تحریر: مہوش تسلیم
بیسویں صدی کے آغاز میں جب برصغیر پاک و ہند میں بیداری کی لہر چل رہی تھی، تو سرحدی صوبے کے غیور اور جفاکش عوام کو جدید تعلیم سے آراستہ کرنے کیلئے ایک ایسے مرکز کی ضرورت محسوس کی گئی جو ان کی مذہبی، ثقافتی اور علمی اقدار کا امین ہو۔ اس خواب کو تعبیر دینے کیلئے اسلامیہ کالج پشاور کا قیام عمل میں لایا گیا۔
یہ ادارہ نہ صرف علم کا سرچشمہ ثابت ہوا، بلکہ اس نے خطے کے سیاسی منظر نامے کو تبدیل کرنے اور تحریکِ پاکستان کو فکری ایندھن فراہم کرنے میں تاریخی کردار ادا کیا۔ آج اس خوبصورت تاریخی عمارت کی تصویر پاکستان کے 100 روپے کے بینک نوٹ پر بھی نقش ہے، جو قومی سطح پر اس کی عظمت کا اعتراف ہے۔
اسلامیہ کالج کا قیام علی گڑھ تحریک کے تسلسل اور اس کے نظریات کا عکاس تھا۔ اس عظیم الشان منصوبے کے پیچھے دو بنیادی شخصیات کا وژن کارفرما تھا،
سر صاحبزادہ عبد القیوم خان، جنہیں بجا طور پر ثانیِ سر سید اور بابائے سرحد کہا جاتا ہے۔ انہوں نے محسوس کیا کہ پشتون قوم کی ترقی کا واحد راستہ جدید تعلیم کا حصول ہے۔
سر جارج روس کیپل، جو اس وقت کے چیف کمشنر سرحد تھے اور صاحبزادہ عبدالقیوم خان کے قریبی دوست اور علم دوست انسان تھے۔
ان دونوں رہنماؤں نے مل کر خطے میں جہالت کے اندھیروں کو دور کرنے کیلئے ایک کالج کے قیام کا فیصلہ کیا، جہاں انگریزی اور سائنسی علوم کے ساتھ ساتھ اسلامی تعلیمات کی تدریس بھی لازمی جزو ہو۔
کالج کے قیام کیلئے زمین کی خریداری اور فنڈز جمع کرنے کی مہم شروع کی گئی، جس میں صوبے کے خوانین، نوابین، عام شہریوں اور یہاں تک کہ افغانستان کے امیر حبیب اللہ خان نے بھی دل کھول کر مالی معاونت کی۔
اسلامیہ کالج کا سنگِ بنیاد 21 مارچ 1912ء کو برصغیر کی عظیم مجاہدِ آزادی اور روحانی شخصیت حاجی صاحب ترنگزئی نے اپنے دست مبارک سے رکھا۔ یہ سر صاحبزادہ عبدالقیوم کا ایک انتہائی دور اندیشانہ فیصلہ تھا تاکہ کالج کو انگریز نواز پروپیگنڈے سے بچایا جا سکے اور مقامی عوام کا اعتماد حاصل کیا جا سکے۔
اکتوبر 1913ء میں کالج نے باقاعدہ کام شروع کر دیا اور پہلے سال 26 طلبہ نے داخلہ لیا۔
اسلامیہ کالج کی عمارتیں اپنی خوبصورتی اور طرزِ تعمیر کے لحاظ سے فن کا شاہکار ہیں۔ لال اینٹوں سے بنی یہ عمارتیں، خوبصورت محرابیں، بلند و بالا گنبد اور طویل راہداریاں مغل، اسلامی اور برطانوی گوتھک طرزِ تعمیر کا بہترین امتزاج پیش کرتی ہیں۔
کالج کے مرکز میں واقع یہ خوبصورت مسجد اپنی خوبصورت خطاطی اور سفید گنبدوں کی وجہ سے دیکھنے سے تعلق رکھتی ہے، طلبہ کیلئے بنائے گئے قدیم ہوسٹلز اور اساتذہ کی رہائش گاہیں اب بھی اپنی اصل تاریخی حالت میں قائم ہیں۔ کالج کے وسیع و عریض لان اور وہاں موجود تاریخی چنار اور صنوبر کے درخت اس کے حسن کو دوبالا کرتے ہیں۔
