Khyber Pakhtunkhwa Chief Minister Sohail Afridi speaking at a grand Jirga against federal tax implementation in merged districts.

اسلام آباد مارچ: تحریک انصاف کے اندرونی اختلافات کا نیا طوفان

دی خیبرٹائمز پولیٹیکل ڈیسک
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے اندرونی اختلافات ایک بار پھر شدت اختیار کر گئے ہیں اور پارٹی اندرونی محاذ آرائی کے ایک نئے طوفان کی زد میں ہے۔ اس تازہ تنازع کی بنیادی وجہ 27 ستمبر کو اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کی دی جانے والی کال ہے، جس نے پارٹی کے اندر اور باہر چلمن کے پیچھے چھپے اختلافات کو کھل کر سامنے لا کھڑا کیا ہے۔
پشاور کے جلسے میں وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے جیسے ہی 27 ستمبر کو اسلام آباد کی طرف مارچ کا اعلان کیا، تو اس کے ساتھ ہی پارٹی کے اندر ایک نیا بیانیہ جنم لینے لگا۔ پی ٹی آئی کے بیرون ملک مقیم رہنماؤں بالخصوص شہباز گل اور ان کے ہم خیال ساتھیوں نے اس اعلان پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے سنگین الزامات عائد کر دئے ہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ احتجاج کی تاریخ وسط اگست کے بجائے 27 ستمبر مقرر کرنا کسی سیاسی حکمت عملی کا حصہ نہیں بلکہ ایک خفیہ ڈیل کا نتیجہ ہے۔ ان رہنماؤں کے مطابق اتنا طویل وقت دینا اصل میں تحریک کے اثر اور کارکنوں کے جوش و جذبے کو زائل کرنے کے مترادف ہے۔
ان سنگین الزامات پر وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے خاموشی توڑتے ہوئے تمام باتوں کو سراسر بے بنیاد اور من گھڑت قرار دیا ہے۔ انہوں نے شہباز گل کے الزامات کو رد کرتے ہوئے کہا کہ وہ بلاجواز باتیں کر رہے ہیں اور بہت جلد اپنے اس موقف پر معافی مانگنے پر مجبور ہوں گے۔ اس کے ساتھ ہی سہیل آفریدی نے یہ امید بھی ظاہر کی ہے کہ وہ اس فیصلے کی منطق اور حکمت عملی پر عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کو بھی اعتماد میں لے کر جلد راضی کر لیں گے۔
تاہم اس تمام صورتحال میں سب سے زیادہ اثر پارٹی کے نچلے درجے کے کارکنان پر پڑ رہا ہے۔ تحریک انصاف کا عام ورکر، جو عمران خان کی رہائی کے لیے ہر دور میں اپنے سروں پر کفن باندھ کر سڑکوں پر نکلنے کو تیار رہتا ہے، ایک بار پھر خود کو شدید مایوسی اور عدم تحفظ کا شکار محسوس کر رہا ہے۔ ماضی کی تلخ یادیں ان کا پیچھا نہیں چھوڑ رہیں۔ کارکنوں کا کہنا ہے کہ وہ اپنے قائد کیلئے ہر قربانی دینے کو تیار ہوتے ہیں، لیکن اسلام آباد پہنچتے ہی مرکزی قیادت پراسرار طور پر غائب ہو جاتی ہے اور انہیں سڑکوں پر بے یارو مددگار چھوڑ دیا جاتا ہے۔
ماضی میں یہی الزامات علی امین گنڈاپور پر عائد کئے جاتے رہے، اور اب یہی تاریخ خود کو دہراتی ہوئی نظر آ رہی ہے۔ سہیل آفریدی اگرچہ عمران خان کی رہائی کا ون پوائنٹ ایجنڈا لے کر میدان میں اترے تھے، لیکن اب تک کوئی عملی پیشرفت نہ ہونے اور اب دو مہینے کا طویل وقت دینے پر صرف عام کارکنان ہی نہیں بلکہ مخالف سیاسی جماعتیں بھی پی ٹی آئی کی قیادت کو آڑے ہاتھوں لے رہی ہیں اور ڈیل کے الزامات کو ہوا دے رہی ہیں۔
27 ستمبر کی اس مارچ کال نے پی ٹی آئی کو ایک حساس اور نازک موڑ پر لا کھڑا کیا ہے۔ ایک طرف وہ جنونی کارکن ہیں جو فوری اور حتمی نتائج چاہتے ہیں، اور دوسری طرف مرکزی قیادت کے فیصلوں، باہمی الزامات اور اندرونی رسہ کشی نے پوری احتجاجی تحریک کے مستقبل پر سوالیہ نشان ثبت کر دئے ہیں۔

Exclusive Summary: PTI’s Internal Rift Deepens Over Islamabad March

Pakistan Tehreek-e-Insaf (PTI) is facing a fresh wave of internal tensions following Khyber Pakhtunkhwa Chief Minister Sohail Afridi’s announcement of a September 27 march on Islamabad.

The decision has triggered criticism from PTI leaders based abroad, particularly Shehbaz Gill and his allies, who allege that the delayed date could be the result of a “secret deal” and may be intended to weaken the momentum of the protest movement. The allegations have been rejected by CM Sohail Afridi as baseless and fabricated.

Afridi has defended the timing as a strategic decision and said he expects to convince Aleema Khan, Imran Khan’s sister, about its rationale.

Meanwhile, PTI’s grassroots workers are increasingly frustrated, recalling previous protests in which they claim the party’s senior leadership disappeared after workers reached Islamabad. Similar allegations were previously directed at former KP chief minister Ali Amin Gandapur.

The September 27 call has therefore exposed a widening divide within PTI, pitting impatient grassroots supporters demanding immediate action for Imran Khan’s release against a leadership facing accusations, internal disputes and growing questions over its protest strategy.