Editorial graphic depicting Western-based Afghan diaspora TikTok propaganda and its impact on innocent Afghan students studying in Pakistan.

ڈیجیٹل دور، زہریلا پروپیگنڈا اور پاک افغان تعلقات کے تلخ حقائق

(بیرونِ ملک مقیم افغان ڈائس پورا کا دوغلا پن اور بے قصور طلباء کے مظلوم مستقبل کا تجزیہ)

تاریخی تلخیاں اور ڈیجیٹل دور کا نیا امتحان

دی خیبر ٹائمز: خصوصی تجزیہ

پاکستان اور افغانستان کے جغرافیائی اور سیاسی تعلقات کا سفر کبھی بھی ہموار نہیں رہا۔ قیامِ پاکستان سے لے کر آج تک خواہ وہ ابتدائی ادوار میں ریاست کو تسلیم کرنے سے متعلق تحفظات ہوں یا موجودہ دور میں افغان سرزمین کا پاکستان کے خلاف استعمال، دونوں ممالک کے تعلقات میں ہمیشہ کسی نہ کسی حد تک تناؤ اور تلخیاں ہی دیکھنے کو ملی ہیں۔
تاہم، ماضی کے سیاسی تنازعات اور موجودہ ڈیجیٹل منظرنامے میں ایک بنیادی فرق پیدا ہو چکا ہے۔ آج ہم جس ڈیجیٹل زمانے میں زندگی گزار رہے ہیں، ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ یہ جدید ذرائع ابلاغ اور سوشل میڈیا دونوں اقوام کو قریب لاتے، باہمی غلط فہمیوں کا ازالہ کرتے اور عوام کا مثبت دباؤ دونوں حکومتوں کو تعمیری پالیسیاں مرتب کرنے پر مجبور کرتا۔ لیکن افسوسناک امر یہ ہے کہ سوشل میڈیا پر بالخصوص نوجوان نسل کا منفی کردار نہ صرف دو ریاستوں کے مابین دراڑیں گہری کر رہا ہے، بلکہ دونوں ممالک کے عوام میں بھی شدید نفرت پھیلانے کا ذریعہ بن چکا ہے۔
اس صورتِ حال کا سب سے تشویش ناک پہلو یورپ، امریکہ اور دیگر مغربی ممالک میں پرآسائش اور محفوظ زندگی گزارنے والے افغان ڈائس پورا کے ایک مخصوص طبقے کا رویہ ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے وطن کے حالات سے تنگ آ کر یا موجودہ افغان حکمرانوں کے خوف سے ملک چھوڑ کر بھاگے، جہاں ان کے بچوں کیلئے تعلیم اور ترقی کے دروازے بند کر دئے گئے تھے۔
مغرب کی محفوظ فضاؤں میں بیٹھ کر ان کا اصل مقصد اپنے اسائلم کے کیسز کو مضبوط بنانا اور سوشل میڈیا، خصوصاً ٹک ٹاک پر صرف ویوز، فالوورز اور سیاسی ہمدردیاں حاصل کرنا بن چکا ہے۔ یہاں ایک گہری منافقت سامنے آتی ہے:
یہ افراد جس نظام اور حالات سے بھاگ کر گئے، باہر بیٹھ کر ان کی اصل کہانی سنانے یا افغانستان میں تعلیمی و انسانی حقوق کی پامالی پر آواز اٹھانے کی ہمت نہیں رکھتے۔
 اپنی اصل کہانی کو چھپانے کیلئے وہ سوشل میڈیا کو پاک فوج، ریاستِ پاکستان اور پاکستانی عوام کے خلاف غلیظ و زہریلے پروپیگنڈے کا مرکز بنا چکے ہیں۔
وہ یورپ میں بیٹھے محفوظ ہیں، لیکن ان کا زہریلا پروپیگنڈا عام افغان عوام کے ذہنوں کو پاکستان کے خلاف زہر آلود کر رہا ہے۔ مغرب میں بیٹھ کر نفرت کا کاروبار کرنے والے ان عناصر کو اس زمینی حقیقت کا ذرہ برابر احساس نہیں کہ پاکستان میں ہزاروں افغان طلباء کن سخت، نازک اور کٹھن حالات کے باوجود اعلیٰ تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ اس زہریلی مہم جوئی کا براہِ راست نقصان ان معصوم طالب علموں کو اٹھانا پڑ رہا ہے۔
بیرونی دنیا میں بیٹھے نادان دوستوں کے اشتعال انگیز پیغامات کا خمیازہ گراؤنڈ پر ان پرامن افغان طلباء کو بھگتنا پڑتا ہے جن کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں اور جو صرف اپنا مستقبل بنانے پاکستان آئے ہیں۔
سوشل میڈیا کی غلیظ مہمات کے نتیجے میں مقامی سطح پر عوامی غصہ اور سیکیورٹی اداروں میں شکوک و شبہات جنم لیتے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ویزا پالیسیوں میں سختی، تعلیمی اداروں کے ضوابط میں پیچیدگی اور سیکیورٹی چیکس بڑھ جاتے ہیں، جس سے معصوم طلباء کا مستقبل تاریک ہونے کے دہانے پر پہنچ جاتا ہے۔
اس موقع پر یہ انتہائی ضروری ہے کہ آن لائن نفرت پھیلانے والے چند مخصوص اکاؤنٹس اور پرامن افغان طلباء کے درمیان واضح تفریق قائم کی جائے۔ انفرادی سطحی پروپیگنڈے کی سزا پوری افغان طلباء کمیونٹی پر لاگو کرنا سراسر ناانصافی ہوگی۔
بدقسمتی سے یہ زہریلا رویہ صرف عام فرار ہونے والے شہریوں تک محدود نہیں رہا۔ حامد کرزئی اور اشرف غنی دور کے سابقہ فورسز اہلکار ہوں یا امارتِ اسلامیہ کے موجودہ اہلکار، بعض اوقات یونیفارم میں آ کر پاکستانیوں کو برا بھلا کہتے اور انہیں اپنی ہی سیکیورٹی فورسز کے خلاف ہتھیار اٹھانے کی ترغیب دیتے نظر آتے ہیں۔
ان عناصر کو یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہئے کہ پاکستانی قوم اب کسی کے بہکاوے میں آنے والی نہیں، پاکستانی عوام دہائیوں پر محیط بدامنی اور دہشتگردی کی جنگ سے تھک چکے ہیں۔ انہوں نے بے پناہ قربانیاں دی ہیں اور اب وہ جان چکے ہیں کہ زندگی کی اصل خوبصورتی اور قوموں کی بقا صرف امن اور خوشحالی میں ہے۔
پاکستانی شہری خوشی اور سکون سے زندگی گزارنا چاہتے ہیں۔ وہ کسی کے اکساوے میں آ کر اپنے ہی ملک یا اپنی عظیم مسلح افواج کے خلاف ہتھیار اٹھانے کا تصور بھی نہیں کر سکتے۔ پاک فوج اور پاکستانی عوام کے درمیان رشتہ نا قابلِ تنسیخ ہے، اور عوام اپنی فورسز کے ساتھ سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح کھڑے ہیں۔
اگر ہم واقعی اس خطے میں امن، ترقی اور دونوں اقوام کا روشن مستقبل چاہتے ہیں، تو افغان عوام بالخصوص نوجوان نسل کو اپنی سوچ اور رویوں میں بنیادی اور مثبت تبدیلی لانی ہوگی۔ بیرونِ ملک بیٹھے ان منافقین کے چہروں سے نقاب الٹئے جو آپ کی نمائندگی کا ڈھونگ رچا کر اپنے مفادات حاصل کر رہے ہیں، جبکہ ان کے زہریلے بول کی قیمت پاکستان میں زیرِ تعلیم افغان طلباء چکا رہے ہیں۔ سوشل میڈیا کو گالم گلوچ، بہتان تراشی اور دل آزاری کے بجائے علمی گفتگو، باہمی احترام اور تعلیمی روابط کیلئے استعمال کریں۔
تاریخ گواہ ہے کہ ہمسائے بدلے نہیں جا سکتے۔ افغان عوام کو چاہئے کہ وہ ایسا مثبت رویہ اپنائیں جو دونوں حکومتوں کو مجبور کرے کہ وہ ایک دوسرے کیلئے آسانیاں پیدا کریں، ویزا پالیسیوں کو نرم کریں اور تجارت و تعلیم کیلئے راستے کھولیں۔
یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ بیرونِ ملک بیٹھے نفرت کے تاجر خود ہر قسم کی مراعات اور پناہ سے لطف اندوز ہو رہے ہیں، لیکن ان کی زہریلی سوچ سرحد کے دونوں طرف بسنے والے عام شہریوں، بالخصوص نوجوانوں کے مستقبل کو تاریک کر رہی ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ افغان عوام اس پروپیگنڈے کو مسترد کریں اور جذباتیت کے بجائے حقیقت پسندی، احترام اور امن کا راستہ اختیار کریں۔ کیونکہ جنگ اور نفرت نے صرف تباہی دی ہے، جبکہ بقا اور ترقی صرف اور صرف امن میں ہے۔

