26 February, 2026
اہم خبریں
  • “انتخابی عمل کو شکست نہیں ہونے دوں گی”ایک باغی روح کی رخصتی
  • پاک افغان تعلقات مزید کشیدہ، افغان فورسز نے سرحد پر تازہ دم دستے تعینات کردئے
  • لکی مروت میں سکیورٹی فورسز اور شدت پسندوں میں جھڑپ، ٹی ٹی پی کمانڈر ہلاک
  • بنوں خودکش حملے کے بعد سرحد پار فضائی کارروائیاں، پکتیکا اور ننگرہار میں تین مقامات پر دھماکے
  • شمالی وزیرستان: کیا ریاست کی رٹ ختم ؟ آئینہ وزیر کیس اور قانون کی پامالی
  • Home
  • اہم خبریں
  • پاکستان
    • دینی مسائل
    • اہم خبریں
    • مذہب
    • تصاویر اور مناظر
    • سیر و تفریح
    • دلچسپ و عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
    • صحت
  • افغانستان
  • علاقائی
  • کالمز
  • انٹرنیشنل
  • کاروبار
  • کھیل
  • شوبز
  • کاپی رائٹس
    • پرائیویسی پالیسی
    • قوائد و ضوابت
    • ہمارے بارے میں
  • Home
  • اہم خبریں
  • پاکستان
    • دینی مسائل
    • اہم خبریں
    • مذہب
    • تصاویر اور مناظر
    • سیر و تفریح
    • دلچسپ و عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
    • صحت
  • افغانستان
  • علاقائی
  • کالمز
  • انٹرنیشنل
  • کاروبار
  • کھیل
  • شوبز
  • کاپی رائٹس
    • پرائیویسی پالیسی
    • قوائد و ضوابت
    • ہمارے بارے میں

ہمارا یوٹیوب چینل

ہمارا فیس بک پیج

The Khyber Times

خصوصی فیچرز

پشتون تحفظ مؤومنٹ کے اہم رہنما شہاب خٹک کے بھائی ڈاکٹر نعیم الدین خٹک کو نامعلوم افراد نے پشاور کے بھرے بازار میں گولی مارکر شہید کردیا
شمالی وزیرستان کو کس کی نظر لگ گئی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ احسان داوڑ
کیا لڑانے والے کامیاب نہیں ہوئے ؟؟؟ خصوصی تحریر: رسول داوڑ
شمالی وزیرستان ،رمضان المبارک کا چاندنظرآگیا
بول کہ لب آزاد ہیں تیرے…. تحریر رفعت انجم