اسلامیہ کالج پشاور کی تاریخ قائد اعظم محمد علی جناح کے ذکر کے بغیر ادھوری ہے۔ قائد اعظم کو اس کالج کے طلبہ اور اس کے در و دیوار سے دلی لگاؤ تھا۔ انہوں نے 1936ء، 1940ء، 1945ء اور پھر قیام پاکستان کے بعد 1948ء میں اس تاریخی ادارے کا دورہ کیا۔
قائد اعظم اس کالج کے طلبہ کے جوش و جذبے اور تحریکِ آزادی ان کی قربانیوں سے اس قدر متاثر ہوئے کہ انہوں نے اپنی زندگی میں ہی ایک وصیت لکھوائی۔
وہ یہ کہ قائد اعظم نے اپنی ذاتی جائیداد کو تین حصوں میں تقسیم کرنے کی وصیت کی، جس میں سے ایک حصہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی، دوسرا حصہ سندھ مدرسۃ الاسلام (کراچی) اور تیسرا بڑا حصہ اسلامیہ کالج پشاور کے نام وقف کیا۔ یہ اس بات کا ثبوت تھا کہ وہ اس ادارے کو پاکستان کا ایک اہم علمی ستون سمجھتے تھے۔
اسلامیہ کالج کے طلبہ نے قیامِ پاکستان کیلئے ہراول دستے کا کردار ادا کیا۔ 1940ء کی دہائی میں جب صوبہ سرحد کی سیاست انتہائی نازک موڑ پر تھی، تو قائد اعظم کی پکار پر لبیک کہتے ہوئے ان طلبہ نے صوبے کے طول و عرض، بالخصوص قبائلی علاقوں میں جا کر پاکستان کے نظرئے کی تبلیغ کی اور 1947ء کے تاریخی ریفرنڈم میں مسلم لیگ کی کامیابی کو یقینی بنایا۔
کالج کے قیام اور اس کے مالیاتی استحکام کیلئے خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع، بالخصوص پشاور، چارسدہ اور صوابی کے مخیر حضرات، خوانین اور زمینداروں نے اپنی قیمتی ترین کمرشل اور زرعی زمینیں اسلامیہ کالج کے نام وقف (عطیہ) کی تھیں۔ تاہم، عشروں پر محیط انتظامی غفلت، سستے پٹے (Leases)، قبضہ مافیا اور قانونی موشگافیوں کی وجہ سے ان املاک سے وہ ثمرات حاصل نہیں ہو پا رہے جن کا یہ ادارہ حقدار ہے۔
مختلف اضلاع میں ان املاک کی تفصیلات درج ذیل ہیں:
1. پشاور میں خیبر بازار اور اسلامیہ کلب بلڈنگ، جو پشاور کے دل سمجھے جانے والے گنجان اور مہنگے ترین تجارتی مرکز خیبر بازار میں واقع اسلامیہ کلب بلڈنگ اسلامیہ کالج کی سب سے قیمتی کمرشل پراپرٹی ہے، یہ پراپرٹی تقریباً 14 کنال رقبے پر پھیلی ہوئی ہے، جس میں 222 دکانیں اور فلیٹس شامل ہیں۔
آڈٹ رپورٹس کے مطابق خیبر بازار جیسے علاقے میں ان دکانوں کا ماہانہ کرایہ محض 2,000 سے 3,000 روپے وصول کیا جاتا رہا ہے۔
اس پوری بلڈنگ سے یونیورسٹی کو ماہانہ صرف 7 لاکھ 60 ہزار روپے (سالانہ تقریباً 9.5 ملین روپے) حاصل ہوتے ہیں، جبکہ موجودہ مارکیٹ ریٹ کے مطابق اس پراپرٹی کی سالانہ آمدن کم از کم 10 کروڑ 60 لاکھ روپے (106.5 ملین) ہونی چاہئے۔ کرائے دار طویل عرصے سے عدالتوں سے اسٹے آرڈر لے کر بیٹھے ہیں۔ اس کے علاوہ ہیریٹیج قوانین کی وجہ سے یونیورسٹی یہاں کوئی نیا کثیر المنزلہ کمرشل پلازہ بھی تعمیر نہیں کر سکتی۔
