیورٹی، ڈیٹا پرائیویسی اور فیکٹ چیکنگ کے ماہرین کو شامل کیا جاتا ہے۔ انفلوئنسر کیلئے تصدیق کی جاتی ہے کہ اس کا چین یا کسی بیرونی ادارے سے کوئی تعلق نہ ہو۔
بیانئے کی جنگ اور فلپائن میں خفیہ آپریشن: امریکی امداد حاصل کرنے والے انفلوئنسرز کھلے عام پرو امریکہ مواد پوسٹ کرنے سے گریز کرتے ہیں۔ اس کے بجائے وہ اپنے مواد کو “عوامی شفافیت”، “ڈیجیٹل پرائیویسی” اور “معاشی پائیداری” جیسے اصولوں میں ڈھالتے ہیں۔ وہ چینی کمپنیوں کے اعلیٰ سود کی شرح، مقامی مزدوروں کے حقوق اور ماحولیاتی نقصان پر تنقیدی ویڈیوز بناتے ہیں۔
جولائی 2023 میں سنگاپور کے چینی اخبار “لیان ہے زاؤباؤ” پر واشنگٹن پوسٹ نے بیجنگ کا بیانیہ پھیلانے کا الزام لگایا۔ تاہم سنگاپور حکومت اور میڈیا ہاؤس نے ان الزامات کو یکسر رد کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ سنگاپور کا میڈیا غیر جانبدار ہے اور کسی طاقت کا آلہ کار نہیں ہے۔
دوسری طرف، جون 2024 میں رائٹرز نے ایک انکشاف کیا۔ رپورٹ کے مطابق امریکی پینٹاگون نے کووڈ وبائی مرض کے دوران فلپائن میں خفیہ پروپیگنڈا مہم چلائی۔ جعلی سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے ذریعے چینی ویکسین (سینوواک) اور ٹیسٹنگ کٹس کے خلاف بے اعتمادی پھیلائی گئی تاکہ چین کی “طبی سفارت کاری” کو ناکام بنایا جا سکے۔
فلپائن میں متنازع چینی منصوبے چینی سرمایہ کاری کے خلاف بیانیہ بنانے کیلئے فلپائن کے کئی بڑے منصوبوں کو تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے:
کالیوا ڈیم منصوبہ: 211 ملین ڈالر کا یہ منصوبہ آبائی زمینوں کی غرقابی اور ماحولیاتی نقصان کی وجہ سے متنازع ہے۔
چیکو ریور پمپ آبپاشی: 62 ملین ڈالر کے اس منصوبے پر سخت تجارتی شرائط اور اثاثوں کے زوال کی بنیاد پر تنقید کی جاتی ہے۔
ڈیٹو ٹیلی کمیونٹی: چائنا ٹیلی کام کا 5 ارب ڈالر کا یہ منصوبہ فلپائنی عسکری اڈوں کے قریب ٹاورز لگانے کی وجہ سے سیکیورٹی خدشات کا باعث بنا ہوا ہے۔
جنوب مشرقی ایشیا میں امریکہ اور چین کی رقابت اب ایک پیچیدہ اور ہمہ جہت روپ دھار چکی ہے۔ ایک طرف امریکہ اپنے فنڈز اور میڈیا نیٹ ورک کے ذریعے چین کی پیش رفت روکنا چاہتا ہے۔ دوسری طرف سنگاپور جیسے ممالک اپنے سخت قوانین کے ذریعے بیرونی مداخلت کا دفاع کر رہے ہیں۔ فلپائن میں متنازع منصوبے ثابت کرتے ہیں کہ معاشی سرمایہ کاری، طبی امداد اور ٹیکنالوجی اب جیو پولیٹیکل جنگ کے نئے ہتھیار بن چکے ہیں۔
1. Historical October Context & Structural Crisis in Pakistan
-
Decisive Historical Milestones: October has historically served as a critical turning point in Pakistan’s political and military trajectory. Key events include the entry of Indian troops into Jammu and Kashmir (October 27, 1947), the assassination of Prime Minister Liaquat Ali Khan (October 16, 1951), the dissolution of the First Constituent Assembly (October 24, 1954), Pakistan’s first martial law under Ayub Khan (October 7–27, 1958), Zia-ul-Haq’s indefinite election postponement (October 16, 1979), the adoption of the 8th Amendment (October 16, 1985), Pervez Musharraf’s coup (October 12, 1999), the 2005 Kashmir earthquake (October 8), and major street demonstrations (PTI in 2011, JUI-F in 2019).
