“ڈیجیٹل شہرت کی قیمت، سوشل میڈیا اسٹارز کا دباؤ”

“ڈیجیٹل شہرت کی قیمت، سوشل میڈیا اسٹارز کا دباؤ”
سوشل میڈیا اسٹارز کا وائرل ہونے” کی قیمت زندگی کے خاتمہ پر کیوں ہوتا ہے؟

ناہید جہانگیر
ڈیجیٹل شہرت، آسان راستہ، مشکل انجام
ڈیجیٹل دور میں جہاں شہرت حاصل کرنا آسان ہوگیا ہے وہاں موت تک رسائی بھی اتنا ہی آسان اور ایک کھیل ہے ٹک ٹاک ،انسٹاگرام، اور یوٹیوب پر لوگ راتوں رات امیر اور سٹارز بن گئے ہیں ۔ لیکن اس کے ساتھ ایک بڑی قیمت بھی جڑی ہوئی ہے۔ ذہنی دباؤ، تنہائی، اور مسلسل عوامی نگرانی اور سب سے خطرناک انجام موت ہے۔

ٹک ٹاک سے شہرت تک، ضرورت سے لالچ تک کا سفر

صوابی سے تعلق رکھنے والی مریم (فرضی نام) جو اسلام آباد میں رہائش پزیر ہیں اور دنیا بھر کے پھٹانوں میں مقبول ہیں بتاتی ہیں کہ ٹک ٹاک پر جتنی بھی خواتین آتی ہیں وہ شروع شروع میں اپنا اور اپنے بچوں کا پیٹ پالنے کے لیے یہ پلیٹ فارم استعمال کرتی ہیں ان کو کوئی شوق نہیں ہوتا کہ وہ سٹار بنے لیکن بعد میں زیادہ پیسہ اور شہرت ان کم عقل یا کم پڑھی لکھی خواتین سے ہضم نہی ہوتا وہ مزید شہرت اور پیسے کی لالچ میں بعض گفٹر پر اندھا اعتبار کرتی ہیں اور ساتھ ساتھ میں روایتی اقدار کو بھی نظر اندز کرتی ہیں جو موت کا پھندا بن جتا ہے یا ان کے تعلق کی ویڈیو لیک ہوجاتی ہیں جو بد نامی کا باعث بن جاتا ہے ۔
یاد رہے کہ حال ہی میں مشہور پشتو ٹک ٹاکر ثنا جاوید ( آوٹ آف لوفرہ) کو اس کے دوسرے شوہر نے اسلام آباد میں گولی مار کر قتل کیا اور بعد میں خود بھی خود کشی کر لی ۔
پولیس کے مطابق آوٹ آف لوفرہ کا شوہر محمد صادق اٹک پولیس میں کانسٹیبل تھا دونوں میاں بیوی کے درمیاں گھریلوں ناچاقی تھی اس سے قبل ان کی شادی شفیق احمد سے ہوئی تھی جن سے ان کے دو بچے بھی ہیں۔
سوشل میڈیا پر آوٹ آف لوفرہ کے متعلق بعض ٹک ٹاکر یہ الزام لگاتے ہیں کہ وہ اپنے دوسرے شوہر سے بھی خلع لینا چاہتی تھی اور کسی گفٹر سے تیسری شادی کی خواہیش مند تھی جس نے محمد صادق کو انتہائی خطرناک عمل پر مجبور کیا۔
ثنا جاوید عرف آوٹ آف لوفرہ کے حوالے سے مریم بتاتی ہیں کہ وہ بھی غربت کی وجہ سے ٹک ٹاک کی طرف آئی تھی ٹک ٹاک لائیو پر آوٹ آف لوفرہ کی بے ہودہ بات چیت نے ان کو راتوں رات شہرت کے ساتھ پیسوں سے بھی مالا مال کیا تھا گفٹر ان پر مہربان ہوگئے تھے لیکن ان کا اپنا شوہر جو خود بھی ایک ٹک ٹاکر تھا قاتل نکلا۔
اعداد و شمار کیا کہتے ہیں
2024 میں پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کی جانب سے جاری کردہ ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں فیس بک کے کل 60.4 ملین صارفین میں سے 77 فیصد مرد جبکہ 24 فیصد خواتین ہیں۔ یوٹیوب کو پاکستان کے 71.7 ملین صارفین استعمال کرتے ہیں، جن میں سے 28 فیصد خواتین تھیں۔ اسی طرح ٹک ٹاک کے 54.4 ملین صارفین میں صرف 22 فیصد خواتین تھیں۔ انسٹاگرام کے 17.3 ملین صارفین تھے جن میں 36 فیصد خواتین تھیں۔

