25 July, 2026
اہم خبریں
  • 101 ویں پوزیشن پر آمد کے باوجود گرین پاسپورٹ کی زبوں حالی برقرار، یمن، صومالیہ اور نیپال بھی پاکستان سے آگے
  • موبائل صارفین پر ٹیکسوں کی برسات: 100 روپے کے ریچارج پر صرف 72.77 روپے کا بیلنس دستیاب
  • مشرقِ وسطیٰ میں بڑا ٹکراؤ: سرحدی حملے، تہران سے انخلاء اور اسرائیل میں الرٹ
  • پرچہ لیک اسکینڈل: بھارتی نوجوانوں کا مودی سرکار کے خلاف اعلانِ جنگ
  • کابل حملہ، ایمنسٹی رپورٹ اور حقیقت کا دوسرا رخ: کیا دنیا افغان سرزمین کے خطرات سے آنکھیں چرائے گی؟
  • Home
  • اہم خبریں
  • پاکستان
    • دینی مسائل
    • اہم خبریں
    • مذہب
    • تصاویر اور مناظر
    • سیر و تفریح
    • دلچسپ و عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
    • صحت
  • افغانستان
  • علاقائی
  • کالمز
  • انٹرنیشنل
  • کاروبار
  • کھیل
  • شوبز
  • کاپی رائٹس
    • پرائیویسی پالیسی
    • قوائد و ضوابت
    • ہمارے بارے میں
  • Home
  • اہم خبریں
  • پاکستان
    • دینی مسائل
    • اہم خبریں
    • مذہب
    • تصاویر اور مناظر
    • سیر و تفریح
    • دلچسپ و عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
    • صحت
  • افغانستان
  • علاقائی
  • کالمز
  • انٹرنیشنل
  • کاروبار
  • کھیل
  • شوبز
  • کاپی رائٹس
    • پرائیویسی پالیسی
    • قوائد و ضوابت
    • ہمارے بارے میں

ہمارا یوٹیوب چینل

ہمارا فیس بک پیج

The Khyber Times

خصوصی فیچرز

پشتون تحفظ مؤومنٹ کے اہم رہنما شہاب خٹک کے بھائی ڈاکٹر نعیم الدین خٹک کو نامعلوم افراد نے پشاور کے بھرے بازار میں گولی مارکر شہید کردیا
شمالی وزیرستان کو کس کی نظر لگ گئی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ احسان داوڑ
کیا لڑانے والے کامیاب نہیں ہوئے ؟؟؟ خصوصی تحریر: رسول داوڑ
شمالی وزیرستان ،رمضان المبارک کا چاندنظرآگیا
"A powerful senior official in a professional office setting receiving a document from a young woman in a black abaya and niqab during a formal administrative meeting."
تعلیم کے ایوانوں میں خاموش ظلم: خصوصی تحریر: رفعت انجم

حیرت انگیز

A green Pakistani passport bound with chains on a desk next to a globe, featuring a infographic graphic showing Pakistan's ranking at 101 out of 199 in the Henley Passport Index 2026.
101 ویں پوزیشن پر آمد کے باوجود گرین پاسپورٹ کی زبوں حالی برقرار، یمن، صومالیہ اور نیپال بھی پاکستان سے آگے
Pakistan mobile recharge tax breakdown showing PKR 72.77 remaining balance on PKR 100 load.
موبائل صارفین پر ٹیکسوں کی برسات: 100 روپے کے ریچارج پر صرف 72.77 روپے کا بیلنس دستیاب
A split-screen news graphic showing an evacuation convoy leaving Tehran at night on the left, and civilians walking past an Israeli bomb shelter entrance on the right.
مشرقِ وسطیٰ میں بڑا ٹکراؤ: سرحدی حملے، تہران سے انخلاء اور اسرائیل میں الرٹ
Gautam Singh speaking into a DDN Bharat microphone during a Cockroach Janata Party student protest against exam paper leaks in India.
پرچہ لیک اسکینڈل: بھارتی نوجوانوں کا مودی سرکار کے خلاف اعلانِ جنگ
Rubble and debris at the site of an airstrike in Kabul following attacks on the Omid Rehabilitation Centre amid Pak-Afghan border tensions.
کابل حملہ، ایمنسٹی رپورٹ اور حقیقت کا دوسرا رخ: کیا دنیا افغان سرزمین کے خطرات سے آنکھیں چرائے گی؟
karachi-nadra-fake-cnic-arrest. اردو: کراچی میں افغان شہریوں کو جعلی شناختی کارڈز جاری کرنے کے الزام میں نادرا افسران کی گرفتاری
افغان شہریوں کو جعلی شناختی کارڈز جاری کرنے کا انکشاف، نادرا افسران سمیت 4 افراد گرفتار