چارسدہ: قیمتی تجارتی اور زرعی زمینیں: چارسدہ میں اسلامیہ کالج کی کثیر املاک موجود ہیں جن کا ایک بڑا حصہ مسائل کا شکار رہا ہے،
پرانی سبزی منڈی کی اراضی (کمرشل): یہ چارسدہ بازار کے وسط میں واقع 55 کنال کی انتہائی قیمتی تجارتی زمین ہے جس پر 221 دکانیں قائم ہیں۔ یہاں سے یونیورسٹی کو سالانہ صرف 1.5 کروڑ روپے ملتے ہیں، جبکہ مارکیٹ ریٹ کے مطابق یہ آمدن 8 کروڑ روپے کے قریب ہونی چاہئے۔
اس زمین پر گزشتہ 50 سال سے غیر قانونی طور پر سبزی منڈی اور تجاوزات قائم تھیں۔ فروری 2025ء میں ضلعی انتظامیہ نے ایک بڑا آپریشن کر کے بھاری مشینری کے ذریعے ان غیر قانونی تعمیرات کو مسمار کیا اور 55 کنال کی یہ قیمتی اراضی واگزار کرا کے اسلامیہ کالج کے حوالے کی۔
اسی طرح چارسدہ کے علاقوں ہاری چند، رائے محل اور پشاور کے علاقے ترناب میں اسلامیہ کالج کی 1,089 جریب زرعی زمین موجود ہے۔ اتنی وسیع زرعی اراضی کا سالانہ ٹھیکہ اوسطاً محض 4,993 روپے فی جریب بنتا ہے، جس سے یونیورسٹی کو سالانہ صرف 54 لاکھ روپے ملتے ہیں۔ نئے سرے سے منصفانہ پٹے (Lease) کی صورت میں یہ آمدن 2.1 کروڑ روپے سالانہ ہو سکتی ہے۔
3. صوابی: اراضی اور مزارعین کے مسائل
صوابی کے مقامی زمینداروں نے بھی کالج کی مالی معاونت کے لیے کثیر اراضی وقف کی تھی، جبکہ صوابی کیمپس کے لیے حکومت نے بھی اراضی فراہم کی۔
مسئلہ: صوابی میں موجود زرعی اراضی کا بڑا حصہ مقامی مزارعین اور بااثر افراد کے زیرِ استعمال ہے، جہاں سے یونیورسٹی کو نہ ہونے کے برابر آمدن حاصل ہوتی ہے۔ مناسب نگرانی اور حد بندی نہ ہونے کی وجہ سے صوابی کی زمینیں تاحال مکمل ثمرات دینے سے قاصر ہیں۔
املاک کی آمدن کا ایک نظر میں موازنہ
جائیداد / مقام رقبہ / تعداد موجودہ سالانہ آمدن ممکنہ سالانہ آمدن (مارکیٹ ریٹ پر)
اسلامیہ کلب بلڈنگ (خیبر بازار پشاور) 14 کنال (222 دکانیں/فلیٹس) اس جائیداد سے اس وقت تقریباً 9.5 ملین روپے امدن ہے، اگر موجودہ مارکیت کے حساب سے ان سے کرائے کی وصولی ممکن بنای جائے تو ۔اس کی تقریباً 106.5 ملین روپے
سبزی منڈی اراضی (چارسدہ بازار) 55 کنال (221 دکانیں) تقریباً 15.2 ملین روپے وصول کئے جاتے ہیں، اگر موجودہ مارکیٹ ریٹ پر دئے جائیں تو ان کی ماہوار امدن 79.5 روپے بن جاتے ہیں۔
زرعی اراضی (چارسدہ اور پشاور) 1,089 جریب (ہری چند، رائے محل، ترناب) تقریباً 5.4 ملین روپے جبکہ موجودہ زرعی زمین کے موجودہ ریٹ کے حساب سے 21.7 ملین روپے بن سکتے ہیں۔
