06 May, 2026
اہم خبریں
  • پاک افغان سرحد پر بڑی پیش رفت: باجوڑ اور کنڑ کے قبائلی عمائدین کے درمیان تاریخی امن معاہدہ طے
  • شرم آنی چاہئے، جو خان کی رہائی کیلئے نہیں آ سکتے عہدے چھوڑ دیں: علیمہ خان
  • خیبر پختونخوا میں علما کی ٹارگٹ کلنگ اور داعش کا بڑھتا ہوا خطرہ
  • بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی درخواست ‘فضول’ قرار، وکیل کو جرمانہ
  • کراچی: این ڈی ایم سندھ کی قیادت کی گرفتاری، محسن داوڑ کا شدید ردعمل اور فوری رہائی کا مطالبہ
  • Home
  • اہم خبریں
  • پاکستان
    • دینی مسائل
    • اہم خبریں
    • مذہب
    • تصاویر اور مناظر
    • سیر و تفریح
    • دلچسپ و عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
    • صحت
  • افغانستان
  • علاقائی
  • کالمز
  • انٹرنیشنل
  • کاروبار
  • کھیل
  • شوبز
  • کاپی رائٹس
    • پرائیویسی پالیسی
    • قوائد و ضوابت
    • ہمارے بارے میں
  • Home
  • اہم خبریں
  • پاکستان
    • دینی مسائل
    • اہم خبریں
    • مذہب
    • تصاویر اور مناظر
    • سیر و تفریح
    • دلچسپ و عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
    • صحت
  • افغانستان
  • علاقائی
  • کالمز
  • انٹرنیشنل
  • کاروبار
  • کھیل
  • شوبز
  • کاپی رائٹس
    • پرائیویسی پالیسی
    • قوائد و ضوابت
    • ہمارے بارے میں

ہمارا یوٹیوب چینل

ہمارا فیس بک پیج

The Khyber Times

خصوصی فیچرز

پشتون تحفظ مؤومنٹ کے اہم رہنما شہاب خٹک کے بھائی ڈاکٹر نعیم الدین خٹک کو نامعلوم افراد نے پشاور کے بھرے بازار میں گولی مارکر شہید کردیا
شمالی وزیرستان کو کس کی نظر لگ گئی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ احسان داوڑ
کیا لڑانے والے کامیاب نہیں ہوئے ؟؟؟ خصوصی تحریر: رسول داوڑ
شمالی وزیرستان ،رمضان المبارک کا چاندنظرآگیا
بول کہ لب آزاد ہیں تیرے…. تحریر رفعت انجم

حیرت انگیز

پاک افغان سرحد پر بڑی پیش رفت: باجوڑ اور کنڑ کے قبائلی عمائدین کے درمیان تاریخی امن معاہدہ طے پشاور (دی خیبرٹائمز مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان اور افغانستان کے سرحدی علاقے میں کشیدگی کے خاتمے اور دیرپا امن کے قیام کیلئے ایک بڑی کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ ضلع باجوڑ اور افغانستان کے صوبہ کنڑ کے قبائلی عمائدین نے ایک تاریخی گرینڈ جرگے میں مکمل جنگ بندی اور مستقبل میں پائیدار تعاون کا اعلان کر دیا ہے۔ یہ اہم بیٹھک سرحدی مقام نوا پاس پر منعقد ہوئی، جو تاریخی اور تجارتی لحاظ سے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ اس جرگے میں دونوں اطراف کے تقریباً 30 بااثر قبائلی عمائدین نے شرکت کی اور باقاعدہ طور پر امن معاہدے کی دستاویز پر دستخط کئے۔ پاکستانی وفد کی قیادت باجوڑ سے تعلق رکھنے والے حاجی لالی شاہ (صدر باجوڑ چیمبر آف کامرس) نے کی، جبکہ افغان وفد کی سربراہی صوبہ کنڑ کے حاجی ظاہر گل نے کی۔ اس جرگے کو مہمند اور دیگر قریبی سرحدی علاقوں کے قبائل کی بھی بھرپور حمایت حاصل تھی، جو طویل عرصے سے سرحد پر ہونے والی کشیدگی اور فائرنگ کے واقعات سے براہِ راست متاثر ہو رہے تھے۔ تقریباً دو گھنٹے تک جاری رہنے والے اس دوستانہ جرگے میں ایک جامع امن فارمولے پر اتفاق کیا گیا، جس کے تحت سرحد کے دونوں جانب سے ہر قسم کی فائرنگ، گولہ باری اور دشمنی پر مبنی سرگرمیوں کو فوری طور پر بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ معاہدے کے مطابق، مستقبل میں کسی بھی ہنگامی صورتحال یا غلط فہمی کو دور کرنے کیلئے ایک مشترکہ رابطہ کمیٹی بھی تشکیل دی گئی ہے جو دونوں اطراف کے درمیان پل کا کردار ادا کرے گی۔ جرگے نے متفقہ طور پر اس بات پر زور دیا کہ امن کی بدولت نوا پاس اور دیگر روایتی تجارتی راستوں کو کھولا جانا چاہئے تاکہ مقامی معیشت کو سہارا مل سکے۔ دونوں اطراف کے عمائدین نے عزم کیا کہ وہ اپنی اپنی حدود میں امن کو نقصان پہنچانے والے عناصر کی حوصلہ شکنی کریں گے اور سرحدی پٹی پر آباد شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے گا۔ تجزیہ کار اس معاہدے کو اس لئے بھی انتہائی اہمیت کا حامل قرار دے رہے ہیں کیونکہ یہ کسی حکومتی سطح کے بجائے خالصتاً قبائلی روایات اور پختونولی کے تحت عوامی سطح پر کیا گیا ہے۔ 2007 سے سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر بند نوا پاس کے راستے کے حوالے سے یہ جرگہ ایک بڑا بریک تھرو ثابت ہو سکتا ہے۔ قبائلی عمائدین کا کہنا ہے کہ سرحد کے دونوں پار بسنے والے قبائل ایک ہی سماج کا حصہ ہیں اور وہ مزید خونریزی یا معاشی بدحالی کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ اس فیصلے سے نہ صرف باجوڑ اور کنڑ بلکہ پورے سرحدی بیلٹ میں امن کی نئی امید پیدا ہوئی ہے
