قبائلی اضلاع میں خاصہ دار فورس کا بڑا قدم: دفاتر کے بائیکاٹ کے بعد کوہاٹ ٹنل اور اسلام آباد کی جانب مارچ کی دھمکی
خیبر/ جمرود ( دی خیبرٹائمز رپورٹ ) خیبر پختونخوا کے ضم شدہ قبائلی اضلاع سے تعلق رکھنے والی سابقہ خاصہ دار فورس حالیہ پولیس اہلکاروں کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے۔ اپنے جائز مطالبات اور سروس حقوق کی عدم فراہمی کے خلاف اہلکاروں نے باقاعدہ احتجاج کا راستہ اختیار کرتے ہوئے تھانوں اور دفاتر کے امور کا بائیکاٹ شروع کر دیا ہے۔ جمرود میں تاریخی بابِ خیبر کے سامنے دئے گئے دھرنے میں سابقہ خاصہ دار فورس کمیٹی نے دوٹوک الفاظ میں اعلان کیا ہے کہ اگر ان کے مطالبات کو تسلیم نہ کیا گیا، تو احتجاج کا دائرہ کار پورے صوبے اور بالآخر وفاقی دارالحکومت اسلام آباد تک پھیلایا جائے گا۔
دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے کمیٹی کے چیئرمین سید جلال وزیر نے بتایا کہ مطالبات کے حق میں منگل سے روزنامچہ درج کرنے اور ایف آئی آر کاٹ کر کیسز کی تفتیش کرنے کا تمام کام روک دیا گیا ہے۔ فورس نے ڈسٹرکٹ پولیس آفیسرز (DPOs) کے انتظامی احکامات ماننے سے بھی صاف انکار کر دیا ہے۔
اسی کے ساتھ کمیٹی نے مطالبہ کیا ہے کہ قبائلی علاقوں کے علاوہ دیگر اضلاع سے بھیجے گئے ڈی پی اوز، ایس پیز اور ایم ٹی اوز (MTOs) رضا کارانہ طور پر واپس چلے جائیں، کیونکہ مقامی فورس کو اپنے حقوق سے محروم رکھ کر بیرونی افسران کو مسلط کیا جا رہا ہے۔ تاہم، کمیٹی نے یہ وضاحت بھی کی کہ سیکورٹی کی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے اہلکار پاک فوج اور ایف سی کے ساتھ مل کر تمام اہم اور حساس چیک پوسٹوں پر اپنی ڈیوٹیاں اسی طرح سرانجام دیتے رہیں گے تاکہ علاقے کا امن و امان متاثر نہ ہو۔
فاٹا کو خیبر پختونخوا میں انضمام کے وقت حکومت نے وعدہ کیا تھا کہ دہائیوں سے خدمات سرانجام دینے والی 30 سے 32 ہزار کے قریب خاصہ دار اور لیویز فورس کے اہلکاروں کو مکمل تحفظ فراہم کر کے خیبرپختونخوا پولیس کا حصہ بنایا جائے گا۔ لیکن اہلکاروں کے بقول گزشتہ کئی سالوں سے انہیں شدید عدم تحفظ اور محرومی کا سامنا ہے۔
دھرنے کے شراکا کا کہنا ہے، کہ قبائلی اضلاع میں تھانوں، چوکیوں اور پولیس لائنز کے نام پر کوئی خاطر خواہ عمارتیں یا ضروری سہولیات دستیاب نہیں ہیں، جس سے کام کا ماحول انتہائی دشوار ہو چکا ہے۔
اہلکاروں نے پنجاب پولیس اور خیبر پختونخوا پولیس کا موازنہ کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب پولیس کو بارڈر ایریا الاؤنس، لا اینڈ آرڈر الاؤنس اور معقول ڈیلی الاؤنسز ملتے ہیں، جب کہ خیبرپختونخوا کے قبائلی اضلاع میں فرض نبھانے والے اہلکاروں کو ان بنیادی مراعات سے محروم رکھا گیا ہے۔
خاصہ دار فورس کو پولیس میں مرج تو کر دیا گیا، لیکن ان کی ترقیوں، رینک دینے اور پینشن سے متعلق قانونی اور انتظامی ڈھانچہ آج تک واضح نہیں ہو سکا۔
احتجاجی کمیٹی کا کہنا ہے کہ اگر ایپکس کمیٹی کے فیصلوں، وزیراعلیٰ، وزیراعظم شہباز شریف اور آرمی چیف کی جانب سے فورس کے دیرینہ مسائل پر سنجیدگی سے توجہ نہ دی گئی، تو اگلا قدم انتہائی سخت ہوگا۔
کمیٹی نے دھمکی دی ہے کہ وہ درہ آدم خیل کے مقام پر کوہاٹ ٹنل کو ہر قسم کی ٹریفک کیلئے مکمل طور پر بند کر دیں گے۔ اس شاہراہ کی بندش سے صوبے کے جنوبی اضلاع کرک، بنوں، لکی مروت اور ڈی آئی خان کے علاوہ سندھ اور بلوچستان جانے والی تمام تر درامداتی اور برامداتی ٹریفک رک جائیگی۔ اس کے باوجود اگر ان کے مطالبات پر کان نہ دھرا گیا، تو ہزاروں کی تعداد میں خاصہ دار اہلکار اسلام آباد کی جانب مارچ کریں گے اور وفاقی وزارتِ داخلہ کے دفتر کے سامنے غیر معینہ مدت کیلئے دھرنا دیں گے۔
سرحدی اور نازک ترین علاقوں میں قائم خاصہ دار فورس دہائیوں سے علاقے کے رسم و رواج اور سیکیورٹی معاملات کی ضامن رہی ہے۔ دہشتگردی کے خلاف برسرِ پیکار اہم سرحدی خطے میں فورس کے اندر پائے جانے والے اس اندرونی اضطراب کو اگر وقت پر نہ سنبھالا گیا، تو اس کے اثرات صرف پولیس کے نظام پر ہی نہیں بلکہ پورے خطے کے امن و امان پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔ وقت کا تقاضا ہے کہ حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اعلیٰ ادارے آپس کی کشیدگی کو ختم کر کے فورس کی جائز شکایات کا فوری اور پائیدار حل نکالیں۔
Tribal Districts: Former Khasadar Force Boycotts Duties, Threatens March on Islamabad
PESHAWAR: Personnel of the former Khasadar and Levies forces, now merged into the Khyber Pakhtunkhwa Police, have initiated a complete boycott of routine administrative and policing duties across the merged tribal districts.
Protesting at Bab-e-Khyber under the banner of the Former Khasadar Force Committee, the personnel have halted the registration of FIRs and daily police diary reports while refusing to follow instructions from District Police Officers (DPOs).
Key Highlights:
-
Operational Boycotts: Complete suspension of FIR registrations and administrative tasks; non-local senior police officers have been urged to voluntarily withdraw from the tribal districts.
-
Security Duties Retained: Protesting personnel continue to perform joint security duties alongside the Pakistan Army and Frontier Corps (FC) at checkpoints to maintain regional security.
-
Core Demands: Full structural integration into the KP Police, equal allowances (including Border Area and Law & Order allowances on par with other provincial forces), improved infrastructure (police lines and stations), and clear promotion pathways.
-
Escalation Warning: The committee warned that failure to meet their demands will lead to blocking the Kohat Tunnel—cutting off transport links between KP’s southern districts, Sindh, and Balochistan followed by a long march to Islamabad to stage a sit-in outside the Ministry of Interior.