عشروں پرانے لیز معاہدے: پرانے معاہدوں میں وقت کے ساتھ کرائے بڑھانے کی کوئی معقول اور خودکار شرط نہیں رکھی گئی، جس کا ناجائز فائدہ کرائے دار اٹھا رہے ہیں۔ جب بھی کرایہ بڑھانے یا دکانیں خالی کرانے کی کوشش کی جاتی ہے، تب کرائے دار عدالتوں سے حکمِ امتناع حاصل کر لیتے ہیں اور مقدمات سالہا سال لٹکے رہتے ہیں۔ اسلامیہ کالج کے پاس اپنی اربوں روپے کی جائیدادوں کی دیکھ بھال اور تجارتی استعمال کیلئے کوئی جدید، پیشہ ورانہ ونگ موجود نہیں ہے۔
اسلامیہ کالج پشاور محض ایک اینٹ اور گارے سے بنی عمارت نہیں، بلکہ یہ پشتونوں کی علمی بیداری، حب الوطن نسلوں کی آبیاری اور شاندار ماضی کا امین ہے۔ جہاں اس ادارے نے علم کے نور سے تاریکیوں کو مٹایا، وہاں آج اس کے مالیاتی مسائل کا حل بھی اس کی اپنی ہی عطیہ کردہ زمینوں میں چھپا ہوا ہے۔
چارسدہ میں کی جانے والی حالیہ کارروائیوں کی طرز پر اگر پشاور اور صوابی کی املاک پر بھی سیاسی مصلحتوں سے بالاتر ہو کر آپریشن کیا جائے، قانونی رکاوٹیں دور کی جائیں اور کرایوں کا مارکیٹ ریٹ کے مطابق ازسرِ نو تعین کیا جائے، تو اسلامیہ کالج کو کسی سرکاری بیل آؤٹ کی ضرورت نہیں رہے گی۔ یہ تاریخی ادارہ اپنے ہی وسائل سے نہ صرف خود کفیل ہو سکتا ہے، بلکہ تعلیمی تحقیق اور غریب طلبہ کیلئے کروڑوں کے وظائف بھی جاری کر سکتا ہے۔ ایسا کرنے سے نہ صرف اس عظیم درسگاہ کے بانیوں کے خوابوں کو حقیقی تعبیر ملے گی، بلکہ ان مخلص مخیر حضرات کی روحوں کو بھی ابدی سکون اور ثواب پہنچے گا جنہوں نے اس خطے میں علم کا نور پھیلانے کیلئے اپنی قیمتی املاک وقف کی تھیں۔
Exclusive Summary: Islamia College Peshawar’s Legacy and the Crisis of Its Frozen Wealth
1. The Beacon of Frontier Enlightenment
Founded in 1913 by Sir Sahibzada Abdul Qayyum Khan and Sir George Roos-Keppel, Islamia College Peshawar (now a chartered university) is the historical and cultural crown jewel of Khyber Pakhtunkhwa. Its majestic Mughal-Gothic architecture—immortalized on Pakistan’s Rs. 1,000 banknote—served as the intellectual engine of the Pakistan Movement in the northwest. Its founding stone was laid by the revered freedom fighter Haji Sahib of Turangzai, shielding the institution from colonial propaganda and securing deep-rooted community trust.
2. Jinnah’s Lifelong Devotion
The Father of the Nation, Quaid-e-Azam Muhammad Ali Jinnah, shared a profound spiritual and political bond with the college, visiting it multiple times. In a historic testament to his devotion, Jinnah’s will bequeathed one-third of his personal estate to Islamia College Peshawar, alongside Aligarh Muslim University and Sindh Madressatul Islam, cementation of its status as a vital national pillar.