The essay examines the impact of social media propaganda spread primarily by Western-based Afghan diaspora on Pak-Afghan relations and the innocent Afghan students residing in Pakistan.
  • Historical Context vs. The Digital Era: While bilateral relations between Pakistan and Afghanistan have historically experienced tension, modern social media platforms like TikTok are currently being misused to deepen public hostility rather than foster diplomatic and cultural understanding.
  • Hypocrisy of the Western Diaspora: Afghan expatriates living comfortably in Europe and North America exploit social media for views, political leverage, and asylum claims. While actively fueling anti-Pakistan and anti-military narratives, they remain conspicuously silent about domestic realities in Afghanistan, such as systemic restrictions on education.
  • Fallout on Innocent Afghan Students: The primary victims of this online hostility are the thousands of Afghan students pursuing higher education in Pakistan. Unprovoked digital propaganda triggers public suspicion and leads to stricter visa regulations, heightened security scrutiny, and an increasingly difficult academic environment for these non-political students.
  • The Pakistani Public’s Stance on Peace: Despite attempts by provocateurs—including former and current security figures—to incite civil unrest or opposition against Pakistani security forces, the Pakistani public remains firm. Having endured decades of conflict, Pakistani citizens prioritize state stability, national security, and peaceful living over violence.
  • Call for Constructive Dialogue: To safeguard the future of bilateral relations, both populations must reject online toxicity. Authorities and the public must clearly separate online provocateurs from peaceful Afghan students, utilizing digital platforms for constructive engagement and regional stability.

    About the Author: Nasir Dawar is the Editor of The Khyber Times and a Researcher.

    Contact: dawarjan@gmail.com