الحمد اللہ ثم الحمد للہ
تحریر: احسان داوڑ
تاریخ: 15 اپریل 2026
کبھی کبھی زندگی ایسے لمحے عطا کرتی ہے جو محض وقت کا حصہ نہیں ہوتے، بلکہ تاریخ کے اوراق پر نقش ہو جاتے ہیں۔ ایسا ہی ایک لمحہ آج سرگودھا یونیورسٹی کے ملٹی پرپز ہال میں رقم ہوا، ایک ایسا منظر جس میں فخر، خوشی، محنت اور دعا سب یکجا ہو گئے تھے۔
ہال طلبہ، پروفیسرز اور معزز مہمانوں سے بھرا ہوا تھا۔ اسٹیج پر ایک پُراعتماد نوجوان کھڑا تھا، شمالی وزیرستان کا بیٹا، ناصر اسد داوڑ۔۔۔ جو اپنے پی ایچ ڈی مقالے کا دفاع کر رہا تھا۔ سوال و جواب کا سلسلہ جاری تھا، اور فیصل آباد کے گورنمنٹ کالج و ایجوکیشن یونیورسٹی سے آئے ہوئے بیرونی ممتحن اپنے بھرپور علمی سوالات کے ساتھ اس نوجوان کی صلاحیتوں کو پرکھ رہے تھے۔
لیکن یہ کوئی عام نوجوان نہیں تھا۔ یہ وزیرستان کی مٹی سے اٹھنے والا وہ سپوت تھا جو چٹان کی مانند ڈٹا رہا۔ اس کے لہجے میں اعتماد، اس کی گفتگو میں علم، اور اس کے انداز میں ایک دہائی کی محنت جھلک رہی تھی۔ ہر سوال کا جواب گویا اس کے عزم کی گواہی دے رہا تھا۔
ہال میں وقفے وقفے سے گونجتی تالیاں صرف کامیابی کی آواز نہیں تھیں، بلکہ اس خطے کی امیدوں کی بازگشت تھیں۔
پہلی صف میں بیٹھا میں ایک چچا، ایک گواہ، ایک فخر سے لبریز انسان اپنے جذبات کو سمیٹنے میں ناکام تھا۔ سینہ فخر سے بھر رہا تھا، آنکھیں بار بار نم ہو رہی تھیں۔ یہ آنسو صرف خوشی کے نہ تھے، یہ شکر، محبت اور ایک طویل سفر کی تکمیل کے آنسو تھے۔
اور پھر وہ لمحہ آیا۔۔۔۔ جب اعلان ہوا کہ ناصر اسد داوڑ نے یہ سنگ میل عبور کر لیا ہے۔ شاید وہ شمالی وزیرستان کا کم عمر ترین پی ایچ ڈی ڈاکٹر بن چکا تھا۔
لیکن کہانی یہیں ختم نہیں ہوتی۔
اس کے اساتذہ نے ایک اور حیران کن حقیقت بیان کی:
سرگودھا یونیورسٹی کی تاریخ میں پہلی بار کسی پی ایچ ڈی اسکالر نے اپنے مقالے کے دفاع سے پہلے تقریباً 60 تحقیقی مقالے شائع کئے، جن کے 750 سے زائد سائیٹیشنز، 12 ایچ انڈکس اور 14 آئی-10 انڈکس ہیں۔
یہ صرف ایک کامیابی نہیں، ایک ریکارڈ ہے،،، ایک مثال ہے۔۔۔ ایک اعلان ہے کہ اگر ارادہ مضبوط ہو تو جغرافیہ رکاوٹ نہیں بنتا۔
ہال تالیوں سے گونج اٹھا۔ مبارکبادوں کا سلسلہ جاری تھا۔
اور میں۔۔۔ میں بس اپنے رب کا شکر ادا کر رہا تھا:
یا اللہ! تیرا لاکھ لاکھ شکر، یہ سب تیری ہی عطا ہے۔
میرے پیارے بیٹے، ڈاکٹر ناصر اسد داوڑ تم نے صرف ایک ڈگری حاصل نہیں کی، تم نے تاریخ رقم کی ہے۔ تم نے ثابت کر دیا کہ مشکلات، محرومیاں اور رکاوٹیں اُس وقت بے معنی ہو جاتی ہیں جب انسان کے اندر یقین، محنت اور استقامت زندہ ہو۔
یہ کامیابی صرف ایک فرد کی نہیں، یہ وزیرستان کے ہر اُس نوجوان کی امید ہے جو حالات سے لڑ رہا ہے۔ یہ پیغام ہے کہ:
تعلیم کا دامن کبھی نہ چھوڑو، کیونکہ یہی وہ روشنی ہے جو اندھیروں کو شکست دیتی ہے۔
آج ناصر کی کامیابی ہمیں یہ یقین دلاتی ہے کہ ہمارے علاقے کے نوجوان بھی دنیا کے کسی بھی میدان میں اپنی جگہ بنا سکتے ہیں، اگر انہیں موقع، حوصلہ اور سمت مل جائے۔
اللہ تعالیٰ ہم سب پر اپنا کرم فرمائے،
ہماری نوجوان نسل کو علم، شعور اور کامیابی کے راستے پر گامزن رکھے۔
آمین ثم امین۔
�����( اصل تحریر: احسان داوڑ | ادبی ترتیب: دی خیبر ٹائمز )