زیادہ پڑھی گئی

پشتون تحفظ مؤومنٹ کے اہم رہنما شہاب خٹک کے بھائی ڈاکٹر نعیم الدین خٹک کو نامعلوم افراد نے پشاور کے بھرے بازار میں گولی مارکر شہید کردیا
شمالی وزیرستان کو کس کی نظر لگ گئی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ احسان داوڑ
کیا لڑانے والے کامیاب نہیں ہوئے ؟؟؟ خصوصی تحریر: رسول داوڑ
شمالی وزیرستان ،رمضان المبارک کا چاندنظرآگیا
"A powerful senior official in a professional office setting receiving a document from a young woman in a black abaya and niqab during a formal administrative meeting."
تعلیم کے ایوانوں میں خاموش ظلم: خصوصی تحریر: رفعت انجم
پشاورکوروناکےنشانےپرکیوں؟؟؟ تحریر: فدا عدیل
شمالی وزیرستان کا بدلتا منظرنامہ؛ تحریر: ناصر داوڑ ملک سیف اللہ خان کے قتل نے کیا شدت پسندوں اور قبائل کے درمیان ایک نئے تصادم کی بنیاد رکھ دی ہے؟ تحریر: ناصر داوڑ شمالی وزیرستان کی فضا ایک بار پھر بارود کی بو سے بھری ہوئی ہے، مگر اس بار اس دھوئیں میں صرف ایک قتل کی تلخی نہیں، بلکہ ایک ممکنہ بڑی تبدیلی کے آثار بھی چھپے ہوئے ہیں۔ درپہ خیل سے تعلق رکھنے والے معروف قبائلی رہنما ملک سیف اللہ خان داوڑ کے قتل نے بظاہر ایک اور خونچکاں واقعے کی صورت اختیار کی، لیکن اس کے فوراً بعد سامنے آنے والا قبائلی ردعمل اس بات کا اشارہ دے رہا ہے کہ وزیرستان میں طاقت کا وہ غیر مرئی توازن، جو برسوں سے بندوق بردار گروہوں کے حق میں جھکا ہوا تھا، اب شاید پہلی بار اندر سے ہلنا شروع ہو گیا ہے۔ گزشتہ دو دہائیوں کے دوران شمالی وزیرستان مسلسل ایسی قوتوں کے درمیان پھنسا رہا ہے جن میں ایک طرف ریاستی ادارے تھے اور دوسری طرف مختلف ناموں، دھڑوں اور بیانیوں کے ساتھ موجود شدت پسند تنظیمیں۔ اس طویل کشمکش میں سب سے زیادہ قیمت مقامی آبادی نے ادا کی۔ ان کے گھر اجڑے، بازار سنسان ہوئے، کاروبار تباہ ہوئے، خاندان بے گھر ہوئے اور سینکڑوں نہیں ہزاروں لوگ خاموش قبروں میں اتر گئے۔ لیکن اس سارے عرصے میں ایک بات نمایاں رہی: عام قبائل خوف، مجبوری، مصلحت یا کسی حد تک سماجی پیچیدگیوں کے باعث براہِ راست اس جنگ کا منظم فریق نہ بن سکے۔ یوں شمالی وزیرستان میں ایک غیر اعلانیہ سماجی معاہدہ وجود میں آ گیا تھا، ریاست کی موجودگی محدود، شدت پسندوں کی نقل و حرکت آزاد، اور عوام کی خاموشی کو بقا کی قیمت کے طور پر قبول کر لیا گیا۔ ملک سیف اللہ خان کا قتل اسی معاہدے پر پہلی کھلی ضرب محسوس ہوتا ہے۔ وزیرستان میں کسی شخصیت کا قتل نئی خبر نہیں۔ یہاں خون کی سرخیاں اکثر اگلے دن کسی نئے سانحے کے نیچے دب جاتی ہیں۔ مگر بعض اموات محض عدد نہیں ہوتیں، وہ پورے معاشرے کے اعصاب کو چھو لیتی ہیں۔ ملک سیف اللہ خان انہی شخصیات میں شمار ہوتے تھے جن کی حیثیت صرف ایک فرد یا خاندان کے سربراہ کی نہیں بلکہ مقامی سماجی تانے بانے میں ایک بااثر قبائلی ستون کی تھی۔ جب انہیں مقامی و افغانی شدت پسندوں نے نشانہ بنایا تو ابتدائی طور پر یہ بھی ایک اور ٹارگٹ کلنگ محسوس ہوئی۔ مگر چند گھنٹوں کے اندر درپہ خیل قبیلے کی جانب سے روایتی چیغہ، مساجد سے اعلانات، گھروں سے اسلحہ اٹھا کر نکلتے نوجوان، اور قاتلوں کے تعاقب میں قبائلی پیش قدمی نے واضح کر دیا کہ یہ معاملہ صرف جنازے تک محدود نہیں رہے گا۔ وزیرستان کے قبائلی معاشرے میں ایسے مواقع صرف غم پیدا نہیں کرتے، بلکہ اجتماعی وقار کے دفاع کا سوال بن جاتے ہیں۔ جب ایک قبیلہ یہ محسوس کرے کہ اس کے بااثر فرد کو بے خوفی سے قتل کیا گیا ہے اور قاتل بدستور محفوظ ہیں، تو یہ احساس صرف دکھ نہیں بلکہ کمزوری کے تاثر کو بھی جنم دیتا ہے۔ قبائلی سماج میں کمزور دکھائی دینا کبھی محض نفسیاتی مسئلہ نہیں ہوتا، یہ مستقبل کی مزید یلغاروں کی دعوت بن جاتا ہے۔ اسی لئے درپہ خیل نے ردعمل دیا، اور غیر معمولی شدت کے ساتھ دیا۔ یہ ردعمل اس لحاظ سے اہم ہے کہ شمالی وزیرستان میں برسوں سے مسلح تنظیموں کی کارروائیوں کے بعد مقامی آبادی عمومی طور پر خوفزدہ خاموشی اختیار کرتی رہی ہے۔ جنازے اٹھتے تھے، تعزیتیں ہوتیں، چند روز بعد زندگی پھر اسی بے یقینی میں داخل ہو جاتی تھی۔ اس بار مگر جنازے کے ساتھ بندوق بھی اٹھی، اور سوگ کے ساتھ تعاقب بھی۔ یہ تبدیلی محض جذباتی نہیں؛ اس کے پیچھے ایک طویل اجتماعی تھکن کارفرما دکھائی دیتی ہے۔ جب کسی معاشرے کو مسلسل غیر محفوظ رکھا جائے، جب ریاست تحفظ نہ دے سکے، جب مقامی ثالثی قاتلوں کو بچا لینے کی روایت بن جائے، اور جب ہر نیا قتل پچھلے زخموں کو تازہ کرے، تو پھر ایک وقت ایسا آتا ہے جب خاموشی اپنی افادیت کھو دیتی ہے۔ شمالی وزیرستان شاید اسی نفسیاتی موڑ پر پہنچتا دکھائی دے رہا ہے۔ یہ سمجھنا ضروری ہے کہ کسی بھی مسلح تنظیم کی طاقت صرف بندوق میں نہیں ہوتی۔ اس کی اصل طاقت اس مقامی ماحول میں پوشیدہ ہوتی ہے جو اسے یا تو برداشت کرتا ہے، یا خوف سے خاموش رہتا ہے، یا کم از کم اس کے خلاف متحد نہیں ہوتا۔ غیر ریاستی قوتیں اسی سماجی خلاء میں سانس لیتی ہیں۔ لیکن جب مقامی سماج خود کو براہِ راست خطرے میں محسوس کرنے لگے تو یہی خاموش ماحول مزاحم فضا میں تبدیل ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ درپہ خیل قبیلہ محض ایک آبادی نہیں بلکہ شمالی وزیرستان کے اہم جغرافیائی راستوں میں واقع ایک بااثر قبائلی اکائی ہے۔ میرانشاہ سے دتہ خیل اور میرعلی کی جانب جانے والی آمد و رفت، مقامی رسائی، زمینی روابط اور غیر رسمی نقل و حرکت میں اس علاقے کی اہمیت غیر معمولی ہے۔ اگر ایسے علاقے کے لوگ مستقل دشمنی کے احساس میں داخل ہو جائیں تو مسلح گروہوں کیلئے محفوظ گزرگاہیں رفتہ رفتہ غیر محفوظ ہو جاتی ہیں۔ یہی وہ نکتہ ہے جہاں ایک انفرادی قتل، اسٹریٹیجک بحران میں بدل سکتا ہے۔ اس تمام ہنگامے کے دوران سب سے نمایاں چیز ریاست کی خاموشی رہی۔ جب ایک طرف مسلح شدت پسند سڑکوں پر ناکہ بندیاں قائم کر رہے تھے، درپہ خیل سے تعلق رکھنے والے افراد کو یرغمال بنا رہے تھے، اور دوسری طرف قبائلی تعاقب جاری تھا، سرکاری مشینری کی عدم فعالیت نے یہ سوال مزید گہرا کر دیا کہ آیا شمالی وزیرستان میں ریاست واقعی واحد مقتدر قوت ہے بھی یا نہیں؟ ریاست کا خلا ہمیشہ صرف انتظامی کمزوری نہیں ہوتا، یہ طاقت کے متبادل مراکز کو جواز دیتا ہے۔ جب عوام دیکھتے ہیں کہ ان کی جان و مال کے تحفظ کا کوئی مؤثر ادارہ موجود نہیں، تو وہ انصاف اور دفاع دونوں کیلئے اپنی روایتی بندوق کی طرف لوٹتے ہیں۔ یہی صورتحال کسی خطے کو منظم قانون سے نکال کر غیر منظم طاقت کے دائرے میں دھکیل دیتی ہے۔ ذرائع کے مطابق جب درپہ خیل قبائل نے شدت پسند عناصر کو محاصرے میں لے لیا تھا اور تصادم فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو رہا تھا، اسی دوران بعض مقامی مشران اور مذہبی شخصیات نے مداخلت کر کے سیز فائر کرایا اور محصور افراد کو نکلنے کا راستہ ملا، یا دیا گیا۔ بظاہر یہ اقدام مزید خونریزی روکنے کیلئے تھا، مگر ایسے ہر سیز فائر کے ساتھ ایک خطرہ جڑا ہوتا ہے، مسئلہ ختم نہیں ہوتا، صرف مؤخر ہوتا ہے۔ قاتل بچ جائیں تو مقتول کے ورثا کے دل میں انصاف نہیں بلکہ ادھورا حساب باقی رہتا ہے۔ یہی ادھورا حساب بعد میں زیادہ تلخ دشمنی بن کر ابھرتا ہے۔ شمالی وزیرستان کی موجودہ صورتحال کو محض ایک مقامی جھڑپ سمجھ لینا شاید حقیقت سے آنکھیں چرانے کے مترادف ہوگا۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا شدت پسند تنظیموں کی بندوق کا رخ اب ریاست سے زیادہ مقامی سماج کی طرف مڑ رہا ہے؟ اور اگر ہاں، تو کیا مقامی سماج اس کے جواب میں منظم مزاحمت کی طرف بڑھے گا؟ تاریخ بتاتی ہے کہ وزیرستان میں بیرونی قوتوں، ریاستی لشکروں اور مسلح تحریکوں نے ہمیشہ اس وقت مشکلات کا سامنا کیا جب مقامی قبائل نے اجتماعی طور پر اپنے مفاد اور بقا کے سوال پر صف بندی کی۔ ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ درپہ خیل کا ردعمل ایک ہمہ گیر قبائلی بیداری کا نقطۂ آغاز ہے، مگر یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ یہ واقعہ اس خاموش لاوے کی پہلی دراڑ ہے جو برسوں سے وزیرستان کے نیچے پک رہا تھا۔ کل تک یہی زمین شدت پسندوں کیلئے محفوظ پناہ گاہ، خاموش راہداری اور نفسیاتی برتری کی علامت تھی۔ اگر مقامی قبائل کے صبر کا بند اسی طرح ٹوٹنا شروع ہو گیا تو یہی زمین ان کیلئے سب سے دشوار میدان بھی بن سکتی ہے۔ اور شاید شمالی وزیرستان اب اسی امتحان کے دہانے پر کھڑا ہے۔

شمالی وزیرستان کا بدلتا منظرنامہ؛ تحریر: ناصر داوڑ

مئی 2, 2026May 2, 2026

ملک سیف اللہ خان کے قتل نے کیا شدت پسندوں اور قبائل کے درمیان ایک نئے تصادم کی بنیاد رکھ دی ہے؟ تحریر: ناصر داوڑ شمالی وزیرستان کی فضا ایک بار پھر بارود کی بو سے بھری ہوئی ہے، مگر مزید پڑھیں

Copyright © 2019-2026, THE KHYBER TIMES All Rights Reserved | Powered by Kifayatullah MOMAND