پاک افغان سرحد پر بڑی پیش رفت: باجوڑ اور کنڑ کے قبائلی عمائدین کے درمیان تاریخی امن معاہدہ طے
شرم آنی چاہئے، جو خان کی رہائی کیلئے نہیں آ سکتے عہدے چھوڑ دیں: علیمہ خان بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کے موقع پر علیمہ خان کا پارٹی رہنماؤں پر سخت برہمی کا اظہار اسلام اباد (دی خیبرٹائمزمینٹرنگ ڈٰسک) بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان نے اڈیالہ جیل میں ملاقات کے دن پارٹی رہنماؤں اور ارکانِ اسمبلی کی عدم موجودگی پر سخت غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے انہیں مستعفی ہونے کا مشورہ دے دیا۔ اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے علیمہ خان کا لہجہ خاصا تلخ دکھائی دیا۔ انہوں نے پارٹی کے منتخب نمائندوں کی غیر حاضری پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ جو لوگ آج اسمبلیوں میں بانی پی ٹی آئی کے نام اور ان کے ووٹوں کی بدولت بیٹھے ہیں، کیا انہیں آج یہاں اڈیالہ جیل کے باہر موجود نہیں ہونا چاہیے تھا؟ انہوں نے اسے لمحہ فکریہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ جن کی پہچان عمران خان ہے، وہ ان سے اظہار یکجہتی کیلئے بھی نہیں پہنچے۔ اس موقع پر موجود پی ٹی آئی رہنما شاہد خٹک نے علیمہ خان کی ناراضگی کو کم کرنے کی کوشش کی اور وضاحت پیش کی کہ انہوں نے تمام متعلقہ فورمز پر پیغام پہنچا دیا تھا۔ شاہد خٹک کا کہنا تھا کہ میں نے آپ کا بیان اور ہدایات پارلیمانی گروپ اور خیبر پختونخوا کے ایم این ایز (MNAs) کے مخصوص گروپس میں شیئر کر دی تھیں۔ تمام ارکان کو تاکید کی گئی تھی کہ وہ اڈیالہ جیل پہنچیں۔ انہوں نے مزید یقین دہانی کرائی کہ اگلے ہفتے وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا اور صوبے کے تمام ارکانِ اسمبلی یہاں جیل کے باہر موجود ہوں گے۔ علیمہ خان شاہد خٹک کی وضاحتوں سے مطمئن نظر نہ آئیں اور انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ جو لوگ مشکل وقت میں اپنے لیڈر کے ساتھ کھڑے نہیں ہو سکتے، انہیں عہدوں پر رہنے کا کوئی حق نہیں۔ انہوں نے دو ٹوک پیغام دیتے ہوئے کہا، کہ جن لوگوں نے بانی پی ٹی آئی کے نام پر ووٹ لئے، انہیں تھوڑی سی شرم کرنی چاہئے۔ اگر وہ اڈیالہ جیل نہیں آ سکتے اور اپنے قائد کیلئے آواز بلند نہیں کر سکتے، تو انہیں چاہئے کہ وہ اپنی سیٹیں اور عہدے چھوڑ کر گھر چلے جائیں۔ واضح رہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان اس وقت اڈیالہ جیل میں قید ہیں اور ملاقات کے مخصوص دنوں پر پارٹی قیادت اور کارکنان کی ایک بڑی تعداد عام طور پر وہاں جمع ہوتی ہے۔ تاہم، حالیہ دنوں میں پارٹی کے اندرونی حلقوں میں ارکانِ اسمبلی کی مبینہ سستی اور کم دلچسپی پر تنقید کی جا رہی ہے، جس کا اظہار آج علیمہ خان نے کھل کر کر دیا
شرم آنی چاہئے، جو خان کی رہائی کیلئے نہیں آ سکتے عہدے چھوڑ دیں: علیمہ خان
خیبر پختونخوا میں علما کی ٹارگٹ کلنگ اور داعش کا بڑھتا ہوا خطرہ دی خیبرٹائمز خصوصی رپورٹ خیبر پختونخوا کے ضلع چارسدہ میں مئی 2026 کے آغاز میں معروف عالم دین شیخ ادریس کی شہادت نے ایک بار پھر ریاست کے حفاظتی ڈھانچے اور انتہا پسند گروہوں کی بڑھتی ہوئی رسائی پر سنگین سوالات کھڑے کر دئے ہیں ۔ یہ واقعہ محض ایک انفرادی قتل نہیں ہے، بلکہ یہ اس طویل سلسلے کی ایک کڑی ہے جس کے تحت پاکستان، بالخصوص خیبر پختونخوا میں جید علما کرام اور مذہبی قیادت کو منظم طریقے سے نشانہ بنایا جا رہا ہے ۔ پولیس کی جانب سے حسب معمول تفتیش کا آغاز کر دیا گیا ہے، لیکن عوامی حلقوں میں یہ تاثر عام ہے کہ ایسی تحقیقات محض سرکاری خزانے پر بوجھ ثابت ہوتی ہیں اور اصل مجرموں تک پہنچنے میں ناکام رہتی ہیں ۔ یہ رپورٹ شیخ ادریس کے پس منظر، ان کے سسر مولانا حسن جان کی شہادت، دارالعلوم حقانیہ کی قیادت پر حملوں، داعش (ISKP) کی پاکستان میں موجودگی، اور خطے میں جاری افراتفری کے بنیادی اسباب کا ایک مفصل اور تحقیقی جائزہ پیش کرتی ہے۔ شیخ الحدیث مولانا محمد ادریس، جنہیں علمی حلقوں میں شیخ ادریس کے نام سے جانا جاتا تھا، 1961 میں ضلع چارسدہ کے گاؤں ترنگزئی میں پیدا ہوئے ۔ ان کا تعلق ایک ایسے علمی خاندان سے تھا جس کی جڑیں دارالعلوم دیوبند اور برصغیر کی عظیم مذہبی روایات میں پیوست تھیں ۔ ان کے والد، حکیم مولانا عبدالحق، اپنے دور کے ایک ممتاز عالم دین اور مناظرِ اسلام کے طور پر مشہور تھے، جبکہ ان کے دادا مفتی شہزادہ نے دارالعلوم دیوبند سے فراغت حاصل کی تھی اور وہ ایک جید شیخ الحدیث تھے ۔ شیخ ادریس نے اپنی ابتدائی تعلیم اپنے گھر اور ترنگزئی کے مقامی مدارس سے حاصل کی، جس کے بعد انہوں نے اعلیٰ مذہبی تعلیم (دورہ حدیث) کیلئے پاکستان کی مایہ ناز درسگاہ دارالعلوم حقانیہ، اکوڑہ خٹک کا رُخ کیا ۔ وہاں انہوں نے شیخ الحدیث مولانا عبدالحق اکوڑوی اور مفتی محمد فرید جیسے اکابرین سے استفادہ کیا ۔ مذہبی تعلیم کے ساتھ ساتھ انہوں نے جدید تعلیم میں بھی مہارت حاصل کی اور پشاور یونیورسٹی سے عربی اور اسلامیات میں ایم اے کی ڈگری امتیازی نمبروں کے ساتھ حاصل کی ۔ ان کا پیشہ ورانہ سفر جامعہ نعمانیہ، عثمان زئی سے شروع ہوا، جہاں انہوں نے تقریباً 40 سال تک تدریس کے فرائض سرانجام دئے ۔ گزشتہ تین دہائیوں سے وہ صحیح البخاری اور جامع ترمذی جیسی اہم کتب پڑھا رہے تھے اور ایک وقت میں ان کے شاگردوں کی تعداد 2,400 سے زائد تھی ۔ شیخ ادریس محض ایک مدرس نہیں تھے بلکہ وہ سیاسی میدان میں بھی سرگرم عمل رہے۔ وہ جمعیت علمائے اسلام (ف) ضلع چارسدہ کے امیر اور سرپرست اعلیٰ رہے، اور 2002 سے 2007 کے درمیان خیبر پختونخوا اسمبلی کے رکن اور اسپیکر کے عہدے پر بھی فائز رہے ۔ ان کی شہادت کو خطے کے علمی اور سیاسی ماحول کیلئے ایک ناقابل تلافی نقصان قرار دیا جا رہا ہے ۔ شیخ ادریس بین الاقوامی سطح پر معروف عالم دین مولانا حسن جان مدنی کے داماد تھے ۔ مولانا حسن جان کی شہادت کا واقعہ 15 ستمبر 2007 کو پشاور کے علاقے وزیر باغ میں پیش آیا ۔ وہ پشاور کی مشہور درویش مسجد کے خطیب اور وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے نائب صدر تھے ۔ مولانا حسن جان کو اس وقت نشانہ بنایا گیا جب کچھ نامعلوم افراد نے انہیں نکاح خوانی کے بہانے ساتھ لے جا کر گولیاں مار کر شہید کر دیا ۔ ان کی شہادت کی ایک بڑی وجہ ان کے معتدل مذہبی خیالات اور خودکش حملوں کے خلاف ان کے سخت فتاویٰ تھے ۔ انہوں نے 2001 میں اس وفد میں بھی شمولیت اختیار کی تھی جس نے افغانستان جا کر ملا عمر کو اسامہ بن لادن کی ملک بدری پر قائل کرنے کی کوشش کی تھی تاکہ امریکی حملے سے بچا جا سکے ۔ ان کی شہادت نے اس وقت بھی یہ ثابت کر دیا تھا کہ دہشت گرد گروہ ایسے ہر عالم دین کے دشمن ہیں جو امن اور اعتدال کی بات کرتا ہے ۔ شیخ ادریس کی حالیہ شہادت نے اس نظریاتی دشمنی کو ایک بار پھر تازہ کر دیا ہے، کیونکہ شیخ ادریس بھی اپنے سسر کے نقش قدم پر چلتے ہوئے امن مذاکرات کے حامی تھے ۔ خیبر پختونخوا میں علما کی ٹارگٹ کلنگ کا ایک بڑا مرکز دارالعلوم حقانیہ رہا ہے، جسے طالبان کی نرسری بھی کہا جاتا ہے ۔ اس ادارے کے سربراہ اور طالبان کے روحانی باپ کہلانے والے مولانا سمیع الحق کو 2 نومبر 2018 کو راولپنڈی میں ان کی رہائش گاہ پر چاقو کے وار کر کے شہید کر دیا گیا تھا ۔ ان کی شہادت ایک معمہ بنی رہی، تاہم تجزیہ نگاروں کے مطابق اس کے پیچھے وہ گروہ ملوث تھے جو افغان امن عمل میں ان کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ سے خوفزدہ تھے ۔ مولانا سمیع الحق کے بعد ان کے بیٹے مولانا حامد الحق حقانی نے جمعیت علمائے اسلام (س) اور مدرسے کی ذمہ داریاں سنبھالیں ۔ لیکن 28 فروری 2025 کو دارالعلوم حقانیہ کے اندر ہی جمعہ کی نماز کے بعد ایک خودکش حملے میں مولانا حامد الحق کو بھی نشانہ بنایا گیا ۔ حملہ آور نے علمی لبادے میں ملبوس ہو کر خود کو ان کے قریب دھماکے سے اڑا لیا، جس کے نتیجے میں وہ اور دیگر چھ نمازی شہید ہو گئے ۔ ان حملوں کا مقصد حقانیہ جیسے بااثر اداروں کی قیادت کو ختم کر کے ایک علمی خلا پیدا کرنا ہے ۔ مولانا حامد الحق کی شہادت کی ذمہ داری اگرچہ واضح طور پر کسی نے قبول نہیں کی تھی، لیکن سیکیورٹی اداروں کو داعش (ISKP) پر قوی شبہ تھا، کیونکہ وہ دیوبندی علما اور افغان طالبان کے حامیوں کو اپنا اولین دشمن تصور کرتی ہے ۔ شیخ ادریس کی شہادت کی ذمہ داری اسلامک اسٹیٹ خراسان پروونس (ISKP) نے قبول کی ہے ۔ داعش کا پاکستان میں وجود ایک انتہائی سنگین خطرہ بن چکا ہے ۔ یہ تنظیم 2015 میں اس وقت وجود میں آئی جب تحریک طالبان پاکستان (TTP) اور دیگر شدت پسند گروہوں کے کچھ ناراض کمانڈروں نے ابوبکر البغدادی کی بیعت کی ۔ داعش کا ابتدائی گڑھ مشرقی افغانستان (ننگرہار اور کنڑ) تھا، لیکن جلد ہی اس نے پاکستان کے سرحدی علاقوں اور شہری مراکز میں بھی اپنے قدم جما لئے ۔ داعش کا نظریہ "تکفیریت" پر مبنی ہے، جس کے تحت وہ ہر اس مسلمان کو واجب القتل قرار دیتے ہیں جو ان کی خلافت کے تصور کو تسلیم نہیں کرتا ۔ داعش نے جے یو آئی (ف) اور جے یو آئی (س) کے متعدد علما اور کارکنوں کے قتل کی ذمہ داری قبول کی ہے ۔ جولائی 2023 میں باجوڑ میں جے یو آئی کے جلسے پر ہونے والا دھماکہ، جس میں 60 کے قریب افراد شہید ہوئے، داعش کی سب سے بڑی کارروائیوں میں سے ایک تھا ۔ داعش کا مقصد صرف پاکستان یا افغانستان نہیں بلکہ ایک عالمی خلافت کا قیام ہے، جو اسے تحریک طالبان پاکستان (جو ایک قوم پرست ایجنڈا رکھتی ہے) سے ممتاز کرتا ہے ۔ افغانستان میں طالبان کے دوبارہ اقتدار سنبھالنے کے بعد، داعش خراسان (ISKP) کیلئے سب سے بڑا فوجی اور نظریاتی چیلنج بن کر ابھری ہے ۔ داعش کا دعویٰ ہے کہ طالبان نے امریکہ کے ساتھ دوحہ معاہدہ کر کے اسلام کے ساتھ غداری کی ہے ۔ پاکستان کے تناظر میں، داعش ان شدت پسندوں کیلئے ایک پرکشش پلیٹ فارم بن گئی ہے جو ٹی ٹی پی کی نئی پالیسیوں (جیسے عام شہریوں کو نشانہ نہ بنانا) سے مطمئن نہیں ہیں ۔ لہٰذا، داعش اب طالبان سے بھی زیادہ بے رحم اور غیر متوقع خطرہ بن چکی ہے ۔ داعش خراسان کی بنیاد جنوری 2015 میں رکھی گئی تھی ۔ اس کا پہلا امیر یا "والی" حافظ سعید خان اورکزئی تھا، جو ٹی ٹی پی کا سابق کمانڈر تھا، جو 2016 میں امریکی ڈرون حملے کا نشانہ بنے، حافظ سعید کی ہلاکت کے بعد عبدالحسیب لوگی مقرر ہوئے، وہ افغانستانن میں 2017 کو ایک چھاپے کے دوران مارے گئے۔، وقت کے ساتھ ساتھ اس کی قیادت میں تبدیلیاں آتی رہیں کیونکہ اکثر رہنما ڈرون حملوں یا فوجی آپریشنز میں مارے گئے ۔ اس کے بعد آئی ایس کے پی کے ثنااللہ (شہاب المہاجر)مقرر ہوئے، جو 2020 میں افغانستان کے دارالحکومت کابل ائیر پورٹ پر حملے کے ماسٹر مائنڈ بھی تھے تا حال آئی ایس کے پی کے امیر ہیں، ثناء اللہ غفاری، جو شہاب المہاجر کے نام سے جانا جاتا ہے، اس وقت داعش خراسان کا سب سے خطرناک رہنما تصور کیا جاتا ہے ۔ اس کی قیادت میں داعش نے اپنی حکمت عملی تبدیل کی اور دیہی علاقوں کے بجائے شہری مراکز میں گوریلا حملوں اور ٹارگٹ کلنگ پر توجہ مرکوز کی ہے ۔ مئی 2019 میں داعش نے اپنی تنظیمی ساخت کو مزید پیچیدہ کرتے ہوئے پاکستان صوبہ (ISPP) کے نام سے ایک علیحدہ شاخ بھی قائم کی، تاکہ مقامی سطح پر بھرتیوں اور کارروائیوں کو بہتر بنایا جا سکے ۔ داعش کی جانب سے دیوبندی اور خاص طور پر جمعیت علمائے اسلام سے وابستہ علما کو نشانہ بنانے کی وجوہات گہری اور کثیر الجہتی ہیں ۔ داعش جمہوریت کو "کفر" قرار دیتی ہے، جبکہ جے یو آئی پاکستان کے پارلیمانی نظام کا حصہ ہے ۔ داعش جے یو آئی کو افغان طالبان کا سیاسی و نظریاتی بازو سمجھتی ہے ۔ چونکہ افغان طالبان افغانستان میں داعش کے خلاف کریک ڈاؤن کر رہے ہیں، اس لئے داعش پاکستان میں ان کے حامیوں کو نشانہ بنا کر بدلہ لیتی ہے ۔ داعش دیوبندی عقیدے کو قبر پرستوں اور مشرکوں کا عقیدہ قرار دے کر ان کے قتل کو شرعی طور پر جائز قرار دیتی ہے ۔ بااثر علما کے قتل سے معاشرے میں ایک ایسا سیاسی اور مذہبی خلا پیدا ہوتا ہے جسے داعش اپنے انتہا پسندانہ نظریات سے بھرنے کی کوشش کرتی ہے ۔ پاکستان اس وقت جس افراتفری کا شکار ہے، اس کی جڑیں کئی دہائیوں پر محیط غلط پالیسیوں اور معاشی بحران میں پیوست ہیں ۔ فروری 2026 میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان براہ راست جنگ کا آغاز ہوا، جس نے خطے کی صورتحال کو مزید پیچیدہ کر دیا ہے ۔ اس جنگ کا محرک 6 فروری 2026 کو اسلام آباد کی ایک شیعہ مسجد میں ہونے والا خودکش دھماکہ تھا جس میں 31 افراد جاں بحق ہوئے ۔ پاکستان نے اس کا الزام افغانستان میں پناہ گزین ٹی ٹی پی اور داعش کے ٹھکانوں پر لگایا اور 21 فروری کو آپریشن غضب للحقی (Operation Ghazab lil Haq) کے تحت ننگرہار اور پکتیکا میں فضائی حملے کئے ۔ اس جنگ نے نہ صرف سرحد پار کشیدگی میں اضافہ کیا بلکہ پاکستان کی معیشت کو بھی شدید نقصان پہنچایا ہے ۔ تجارتی راستوں کی بندش اور توانائی کے بحران نے مہنگائی کو ایک نئی بلند سطح پر پہنچا دیا ہے، جس سے عوام میں حکومت کے خلاف غم و غصہ پایا جاتا ہے ۔ علما کرام کی ٹارگٹ کلنگ محض پاکستان تک محدود نہیں ہے بلکہ افغانستان میں بھی یہی صورتحال درپیش ہے ۔ افغانستان میں داعش نے طالبان کے حامی علما جیسے شیخ رحیم اللہ حقانی اور وزیرِ برائے مہاجرین حاجی خلیل الرحمن حقانی کو نشانہ بنایا ہے ۔ پاکستان میں صورتحال اس لئے زیادہ پیچیدہ ہے کیونکہ یہاں علما کو نہ صرف داعش بلکہ قوم پرست گروہوں اور بعض اوقات نامعلوم فرقہ وارانہ جتھوں سے بھی خطرہ رہتا ہے ۔ شمالی وزیرستان میں قاری سمیع الدین اور قاری نعمان جیسے علما کا قتل اس کی واضح مثال ہے، جو امن کی آواز اٹھانے پر نشانہ بنے ۔ پاکستان میں فرقہ وارانہ تشدد کی ایک طویل تاریخ ہے جو 1980 کی دہائی سے جاری ہے ۔ سپاہ صحابہ (SSP) اور لشکر جھنگوی جیسے گروہوں نے شیعہ برادری کو نشانہ بنایا، جبکہ سپاہ محمد (SMP) جیسے گروہوں نے انتقامی کارروائیاں کیں ۔ موجودہ دور میں داعش نے اس فرقہ وارانہ آگ کو مزید بھڑکایا ہے ۔ داعش نہ صرف شیعہ مساجد اور امام بارگاہوں پر حملے کرتی ہے بلکہ وہ ان سنی علما کو بھی نشانہ بناتی ہے جو بین المسالک ہم آہنگی کی بات کرتے ہیں ۔ اگست 2024 میں پنجاب سے لشکر جھنگوی، سپاہ محمد اور داعش پاکستان کے جنگجوؤں کی بیک وقت گرفتاری یہ ظاہر کرتی ہے کہ فرقہ وارانہ تنظیمیں اب ایک دوسرے کے ساتھ نظریاتی یا تزویراتی اتحاد بنا رہی ہیں تاکہ ریاست کو کمزور کیا جا سکے ۔ شیخ ادریس کی شہادت اور مئی 2026 کے حالات یہ ظاہر کرتے ہیں کہ پاکستان ایک انتہائی نازک موڑ پر کھڑا ہے ۔ داعش کی بڑھتی ہوئی طاقت اور 2026 کی پاک افغان جنگ نے ملک کے داخلی ڈھانچے کو ہلا کر رکھ دیا ہے ۔ پولیس کی تحقیقات محض کاغذی کارروائیوں تک محدود رہنے کی وجہ یہ ہے کہ دہشت گرد گروہ اب ریاست کے سیکیورٹی میکانزم سے زیادہ جدید اور منظم ہو چکے ہیں ۔ جب تک ریاست اپنی "تزویراتی گہرائی" کی پالیسیوں پر نظرثانی نہیں کرتی اور افغانستان کے ساتھ ایک پائیدار امن معاہدے تک نہیں پہنچتی، علما اور معصوم شہریوں کا خون اسی طرح بہتا رہے گا ۔ شیخ ادریس جیسے علما کا جانا محض ایک خاندان کا دکھ نہیں بلکہ ایک پوری علمی روایت کا خاتمہ ہے، جو معاشرے میں انتہا پسندی کے خلاف ایک مضبوط ڈھال کے طور پر کام کر رہی تھی ۔ ان کی شہادت کے بعد پیدا ہونے والے علمی اور سیاسی خلا کو اگر جلد پر نہ کیا گیا تو داعش جیسے گروہ نوجوان نسل کو گمراہ کرنے میں مزید کامیاب ہو جائیں گے ۔
خیبر پختونخوا میں علما کی ٹارگٹ کلنگ اور داعش کا بڑھتا ہوا خطرہ
بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی درخواست 'فضول' قرار، وکیل کو جرمانہ راولپنڈی (دی خیبر ٹائمز مانیٹرنگ ڈیسک): انسداد دہشت گردی کی عدالت نے بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات کی درخواست 'غیر ضروری اور فضول' قرار دے کر خارج کر دی۔ عدالت نے درخواست گزار وکیل پر 10 ہزار روپے جرمانہ بھی عائد کر دیا۔ وکیل فیصل ملک نے جی ایچ کیو حملہ کیس میں ملاقات کی استدعا کی تھی۔ عدالت نے حکم دیا کہ جرمانہ ڈسٹرکٹ بار راولپنڈی کی ڈسپینسری میں جمع کرایا جائے۔ یہ رقم غریب مریضوں کے علاج پر خرچ ہوگی۔ سماعت کے دوران عدالت نے واضح کیا کہ اڈیالہ جیل میں ملاقاتوں کا طریقہ کار اسلام آباد ہائیکورٹ طے کر چکی ہے۔ ٹرائل کورٹ ہائیکورٹ کے احکامات کے برعکس کوئی نیا حکم جاری نہیں کر سکتی۔ عدالتی فیصلے کے مطابق عمران خان جی ایچ کیو حملہ کیس میں ضمانت پر ہیں اور وہ اس وقت جوڈیشل تحویل میں نہیں ہیں۔ عدالت نے ریمارکس دئے کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کیلئے پہلے بھی دو درخواستیں دائر ہو چکی ہیں۔ درخواست گزار متعلقہ فورم پر جانے کے بجائے بار بار عدالت کا وقت ضائع کر رہا ہے۔ عدالت نے سخت لہجہ اختیار کرتے ہوئے کہا کہ غیر سنجیدہ درخواستوں کے ذریعے وقت کا ضیاع ناقابل قبول ہے۔
بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی درخواست ‘فضول’ قرار، وکیل کو جرمانہ
کراچی پولیس کی کارروائی: این ڈی ایم سندھ کے صدر اور جنرل سیکرٹری سمیت کئی رہنما زیرِ حراست کراچی: این ڈی ایم سندھ کی قیادت کی گرفتاری، محسن داوڑ کا شدید ردعمل اور فوری رہائی کا مطالبہ کراچی میں پولیس نے نیشنل ڈیموکریٹک موومنٹ (این ڈی ایم) سندھ کے صوبائی صدر محمد شیر، جنرل سیکرٹری غفور ایڈوکیٹ، سیکرٹری اطلاعات حمدان خان اور کلچرل سیکرٹری ابرار محسود کو گرفتار کر لیا ہے جس پر سیاسی حلقوں میں شدید غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے، اس حوالے سے این ڈی ایم کی مرکزی آرگنائزنگ کمیٹی کے چیئرمین محسن داوڑ نے اپنے ایک سخت بیان میں ان گرفتاریوں کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے انتہائی شرمناک اور غیر جمہوری اقدام قرار دیا ہے، محسن داوڑ کا کہنا ہے کہ این ڈی ایم سندھ کی قیادت شمالی وزیرستان کے علاقے درپہ خیل میں ملک سیف اللہ کے بہیمانہ قتل کے خلاف ایک پرامن احتجاج ریکارڈ کرانا چاہتی تھی لیکن انتظامیہ نے جمہوری حق تسلیم کرنے کے بجائے قیادت کو ہی سلاخوں کے پیچھے دھکیل دیا ہے جو کہ سراسر زیادتی ہے، انہوں نے واضح کیا کہ پرامن احتجاج کرنا ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس طرح کے جبر سے عوامی آواز کو دبایا نہیں جا سکتا، محسن داوڑ نے مطالبہ کیا کہ گرفتار کیے گئے تمام صوبائی عہدیداروں کو فوری اور غیر مشروط طور پر رہا کیا جائے کیونکہ وہ صرف اپنے علاقے میں ہونے والی ناانصافیوں اور ٹارگٹ کلنگ کے خلاف آواز اٹھا رہے تھے، پارٹی ذرائع کے مطابق ان گرفتاریوں کے باوجود امن اور انصاف کے لیے ان کی جدوجہد جاری رہے گی اور وہ اس واقعے کے خلاف قانونی اور سیاسی راستہ اختیار کرنے کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔
