واشنگٹن ( دی خیبر ٹائمز مانیٹرنگ ڈیسک) امریکا کے دارالحکومت واشنگٹن میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی موجودگی میں وائٹ ہاؤس کے میڈیا نمائندوں کے اعزاز میں منعقدہ عشائیے کے دوران فائرنگ کا سنسنی خیز واقعہ پیش آیا، جس کے نتیجے میں تقریب میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا، تاہم صدر ٹرمپ محفوظ رہے جبکہ حملہ آور کو فوری کارروائی کرتے ہوئے گرفتار کر لیا گیا۔
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ تقریب واشنگٹن کے معروف ہلٹن ہوٹل میں جاری تھی جہاں وائٹ ہاؤس کی کوریج کرنے والے صحافیوں، میڈیا نمائندوں، حکومتی شخصیات اور اعلیٰ سیکیورٹی حکام کی بڑی تعداد موجود تھی۔ عشائیے کا باقاعدہ آغاز ہی ہوا تھا کہ اچانک ہال میں ایک زور دار آواز گونجی جسے ابتدائی طور پر کچھ شرکا نے دھماکہ یا شیشے ٹوٹنے کی آواز سمجھا، لیکن چند لمحوں بعد معلوم ہوا کہ یہ فائرنگ کی آواز تھی۔
رپورٹس کے مطابق واقعے سے چند سیکنڈ قبل صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایک سیکورٹی پرچی دکھائی گئی، اسی نوعیت کی پرچی وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولائن لیویٹ کو بھی دی گئی تھی۔ پرچی ملتے ہی صدر ٹرمپ کے چہرے کے تاثرات بدل گئے جبکہ ان کے قریب بیٹھی ایک خاتون کو بھی واضح طور پر حیرت اور پریشانی میں دیکھا گیا۔ اس کے فوراً بعد سیکریٹ سروس کے اہلکار حرکت میں آئے اور پورے بال روم میں ایمرجنسی ردعمل شروع ہوگیا۔
عینی شاہدین کے مطابق اچانک فائرنگ جیسی آواز سنائی دینے پر تقریب میں موجود متعدد مہمان چیخ اٹھے اور کئی افراد اپنی میزوں کے نیچے چھپ گئے۔ کچھ صحافیوں نے موبائل فونز بند کر کے زمین پر لیٹنے کو ترجیح دی جبکہ سیکریٹ سروس کے مسلح اہلکاروں نے چند ہی لمحوں میں صدر ٹرمپ کو حصار میں لے کر ہال سے باہر منتقل کر دیا۔ اسی دوران کئی اہلکاروں نے اسلحہ تان کر داخلی راستوں کو گھیر لیا اور مشتبہ شخص کی تلاش شروع کردی۔
امریکی میڈیا کا کہنا ہے کہ حملہ آور مرکزی دروازے کے قریب نصب میگنیٹو میٹر کی جانب تیزی سے بڑھا اور اسی دوران اس نے بال روم کے قریب موجود ایک سیکریٹ سروس اہلکار کو گولی مارنے کی کوشش کی۔ اطلاعات کے مطابق سیکیورٹی اہلکار جوابی کارروائی کے لئے فوراً متحرک ہوئے اور حملہ آور کو قابو میں کر لیا گیا۔ ابتدائی اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ ایک اہلکار زخمی ہوا ہے، تاہم اس کی حالت سے متعلق فوری طور پر تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔
واقعے کے بعد پورے ہوٹل کو سیکیورٹی حصار میں لے لیا گیا اور بم ڈسپوزل، فرانزک اور وفاقی تفتیشی ٹیموں کو طلب کر لیا گیا۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا حملہ آور نے اکیلے کارروائی کی یا اس کے پیچھے کسی منظم گروہ یا سیاسی محرک کا ہاتھ تھا۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق ابتدائی تفتیش میں حملہ آور کے پس منظر، اس کی ہوٹل تک رسائی اور اسلحہ اندر لانے کے طریقہ کار پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے، کیونکہ تقریب میں صدر کی موجودگی کے باعث سیکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کئے گئے تھے۔
یہ واقعہ اس لحاظ سے بھی غیر معمولی قرار دیا جا رہا ہے کہ وائٹ ہاؤس میڈیا نمائندوں کے اعزاز میں ہونے والا یہ عشائیہ امریکی سیاسی اور صحافتی حلقوں کا ایک اہم سالانہ اجتماع سمجھا جاتا ہے، جہاں صدور عموماً صحافیوں سے غیر رسمی انداز میں ملاقات کرتے ہیں۔ ایسے حساس موقع پر فائرنگ نے امریکی سیکیورٹی سسٹم پر کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
فائرنگ کے واقعے کے کچھ دیر بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر اپنا ردعمل جاری کرتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن ڈی سی میں یہ ایک غیر معمولی شام تھی، سیکریٹ سروس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے شاندار اور بہادرانہ کام کیا، انہوں نے چند لمحوں میں صورتحال کو قابو میں لیا۔
صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ حملہ آور کو حراست میں لے لیا گیا ہے اور انہوں نے سفارش کی تھی کہ شو جاری رہنے دیا جائے، تاہم تمام فیصلے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مکمل ہدایات کے مطابق کئے جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی عوام کو یہ جان کر اطمینان ہونا چاہئے کہ سیکیورٹی ادارے ہر خطرے سے نمٹنے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔
سیاسی مبصرین کے مطابق یہ واقعہ نہ صرف امریکی صدارتی سیکیورٹی کے حوالے سے تشویش کا باعث ہے بلکہ یہ آئندہ صدارتی انتخابی ماحول میں بھی ایک نئی بحث چھیڑ سکتا ہے، کیونکہ ڈونلڈ ٹرمپ پہلے ہی کئی متنازع سیکیورٹی خدشات اور سیاسی کشیدگی کے بیچ انتخابی مہم چلا رہے ہیں۔ واشنگٹن میں پیش آنے والی اس فائرنگ نے ایک بار پھر امریکی داخلی سلامتی کے نظام کو عالمی توجہ کا مرکز بنا دیا ہے۔




