اسلام آباد: ملک بھر کے کروڑوں شہری اس سوال کا جواب ڈھونڈ رہے ہیں کہ جب عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اتار آیا تھا اور مقامی سطح پر بھی پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی بنیادی لاگت کم ہو رہی تھی تو پھر حکومت نے اچانک دونوں مصنوعات کی قیمتوں میں 26 روپے 77 پیسے فی لیٹر کا بھاری اضافہ کیوں کر دیا۔ اب سامنے آنے والی تفصیلات نے اس فیصلے کی وہ اندرونی تصویر واضح کر دی ہے جو عام صارف سے چھپائی گئی تھی۔
دستیاب مالیاتی معلومات کے مطابق 18 اپریل کے بعد ایک ہفتے کے اندر ہائی اسپیڈ ڈیزل کی ایکس ریفائنری قیمت میں 3 روپے 44 پیسے فی لیٹر کمی ہوئی جبکہ اسی عرصے میں پیٹرول کی ایکس ریفائنری قیمت 3 روپے 14 پیسے فی لیٹر نیچے آئی۔ اس کا سیدھا مطلب یہ تھا کہ اگر قیمتوں کا تعین صرف درآمدی لاگت اور ریفائنری حساب کتاب کی بنیاد پر کیا جاتا تو عوام کو کم از کم استحکام یا جزوی ریلیف مل سکتا تھا۔ لیکن ایسا نہیں ہوا۔ حکومت نے قیمتوں میں کمی منتقل کرنے کے بجائے دونوں مصنوعات کو یکساں طور پر 26 روپے 77 پیسے فی لیٹر مہنگا کر دیا۔
تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ اس اضافے کی اصل بنیاد عالمی منڈی نہیں بلکہ حکومتی ریونیو پالیسی تھی۔ پیٹرول پر پیٹرولیم لیوی ٹیکس میں نمایاں اضافہ کیا گیا جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل پر ان لینڈ فریٹ ایکوالائزیشن مارجن یعنی اندرون ملک ترسیلی فرق کے نام پر اضافی بوجھ ڈال دیا گیا۔ یہ وہ تکنیکی اصطلاحات ہیں جنہیں عام آدمی شاید نہ سمجھ سکے لیکن ان کا سیدھا مطلب یہ ہے کہ حکومت نے ایک ہاتھ سے قیمتوں میں کمی کا امکان لیا اور دوسرے ہاتھ سے ٹیکس اور مارجن بڑھا کر وہ سارا ریلیف واپس کھینچ لیا۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر پیٹرولیم لیوی میں اضافہ نہ کیا جاتا اور آئی ایف ای ایم مارجن کو اوپر نہ لے جایا جاتا تو موجودہ قیمتوں میں اس قدر بڑا اضافہ ممکن ہی نہیں تھا۔ یعنی جس چیز کو عالمی حالات کا تقاضا ظاہر کیا گیا، حقیقت میں وہ حکومتی خزانہ بھرنے کی ایک منظم کوشش تھی۔ آئی ایم ایف کی شرائط، ریونیو اہداف اور مالیاتی دباؤ کے تحت پیٹرولیم مصنوعات کو ایک بار پھر سب سے آسان شکار بنایا گیا کیونکہ حکومت جانتی ہے کہ ایندھن وہ شے ہے جسے عوام چاہ کر بھی استعمال سے باہر نہیں نکال سکتے۔
اس فیصلے کے اثرات صرف پمپ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ آنے والے دنوں میں مہنگائی کے ہر شعبے میں اس کی بازگشت سنائی دے گی۔ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت بڑھنے سے مال بردار ٹرکوں کے کرائے بڑھیں گے، سبزی، آٹا، دال، چینی اور روزمرہ استعمال کی ہر شے کی ترسیل مہنگی ہوگی۔ زرعی شعبہ پہلے ہی مہنگی کھاد، بجلی اور پانی کے بحران سے دوچار ہے، اب ٹریکٹر، ٹیوب ویل اور فصلوں کی نقل و حمل پر اضافی ڈیزل خرچ کسان کی کمر مزید توڑ دے گا۔ پیٹرول مہنگا ہونے سے موٹر سائیکل اور چھوٹی گاڑی استعمال کرنے والا متوسط طبقہ براہ راست متاثر ہوگا جس کی ماہانہ آمدورفت لاگت میں واضح اضافہ ہو جائے گا۔
شہری حلقوں میں اس فیصلے پر غم و غصہ پایا جا رہا ہے کیونکہ عوام کے ذہن میں سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ جب بین الاقوامی مارکیٹ میں کمی کا فائدہ حکومت کو ملتا ہے تو وہ قومی خزانے میں جذب ہو جاتا ہے، مگر جب عالمی قیمتیں بڑھتی ہیں تو پورا بوجھ فوراً عوام پر ڈال دیا جاتا ہے۔ اس دوہرے معیار نے ایندھن کی قیمتوں کے تعین کے نظام کو ایک ایسے بند کمرے میں بدل دیا ہے جہاں فیصلے تو عوام کے نام پر ہوتے ہیں لیکن فائدہ صرف ریونیو شیٹ کو پہنچتا ہے۔
پیٹرولیم سیکٹر کے بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت نے اس بار قیمت بڑھانے کیلئے ایک ایسی خاموش حکمت عملی اپنائی جس میں بنیادی لاگت کم ہونے کی حقیقت کو پس منظر میں رکھا گیا اور توجہ صرف حتمی ریٹ پر مرکوز رکھی گئی تاکہ عوام اصل وجہ تک نہ پہنچ سکیں۔ مگر اندرونی اعداد و شمار نے یہ پردہ چاک کر دیا ہے کہ قیمتوں میں حالیہ اضافہ مارکیٹ کی مجبوری نہیں بلکہ پالیسی کی پیداوار ہے۔
یوں صاف دکھائی دیتا ہے کہ پیٹرول سستا ہو سکتا تھا، ڈیزل میں استحکام آ سکتا تھا، مگر حکومت نے ریلیف دینے کے بجائے ٹیکسوں کا بٹن دبا دیا۔ نتیجہ یہ ہے کہ کروڑوں پاکستانی ایک بار پھر اسی سوال کے ساتھ کھڑے ہیں کہ آخر کب تک قومی مالیاتی کمزوریوں کا علاج صرف عوام کی جیب سے نکالا جاتا رہے گا۔