کراچی: این ڈی ایم سندھ کی قیادت کی گرفتاری، محسن داوڑ کا شدید ردعمل اور فوری رہائی کا مطالبہ
ڈرون حملے بند نہ ہوئے تو اسلام آباد مارچ ہوگا، واپسی امن تک نہیں ہوگی: وزیر اعلیٰ کا دوٹوک اعلان پشاور( دی خیبنرٹائمز مانیٹرنگ ڈیسک ) وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی کی سربراہی میں وزیر اعلیٰ ہاؤس میں لویہ جرگہ منعقد ہوا، جس میں مسلسل ڈرون حملوں اور بدامنی کے خاتمے کے لئے مشترکہ لائحہ عمل کی تشکیل پر تفصیلی غور اور مشاورت کی گئی۔ جرگے میں قبائلی اضلاع اور صوبے کے حقوق پر بھی تفصیلی مشاورت کی گئی اور ان کے حصول کے لئے ایک مشترکہ لائحہ عمل ترتیب دینے پر اتفاق کیا گیا۔ جرگہ میں قبائلی اضلاع کے منتخب نمائندے اور مشران، سینیٹرز، اپوزیشن اراکین اسمبلی، علمائے کرام اور عمائدین نے شرکت کی۔ لویہ جرگہ میں ڈرون حملوں میں خواتین بچوں اور بزرگوں کی شہادت کے واقعات کی شدید مذمت کی گئی۔ جرگہ کے تمام شرکاءنے اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مذاکرات کا مطالبہ کیا جس پر جرگہ سفارشات کی روشنی میں وزیر اعلٰی نے مذاکرات کو ایک اور موقع دینے کا اعلان کیا۔ وزیر اعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے لویہ جرگہ میں شرکت کے لئے آنے والے اراکین کے ساتھ چیک پوسٹوں پر روا رکھے گئے ناروا سلوک پر شدید افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ چیک پوسٹس پر یہی رویہ عوام میں بے چینی اور نفرت کو جنم دے رہا ہے۔ وزیر اعلیٰ نے جرگے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ لویہ جرگہ اراکین نے فیصلہ کیا ہے کہ ایک مختصر جرگہ تشکیل دیا جائے گا جو وفاقی حکومت و دیگر اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ بات چیت کرے گا۔ مذاکرات ناکام ہونے کی صورت میں اسلام آباد کی جانب مارچ کیا جائیگا اور امن تک واپسی نہیں ہوگی۔ انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ آج سے ڈرون اٹیکس کی روک تھام کے لئے عملی اقدامات کئے جائیں گے۔ شرپسند عناصر نے ملاکنڈ میں دوبارہ داخل ہونے کی کوشش کی مگر عوام نے انہیں مسترد کر دیاہے۔ وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ قبائلی اضلاع میں اگر آج عوام نہ اٹھے تو امن کا خواب پورا نہیں ہوگا۔ وزیر اعلی نے واضح کیا کہ صوبائی کابینہ کے پہلے اجلاس میں ایکشن ان ایڈ آف سول پاور جیسے کالے قانون کو واپس لینے کا فیصلہ کیا مگر 970 افراد جن کو یہ کہتے ہیں کہ دہشتگرد ہیں ، انہیں مختلف ڈیٹینشن سنٹرز میں رکھا ہوا جس کا کسی کو کوئی علم نہیں ہے۔ صوبائی حکومت نے ان 970 افراد کی لسٹ مانگی، خطوط لکھے مگر کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔ زیر حراست افراد کی فہرست موجود ہو تو ہر شخص کا مکمل حساب رکھا جا سکتا ہے۔ وزیر اعلی نے واضح کیا کہ زیر حراست افراد کی فہرست موجود نہ ہونے کی صورت میں بیانیہ تشکیل دیا جائے گا کہ صوبائی حکومت دہشتگردوں کی معاونت کر رہی ہے اور اس بیانیہ میں ہم کبھی انہیں کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔ محمد سہیل آفریدی نے مزید کہا کہ 22 بڑے فوجی آپریشنز اور 14 ہزار سے زائد انٹیلی جنس بنیادوں پر کارروائیاں امن کے قیام میں ناکام ہو چکی ہیں۔ تمام وسائل کے باوجود امن قائم کرنے میں ناکامی تشویشناک ہے، امن کے قیام میں سنجیدہ دکھائی نہیں دیتے۔ وزیر اعلیٰ نے واضح کیا کہ یہی وسائل اُن کے حوالے کئے جائیں تو وہ سو دن کے اندر صوبے میں امن کے قیام کی ضمانت دیتے ہیں۔ وزیر اعلی نے کہا کہ قبائلی نوجوانوں کو اشتعال کی طرف دھکیلا جا رہا ہے تاکہ انہیں نشانہ بنایا جا سکے، تاہم ہم ہر حال میں اپنی جدوجہد پرامن رکھیں گے۔ ہم پرامن لوگ ہیں اور ظلم کے خلاف اپنی جدوجہد پرامن طریقے سے جاری رکھیں گے۔ سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ جو قانون اور آئین کی پاسداری نہیں کرتے تو ہمیں اپنے دفاع کا حق حاصل ہے۔ مالی ناانصافیوں کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ جب فاٹا انضمام ہوا تو ہمارے ساتھ 100 ارب روپے سالانہ دینے کا وعدہ کیا گیا تھا مگر اس مد میں ضم اضلاع کے ابتک 800 ارب روپے بنتے ہیں جن میں سے صرف 168 ارب روپے دیئے گئے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر ضم اضلاع کی آبادی کا حصہ شامل کیا جائے تو این ایف سی میں خیبرپختونخوا کا حصہ 14.6 سے بڑھ کر 19 فیصد ہو جائے گا۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ لویہ جرگہ کی سفارشات کی روشنی میں تشکیل دیا جانے والا مختصر جرگہ ان مالی اور آئینی حقوق کے لئے بھی جدوجہد کرے گا۔