حقیقی کیسز، سوشل میڈیا اسٹارز کے المناک انجام

اوپن سورس ویب سائٹ پر دی گئی معلومات کے مطابق گذشتہ 3 برسوں میں کم از کم 6 ٹک ٹاکر خواتین قتل ہوچکی ہیں جنوری 2024 میں گجرات کی 14 سالہ صبا افضال کو ان کی 18 سالہ بہین نے ٹک ٹاک ویڈیو کے تنازع پر فائرنگ کرکے مار دیا تھا۔ اسی طرح جنوری 2025 جنوری کوئٹہ سے تعلق رکھنے والی 15 سالہ امریکی نژاد پاکستانی حرا انور کو بھی ٹک ٹاک پر ویڈیو بنانے پر اعتراض کرنے پر قتل کیا گیا۔
2 جون 2025 کو اسلام آباد کے سیکٹر جی 13 میں 17 سالہ ٹک ٹاکر ثنا یوسف کو بھی دوستی سے انکار پر ایک لڑکے نے گھر میں ہی گولی مار کر قتل کر دیا گیا تھا۔
فروری 2025 کو جہلم میں 20 سالہ انسا کو ان کے بھائیوں نے غیرت کے نام پر قتل کیا جو ٹک ٹاک پر ویڈیو بنا رہی تھی۔
گذشتہ سال پشاور کی معروف خاتون ٹک ٹاکر سیما گل عرف سائیکو ارباب کی بھی لاش اپنی ہی فلیٹ سے برآمد ہوئی تھی ابتدائی تفتیش میں ان کی موت کی وجہ زائد مقدار نشہ آوار گولیاں بتائی گئ تھی۔
قتل کی بنیادی وجوہات: غیرت، انکار اور ذاتی تنازعات
20 سالہ مردان کا مقبول ٹک ٹاکر اعزاز محمد جو ٹک ٹاک پر سائیکو ڈمپل کے نام سے جانا جاتا ہے بتاتے ہیں کہ ٹک ٹاک لائیو سے کمانے والے اور بالخصوص خواتین کی بنیادی قتل وجوہات غیرت، ذاتی دوستی اختلافات، قابل اعتراض ویڈیو بنانا، دوستی سے انکار ہوتی ہیں۔
وہ مزید بتاتے ہیں کہ اگر دیکھا جائے تو ٹک ٹاک سمیت تمام سوشل میڈیا پلیٹ فارم نوجوان نسل زیادہ استعمال کرتا ہے پھر اگر خواتین کی بات کی جائے تو پاکستان اور خاص کر خیبر پختونخوا میں بہت کم پڑھی لکھی، ان پڑھ خواتین سوشل میڈیا پلیٹ فارم استعمال کرتی ہیں جب شہرت ملتی ہیں گفٹر سے ملنے والے مہنگے تحائف کے پس پردہ گفٹر کے منفی مطالبے بھی ہوتے ہیں کیونکہ ایک بندہ کسی بھی ٹک ٹاکر کو کیوں بھاری گفٹ دے گا۔
خواتین ٹک ٹاکر زیادہ تعلیم یافتہ نہیں ہوتی۔ فیملی بیک گراونڈ اتنا مضبوط نہیں ہوتا منفی مطالبے مان مان کر پھنس جاتی ہیں گھریلوں زندگی خراب ہوجاتی ہیں طلاق کے ساتھ ساتھ غیرت کے نام پر قتل کر دی جاتی ہے دوستی کے انکار پر قتل یا بلیک میل کی جاتی ہیں اس طرح اگر دوسرا اچھا گفٹر مل جائے تو پہلے والے دوست کو چھوڑنے کی قیمت موت کی صورت میں ادا کرتی ہیں یا ان کی ذاتی ویڈیو لیک کی جاتی ہیں۔

قوانین موجود، آگاہی کی کمی
پاکستان کی سینئر صحافی اور ٹرینر بشریٰ اقبال بتاتی ہیں کہ سوشل میڈیا پر آنے سے پہلے ہر فرد خواہ خواتین ہوں، مرد یا بچے ہوں کو یہ سمجھنا چاہیے کہ یہ دنیا مکمل طور پر محفوظ نہیں ہے۔ خاص طور پر خواتین کے لیے یہ ایک چیلنجنگ اسپیس ہے جہاں انہیں مختلف مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

کنٹینٹ کریئیٹرز، خاص طور پر انٹرٹینمنٹ اور فیشن سے وابستہ افراد، کو چاہیے کہ وہ ذمہ داری کے ساتھ کام کریں اور غیر مہذب یا نقصان دہ ٹرینڈز جیسے گفٹ کلچر سے گریز کریں۔ اچھے اور باوقار سپانسرز کے ساتھ کام کرنا زیادہ بہتر راستہ ہے۔

ہمارے معاشرے میں ابھی بھی خواتین کے کام کرنے کو مکمل طور پر قبول نہیں کیا گیا، جس کی وجہ سے سوشل میڈیا پر ان کی موجودگی کو بھی تنقید کا سامنا رہتا ہے۔

