A high-level signing ceremony in a Kabul conference room with Afghan and Saudi delegates seated at a mahogany table displaying energy blueprints, maps, and model pipelines against a backdrop of mountains at sunset.

سعودی اورافغان توانائی معاہدہ: جیو اکنامکس اور علاقائی تزویراتی توازن

تحقیق و تحریر : ناصر داوڑ
جنوبی اور وسطی ایشیا کی جیو اسٹریٹیجک بساط پر ایک ایسی پیش رفت سامنے آئی ہے جس نے واشنگٹن سے لے کر بیجنگ، ماسکو، اسلام آباد، بیجنگ اور تہران تک کے سیاسی و سیکیورٹی ایوانوں میں ہلچل مچا دی ہے۔ سعودی عرب کی توانائی کمپنی ڈیلٹا انرجی گروپ (Delta Energy Group) اور افغانستان کی عبوری طالبان حکومت کی وزارتِ کان کنی و پیٹرولیم کے مابین کابل میں طے پانے والا کثیر المیعاد معاہدہ خطے کی معاشی اور تزویراتی تاریخ کا ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتا ہے۔ اس معاہدے کے تحت 25 سالہ عرصے کے دوران تقریباً 50 ارب ڈالر (اور بعض توسیعی جائزوں کے مطابق 10 سالہ عرصے میں فیلڈ ڈیولپمنٹ اور انفراسٹرکچر کی مد میں 60 ارب ڈالر) کی ممکنہ سرمایہ کاری کا فریم ورک تشکیل دیا گیا ہے۔ تاہم، اس معاہدے کی وسعت سے زیادہ اس کی دستخطی تقریب، اس میں سابق امریکی خصوصی ایلچی زلمے خلیل زاد کی پراسرار شرکت، اور اس سے جنم لینے والے علاقائی و سفارتی اثرات عالمی و علاقائی طاقتوں کی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔
کابل میں طے پانے والا یہ بنیادی معاہدہ تین اہم اور مربوط انرجی پروگرامز پر مشتمل ہے، جس کا مقصد افغانستان کے ممکنہ ہائیڈرو کاربن ذخائر کی دریافت سے لے کر ان کی داخلی اور علاقائی منڈیوں تک رسائی کی عملی فزیبلٹی تیار کرنا ہے۔ معاہدے کے پہلے حصے یعنی ہائیڈرو کاربن کی تلاش و پیداوار (EPSC) کے تحت ڈیلٹا انرجی کو مغربی افغانستان کے صوبہ ہرات میں واقع “قشقاق اور ٹرپل” (Kushk and Tirpul) کے معاہداتی خطے میں کام کرنے کا اختیار دیا گیا ہے۔ یہ پورا علاقہ تقریباً 23,317 مربع کلومیٹر کے وسیع رقبے پر پھیلا ہوا ہے اور 11 بنیادی بلاکس پر مشتمل ہے، جہاں ڈیلٹا انرجی زلزلیاتی سروے، ڈرلنگ اور ذخائر کا تکنیکی جائزہ لے گی۔
دوسرا جزو ہرات گیس پروجیکٹ ہے، جس کا ہدف ہرات شہر اور وہاں کے انڈسٹریل پارک کو قدرتی گیس اور بجلی کی فراہمی کے ذریعے مقامی معیشت کو فوری فائدے پہنچانا ہے۔ سب سے اہم اور تیسرا حصہ “سینڈ گیس راہداری” (CentGas – Corridor of Prosperity) کا فریم ورک ہے، جو 700 کلومیٹر طویل قدرتی گیس ٹرانسمیشن پائپ لائن پر مشتمل ہے۔ یہ پائپ لائن ہرات کے ضلع گزارہ سے شروع ہو کر قندھار کے سرحدی ضلع اسپن بولدک تک جائیگی، جس کی 10 سالہ دورانئے میں تخمینی لاگت 10 ارب ڈالر مقرر کی گئی ہے تا کہ جنوبی ایشیا اور علاقائی منڈیوں کیلئے ایک نیا انرجی کوریڈور تشکیل دیا جا سکے، اگرچہ اس کا حتمی انحصار گیس کی تجارتی دریافت اور ریگولیٹری منظوریوں پر ہو گا۔
زلمے خلیل زاد کی پراسرار موجودگی:
کابل میں معاہدے پر دستخط کی باضابطہ تقریب میں سابق امریکی خصوصی ایلچی برائے افغان مصالحت زلمے خلیل زاد کی موجودگی نے بین الاقوامی اور افغان عوامی حلقوں میں گہرے شکوک و شبہات کو جنم دیا ہے۔ 1990ء کی دہائی میں امریکی تیل کمپنی “یونوکل” (Unocal) کے مشیر اور بعد میں دوحہ معاہدے کے مرکزی کردار کے طور پر، خلیل زاد کا ماضی اس تحرک کو محض ایک رسمی دورہ ثابت نہیں ہونے دیتا۔ عالمی سفارتی برادری میں ان کی موجودگی کو تین زاویوں سے دیکھا جا رہا ہے: وہ یا تو طالبان کے غیر رسمی عالمی نمائندے کے طور پر سفارتی الگ تھلگ پن ختم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، یا سعودی سرمایہ کاری کنسورشیم کے سینئر جیو پولیٹیکل مشیر کے طور پر کام کر رہے ہیں، یا پھر واشنگٹن کے انٹیلی جنس و پالیسی ساز ایوانوں کیلئے ایک اسٹریٹیجک بیک چینل (Strategic Surrogate) کا کردار ادا کر رہے ہیں۔