ڈرون حملے بند نہ ہوئے تو اسلام آباد مارچ ہوگا، واپسی امن تک نہیں ہوگی: وزیر اعلیٰ کا دوٹوک اعلان

زیادہ پڑھی گئی

پشتون تحفظ مؤومنٹ کے اہم رہنما شہاب خٹک کے بھائی ڈاکٹر نعیم الدین خٹک کو نامعلوم افراد نے پشاور کے بھرے بازار میں گولی مارکر شہید کردیا
شمالی وزیرستان کو کس کی نظر لگ گئی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ احسان داوڑ
کیا لڑانے والے کامیاب نہیں ہوئے ؟؟؟ خصوصی تحریر: رسول داوڑ
شمالی وزیرستان ،رمضان المبارک کا چاندنظرآگیا
بول کہ لب آزاد ہیں تیرے…. تحریر رفعت انجم
پشاورکوروناکےنشانےپرکیوں؟؟؟ تحریر: فدا عدیل
شمالی وزیرستان کا بدلتا منظرنامہ؛ تحریر: ناصر داوڑ ملک سیف اللہ خان کے قتل نے کیا شدت پسندوں اور قبائل کے درمیان ایک نئے تصادم کی بنیاد رکھ دی ہے؟ تحریر: ناصر داوڑ شمالی وزیرستان کی فضا ایک بار پھر بارود کی بو سے بھری ہوئی ہے، مگر اس بار اس دھوئیں میں صرف ایک قتل کی تلخی نہیں، بلکہ ایک ممکنہ بڑی تبدیلی کے آثار بھی چھپے ہوئے ہیں۔ درپہ خیل سے تعلق رکھنے والے معروف قبائلی رہنما ملک سیف اللہ خان داوڑ کے قتل نے بظاہر ایک اور خونچکاں واقعے کی صورت اختیار کی، لیکن اس کے فوراً بعد سامنے آنے والا قبائلی ردعمل اس بات کا اشارہ دے رہا ہے کہ وزیرستان میں طاقت کا وہ غیر مرئی توازن، جو برسوں سے بندوق بردار گروہوں کے حق میں جھکا ہوا تھا، اب شاید پہلی بار اندر سے ہلنا شروع ہو گیا ہے۔ گزشتہ دو دہائیوں کے دوران شمالی وزیرستان مسلسل ایسی قوتوں کے درمیان پھنسا رہا ہے جن میں ایک طرف ریاستی ادارے تھے اور دوسری طرف مختلف ناموں، دھڑوں اور بیانیوں کے ساتھ موجود شدت پسند تنظیمیں۔ اس طویل کشمکش میں سب سے زیادہ قیمت مقامی آبادی نے ادا کی۔ ان کے گھر اجڑے، بازار سنسان ہوئے، کاروبار تباہ ہوئے، خاندان بے گھر ہوئے اور سینکڑوں نہیں ہزاروں لوگ خاموش قبروں میں اتر گئے۔ لیکن اس سارے عرصے میں ایک بات نمایاں رہی: عام قبائل خوف، مجبوری، مصلحت یا کسی حد تک سماجی پیچیدگیوں کے باعث براہِ راست اس جنگ کا منظم فریق نہ بن سکے۔ یوں شمالی وزیرستان میں ایک غیر اعلانیہ سماجی معاہدہ وجود میں آ گیا تھا، ریاست کی موجودگی محدود، شدت پسندوں کی نقل و حرکت آزاد، اور عوام کی خاموشی کو بقا کی قیمت کے طور پر قبول کر لیا گیا۔ ملک سیف اللہ خان کا قتل اسی معاہدے پر پہلی کھلی ضرب محسوس ہوتا ہے۔ وزیرستان میں کسی شخصیت کا قتل نئی خبر نہیں۔ یہاں خون کی سرخیاں اکثر اگلے دن کسی نئے سانحے کے نیچے دب جاتی ہیں۔ مگر بعض اموات محض عدد نہیں ہوتیں، وہ پورے معاشرے کے اعصاب کو چھو لیتی ہیں۔ ملک سیف اللہ خان انہی شخصیات میں شمار ہوتے تھے جن کی حیثیت صرف ایک فرد یا خاندان کے سربراہ کی نہیں بلکہ مقامی سماجی تانے بانے میں ایک بااثر قبائلی ستون کی تھی۔ جب انہیں مقامی و افغانی شدت پسندوں نے نشانہ بنایا تو ابتدائی طور پر یہ بھی ایک اور ٹارگٹ کلنگ محسوس ہوئی۔ مگر چند گھنٹوں کے اندر درپہ خیل قبیلے کی جانب سے روایتی چیغہ، مساجد سے اعلانات، گھروں سے اسلحہ اٹھا کر نکلتے نوجوان، اور قاتلوں کے تعاقب میں قبائلی پیش قدمی نے واضح کر دیا کہ یہ معاملہ صرف جنازے تک محدود نہیں رہے گا۔ وزیرستان کے قبائلی معاشرے میں ایسے مواقع صرف غم پیدا نہیں کرتے، بلکہ اجتماعی وقار کے دفاع کا سوال بن جاتے ہیں۔ جب ایک قبیلہ یہ محسوس کرے کہ اس کے بااثر فرد کو بے خوفی سے قتل کیا گیا ہے اور قاتل بدستور محفوظ ہیں، تو یہ احساس صرف دکھ نہیں بلکہ کمزوری کے تاثر کو بھی جنم دیتا ہے۔ قبائلی سماج میں کمزور دکھائی دینا کبھی محض نفسیاتی مسئلہ نہیں ہوتا، یہ مستقبل کی مزید یلغاروں کی دعوت بن جاتا ہے۔ اسی لئے درپہ خیل نے ردعمل دیا، اور غیر معمولی شدت کے ساتھ دیا۔ یہ ردعمل اس لحاظ سے اہم ہے کہ شمالی وزیرستان میں برسوں سے مسلح تنظیموں کی کارروائیوں کے بعد مقامی آبادی عمومی طور پر خوفزدہ خاموشی اختیار کرتی رہی ہے۔ جنازے اٹھتے تھے، تعزیتیں ہوتیں، چند روز بعد زندگی پھر اسی بے یقینی میں داخل ہو جاتی تھی۔ اس بار مگر جنازے کے ساتھ بندوق بھی اٹھی، اور سوگ کے ساتھ تعاقب بھی۔ یہ تبدیلی محض جذباتی نہیں؛ اس کے پیچھے ایک طویل اجتماعی تھکن کارفرما دکھائی دیتی ہے۔ جب کسی معاشرے کو مسلسل غیر محفوظ رکھا جائے، جب ریاست تحفظ نہ دے سکے، جب مقامی ثالثی قاتلوں کو بچا لینے کی روایت بن جائے، اور جب ہر نیا قتل پچھلے زخموں کو تازہ کرے، تو پھر ایک وقت ایسا آتا ہے جب خاموشی اپنی افادیت کھو دیتی ہے۔ شمالی وزیرستان شاید اسی نفسیاتی موڑ پر پہنچتا دکھائی دے رہا ہے۔ یہ سمجھنا ضروری ہے کہ کسی بھی مسلح تنظیم کی طاقت صرف بندوق میں نہیں ہوتی۔ اس کی اصل طاقت اس مقامی ماحول میں پوشیدہ ہوتی ہے جو اسے یا تو برداشت کرتا ہے، یا خوف سے خاموش رہتا ہے، یا کم از کم اس کے خلاف متحد نہیں ہوتا۔ غیر ریاستی قوتیں اسی سماجی خلاء میں سانس لیتی ہیں۔ لیکن جب مقامی سماج خود کو براہِ راست خطرے میں محسوس کرنے لگے تو یہی خاموش ماحول مزاحم فضا میں تبدیل ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ درپہ خیل قبیلہ محض ایک آبادی نہیں بلکہ شمالی وزیرستان کے اہم جغرافیائی راستوں میں واقع ایک بااثر قبائلی اکائی ہے۔ میرانشاہ سے دتہ خیل اور میرعلی کی جانب جانے والی آمد و رفت، مقامی رسائی، زمینی روابط اور غیر رسمی نقل و حرکت میں اس علاقے کی اہمیت غیر معمولی ہے۔ اگر ایسے علاقے کے لوگ مستقل دشمنی کے احساس میں داخل ہو جائیں تو مسلح گروہوں کیلئے محفوظ گزرگاہیں رفتہ رفتہ غیر محفوظ ہو جاتی ہیں۔ یہی وہ نکتہ ہے جہاں ایک انفرادی قتل، اسٹریٹیجک بحران میں بدل سکتا ہے۔ اس تمام ہنگامے کے دوران سب سے نمایاں چیز ریاست کی خاموشی رہی۔ جب ایک طرف مسلح شدت پسند سڑکوں پر ناکہ بندیاں قائم کر رہے تھے، درپہ خیل سے تعلق رکھنے والے افراد کو یرغمال بنا رہے تھے، اور دوسری طرف قبائلی تعاقب جاری تھا، سرکاری مشینری کی عدم فعالیت نے یہ سوال مزید گہرا کر دیا کہ آیا شمالی وزیرستان میں ریاست واقعی واحد مقتدر قوت ہے بھی یا نہیں؟ ریاست کا خلا ہمیشہ صرف انتظامی کمزوری نہیں ہوتا، یہ طاقت کے متبادل مراکز کو جواز دیتا ہے۔ جب عوام دیکھتے ہیں کہ ان کی جان و مال کے تحفظ کا کوئی مؤثر ادارہ موجود نہیں، تو وہ انصاف اور دفاع دونوں کیلئے اپنی روایتی بندوق کی طرف لوٹتے ہیں۔ یہی صورتحال کسی خطے کو منظم قانون سے نکال کر غیر منظم طاقت کے دائرے میں دھکیل دیتی ہے۔ ذرائع کے مطابق جب درپہ خیل قبائل نے شدت پسند عناصر کو محاصرے میں لے لیا تھا اور تصادم فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو رہا تھا، اسی دوران بعض مقامی مشران اور مذہبی شخصیات نے مداخلت کر کے سیز فائر کرایا اور محصور افراد کو نکلنے کا راستہ ملا، یا دیا گیا۔ بظاہر یہ اقدام مزید خونریزی روکنے کیلئے تھا، مگر ایسے ہر سیز فائر کے ساتھ ایک خطرہ جڑا ہوتا ہے، مسئلہ ختم نہیں ہوتا، صرف مؤخر ہوتا ہے۔ قاتل بچ جائیں تو مقتول کے ورثا کے دل میں انصاف نہیں بلکہ ادھورا حساب باقی رہتا ہے۔ یہی ادھورا حساب بعد میں زیادہ تلخ دشمنی بن کر ابھرتا ہے۔ شمالی وزیرستان کی موجودہ صورتحال کو محض ایک مقامی جھڑپ سمجھ لینا شاید حقیقت سے آنکھیں چرانے کے مترادف ہوگا۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا شدت پسند تنظیموں کی بندوق کا رخ اب ریاست سے زیادہ مقامی سماج کی طرف مڑ رہا ہے؟ اور اگر ہاں، تو کیا مقامی سماج اس کے جواب میں منظم مزاحمت کی طرف بڑھے گا؟ تاریخ بتاتی ہے کہ وزیرستان میں بیرونی قوتوں، ریاستی لشکروں اور مسلح تحریکوں نے ہمیشہ اس وقت مشکلات کا سامنا کیا جب مقامی قبائل نے اجتماعی طور پر اپنے مفاد اور بقا کے سوال پر صف بندی کی۔ ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ درپہ خیل کا ردعمل ایک ہمہ گیر قبائلی بیداری کا نقطۂ آغاز ہے، مگر یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ یہ واقعہ اس خاموش لاوے کی پہلی دراڑ ہے جو برسوں سے وزیرستان کے نیچے پک رہا تھا۔ کل تک یہی زمین شدت پسندوں کیلئے محفوظ پناہ گاہ، خاموش راہداری اور نفسیاتی برتری کی علامت تھی۔ اگر مقامی قبائل کے صبر کا بند اسی طرح ٹوٹنا شروع ہو گیا تو یہی زمین ان کیلئے سب سے دشوار میدان بھی بن سکتی ہے۔ اور شاید شمالی وزیرستان اب اسی امتحان کے دہانے پر کھڑا ہے۔

شمالی وزیرستان کا بدلتا منظرنامہ؛ تحریر: ناصر داوڑ

مئی 2, 2026May 2, 2026

ملک سیف اللہ خان کے قتل نے کیا شدت پسندوں اور قبائل کے درمیان ایک نئے تصادم کی بنیاد رکھ دی ہے؟ تحریر: ناصر داوڑ شمالی وزیرستان کی فضا ایک بار پھر بارود کی بو سے بھری ہوئی ہے، مگر مزید پڑھیں

Copyright © 2019-2020, THE KHYBER TIMES All Rights Reserved | Powered by Kifayatullah MOMAND