Iranian Deputy Foreign Minister Kazem Gharibabadi speaking about US proposals, Islamabad negotiations and the Strait of Hormuz.

آبنائے ہرمز پر امریکی کنٹرول کا دعویٰ مسترد: تہران کا مکمل انتظام کا اعلان، امریکی بحری بیڑے پر شدید ذہنی تناؤ اور عالمی منڈی میں نیا سسپنس

پشاور( دی خیبر ٹائمز ویب ڈیسک) ایران نے آبنائے ہرمز پر امریکی تسلط اور کنٹرول کے تمام تر دعوؤں کو باضابطہ طور پر مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ یہ اہم ترین بین الاقوامی بحری شاہراہ مکمل طور پر ایرانی انتظام اور کنٹرول میں ہے۔ ایران کی بسیج فورس کے سربراہ حسین طائب نے اپنے ایک تازہ بیان میں زور دے کر کہا کہ آبنائے ہرمز کا نظام اور سیکیورٹی مکمل طور پر ایران کے ہاتھ میں ہے اور اس حوالے سے امریکی دعوے بالکل بے بنیاد ہیں۔
امریکی میڈیا کی رپورٹس اور معاشی و دفاعی ماہرین کے تجزیوں کے مطابق، آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کی معطلی کے باعث عالمی سطح پر خام تیل کے ذخائر تیزی سے ختم ہو رہے ہیں۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آبنائے ہرمز پر کنٹرول کے دعوؤں کے برعکس زمینی حقیقت کہیں زیادہ پیچیدہ ہے، جہاں بحری جہازوں پر مسلسل حملوں اور سیکیورٹی خدشات کی بنا پر بین الاقوامی جہاز رانی سے منسلک کمپنیاں اور ان کا عملہ شدید خطرات سے دوچار ہے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان تصادم اور حملے دوبارہ شروع ہونے کا خطرہ بدستور موجود ہے، کیونکہ ایران نے صاف الفاظ میں واضح کر دیا ہے کہ جب تک اس کی تمام شرائط پوری نہیں کی جاتیں، آبنائے ہرمز سے تجارتی بحری آمدورفت بحال نہیں کی جائے گی۔
اسی خطے میں درپیش طویل تناؤ کے اثرات اب امریکی فوجیوں کی نفسیاتی اور جسمانی صحت پر بھی ابھر کر سامنے آ رہے ہیں۔ امریکی میڈیا اور مختلف نیوز ویب سائٹس کے مطابق، طویل اور مسلسل تعیناتی کی وجہ سے امریکی طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن پر تعینات عملے میں شدید ذہنی تناؤ دیکھا جا رہا ہے۔ ایک اہلکار کی اہلیہ نے انکشاف کیا کہ ان کے شوہر نے مسلسل اور سخت ڈیوٹی سے تنگ آ کر جہاز سے سمندر میں چھلانگ لگانے کی کوشش کی، جس کے بعد عملے کے دیگر افراد نے مستعدی دکھاتے ہوئے انہیں اور متعدد دیگر اہلکاروں کو خودکشی سے روکا۔ رپورٹ میں یہ دعویٰ بھی سامنے آیا ہے کہ اس امریکی بحری بیڑے پر خوراک اور بنیادی اشیائے ضروریہ کی شدید قلت کا سامنا ہے۔
تقریباً 5 ہزار امریکی سیلرز اور میرینز پر مشتمل یہ عملہ گزشتہ 250 روز سے زائد عرصے سے بحری جہاز پر مسلسل تعینات ہے۔ ان تشویشناک رپورٹس کے سامنے آنے کے بعد امریکی سینیٹرز نے واقعات کی اعلیٰ سطح پر تحقیقات کا مطالبات کیا ہے، تاہم امریکی بحریہ نے جہاز پر تعینات فوجیوں میں خودکشی کی کوششوں یا ذہنی صحت کے مسائل میں کسی بھی غیر معمولی اضافے کی خبروں کی سختی سے تردید کی ہے۔
سیاسی و سفارتی محاذ پر ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے یورپی ممالک کے دوہرے معیار کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ غزہ میں اسرائیلی نسل کشی کی کھلی حمایت اور ایران کے خلاف جارحیت کی پشت پناہی کر کے یورپی ممالک اپنی تمام تر اخلاقی حیثیت کھو چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فرانس جیسے ممالک کو انسانی حقوق کے نام پر دنیا کو درس دینا اب بند کر دینا چاہئے، کیونکہ مغربی ممالک کی یہ منافقت اب عالمی سطح پر بالکل واضح اور شرمناک ہو چکی ہے۔
اس تمام تر جغرافیائی اور سیاسی کشیدگی کے درمیان عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں معمولی کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق برینٹ خام تیل کی قیمت 1.29 ڈالر کی کمی کے بعد 87.69 ڈالر فی بیرل پر آ گئی ہے، جبکہ امریکی خام تیل (ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ) کی قیمت بھی 1.30 ڈالر کمی کے بعد 81.97 ڈالر فی بیرل ریکارڈ کی گئی ہے۔