وہ مزید بتاتی ہیں کہ حکومت کی جانب سے سائبر ہراسمنٹ کے خلاف قوانین تو موجود ہیں، لیکن ان پر عملدرآمد اور عوامی آگاہی کی شدید کمی ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ قوانین کے بارے میں شعور اجاگر کیا جائے اور عملی مثالوں کے ذریعے ان پر عمل بھی یقینی بنایا جائے۔معاشرتی سوچ کو بدلنے کی ضرورت ہے تاکہ خواتین سمیت ہر فرد کو محفوظ اور باعزت ماحول میسر آ سکے۔

ذہنی صحت اور سوشل میڈیا کا دباؤ
ڈاکٹر قاضی شہباز محی الدین منٹل ہیلتھ کنسلٹنٹ بتاتے ہیں کہ ان افراد کی مشکلات کی بنیادی وجہ اکثر بچپن کی محرومیاں، سخت رویے، اور معاشرتی دباؤ ہوتے ہیں، جو ان کی شخصیت پر گہرے اثرات چھوڑتے ہیں۔ یہی محرومیاں آگے چل کر ذہنی دباؤ، بے چینی اور عدم اطمینان کی شکل اختیار کر لیتی ہیں۔

جب ایسے افراد کو سوشل میڈیا پر شہرت اور پیسہ ملتا ہے تو وہ وقتی خوشی تو دیتے ہیں، مگر اندرونی خلا ختم نہیں ہوتا۔ نتیجتاً وہ زیادہ شہرت، زیادہ توجہ اور زیادہ فائدے کی خواہش میں الجھ جاتے ہیں، جس سے لالچ بڑھتی ہے اور وہ اپنی اصل پہچان اور معاشرتی اقدار سے دور ہو جاتے ہیں۔

اس مسلسل دباؤ اور عدم سکون کی وجہ سے ان کی ذاتی زندگی، رشتے اور فیصلے متاثر ہوتے ہیں، اور وہ مزید ذہنی مسائل اور عدم استحکام کا شکار ہو جاتے ہیں۔

ڈاکٹر محمد فراز خیبر میڈیکل یونیورسٹی سائیکائٹری کا ایسوسی ایٹ پروفیسر
سوشل میڈیا کے استعمال کے حوالے سے کہتے ہیں کہ جیسے آن لائن تعلیم اور ڈیجیٹل ہیلتھ سہولیات موجود ہیں اس کے منفی اثرات بھی نمایاں ہیں، خاص طور پر نوجوانوں میں زیادہ استعمال سے اینزائٹی، ڈپریشن، تنہائی اور خود اعتمادی میں کمی پیدا ہوتی ہے۔ سوشل میڈیا پر غیر حقیقی زندگی دیکھ کر نوجوان حقیقت سے دور ہو جاتے ہیں۔
اس کے علاوہ سوشل میڈیا ایڈکشن، سائبر بُلینگ اور لائکس/ویوز کا دباؤ بھی ذہنی صحت کو متاثر کرتا ہے۔لہٰذا ضروری ہے کہ سوشل میڈیا کا استعمال اعتدال میں رکھا جائے اور حقیقی زندگی کے تعلقات کو ترجیح دی جائے۔ایسے واقعات اکثر قدامت پسندانہ رویوں اور معاشرے میں بڑھتی ہوئی عدم برداشت کی وجہ سے پیش آتے ہیں۔

پاکستان نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی
پاکستان میں اب ایف آئی اے کی جگہ پاکستان نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کام کرتا ہے جسکا بنیادی کام آن لائن جرائم کی روک تھام، تحقیقات اور ملزمان کے خلاف قانونی کارروائی کرنا ہے۔ جیسے سوشل میڈیا جرائم (ہراسانی، بلیک میلنگ) آن لائن فراڈ اور اسکیمنگ،ہیکنگ اور ڈیٹا چوری،جعلی اکاؤنٹس اور شناخت کی چوری،بچوں کے خلاف آن لائن جرائم وغیرہ
ادارے کے مطابق سال 2024 میں تقریبا 1.5 سے 2 لاکھ شکایات موصول ہوئیں

زیادہ تر کیسز آن لائن فراڈ، ہراسگی، بلیک میلنگ سے متعلق تھی اور تقریباً 30–40٪ کیسز پر باقاعدہ انکوائری/ایکشن لیا گیا۔ہزاروں کیسز حل یا کلیئر کیے گئے ۔
جبکہ 2025 میں شکایات میں 10 سے 20 فیصد اضافہ ہوا۔سب سے زیادہ کیسز فراڈ، فیک آئی ڈیز، سوشل میڈیا ہراسگی سے متعلق تھی۔ حل ہونے والے کیسز کی شرح تقریباً 35–45٪ رہا۔
ہر سال سائبر کرائم میں اضافہ ہو رہا ہے اور پاکستان نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی حل کرنے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