حیرت انگیز

"انتخابی عمل کو شکست نہیں ہونے دوں گی" ایک باغی روح کی رخصتی وہ محض ایک صحافی نہیں تھی، وہ پشاور پریس کلب کے ایوانوں میں گونجتی ہوئی ایک ایسی باغی اور انقلابی آواز تھی جس نے ہمیشہ مروجہ اصولوں کو للکارا۔ انیلا شاہین جس نے پریس کلب کی سیاست میں اپنی جرات اور اصول پسندی سے بغاوت کی وہ مثالیں قائم کیں جو برسوں تک مشعلِ راہ رہیں گی۔ آج جب وہ ہم سے جدا ہو کر منوں مٹی تلے جا سوئی ہے، تو اس کی کمی ایک ایسے رستے ہوئے زخم کی طرح ہے جو وقت گزرنے کے ساتھ مزید گہرا ہوتا جا رہا ہے۔ انتخابات 2026: ایک عجیب کشمکش رواں سال 2026 کے پریس کلب انتخابات کا غلغلہ تھا۔ انیلا شاہین کے صدارت کے لئے کاغذاتِ نامزدگی کسی ہمدرد نے جمع کرا دئے تھے۔ دوسری طرف ایم ریاض بھائی جیسے مضبوط اور قد آور امیدوار میدان میں تھے، جن کی مقبولیت کا سورج سوا نیزے پر تھا۔ کلب کے اندر ایک مضبوط لہر اٹھی کہ ایم ریاض صاحب کو بلا مقابلہ صدر منتخب کروا لیا جائے تاکہ "اتحاد اور یکجہتی" کا روایتی تاثر ابھرے۔ ہمارے بزرگ اور قابلِ قدر صحافی شمیم شاہد صاحب نے مجھے ایک بھاری ذمہ داری سونپی۔ انہوں نے خواہش ظاہر کی کہ کسی طرح انیلا شاہین کو دستبرداری پر راضی کیا جائے، کیونکہ ایم ریاض صاحب کی جیت تو یقینی تھی، مگر بلا مقابلہ انتخاب پریس کلب کے مستقبل کے لئے "مفید" مصلحت لگ رہی تھی۔ میں شمیم شاہد صاحب کا پیغام اور ان کی سونپی ہوئی ذمہ داری کا بوجھ لے کر ایک صبح سویرے انیلا کے گھر پہنچا۔ میرا مقصد اسے منت سماجت کر کے انتخابی عمل سے الگ کرنا تھا۔ میں نے بڑے دھیمے اور مصلحت آمیز لہجے میں دستبرداری کے فائدے گنوانے شروع کئے۔ میں اسے کہانیاں سناتا رہا کہ کیسے بلا مقابلہ انتخاب سے کلب مضبوط ہوگا، وہ خاموشی سے، ایک متانت بھری مسکراہٹ کے ساتھ میری تمام باتیں سنتی رہی۔ جب میں بول چکا، تو اس نے جس خوبصورت اور پروقار لہجے میں جواب دیا، اس نے میرے تمام مصلحت پسندانہ دلائل مٹی میں ملا دئے۔ اس نے بڑی درمندی سے کہا: "تم جانتے ہو؟ پریس کلب میں صرف دو تین درجن صحافی ہی سارا سال مراعات اور انفراسٹرکچر سے لطف اندوز ہوتے ہیں، جبکہ سینکڑوں ممبران وہ گمنام سپاہی ہیں جو سال میں صرف ایک بار، 'انتخابات' کے دن کلب کی دہلیز پار کرتے ہیں۔ وہ اس لئے آتے ہیں تاکہ اپنے برسوں پرانے ساتھیوں سے ملیں، قہقہے لگائیں، دکھ سکھ بانٹیں اور اس ایک دن کو جئیں جو ان کے لئے عید جیسا رنگین ہوتا ہے۔" اس کی دلیل میں ایک عجیب تڑپ تھی۔ اس کا ماننا تھا کہ اگر بلا مقابلہ انتخاب کا رواج جڑ پکڑ گیا، تو ان سینکڑوں ممبران کی رہی سہی اہمیت بھی ختم ہو جائے گی۔ اس نے کہا: "جس دن ووٹ پڑتا ہے، اس دن بڑے بڑے امیدوار ان عام ممبران کے پاس جاتے ہیں، انہیں عزت دیتے ہیں، ان کے ہاتھوں کو چومتے ہیں اور ان سے ووٹ مانگ کر انہیں اپنی اہمیت کا احساس دلاتے ہیں۔ اگر یہ عمل ختم ہو گیا، تو چند سالوں میں پریس کلب کی کابینہ کا ممبر دوسرے صحافی کو پہچاننے سے بھی انکار کر دے گا۔ میں نہیں چاہتی کہ ان لوگوں کی توہین ہو جو سارا سال کلب نہیں آتے مگر کلب کا اصل اثاثہ وہی ہیں۔" میں نے پھر بھی اصرار کیا، بحث نہ کرنے کی ضد کی اور کہا کہ بس اس صدارتی عہدے سے دستبرداری کے کاغذ پر ابھی اسی وقت دستخط کر دیں تاکہ میں شمیم شاہد صاحب اور ایم ریاض بھائی کو مطمئن کر سکوں۔ انیلا نے بڑے وقار سے جواب دیا: "مجھے معلوم ہے میں ایم ریاض بھائی کو شکست نہیں دے سکتی، لیکن میں 'انتخابی عمل' کو شکست نہیں ہونے دوں گی۔ میں میدان میں رہوں گی تاکہ مقابلہ زندہ رہے۔" پھر اس نے وہ بات کہی جو صرف ایک وسیع الظرف انسان ہی کہہ سکتا ہے۔ اس نے کہا کہ وہ پولنگ کے دن اپنا بیلٹ پیپر صاف ستھرا نکال کر مجھے دے دے گی، تاکہ میں وہ شمیم شاہد صاحب کے ذریعے ایم ریاض بھائی کو دے دوں۔ اس نے کہا: "مجھے میرا اپنا ووٹ بھی نہیں چاہئے۔ وہ خود اس پر مہر لگا لیں۔ میری خواہش صرف یہ ہے کہ تمام امیدوار گیٹ پر کھڑے ہو کر ووٹ دینے آنے والے بھائیوں کا استقبال کریں، ان سے گلے ملیں، ان کا احترام کریں اور اپنا ایجنڈا شیئر کریں۔ پریس کلب کے ان گمنام سپاہیوں کو کم از کم سال میں ایک دن تو 'وی آئی پی' ہونے کا احساس دلایا جائے!" انیلا کا مقصد عہدہ پانا نہیں تھا، بلکہ ان ممبران کے وقار کی بحالی تھا جو سارا سال نظر انداز کئے جاتے ہیں۔ جہاں کچھ لوگوں نے سیکرٹری کے عہدے کے لئے مصلحتوں کے سمجھوتے کئے، کسی نے گورننگ باڈی کےعہدے اپنے نام کرنے کی خاطر اصولوں کا قتل کیا، وہاں انیلا تن تنہا ایم ریاض جیسے دیو ہیکل امیدوار کے سامنے ڈٹ گئی، صرف اس لئے تاکہ جمہوریت کا حسن اور عام صحافی کا احترام برقرار رہے۔ آج پریس کلب کا ہر وہ ممبر جس کی عزتِ نفس کی خاطر انیلا نے یہ ہارا ہوا معرکہ لڑا، اس کا مقروض ہے۔ اس نے اتحاد کے نام پر ہونے والی "سرد مصلحتوں" کو مسترد کر کے یہ پیغام دیا کہ عہدہ عارضی ہے، مگر ممبر کا احترام دائمی ہونا چاہئے۔ آج وہ ہم میں نہیں ہے، مگر اس کی سوچ پریس کلب کی فضاؤں میں ایک مقدس خوشبو کی طرح موجود ہے۔ اللہ تعالیٰ اس غیرت مند، بہادر اور ممبران کے وقار کی محافظ بیٹی کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ اس نے ایک ایسا مقابلہ کیا جس کے جیتنے کا بظاہر کوئی امکان نہیں تھا، مگر اس نے ہار کر بھی ان سینکڑوں صحافیوں کے دل جیت لئے جن کا وقار اس کی آخری سانس تک پہلی ترجیح رہا۔ اے پشاور پریس کلب کی غیرت مند شہزادی! تمہاری اس 'شکست' میں بھی ہزاروں فتوحات پوشیدہ ہیں۔ ناصر داوڑ
“انتخابی عمل کو شکست نہیں ہونے دوں گی”ایک باغی روح کی رخصتی
پاک افغان تعلقات مزید کشیدہ، افغان فورسز نے سرحد پر تازہ دم دستے تعینات کردئے
لکی مروت میں سکیورٹی فورسز اور شدت پسندوں میں جھڑپ، ٹی ٹی پی کمانڈر ہلاک
بنوں خودکش حملے کے بعد سرحد پار فضائی کارروائیاں، پکتیکا اور ننگرہار میں تین مقامات پر دھماکے
شمالی وزیرستان: کیا ریاست کی رٹ ختم ؟ آئینہ وزیر کیس اور قانون کی پامالی
قومی اسمبلی میں فوج سے متعلق بیان پر اختلاف، اپوزیشن اتحاد میں دراڑ یا وقتی تناؤ؟

