Military command center screen showing a digital map of Middle East conflict zones with missile trajectories and targeting markers on Iran, Jordan, and UAE.

مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کا پھیلاؤ: ایران اور امریکا کے درمیان براہِ راست عسکری تصادم میں شدت

پشاور: دی خیبرٹائمز مانیٹرنگ ڈیسک! مشرقِ وسطیٰ میں ایران اور امریکا کے مابین جاری کشیدگی اب براہِ راست عسکری تصادم میں تبدیل ہو چکی ہے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) اور ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے متضاد دعووں کے بعد خطے میں جنگ کے بادل مزید گہرے ہو گئے ہیں۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے تصدیق کی ہے کہ ایران کے خلاف عسکری کارروائیوں کا تیسرا مرحلہ کامیابی سے مکمل کر لیا گیا ہے۔ کمانڈ کے مطابق، امریکی فضائیہ نے اب تک ایران کے مجموعی طور پر 300 سے زائد اہم فوجی اہداف کو نشانہ بنایا ہے، جن میں میزائل و ڈرون لانچ سائٹس، بحری صلاحیتیں اور جدید اسلحہ کے بڑے ذخیرہ خانے شامل ہیں۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ کارروائیاں خطے میں اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے ناگزیر تھیں۔
دوسری جانب ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے اردن میں قائم پرنس حسن ایئر بیس پر موجود امریکی کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کو مکمل طور پر تباہ کر دیا ہے۔ ایرانی حکام کا موقف ہے کہ یہ جوابی کارروائی ہے، کیونکہ امریکا نے ایران کے جنوبی ساحلی علاقوں میں متعدد فوجی اڈوں اور مواصلاتی ٹاورز پر فضائی حملے کئے تھے۔
اس ہنگامی صورتحال کے دوران متحدہ عرب امارات (UAE) کی وزارتِ دفاع نے کہا ہے کہ ملک کا فضائی دفاعی نظام ایران کی جانب سے آنے والے میزائلوں اور ڈرونز کو فضا میں ہی ناکارہ بنا رہا ہے۔ وزارتِ دفاع کے مطابق نظام انتہائی مؤثر انداز میں کام کر رہا ہے، تاہم اب تک کسی جانی یا مالی نقصان کی تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔
مبصرین کا ماننا ہے کہ یہ پیش رفت خطے میں قیامِ امن کیلئے کی جانے والی تمام تر سفارتی کوششوں، خاص طور پر ‘اسلام آباد ایگریمنٹ’ کے فریم ورک کیلئے ایک بڑا دھچکا ہے۔ اس معاہدے کی روح، جو علاقائی استحکام اور تنازعات کے پرامن حل کی ضامن تھی، اب عملی طور پر ختم ہوتی نظر آ رہی ہے۔
خطے میں جاری اس جنگی کشیدگی نے عالمی منڈیوں میں ہلچل مچا دی ہے، اور تیل کی قیمتوں میں اضافے کے خدشات نے دنیا بھر کے سرمایہ کاروں کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ دی خیبر ٹائمز اس انتہائی نازک صورتحال پر اپنی نظر رکھے ہوئے ہے اور تازہ ترین اطلاعات کے ساتھ اپنے قارئین کو لمحہ بہ لمحہ باخبر رکھے گا۔

——————————————————————————

Summary: Iran-U.S. Military Escalation
Intensified Conflict: The military standoff has escalated as U.S. Central Command confirmed completing a third phase of strikes, totaling over 300 targets—including missile sites, drone facilities, and naval assets.
Iranian Retaliation: Iran’s Revolutionary Guard claimed the destruction of the U.S. command-and-control center at Prince Hassan Air Base in Jordan, framing the action as a response to U.S. strikes on Iranian coastal bases and communications towers.
Regional Impact: The UAE Ministry of Defense reports that its air-defense systems are actively intercepting incoming missiles and drones.
Diplomatic Breakdown: This direct military confrontation signals a collapse of regional stability frameworks, specifically challenging the viability of the “Islamabad Agreement” and heightening global economic concerns regarding energy supplies.