-
Institutional & Federal Friction: Long-standing structural imbalances between the federal center and provincial units often resolved via extraordinary measures like emergency rule rather than political dialogue continue to drive governance and economic instability.
2. Khyber Pakhtunkhwa: Governor’s Rule, Security Emergency & PTI’s Street Power Paralysis
-
Imposition of Emergency: Citing severe security challenges and non-cooperation against militancy, the federal government invoked Articles 232 and 234 of the Constitution, placing Khyber Pakhtunkhwa under Governor’s Rule. Executive authority was transferred from Chief Minister Sohail Afridi to Governor Faisal Karim Kundi and newly appointed Chief Secretary Muhammad Fakhre Alam Irfan.
-
Leadership in Protective Custody: Top provincial figures including former CM Sohail Afridi and KP Assembly Speaker Babar Saleem Swati were taken into police “protective custody”, creating a significant constitutional and administrative vacuum.
-
Paralysis of PTI’s Street Resistance: Despite remaining the dominant political force in KP, PTI failed to launch effective street protests due to five key factors:
-
Grassroots Organizational Breakdown: Absence of functional mobilization structures at the union council and tehsil levels.
-
Internal Factionalism: Power struggles among Form-45 victims, disgruntled members, and regional blocs.
-
Echo Chambers & Sycophancy: Disconnect between leadership and ground realities due to false narratives of unshakeable popularity.
-
Absence of Front-Line Leaders: Cabinet members and officeholders evaded the front lines, limiting their response to digital posts and tweets.
-
Casual Reaction to Early Crackdowns: Failure to mount a strong initial response to early arrests eroded worker morale and emboldened state action.
-
3. US-China Strategic Rivalry in Southeast Asia (Investigative Report by Nasir Dawar)
-
Geopolitical & Technological Contest: Southeast Asia has become a primary battleground between Washington and Beijing. China seeks regional influence through its Belt & Road Initiative (BRI) and Digital Silk Road (DSR)—controlling subsea cables, 5G networks, AI, and satellites—which the US counters as technological authoritarianism.
-
Singapore’s Neutrality & FICA Framework: Singapore maintains a strict non-aligned posture backed by 86% of its public. To safeguard sovereignty, it enacted the Foreign Interference (Countermeasures) Act (FICA) in December 2023, allowing authorities to designate and restrict individuals acting on behalf of foreign powers (e.g., businessman Philip Chan and academic Dr. Huang Jing).
-
US Counter-Influence Funding & Media Strategy: Washington allocates $400M annually to the State Department/USAID Countering PRC Influence Fund (CPIF) alongside $1.8B for Indo-Pacific security. Operating through the Global Engagement Center (GEC) and third-party NGOs, the US implements strict screening (18–35 age demographic, 10k–50k+ followers) to fund influencers and media outlets focused on transparency, high-interest debt, and environmental critique rather than open pro-US propaganda.
-
Covert Campaigns & Controversial Projects: Pentagon ran covert disinformation campaigns in the Philippines against Sinovac during COVID-19, while major Chinese infrastructure ventures in the Philippines (Kaliwa Dam, Chico River Irrigation, Dito Telecommunity) remain heavily targeted in the ongoing regional narrative war.
About the Author
Nasir Dawar is a journalist, researcher and Editor of The Khyber Times, with extensive experience covering militancy, conflict, security and political developments in Khyber Pakhtunkhwa, the former FATA and Afghanistan. His research focuses particularly on militant movements, regional security, Afghanistan and Pakistan-Afghanistan relations.
Contact: dawarjan@gmail.com