زیادہ پڑھی گئی

پشتون تحفظ مؤومنٹ کے اہم رہنما شہاب خٹک کے بھائی ڈاکٹر نعیم الدین خٹک کو نامعلوم افراد نے پشاور کے بھرے بازار میں گولی مارکر شہید کردیا
شمالی وزیرستان کو کس کی نظر لگ گئی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ احسان داوڑ
کیا لڑانے والے کامیاب نہیں ہوئے ؟؟؟ خصوصی تحریر: رسول داوڑ
شمالی وزیرستان ،رمضان المبارک کا چاندنظرآگیا
بول کہ لب آزاد ہیں تیرے…. تحریر رفعت انجم
پشاورکوروناکےنشانےپرکیوں؟؟؟ تحریر: فدا عدیل

کنگنا کی بہن رنگولی کا ٹوئٹر اکائونٹ معطل

اپریل 17, 2020April 17, 2020

ممبئی( دی خیبر ٹائمز شوبز ڈیسک) بالی ووڈ کی اداکارہ کنگنا رانوٹ کی بہن اور اس کی جنرل مینجر رنگولی کا ٹوئٹر اکائونٹ غلط ٹوئٹ کرنے پر معطل کردیاکنگنا کی بہن نے کرونا کا علاج کرنے والے ڈاکٹروں اور ٹیکنیشن مزید پڑھیں

Copyright © 2019-2020, THE KHYBER TIMES All Rights Reserved | Powered by Kifayatullah MOMAND