یہ صورتحال اس وقت مزید پیچیدہ ہو جاتی ہے جب ہم امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے باضابطہ موقف کا جائزہ لیتے ہیں۔ افغان وزیرِ خارجہ امیر خان متقی کی جانب سے امریکی کمپنیوں کو لیتھیم اور تانبے کی کان کنی میں سرمایہ کاری کی علانیہ پیشکش کو اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے باضابطہ طور پر مسترد کر دیا تھا۔ تاہم، کابل میں اس سعودی تجارتی معاہدے کے موقع پر ایک بااثر سابق امریکی سفارت کار کی موجودگی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ امریکہ ظاہری طور پر طالبان پر پابندیاں برقرار رکھتے ہوئے پسِ پردہ اپنے خلیجی اتحادیوں کے ذریعے افغان معیشت کے کلیدی شعبوں پر اپنا غیر مستقیم کنٹرول اور نگرانی برقرار رکھنا چاہتا ہے تا کہ بیجنگ اور ماسکو کو افغانستان کے ہائیڈرو کاربن زونز پر بلا شرکتِ غیرے قبضہ کرنے سے روکا جا سکے۔
سعودی عرب کی جانب سے سفارت خانے کی بحالی، جوائنٹ اکنامک کمیشن کی فعال سازی اور حال ہی میں طے پانے والا “مکہ جوائنٹ ڈیفنس ایگریمنٹ” (Mecca Pact) اس بات کا ثبوت ہیں کہ ریاض افغانستان میں معاشی و سیکیورٹی نفوذ بڑھا رہا ہے۔ پاکستان اس پیش رفت کو محتاط نظروں سے دیکھ رہا ہے۔ کالعدم ٹی ٹی پی کے محفوظ ٹھکانوں اور سرحد پار دہشت گردی کے باعث پاکستان اور افغانستان کی دوطرفہ تجارت کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ چونکہ 700 کلومیٹر طویل سینڈ گیس پائپ لائن کا آخری سرا قندھار کے ضلع اسپن بولدک یعنی پاکستان کی سرحد تک پہنچتا ہے، اس لئے سعودی عرب کے 50 ارب ڈالر کا معاشی لیوریج (Economic Leverage) پاکستان کیلئے ایک بڑا سفارتی موقع ہے۔ اسلام آباد یہ امید کر رہا ہے کہ ریاض طالبان پر سیکیورٹی دباؤ بڑھا کر ٹی ٹی پی کے خاتمے اور سرحدی امن کی ضمانت حاصل کرے گا تا کہ سعودی سرمائے کی حفاظت ممکن ہو سکے۔
روس اس پیش رفت پر گہرے تحفظات رکھتا ہے۔ روسی وزارتِ خارجہ اور اقوامِ متحدہ (UNAMA) کے مطابق افغان سرزمین پر 20,000 سے 23,000 کے قریب غیر ملکی جنگجو (خصوصاً داعش خراسان، ٹی ٹی پی،ای ٹی آئی ایم اور انصار اللہ) موجود ہیں۔ ماسکو کو خدشہ ہے کہ اتنے جنگجوؤں کی موجودگی کے باوجود امریکہ اپنے خلیجی اتحادیوں کے ذریعے اقتصادی و انٹیلی جنس واپسی کر رہا ہے، جو وسطی ایشیا کی سیکیورٹی اور روسی انرجی مارکیٹ دونوں کیلئے ایک چیلنج ہے۔ چین بھی بظاہر خاموش ہے لیکن یہ اس کی طویل المیعاد حکمتِ عملی ہے، بیجنگ پہلے فزیبلٹی اور سیکیورٹی کا انتظار کر رہا ہے، لیکن اگر سعودی کمپنی تکنیکی یا سیاسی وجوہات کی بنا پر ناکام ہوتی ہے تو چین متبادل کے طور پر آگے بڑھے گا اور گوادر و سی پیک کے مفادات کا تحفظ یقینی بنائے گا۔ دوسری جانب ایران اپنی مشرقی سرحد ہرات میں سعودی معاشی داخلے کو سیکیورٹی گھیراؤ اور اپنی برآمدی انرجی مارکیٹ کیلئے خطرہ سمجھتا ہے، جس کے جواب میں وہ طالبان سے سفارتی بات چیت اور اپنے غیر رسمی نیٹ ورکس کے ذریعے ردِعمل دے سکتا ہے؎۔
سعودی کمپنی اور افغان حکومت کے درمیان 50 ارب ڈالر کا توانائی معاہدہ محض تیل و گیس کا سودا نہیں، بلکہ اس کے پسِ پردہ بدلتی ہوئی عالمی اور علاقائی جیو اکنامک صف بندیوں کی ایک بڑی جھلک بھی نظر آتی ہے۔ اس نے افغانستان کو خطے کی عظیم طاقتوں کی معاشی و سیکیورٹی مسابقت کا مرکز بنا دیا ہے، جہاں آئندہ دنوں میں ایک نیا تزویراتی توازن جنم لے گا۔

