شمالی وزیرستان( دی خیبرٹائمز ڈسٹرکٹ ڈیسک ) شمالی وزیرستان کے ڈسٹرکٹ پریس کلب میرانشاہ میں شمالی وزیرستان کے مقامی ٹھیکیداروں نے ترقیاتی فنڈز کی بندش اور کروڑوں روپے کے بقایا جات کی عدم ادائیگی کے خلاف پریس کانفرنس کرتے ہوئے شدید غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔ ٹھیکیداروں نے حکومت کو الٹی میٹم دیتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ اگر ان کے مطالبات پورے نہ ہوئے تو شاہراہیں بند کر کے احتجاج کا دائرہ کار صوبائی سطح تک پھیلا دیا جائے گا۔
اہم مطالبات
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ٹھیکیداروں کے نمائندوں نے حکومت اور متعلقہ حکام کے سامنے دو بنیادی مطالبات رکھے:
1. شمالی وزیرستان میں ترقیاتی کاموں پر 29 جون 2023 سے عائد نام نہاد پابندی فوری طور پر ختم کی جائے۔
2. ٹھیکیداروں کے بقول انہوں نے ماضی میں کئی اہم منصوبے مکمل کر لئے ہیں، جن کے کروڑوں روپے کے واجبات تاحال ادا نہیں کئے گئے۔ ان فنڈز کو فی الفور ریلیز کیا جائے۔
ٹھیکیداروں نے اپنی پریشان کن صورتحال بیان کرتے ہوئے کہا ، کہ ان کے بقایا جات کی عدم ادائیگی کی وجہ سے ہم دکانداروں اور مزدوروں کے مقروض ہو چکے ہیں۔ قرض خواہوں کے دباؤ کے باعث کئی ٹھیکیدار اپنے گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہیں، جبکہ معاشی تنگی اور ذہنی دباؤ اس حد تک بڑھ چکا ہے کہ کچھ ساتھی خودکشی جیسے انتہائی اقدامات کے بارے میں سوچ رہے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ مشکل ترین حالات میں کام مکمل کرنے کے باوجود آج ہمیں اپنے ہی پیسوں کے لئے دربدر کیا جا رہا ہے اور ہمارے گھروں میں نوبت فاقوں تک پہنچ چکی ہے۔
ٹھیکیداروں نے پریس کانفرنس کے بعد میرانشاہ پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ ٹھیکیداروں نے واضح کیا کہ اگر ان کے جائز مطالبات فوری طور پر تسلیم نہ کئے گئے تو تمام اہم شاہراہیں بند کر دی جائیں گی، جس کی تمام تر ذمہ داری مقامی انتظامیہ اور متعلقہ حکام پر ہوگی۔