Executive Summary: Saudi-Afghan $50B Energy Deal & Regional Geopolitics

Core Overview

The multi-year agreement signed in Kabul between Saudi Arabia’s Delta Energy Group and the Afghan Ministry of Mines and Petroleum represents a pivotal shift in South and Central Asian geopolitics. Envisioning up to $50 billion in potential investment over 25 years (with estimates reaching $60 billion over 10 years including infrastructure), the deal encompasses three primary initiatives:

  1. Hydrocarbon Exploration & Production (EPSC): Exploration covering 23,317 sq. km across 11 blocks in the Kushk and Tirpul areas of Herat province.
  2. Herat Industrial & Urban Gas Integration: Localized gas and power infrastructure to provide immediate economic value to Herat city and its industrial park.
  3. CentGas Corridor (“Corridor of Prosperity”): A proposed 700 km gas transmission pipeline running from Herat (Guzara district) to Kandahar (Spin Boldak district) near the Pakistani border, valued at approximately $10 billion over 10 years.

Key Strategic & Diplomatic Dynamics

  • Zalmay Khalilzad’s Role & US Policy Paradox:Former US Envoy Zalmay Khalilzad’s presence at the signing ceremony has raised questions. Observers view him as acting either as an informal global representative for the Taliban, a geopolitical advisor for the Saudi investment consortium, or a strategic surrogate for Washington. While the US State Department officially declined Taliban offers for mining investments, Khalilzad’s presence suggests a back-channel strategy where the US leverages Gulf allies to maintain oversight over Afghan energy sectors and counter Chinese and Russian influence.
  • Saudi-Pakistani Defense Dynamics & Security Leverage:Following the Mecca Joint Defense Agreement and Riyadh’s expanding footprint, Saudi Arabia’s economic leverage via this $50 billion framework could serve as a key mechanism for regional security. Because the proposed CentGas pipeline terminates near Pakistan’s border (Spin Boldak), its extension into South Asian markets requires Islamabad’s cooperation. Pakistan hopes Riyadh will pressure the Taliban to eliminate TTP hideouts and secure the border to protect these investments.
  • Regional Responses (Russia, China, Iran):
    • Russia: Deeply concerned about the presence of 20,000-23,000 foreign fighters in Afghanistan (e.g., ISKP, TTP) and views US-backed Gulf investments as a disguised American economic and intelligence return in its Central Asian sphere of influence.
    • China: Exercising strategic patience. Beijing is monitoring security and feasibility before making heavy investments, while remaining ready to step in if the Saudi entity faces technical or regulatory hurdles, all while safeguarding its CPEC and Gwadar interests.
    • Iran: Perceives Saudi expansion along its eastern border (Herat) as an economic and security encirclement, as well as a threat to its energy export market in western Afghanistan.

The Saudi-Afghan energy deal transcends a standard petroleum contract; it serves as a catalyst for shifting global and regional geo-economic alignments. Its ultimate execution depends on exploration results and security conditions, but it firmly repositions Afghanistan as a focal point of Great Power competition.

About the Author
Nasir Dawar | Editor and Researcher
Email: dawarjan@gmail.com